aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aal-e-ahmad"
امید جن سے تھی وضع جنوں نبھانے کیوہ لوگ وقت کے سانچے میں ڈھل گئے کیسے
اہل دانش ہوئے ارباب سیاست کے مریدایسی پستی پہ مرے دل میں چھری لگتی ہے
جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھیآئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھی
تمام عمر کٹی اس کی جستجو کرتےبڑے دنوں میں یہ طرز کلام آیا ہے
جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نےاپنے سر بھی کبھی الزام لیا ہے تم نے
کیا بات ہے شہروں میں سمٹ آئے ہیں سارےجنگل میں تو گنتی کے ہی کچھ سانپ رہے ہیں
غیرت عشق کا یہ ایک سہارا نہ گیالاکھ مجبور ہوئے ان کو پکارا نہ گیا
سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھاہمارے پاس بجز دولت نظر کیا تھا
شاہراہوں سے گزرتے ہیں شب و روز ہجومنئی راہیں ہیں فقط چند جیالوں کے لیے
رشک آتا ہے ہمیں اپنے مقدر پہ نبیلؔآل احمد کی سدا ہم نے عزا داری کی
ساحل و بحر کے آئین سلامت نہ رہےاب تو ساحل سے بھی طوفان اٹھا کرتے ہیں
گرد اڑائی جو سیاست نے وہ آخر دھل گئیاہل دل کی خاک میں بھی زندگی پائی گئی
ایک دیوانے کو اتنا ہی شرف کیا کم ہےزلف و زنجیر سے یک گونہ شغف کیا کم ہے
سایۂ گل میں ذرا دیر جو سستائے ہیںسایۂ دار سے یہ وعدہ خلافی تو نہیں
یہ شاخ گل کی لچک بھی پیام رکھتی ہےبسان تیغ تھے جو ہم کو حق پرست ملے
ہے آج اور ہی کچھ زلف تاب دار میں خمبھٹکنے والے کو منزل کا راستہ تو ملا
آمد آمد کسی خورشید جہاں تاب کی ہےپیشوائی کے لیے انجم و مہ جاتے ہیں
یہ دور مجھ سے خرد کا وقار مانگے ہےدل اب بھی شوق کے لیل و نہار مانگے ہے
آئین پاسداریٔ صحرا نہ چھٹ سکاوضع جنوں اگرچہ بدلتے رہے ہیں ہم
فکر روشن کو وہ شوریدہ سری کہتے ہیںیعنی سورج کو چراغ سحری کہتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books