aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ankur"
اے تیر ستم چل تری دعوت ہے مرے گھرزخم دل ناشاد نے انکور نکالا
پھوٹتے ہی ایک انکر نے درختوں سے کہاآسماں اک چاہئے مجھ کو کہ سر میرا بھی ہے
پتھریلی دھرتی ہے انکر کیا پھوٹیں گےبے شک بادل ٹوٹ کے ان پر برسا ہوگا
جو آنکھوں میں تمہارے خواب تھے لوٹا رہا ہوں میںرہا ہو کر تمہارے عشق سے اب جا رہا ہوں میں
کاتب تقدیر ٹھہرے آپ کو روکے گا کونجو بھی انکر سر اٹھائے رائیگاں لکھ دیجئے
اس سے بہتر تو کچھ اس دنیا میں دیکھا ہی نہیںتیرے چہرے سا یہاں کوئی بھی چہرہ ہی نہیں
تمہیں بس یہ بتانا چاہتے ہیںتمہیں اپنا بنانا چاہتے ہیں
وہ اپنی پلکوں کو جھپکے یوں ہی بس شام ہو جائےہم اس کو دیکھتے جائیں یہ اپنا کام ہو جائے
نہ سوچا تھا ترا غم یوں ہمیں مجبور کر دے گایہ اپنے آپ سے اک روز ہم کو دور کر دے گا
یہ تنہائی تم تک ہے لائی مجھےنہیں چاہیئے اب رہائی مجھے
شاید اب پھوٹے گریباں سے جنوں کا انکرآج جھونکے تو ہواؤں کے ہیں ساون والے
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئےیہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے
بدل چکا ہے مرا لمس نفسیات اس کیکہ رکھ دیا ہے اسے میں نے ان چھوا کر کے
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کرمجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاںیہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا
پہلے ہی لذت انکار سے واقف نہیں جواس سے انکار دوبارہ بھی نہیں ہو سکتا
دشوار ہے رندوں پر انکار کرم یکسراے ساقئ جاں پرور کچھ لطف و عنایت بھی
پیار سے ان کا انکار برحق مگرلب یہ کیوں دیر تک تھرتھراتے رہے
انکار کر کے خود ہی میں اپنے وجود کاغصہ اتارتا ہوں میں اپنے وجود پر
تم کو ہے وصل غیر سے انکاراور جو ہم نے آ کے دیکھ لیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books