aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".phoi"
بدن چرا کے وہ چلتا ہے مجھ سے شیشہ بدناسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا اسے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیںان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
یوں رات کو ہوتا ہے گماں دل کی صدا پرجیسے کوئی دیوار سے سر پھوڑ رہا ہو
سمجھنے والے سمجھتے ہیں پیچ کی تقریرکہ کچھ نہ کچھ تری باتوں میں فی نکلتی ہے
ایسے شخص کو میر بنایا جو بس خواب دکھاتا تھابستی کے لوگوں نے اپنا آپ مقدر پھوڑ لیا
شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاںآئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے
تسکین دل کی ایک ہی تدبیر ہے فقطسر پھوڑ لیجئے کوئی دیوار دیکھ کر
دروازے سر پھوڑ رہے ہیںکون اس گھر کو چھوڑ گیا ہے
عجب دیوانگی ہے جس کے ہم سائے میں بیٹھے ہیںاسی دیوار سے سر پھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم
شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگرکبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا
نیا ہنر سیکھ فی زمانہ ہو جس کی وقعتسخن کی نسبت سے اب کوئی پوچھتا نہیں ہے
مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہےبیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
تکلف کیا جو کھوئی جان شیریں پھوڑ کر سر کوجو تھی غیرت تو پھر خسرو سے ہوتا کوہ کن بگڑا
پھوڑ کر سر ترے در پر یہیں مر جائیں گےہم ترے شہر سے ہجرت نہیں کرنے والے
آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوںیا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں
کرب ان کا کہ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسرکیا سمجھ پائیں گے یہ راج گھرانے والے
ان کے دیوانوں کو سر پھوڑ کے دیواروں سےآج منظور ہے آرائش زنداں کرنا
روایت رہی ہے یہی فی زمانہنظریے بدلنا کتابیں بدلنا
یہ شہر سنگ ہے پتھر کے لوگ رہتے ہیںیہاں پہ فول کھلانے کی ضد نہیں کرتے
فٹ پاتھ پہ بھی سونے نہ دیا ترے شہر کے عزت داروں نےہم کتنی دور سے آئے تھے اک رات بسر کرنے کے لیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books