aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pardes"
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاںاب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا
کسی کو گاؤں سے پردیس لے جائے گی پھر شایداڑاتی ریل گاڑی ڈھیر سارا پھر دھواں آئی
وہ جس کے واسطے پردیس جا رہا ہوں میںبچھڑتے وقت اسی کی طرف نہیں دیکھا
میں ظفرؔ تا زندگی بکتا رہا پردیس میںاپنی گھر والی کو اک کنگن دلانے کے لیے
ہم تو ہیں پردیس میں دیس میں نکلا ہوگا چانداپنی رات کی چھت پر کتنا تنہا ہوگا چاند
ایک مدت سے مقدر ہے غریب الوطنیکوئی پردیس میں نا خوش ہو تو گھر بھی جائے
سکوں ان کو نہیں ملتا کبھی پردیس جا کر بھیجنہیں اپنے وطن سے دل لگا کر کچھ نہیں ملتا
خوب گئے پردیس کے اپنے دیوار و در بھول گئےشیش محل نے ایسا گھیرا مٹی کے گھر بھول گئے
پردیس میں جو آئی نظر نرگسی نگاہاک با وفا کے دیدۂ نم یاد آ گئے
دیس پردیس کیا پرندوں کاآب و دانہ ہی آشیانہ ہے
آنسو تارے رنگ گلاب سبھی پردیس چلے جاتے ہیںآخر آخر تنہائی ہے کس نے کس کا ساتھ دیا ہے
کس طرح دل سے بھلا بیٹھے ہماری یاد کواس طرح پردیس جا کر بے وفا کیوں ہو گئے
کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھاپنے شہر کی مٹی بھی سامان میں رکھ
میرے سینے میں کوئی سانس چبھا کرتی ہےجیسے مزدور کو پردیس میں گھر یاد آئے
تیری قربت میں یہ پردیس سے آیا ہوا شخصچھوڑ کر تجھ کو کہیں اور بھی جا سکتا ہے
جب بھی پردیس میں یاد آتا ہے گھر کا نقشہمیں تصور میں در و بام پہن لیتا ہوں
لوگ گیتوں کا نگر یاد آیاآج پردیس میں گھر یاد آیا
تم جو پردیس سے آؤ تو یقیں آ جائےاب کے برسات یہ سنتے ہیں بڑی پیاری ہے
دیس پردیس ہو گیا اب توآشنا کون اجنبی کیا ہے
جب ہیں پردیس میں سجن تو پھرہاتھ مہندی رچا کے کیا ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books