aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",nMF"
وہ ہیئت داں وہ عالم ناف شب میں چھت پہ جاتا تھارصد کا رشتہ سیاروں سے رکھتا تھا نبھاتا تھااسے خواہش تھی شہرت کی نہ کوئی حرص دولت تھیبڑے سے قطر کی اک دوربین اس کی ضرورت تھیمری ماں کی تمناؤں کا قاتل تھا وہ قلامہمری ماں میری محبوبہ قیامت کی حسینہ تھیستم یہ ہے یہ کہنے سے جھجکتا تھا وہ فہامہتھا بے حد اشتعال انگیز بد قسمت او علامہخلف اس کے خذف اور بے نہایت نا خلف نکلےہم اس کے سارے بیٹے انتہائی بے شرف نکلےمیں اس عالم ترین دہر کی فکرت کا منکر تھامیں فسطائی تھا جاہل تھا اور منطق کا ماہر تھاپر اب میری یہ شہرت ہے کہ میں بس اک شرابی ہوںمیں اپنے دودمان علم کی خانہ خرابی ہوںسگان خوک زاد برزن و بازار بےمغزیمری جانب اب اپنے تھوبڑے شاہانہ کرتے ہیںزنا زادے مری عزت بھی گستاخانہ کرتے ہیںکمینے شرم بھی اب مجھ سے بے شرمانہ کرتے تھے
ہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ ان کے جسموں پہ کس کا حق ہےہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ کس سے ان کے نکاح ہوں گےیہ کس کے بستر کی زینتیں ہیںوہ کون ہوگا جو اپنے ہونٹوں کوان کے جسموں کی آب دے گابھلے محبت کسی کے کہنے پہآج تک ہو سکی نہ ہوگیمگر یہ ہم طے کریں گےان کو کسے بسانا ہے اپنے دل میںہم ان کے مالک ہیںجب بھی چاہیںانہیں لحافوں میں کھینچ لائیںاور ان کی روحوں میں دانت گاڑیںیہ ماں بنیں گیتو ہم بتائیں گےان کے جسموں نے کتنے بچوں کو ڈھالنا ہےہمارے بچوں کے پیٹ بھرنےاگر یہ کوٹھے پہ جا کے اپنا بدن بھی بیچیںتو ہم بتائیں گےکس کو کتنے میں کتنا بیچیںہمیں کو حق ہےکہ ان کے گاہک جو خود ہمیں ہیں سےساری قیمت وصول کر لیںہمیں کو حق ہے کہ ان کی آنکھیںحسین چہرے شفاف پاؤںسفید رانیں دراز زلفیںاور آتشیں لب دکھا دکھا کرکریم صابن سفید کپڑے اور آم بیچیںدکاں چلائیں نفع کمائیںہمیں تو ہیں جو یہ طے کریں گےیہ کس صحیفے کی کون سی آیتیں پڑھیں گییہ کون ہوتی ہیںاپنی مرضی کا رنگ پہنیںاسکول جائیں ہمیں پڑھائیںہمیں بتائیںکہ ان کا رب بھی وہی ہے جس نے ہمیں بنایابرابری کے سبق سکھائیںیہ لونڈیاں ہیں یہ جوتیاں ہیںیہ کون ہوتی ہیں اپنی مرضی سے جینے والیبتانے والے ہمیں یہی تو بتا گئے ہیںجو حکمرانوں کی بات ٹالیںجو اپنے بھائی سے حصہ مانگیںجو شوہروں کو خدا نہ سمجھیںجو قدرے مشکل سوال پوچھیںجو اپنی محنت کا بدلہ مانگیںجو آجروں سے زباں لڑائیںجو اپنے جسموں پہ حق جتائیںوہ بے حیا ہیں
لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذراچھو کے میرا بدناپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنوناف کے اس طرفاس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تمبس یہیں چھوڑ دوتھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھنڈے بدن پر یہیں چھوڑ دومیرے بے کل نفس کو قرار آ گیامیرے عیسیٰ مرے درد کے چارہ گرمیرا ہر موئے تناس ہتھیلی سے تسکین پانے لگااس ہتھیلی کے نیچے مرا لال کروٹ سی لینے لگاانگلیوں سے بدن اس کا پہچان لوتم اسے جان لوچومنے دو مجھے اپنی یہ انگلیاںان کی ہر پور کو چومنے دو مجھےناخنوں کو لبوں سے لگا لوں ذراپھول لاتی ہوئی یہ ہری انگلیاںمیری آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوئےان سے سینچوں گی میںپھول لاتی ہوئی انگلیوں کی جڑیں چومنے دو مجھےاپنے بال اپنے ماتھے کا چاند اپنے لبیہ چمکتی ہوئی کالی آنکھیںمرے کانپتے ہونٹ میری چھلکتی ہوئی آنکھ کو دیکھ کر کتنی حیران ہیںتم کو معلوم کیا تم کو معلوم کیاتم نے جانے مجھے کیا سے کیا کر دیامیرے اندر اندھیرے کا آسیب تھایا کراں تا کراں ایک انمٹ خلایوں ہی پھرتی تھی میںزیست کے ذائقے کو ترستی ہوئیدل میں آنسو بھرے سب پہ ہنستی ہوئیتم نے اندر مرا اس طرح بھر دیاپھوٹتی ہے مرے جسم سے روشنیسب مقدس کتابیں جو نازل ہوئیںسب پیمبر جو اب تک اتارے گئےسب فرشتے کہ ہیں بادلوں سے پرےرنگ سنگیت سر پھول کلیاں شجرصبح دم پیڑ کی جھومتی ڈالیاںان کے مفہوم جو بھی بتائے گئےخاک پر بسنے والے بشر کو مسرت کے جتنے بھی نغمے سنائے گئےسب رشی سب منی انبیا اولیاخیر کے دیوتا حسن نیکی خداآج سب پر مجھےاعتبار آ گیا اعتبار آ گیا
وہ آتی ہےروز میرے بہت قریبمجھے سہلاتی ہےگدگداتی ہےاٹھو۔۔۔ اٹھو۔۔۔میں حیرت اور خوشی سےاسے دیکھتی ہوںتم کب آئیں؟ابھی۔۔۔ ابھی تو آئی ہوں۔۔۔وہ میرے سینے پر اپنا سر رکھ دیتی ہےمیرے پستانوں سے کھیلتی ہےمیرے ہونٹوں کو چوستی ہےمیری ناف کے نیچےبہت نیچے۔۔۔میری سانس اوپر کی اوپر رہ جاتی ہےمیں کنواریوں کی طرحتلملاتی ہوںبل کھاتی ہوںوہ مجھے اٹھاتی ہےمیرے کپڑے ایک ایک کر کے اتارتی ہےوہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرہنستی ہےاٹھو۔۔۔میں بڑبڑاتی رہتی ہوںایسی ہی بے سدھحیرت سے اور خوشی سےاٹھو۔۔۔وہ میری گردن میں بانہیں ڈال کرکہتی ہےوہ مجھے دور سے دیکھتی ہےاور کینوس پر مری مادر زادتصویر بناتی ہےمیں بے سدھ پڑی رہتی ہوںاس ڈر سے کہ کہیں وہ چلی نہ جائےمیں اسے ڈبونا چاہتی ہوںایک ہی وار پر اس پر چڑھ دوڑنااس پر بلبلا کر حملہ کرنامیں بھی چاہتی ہوں۔۔۔ اسے ایسے ہیاپنی گرفت میں لے آؤںلیکن اس سے پہلے کہمیں حرکت کروںوہ چھم چھم کرتیکھڑکی یا دروازے سے باہربھاگ جاتی ہےمیں بے سدھحیرت اور خوف سےاور ملامت سےآنکھیں پھاڑے اسے دیکھتیرہتی ہوںوہ چلی جاتی ہےروز ایسا ہی ہوتا ہے
کیا اب رات ایسے ہیگزر جائے گییہ رات ہی تو ہےجو تحلیل ہو جاتی ہے ایک نقطے میںاور گھومتی ہےمیرے گرد کالے بھنبھناتے ہوئےبھونرے کی طرحوہ میرے کانوں مری آنکھوںمیری گردن اور میرے روئیں روئیں میںبھنبھناتی ہےمیری بغلوں کے بالوں سے الجھتی ہوئیمیرے جسم کے کونے کھدروں میںگدگداتی ہوئییہ رات میرے اوپر پھیل جاتی ہےاچانکاوڑھ لیتی ہے مجھےمیرے جسم کی پور پور میںایک جل ترنگ چھیڑ دیتی ہےمیں نیند میں اٹھتی ہوںمرا حلق خشک ہو رہا ہےپانی کا ایک گلاس ٹھنڈا یخمیرے ہونٹوں میرے حلق میرے سینےکو تر کرتا ہوامیرے جسم کی جل ترنگ میں مل جاتا ہےمیں دروازے پر دستک دیتی ہوںتم سن رہے ہورات کی جل ترنگ میرے جسم سےپھوٹ رہی ہےدروازہ کھلتا ہےمیں تمہارے آدھے ننگے بدن کودبوچ لیتی ہوںتمہاری ناف کے گڑھے میںناک کی نوک گھسیڑتی ہوںتم مسکرا رہے ہورات کی شرارت میرے جسم پرپھیلے ہوئے دیکھ کرتم ہنستےرات کونوں کھدروں میں پھیل رہی ہےمیں تمہارے کپڑے اتار دیتی ہوںاور وہ کھیل کھیلتی ہوںجو رات میرے ساتھ کھیل رہی تھیمیں تمہارے جسم کے گرداپنی زبان اپنے دانتوں اور ناخنوں کے ساتھبھنبھنانے لگتی ہوںتم مسکرا رہے ہوتمہاری مسکراہٹمیرے جسم کی پوروں کو اور کھول رہی ہےمیں زخمی کر دیتی ہوں تمہیںتم ہنس رہے ہورات کے پروں پہ سوار بھونرے کی طرحمجھے بھنبھناتے دیکھ کرتمہاری کشادہ آنکھوں کے کونےپھیلنے لگتے ہیںتمہارا جسم اکڑ جاتا ہےنہیں آج تمتم کھلکھلاتے ہومیں تمہارے اکڑے ہوئے جسم پراپنی کھلی ہوئی پوروں کو رکھ دیتی ہوںتمہارا جسم رات کے جھاگ سے بھر جاتا ہےتم ہنستے ہوہنستے ہی رہتے ہو
اپنی زبانمرے ماتھے سے مری ناک کی سیدھ پرنیچے کی طرفآہستہ آہستہ لے کر چلوہاں ایسے یوںبہت آہستہ بالکل چیونٹی کی طرحرینگتی ہوئیتمہاری زبان مرے جسم کے بیچوں بیچجیسے تم مجھے آدھا کر رہے ہوپیٹ کے ابھار سے ہوتے ہوئےناف کے ابھار سے ہوتے ہوئےناف کے راستے سےپیڑو کے ابھار پر ٹھہر جاؤاب تو میری سانس چڑھنے لگی ہےیہاں سےڈھلوان شروع ہو جاتی ہےپچھلا تو سارا راستہ سیدھا ہی تھاتمہاری زباناب تک اپنی ایک ایک سرک میںکتنے جام پلا چکی ہےجانتے ہواس لمس کا نشہ شراب ہی جیسا تو ہےایک گھونٹ دوزبان یہیں رہنے دوایک گھونٹ لے لوںیہ جب مرے حلق سے نیچے اترے گیتم نہیں جان سکتےتمہیں بتا دوں تو بھی تو کیا میرے اندرسرسراتے ہوئےان سانپوں کو دیکھ سکو گےجو تمہاری زبان کے سرکنے کے ساتھ ساتھایک ایک جنبش پر میرے اندرپھنکارتے ہیںمجھ پر ایک ساتھ وار کرتے ہیںہاں رکو نہیںاس ڈھلان سے نیچے بھی تو جانا ہےنیچے اور نیچے جہاںتمہاری زبان تھوڑی دیرسستائے گیاور پھر مجھے دو حصوں میںتقسیم کر دے گی
آج انہوں نے اعلان کر ہی دیادیکھو!ہم نے تمہاری سب کی سب قوتوں کا فیصلہ کیا تھاقیل و قال کی گنجائش باقی نہیں ہےتمہارے اقرار نامے ہمارے پاس محفوظ ہیںتم سے پہلے والوں کی خطا یہی تھیکہ انہیں،اپنی ناف کے نیچے سرسراہٹ کا احساسکچھ زیادہ ہی ہو چلا تھاانہیں شہر بدر کر دیا گیاان کے پچھتاوے اور گڑگڑاہٹیںآج بھی ہمارے کانوں میں محفوظ ہیںتمہیں اتنی چھوٹ دی ہی کیوں جائےکہ تمکل ہمارے مقابلے پر اتر آؤہم تمہیں ہوشیار کیے دیتے ہیںدیواریں پھلانگنے والےعتاب سے بچ نہیں سکتےعقد ناموں پر تمہارے دستخطتمہاری نا مرادی کا کھلا اعتراف ہیںاس کے بغیرہماری حرم سرا میںداخل ہونے کے اجازت نامےتمہیں مل بھی کیسے سکتے تھےاس سے پہلے کہ ہمارے نجیب الطرفین شجرے مشکوک ہو جائیںاور ہمارے حسب نسب پر آنچ آ جائےہم!تم سے پہلے گلو خلاصی کا راستہ ڈھونڈ نکالیں گے!!
میں آسمان کے ساتھ پھیلی شام کی نارنجی روشنی ہوںیا سورج کی آنکھ میں رینگتی سرخ دھار؟کیا ہے میرا وجود؟یوم عید قربان ہوتی بھیڑوں کا صبریا ہیروں کے تعاقب میں کوئلہ کوئلہ پھرتی خواہش؟میں سرما میں ابابیلوں کی مرجھائی روح ہوںیا سرمست درختوں کی چوٹیوں میں مدہوش ہوا؟ہاں۔۔۔۔۔ میں رات کی جھلملاتی روشنیوں کے پیچھےالجھی آلودہ شکن ہوںبچہ جنتی ماں کی آخری چیخ میری محبت ہےمیں راہ گیروں کی لا پرواہ خوشی میںسہما خوف ہوںمیں گوتم کے مسکراتے رخساروں کا لمس ہوںساتویں آسمان پر غوطہ زن پرندےاگر میری پر سکون روح میں پرواز کرتے ہیںتو پھر یہ کیسا بوجھ ہےجو تمہارے چھوڑ جانے کے بعداس غبار آلود سینے میں جمنے لگا ہے؟لیکن میرا غصہ کس شیر کے بدن میں جھرجھراتا ہے؟میری آگ کس عقاب کی آنکھوں میں کپکپاتی ہے؟جسے تمہاری ہنسی تمہارے مکار دلاور تمہاری دھوکے باز ناف میں انڈیل سکوں!
حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلوممقامی چھوٹے سے خیراتی اسپتال میں وہکہیں سے لایا گیا تھا وہاں یہ ہے مرقوممریض راتوں کو چلاتا ہے ''مرے اندراسیر زخمی پرندہ ہے اک، نکالو اسےگلو گرفتہ ہے یہ حبس دم ہے خائف ہےستم رسیدہ ہے مظلوم ہے بچا لو اسے''مریض چیختا ہے درد سے کراہتا ہےیہ وتنام، کبھی ڈومنیکن، کبھی کشمیرزر کثیر، سیہ قومیں، خام معدنیاتکثیف تیل کے چشمے، عوام، استحصالزمیں کی موت بہائم، فضائی جنگ، ستماجارہ داری، سبک گام، دل ربا، اطفالسرود و نغمہ، ادب، شعر، امن، بربادیجنازہ عشق کا، دف کی صدائیں، مردہ خیالترقی، علم کے گہوارے، روح کا مدفنخدا کا قتل، عیاں زیر ناف زہرہ جمالتمام رات یہ بے ربط باتیں کرتا ہےمریض سخت پریشانی کا سبب ہے یہاںغرض کہ جو تھا شکایت کا ایک دفتر تھانتیجہ یہ ہے اسی روز منتقل کرکےاسے اک اور شفا خانے کو روانہ کیاسنا گیا ہے وہاں نفسیات کے ماہرطبیب حاذق و نباض ڈاکٹر کتنےطلب کیے گئے اور سب نے اتفاق کیایہ کوئی ذہنی مرض ہے، مریض نے شایدکبھی پرندہ کوئی پالا ہوگا لیکن وہعدم توجہی یا اتفاق سے یونہیبچارہ مر گیا اس موت کا اثر ہے یہعجیب چیز ہے تحت شعور انساں کایہ اور کچھ نہیں احساس جرم ہے جس نےدل و دماغ پہ قبضہ کیا ہے اس درجہمریض قاتل و مجرم سمجھتا ہے خود کو!کسی کی رائے تھی پسماندہ قوم کا اک فردمریض ہوگا اسی واسطے سیہ قومیںغریب کے لیے اک ٹیبو بن گئیں افسوسکوئی یہ کہتا تھا یہ اصل میں ہے حب وطنمریض چاہتا تھا ہم کفیل ہوں اپنےکسی بھی قوم کے آگے نہ ہاتھ پھیلائیںیہیں پہ تیل کے چشمے ہیں، وہ کریں دریافت!گمان کچھ کو تھا یہ شخص کوئی شاعر ہےجو چاہتا تھا جہاں گردی میں گزارے وقتحسین عورتیں مائل ہوں لطف و عیش رہےقلم کے زور سے شہرت ملے زمانے میںزر کثیر بھی ہاتھ آئے اس بہانے سےمگر غریب کی سب کوششیں گئیں ناکامشکست پیہم و احساس نارسائی نےیہ حال کر دیا مجروح ہوگئے اعصابغرض کہ نکتہ رسی میں گزر گیا سب وقتوہ چیختا ہی رہا درد کی دوا نہ ملینشست بعد نشست اور معائنے شب و روزانہیں میں وقت گزرتا گیا شفا نہ ملیپھر ایک شام وہاں سرمہ در گلو آئیجو اس کے واسطے گویا طبیب حاذق تھیکسی نے پھر نہ سنی درد سے بھری آوازکراہتا تھا جو خاموش ہو گیا وہ ساز
اس کی سنہری ناف کا پیالہختن سے آئیکستوری سے لبریز تھااور سینے پرلالہ کے دو پھول کھلے تھےروشنیاس کے چہرے کے خد و خال تخلیق کرنے میںمصروف تھی
اژدہاتیرے پاؤں کے توازن پہ مرتا ہےسفید شیرتیرے سنہرے رتھ کے گھوڑے ہیںتیرے سر پرپر دار بیل کا سایہ ہےاے بار آوری کی دیویتیرے قدموں کی آہٹ سےمردہ زمینناف تک دھڑک اٹھتی ہے
پائپ کے گہرے لمبے کش کھینچتاوہ اپنی برہنگی کے احساس کودھویں کی شکل میںخلا میں تحلیل ہوتے دیکھ کرمسکرانے کی کوشش کرتا تھااس کی ناف کے آس پاسچپکے ہوئےشکستہ اندھیرے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑےمینڈک کی آنکھوں میںمرے ہوئے خوابوں کی سیلن میںڈوب رہے تھےوہمجھ کو''گوتم'' کے نام سے یاد کیا جائےایسادیواروں پر رینگتیچیونٹیوں سےبار بار کہہ رہا تھا
خوں پتھر پہ سرک آیاگہرا نیلا رنگ ہوا میں ڈوب گیاجل کنیا کے جسم پہ کالے سانپ کا سایہ لہرایادریا دریا زہر چڑھاگیلی ریت پہ دھوپ نے اپنا نام لکھامٹھی میں مچھلی کا آنسو سوکھ گیاگھوڑوں کی ٹاپوں سے کمرہ گونج اٹھاخرگوشوں کی آنکھوں سے سورج نکلےپھر دریا کی ناف میں کشتی ڈوب گئیکاغذ کے صحرا میں پانی مت ڈھونڈواہرام کے دروازے کب کھلتے ہیںہینگر پہ کپڑے کی لاش لٹکتی ہےپربت پربت ننگی روح بھٹکتی ہےمجھ سے یہ پوچھو لوگو میں کیا ہوںزنگ آلودہ شہر پہ تھوکنے آیا ہوں
کوئی افعی ہےجو چندن کے پیڑ کی خوشبو سے مخمور ہو اٹھتا ہےاس کی شاخوں اس کے پتوں سے لپٹ کرنہ جانے کیا ڈھونڈتا رہتا ہےجیسے چاند کی تاک میں ہر دم چکور رہتا ہےجیسے چاند کی گھات میں کوئی میگھ کا کالا چور رہتا ہےاور پھر ایک پل ایسا بھی آتا ہےجب وہ چاند کو اپنی بانہوں میں بھر لیتا ہےدنیا کی نگاہوں سے بچا کر اپنی آغوش میں ڈھانپ لیتا ہےسفیدی ظلمت میں حل ہو جاتی ہےروشنی تاریکی میں بدل جاتی ہےلیکنیہ تاریکی ہی اصلاً تخلیق کا منبع ہےمن کا افعی بھیرہنا چاہتا ہےتیرے گرد و پیشگو تری زلف کوئی شنکر کی جٹا بھی نہیںپھر کیوں یہ افعیتیری گردن تیرے ناف تن میں حمائل ہونا چاہتا ہےبار بارتیرے صندل بدن کی خوشبوکوئی امرت کوئی سوم رس بھی نہیں،پھر کیوں یہ دشٹ راہو کیتو کی طرحپینا چاہتا ہے اسے بوند بوند چال بازی سےتاریکی ہی تیرا مقدر ٹھہراتیرا مسکن بھی تاریک ہےاے ذوالقرنینظلمت ہی تو آب حیات کا سر چشمہ ہےتیرا سکون تیرا قرار بھی تاریک ہےتاریکی ہی اصل منبع نور ہےتخلیق کائنات کا شعور ہےبادل جب چھٹتا ہےچاند اور بھی دمکتا ہےمیگھ دوت کے کالے گھنے حلقے سے نکل کرچاند اور بھی دودھیا پر نور ہو جاتا ہےصندل کے شجر سے لپٹ کے سانپاور بھی مسرور ہو جاتا ہےلا شعور سے شعور کا سفر ختم ہو جاتا ہے
سفید رات سے منسوب ہے لہو کا زوالصبا کے شانوں پہ بکھرے سنہری دھوپ کے بالہر ایک لفظ کے چہرے پہ مل دیا ہے ملالمٹے مٹے سے معانی بجھے بجھے سے خیالپگھلتے لمحوں کے ہاتھوں میں روشنی کا مآلخلاف کی ناف سے رہ رہ کے سر اٹھاتے سوالمرے بدن کا تجسس مرے گناہ کی ڈھال
جو آتا تھا سو وہ ہو رہتا تھا اسی گھر کازمیں کی ناف ہے کعبہ ہے بطن مادر کا
بدی بھری یہ بوریاںنہ جانے کون موڑ تکہمارے ساتھ جائیں گیسفید چادروں میں کس نے رات کو چھپا لیاہماری ذلتوں سے کس نے اپنے عضو عضو کو سجا لیاکہ آج ناف کے قریب خواہشوں کی بھیڑ ہےادھر وہ گنبدوں کی گونججنگلوں کو جانے والے راستےپلٹ پڑےتری گلی میں ہر طرف سے آ رہے ہیں بھیڑیےکواڑ کھول دیکھ کیسا جشن ہےہوا بھرا وہ چاندسات انچ نیچے آ گیاغذا ملے گی چیونٹیوں کو تیرا کام ہو گیاہمارے ناخنوں کے میل سےتیرے بدن کے گھاؤ بھر گئےیہ حادثہ بھی ہو گیامگر کہاں سے بیچ میں یہ آسمان آ گیا
ناف کٹتی ہے زخم جلتا ہےخوف دھڑکن کے ساتھ چلتا ہےہر رگ جاں میں سرسراتا ہےسانس کے ساتھ آتا جاتا ہےکھال کو چھال سے ملاتی ہےسنسنی رونگٹے بناتی ہےطاق جاں میں چراغ رکھتا ہےخوف وحشت کا تیل چکھتا ہےسجدۂ غم میں گر گیا زاہدسرسراتی جبیں میں خوف لیےہو گیا انگبین سے نمکینذائقہ آستیں میں خوف لیےسانپ لشکر کے ساتھ چلتا ہےمیمنہ میسرہ میں خوف لیےحسن غمزے کے دم سے قائم ہےاپنی ہر ہر ادا میں خوف لیےزندگی ایک فرش ہے جس پرڈر اٹھائیں تو ہول بچھتا ہےشاہراہ حیات کے اوپرخوف کا تارکول بچھتا ہےمذہب ایجاد کرتا رہتا ہےمعبد آباد کرتا رہتا ہےیہ تو اندر کی سنگ ساری ہےخوف برباد کرتا رہتا ہےفہم و دانش کے زرد سوداگروسوسوں کی کپاس بیچتے ہیںروح کی مارکیٹ ان کی ہےجو عقیدے ہراس بیچتے ہیںزندگی ہم سفر ہے لیکن خوفراستے میں اتار دیتا ہےپرچۂ جاں کے ہر شمارے میںواہمہ اشتہار دیتا ہےموت خود مارتی نہیں جتناموت کا خوف مار دیتا ہے
رات اک نیلے خواب میں میں نےپانی کی آمیزش سےگوندھے گئے گندمی رنگ میںاپنی محبوبہ کے جیسےدو نیم برہنہ جسم ہیں دیکھےپہلا خوشی کادوجا غم کاصورت قامت اور بدن کے خد و خال بھی اک جیسے تھےبس دونوں میں ایک فرق تھاغم کے جسم میں پایا میں نےاک گہرا سا ناف پیالہ
دیکھو، ہم سب ایک سفید کنول پرٹیک لگائے تیر رہے ہیںاور محسوس یہ کرتے ہیں کہ ہم نے خود کوناف زمیں سے مضبوطی سے باندھ رکھا ہےاپنی ہر خواہش کو ہم نےقتل کیا ہےتاکہ دل میں کوئی تمنا سر نہ اٹھانے پائےذہن میں کوئی نیا خیال اگر در آتا ہےتو ہم اس پرخود اپنے ہاتھوں چونا کر دیتے ہیںکوئی روزنتازہ ہوا کے پھانکنے کو گر کھلتا ہےتو کیچڑ سے بھر دیتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books