aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "campus"
کیا تھا ہم نے کیمپس کی ندی پر اک حسیں وعدہبھلے ہم کو پڑے مرنا محبت مر نہیں سکتی
کیمپس کی نہر پر ہے ترا ہاتھ ہاتھ میںموسم بھی لا زوال ہے اور چاند رات ہے
خانقاہوں میں خاک اڑتی ہےاردو والوں کے کیمپس کی طرح
دنیا سے بے خبر ہیں کس انجمن میں گمکیمپس ہے آب جو ہے اور ہم ہیں دوستو
پھر ذرا آنکھ ہی لڑائی تھیکیمپس سے اٹھا دیا مجھ کو
رستے میں وہ ملا تھا میں بچ کر گزر گیااس کی پھٹی قمیص مرے ساتھ ہو گئی
وہ نام ہوں کہ جس پہ ندامت بھی اب نہیںوہ کام ہیں کہ اپنی جدائی کماؤں میں
یہ میرا جوش محبت فقط عبارت ہےتمہاری چمپئی رانوں کو نوچ کھانے سے
حسین چمپئی پیروں کو جب سے دیکھا ہےندی کی مست ادائیں بلا رہی ہیں تمہیں
پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہےسرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہے
کسی کا بھیگا بدن گل کھلاتا ہے اکثرگلاب رانی کنول یاسمین چمپا کلی
یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئی جگہ سے پھٹی ہوئی ہےتم اس کے گاؤں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہوں گی
میں چھوڑ کے سیدھے راستوں کوبھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں
میں آج اپنے گھر سے نکلنے نہ پاؤں گابس اک قمیص تھی جو مرا بھائی لے گیا
بہت کنجوس ہیں آنکھیں مری آنسو بہانے میںاگرچہ دولت غم کی فراوانی نہیں جاتی
اتار پھینکوں بدن سے پھٹی پرانی قمیصبدن قمیص سے بڑھ کر کٹا پھٹا دیکھوں
نہیں شراب سے رنگیں تو غرق خوں ہیں کہ ہمخیال وضع قمیص و لبادہ رکھتے ہیں
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادروہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
لو شام گئی رات ہے کابوس ہے میں ہوںمیں صبح کا بھولا ہوں تو گھر کیوں نہیں جاتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books