aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",0Oum"
یہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنون
اسے کہنا محبت دل کے تالے توڑ دیتی ہےاسے کہنا محبت دو دلوں کو جوڑ دیتی ہے
یہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
وقت سے پہلے بلا لیتے ہیں پیری کو علومعمر سے آگے نکل جاتے ہیں چہرے بالعموم
آئے نظر علوم جدیدہ کی روشنیجس سے خجل ہو نور رخ مہر و ماہ کا
پچھلی راتوں کو تراشے ہوئے کچھ ماہ و نجوممیں اکیلا مرے اطراف علوم
اس کے دامن میں ہیں پنہاں ہر زمانے کے علوماس کے آنگن میں ہیں رقصاں چاند سورج اور نجوم
ساری دنیا کی تاریخ، جغرافیہفلسفے، سماجی علوم
احساس کی زمیں پرسوچوں کے قافلے رواں ہیں
اب تو اہل علوم پیتے ہیںماحیان رسوم پیتے ہیں
بڑھ رہا ہے صورت سیلاب لوگوں کا ہجومہر دکاں پر گاہکوں کا شور و غل ہے بالعموم
خانقاہوں میں ہوا کرتا ہے جیسے بالعمومشیخ کی خدمت میں حاضر ہے مریدوں کا ہجوم
جسے نہ اپنے علم کا ہنر کا کچھ سرور ہوجو آئے تو خزانہ علوم لے کے آئے اور
سراسر اتفاقاًبالعموم ایسا ہی ہوتا ہے
پھر تو صحرائے جہالت بھی ہے دریائے علومپھر تو اس بے ہنری میں بھی ہیں سو سو جوہر
اترتے ہیں لیکن علوم اور قلم جاوداں ہیںزمانوں کی اڑتی ہوئی راکھ میں
دل دادۂ علوم فرنگی تھا دل ترالیکن خیال خطۂ ارض وطن میں تھا
علوم نو سے روشن بزم ہے تہذیب حاضر کیید تجدید نے ڈھالا ہے دل آویز بت خانہ
ہیں کواکب کے بھی کچھ تابع نجومکہہ رہے ہیں ایسا اصحاب علوم
غواص فکر کے لئے غالب کی شاعریاک بحر بے کنار فنون و علوم ہے
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books