aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samar"
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میںدور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے
جھپک رہی ہیں زمان و مکاں کی بھی آنکھیںمگر ہے قافلہ آمادۂ سفر پھر بھی
ایک پھل دار پیڑ ہوں لیکنوقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں
پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگینا آشنا ہر رہگزر نا مہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر میں اور مری آوارگی
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیاعمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
کیا شاخ با ثمر ہے جو تکتا ہے فرش کونظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ
محنت مری آندھی سے تو منسوب نہیں تھیرہنا تھا کوئی ربط شجر کا بھی ثمر سے
ہر بار ہے نیا ترے ملنے کا ذائقہایسا ثمر کسی بھی شجر نے نہیں دیا
باغ جاں سے ملا نہ کوئی ثمرجونؔ ہم تو نمو نمو ٹھہرے
مجھے بھی نارسائی کا ثمر دےمجھے تیری تمنا جو رہی تھی
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھیاے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
شجر ہیں اب ثمر آثار میرےچلے آتے ہیں دعویدار میرے
جھلک رہی ہے سر شاخ مژہ خون کی بوندشجر میں پہلے ثمر سے کلی نکلتی ہے
مری غلیل کے پتھر کا کارنامہ تھامگر یہ کون ہے جس نے ثمر اٹھایا ہے
جاناں دل کا شہر نگر افسوس کا ہےتیرا میرا سارا سفر افسوس کا ہے
کب تک اسے سینچو گے تمنائے ثمر میںیہ صبر کا پودا تو نہ پھولا نہ پھلا ہے
کوئی آہٹ نہ کوئی سایہ ہےہر قدم ہے سفر کی تنہائی
کن درختوں سے لگا رکھی ہے امید ثمرشاخ ہی جب نہ ہو سرسبز تو پھل کیسے ہو
ہم پہ کر دھیان ارے چاند کو تکنے والےچاند کے پاس تو مہلت ہے سحر ہونے تک
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books