aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".apik"
یہ راماینجو ہندستان کی رگ رگ میں شامل ہےجسے اک بالمیکی نام کے شاعر نے لکھا تھابہت ہی خوب صورت ایک ایپک ہےفسانہ در فسانہ بات کوئی منجمد ہےاموشن قید ہیں لاکھوں طرح کےکئی کردار ہیں جو صاحب کردار لگتے ہیںمگر اک بات ہےجو مدتوں سے مجھ کو کھلتی ہےکہ افسانے میںسب کے درد و غم کا ذکر ملتا ہےمگر وہ ایک لڑکیپھول سے بھی سو گنا نازکجو سیتا کی بہن تھیاور جس کی مانگ میں سندور بھرتے وقت ہیشری رام کے بھائی لکھن نےآگ کی موجودگی میں یہ کہا تھامیں تم سے زندگی بھر عشق فرمایا کروں گااور سائے کی طرح ہی ساتھ میں ہر دم رہوں گاجو لڑکی ایک پل میںسات جنموں کے لیے بیوی لکھن کی ہو گئی تھیوہی لڑکیجسے سب ارملا کہہ کر بلاتے تھےجو اپنے باپ کے سینے سے لگ کر وقت رخصت خوب روئیاس کے اشکوں سےفسانے کا کوئی حصہ کہیں بھیگا نہیں ہےاور اس کے درد کی کوئی نشانی تک نہیں ملتیمگر سچ ہےکہ راماین میں ویسا غم زدہ کردار کوئی بھی نہیں ملتامیں اس کردار سے خاصا متأثر ہوںکہ جب چودہ برس کے واسطے شری رام کو بن واس جانا تھاآمادہ تھے لکھن بھی بھائی کی سیوا میں جانے کوذرا سا بھی نہیں سوچاکہ جس لڑکی سے پوری زندگی کا ربط جوڑا ہےکہ جس نے خوب صورت نین میں کچھ خواب بوئے ہیںاسے کس کے سہارے چھوڑ کر وہ جا رہے ہیںمگر وہ ارملا کو چھوڑ کر بھائی کے پیچھے چل پڑےکوئی تڑپتی آرزو سیارملا کے ہونٹھ سے گر کرکئی ٹکڑوں میں نیچے فرش پر بکھری ہوئی تھیزور سے آواز ننھی پھڑپھڑائیاور زخمی ہو گیا تھا پیار کا وہ ایک دامنجو کبھی پھولوں کی خوشبو میں بھگویا تھامحض کانٹے ہی کانٹے ہر طرف تھےاک امارت بننے سے پہلے ہی ٹوٹی تھیتو یعنی ارملا چودہ برس تکخلوتوں کے موسموں سے روز لڑتی تھیسہیلی ساتھ تھیلیکن سبھی خوشیوں کو وہ اگنور کرتی تھیتمنائیں اگر بادل کی طرح گھرنے لگتی تھیںتمناؤں کی بارش میں نہانے سے وہ بچتی تھیچرا لیتی تھی وہ آنکھیںاگر غلطی سے کوئی آئنہ تعریف کر دیتاہوائیں جسم میں اس کے اگر سہرن جگا دیتیںتو خود کو اپنی ہی بانہوں میں بھر کرخود سے یہ کہتیلکھن آئیں گے جلدی مان بھی جاؤ بہاروںاور سو جاؤ ستاروں تمکہ مجھ کو رات دن جگنے کی عادت ہو گئی ہےاور محبت کے لیے یہ عمر کی دولت پڑی ہےمگر جب خواہشوں کے باندھ اکثر ٹوٹتے ہوں گےتو پھر سیلاب میںکیا کیا نہ بہہ کر کھو گیا ہوگاہزاروں ادھ کھلے ارمان بھی مرجھا گئے ہوں گےتبسم نےکسی پل ڈس لیا ہوگا لبوں کو گرتو سارا زہر موقع دیکھ کراس کے بدن میں رقص کرتا پھر رہا ہوگاکبھی کوئل کی کالی کوک گر کانوں میں پہنچی ہوتو شریانوں میں بہتا خون سارا جم گیا ہوگاپرائے مرد کا کوئی تصور چھونے سے پہلےوہ لڑکی ڈر گئی ہوگیاچانک مر گئی ہوگی
اور امی نے سمجھائی نہیںمیں کیسے میٹھی بات کروںجب میں نے مٹھائی کھائی نہیںآپی بھی پکاتی ہیں حلوہپھر وہ بھی کیوں حلوائی نہیں
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنوریہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھواریہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیقیہ آئینے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار
یہ لے ہے کہ کھلتی ہوئی غنچے کی کمانیمہکا ہوا یہ تن ہے کہ یہ رات کی رانیلہجے کی یہ رو ہے کہ برستا ہوا پانیلرزش میں یہ مژگاں ہے کہ پریوں کی کہانییہ سرخیٔ لب ہے کہ عقیق یمنی ہےکیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے
وہ گڈے میاں گھر بلائے گئےبٹھا کر وہ نوشہ بنائے گئےہتھیلی پہ مہندی رچائی گئیوہ نوشہ کو اچکن پہنائی گئیوہ گاؤں کا مالی عتیقؔ آ گیاوہ سرسوں کے پھولوں کا صحرا بندھاہر اک رسم سے جب فراغت ہوئیتو مرچوں کے پھولوں کی بدھی پڑیوہ ہمجولیوں میں لگا قہقہہمراثن جو بن کر اٹھیں ہاشمہؔمراثن بھی ڈھولک بجانے لگیخوشی کے ترانے سنانے لگیمراثن کو منہ مانگا حق جب ملابہ مشکل مراثن سے پیچھا چھٹا
یہ ہانڈی ابلنے لگییہ مٹی کی ہانڈی ابلنے لگی ہےیہ مٹی کی دیوانی ہانڈی ابلنے لگی ہے
چاند جب عید کا نظر آیاحال کیا پوچھتے ہو خوشیوں کاآسماں پر ہوائیاں چھوٹیںنوبتیں مسجدوں میں بجنے لگیںشکر سب خاص و عام کرنے لگےاور باہم سلام کرنے لگےننھے بچے ہیں خاص کر مسرورکہتے ہیں عید اب ہے کتنی دورمائیں کہتی ہیں کچھ نہیں اب دورصبح آ جائے گی یہاں پہ ضرورآؤ کھا پی کے سو رہو چپ چاپآئے گی عید صبح آپی آپبچوں کی آنکھ میں ہے نیند کہاںہیں انہیں تو چڑھی ہوئی خوشیاںہو گئی رات کاٹنی مشکلکل کے دن پر لگا ہوا ہے دلبچیوں نے لگائی ہے مہندیرنگیالی منگائی ہے مہندیاچھے اچھے بنائے ہیں کپڑےسب نئے سل کے آئے ہیں کپڑےبچے بے اعتبار ایسے ہیںان کو رکھ کر سرہانے سوئے ہیںآ گئی نیند سو گئے بچےبارے خاموش ہو گئے بچےخواب بھی عید ہی کے آتے ہیںسوتے سے اٹھ کے بیٹھ جاتے ہیں
سمندر بولتا ہےسمندر اپنی پر اسرار موجوں کی زباں میں بولتا ہےسمندر کی صدائیں چیر دیتی ہیں شب تاریک کی چادرابل پڑتی ہیںتسلسل اور تواتر کے دوائر میں تھرکتی ہیںسروں کے دانے اک تسبیح بن جاتے ہیں ''لے'' کے نرم ہاتھوں میںجو اس آواز کے جادو کے بس میں ہوتے جاتے ہیںسمندر کا کنارا سلیٹ ہے جس پرامڈتی ڈوبتی لہریں بکھر کر چھوڑ جاتی ہیںسمندر چھین کے اقلیدسی خاکےعجب انداز کی تجریدی تصویریںموہن جوداڑو سے پہلے کے رسم الخط کی تحریریں
صبح سویرےوہ بستر سے سائے جیسی اٹھتی ہےپھر چولھے میں رات کی ٹھنڈی آگ کوروشن کرتی ہےاتنے میں دن چڑھ جاتا ہےجلدی جلدی چائے بنا کر شوہر کو رخصت کرتی ہےسیارے گردش کرتے ہیںشہر میں صحرا صحراؤں میں چٹیل میداںکہساروں کے نشیب و فراز بنا کرتے ہیںسارے گھر کو دھوتی ہےکپڑے تولیے ٹوتھ برش بستر کی چادرکوئی کتاب اٹھاتی ہے رکھ دیتی ہےریڈیو آن کیا پھر روکا آن کیاپھر کوئی پرانا خط پڑھتی ہے(گھنٹی بجی)''مریم! آ جاؤ''''تم کیسی؟ ہو وہ کیسے ہیں''''کیا اس کا کوئی خط آیا؟''(تھوڑی خاموشی کا وقفہ)''تم کیسی ہو''''تم سے مطلب؟ سچ کہہ دوں تو کیا کر لو گی''دیکھو سب کی سب بیٹھی ہوں''اچھا''''اچھا''(دروازہ پھر بند ہو گیا)''اب کیا کرنا!گھر تو بالکل صاف پڑا ہےکوئی شکن بستر پہ نہیں ہےدیوار و در دھلے دھلائےکوئی دھبہ یا مکڑی کا جالا تنکاکہیں کچھ نہیںکیا کرنا ہے!اف! وہ کلنڈرکتنے برس ہو گئے پھر بھیآئیں تو ان سے کہتی ہوںبالکل نیا کلنڈر لائیںکچھ بھوک نہیںاب کیا کرنا ہےلیٹ رہوں؟ لیکن کیا لیٹوںجانے کتنا لیٹ چکی ہوںکھڑی رہوںہاں کھڑی رہوںپر میں تو کب سے کھڑی ہوئی ہوںکھڑکی کا پردہ ہی کھولوںدھوپ کہاں تک آ پہنچی ہےلاؤ اپنا البم دیکھوںنیر شبنم شفق صبوحی اختر جوہیکیسے ہوں گےآں! یہ میں ہوںاتی پیاری پیاری تھی میںمیں بالکل ہی بھول گئی تھیسب کتنا اچھا لگتا تھاابا، اماں، بھیا، اپیسب زندہ تھےسایہ نانی گلشن آپاہاں اور وہ گوریا باباآنسو نغمے شور ٹھہاکے سارے اک سر میں ہوتے تھےساری دنیا گھر لگتی تھیاماں ادھر بلایا کرتیںابا ادھر پکارا کرتےبھیا ڈانٹتےاپی ڈھیروں پیار جتاتیںکھانا، پینا، سونا، جاگنا، ہنسنا، روٹھنا، منناڈور بندھی تھیایک میں ایک پرویا ہوا تھاکل نمو کے گھر شادی ہےپاس ہی کوئی موت ہوئی ہےکالج کی چھٹی کب ہوگیعید پھر اب کی تیس کی ہوگیہم بھی لیل قدر جاگیں گےشہلا کی منگنی کیوں ٹوٹی؟کیا اقبال کوئی شاعر تھا؟چپ بڑکے ابا سن لیں گےسائے دوڑ رہے ہیں گھر میںہر گوشے میں اوپر نیچے اندر باہر دوڑ رہے ہیںلمبے چھوٹے سبز و زرد ہزاروں سائےباہر شہر میں کوئی نہیں ہےدھوپ سیہ پڑتی جاتی ہےقد آدم آئینے میںاس کا ننگا جسم کھڑا ہےجسم کے اندر سورج کا غنچہ مہکا ہےسیارے گردش کرتے ہیںسب انجانے سیاروں میں بھولے بسرے گھر روشن ہیںکس لمحے کا ہے یہ تماشہہست و بود کے سناٹے میںلا موجود کی تاریکی میںصرف یہی آئینہ روشنصرف اک عکس گزشتہ روشنبچھڑے گھر کا سایہ روشن
موت میری جان موتتو بڑی مدت سے میری تاک میں ہےزندگی ممتا بھری ماںاور تو اے موت اک معشوقہ وا آغوش
تیرا چہرہ سادہ کاغذہے تأثر کورا کوراداغ ہے کوئی نہ کوئی نقش ہے!کیوں یہ کھڑکی بند ہے؟
وقت کی کھیتی ہیں ہموقت بوتا ہے اگاتا پالتا ہےاور بڑھنے کے مواقع بھی ہمیں دیتا ہے وقتسبز کو زریں بتانے کی اجازت مرحمت کرتا ہے اورناچنے دیتا ہے باد شوخ کی موجوں کے ساتھجھومنے دیتا ہے سورج کی کرن کی ہم دمی میںچاندنی پی کر ہمیں بدست پاتا ہے تو خوش ہوتا ہے وقتپھولنے پھلنے کی تدبیریں بتاتا ہے ہمیںہاں مگر انجام کارکاٹ لینا ہے ہمیںہم بالآخر اس کے نغمےہم بالآخر اس کی فصل
سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہےبڑا ہو کر وہ لڑکا ایک دن استاد ہوتا ہےنہ آئے ماسٹر جس دن پڑھانے میرے درجے میںذرا سی دیر کو اس دن میرا دل شاد ہوتا ہےجو مولیٰ بخش سے وہ پیٹتے ہیں مجھ کو مکتب میںکوئی سمجھائے ان کو وقت بھی برباد ہوتا ہےبنایا جاتا ہوں مرغا میں جس دن اپنے مکتب میںتو اس دن درد سے یہ دل بہت ناشاد ہوتا ہےسمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ مقصد کیا ہے پڑھنے کامزہ بھی کچھ نہیں ہے وقت بھی برباد ہوتا ہےخدا کے فضل سے جس دن بخار آتا ہے ٹیچر کوتو اس دن اپنا مکتب بھی بہت آباد ہوتا ہےجو حلوہ رکھ کے الماری میں آپی بند کرتی ہیںکھلاتی ہیں نہ کھاتی ہیں پڑا برباد ہوتا ہےاگر ہوں مہرباں ٹیچر تو تم دیکھو گے اے نوریؔسبق جس کو نہیں ہو یاد وہ بھی شاد ہوتا ہے
ذات کا آئینہ خانہجس میں روشن اک چراغ آرزوچار سوزعفرانی روشنی کے دائرے
معذرت چاہتا ہوں دوستمیں اب انتظار نہیں کرتابلکہ خود چل پڑتا ہوں اپنی طرفایک پوشیدہ چاپ کے تعاقب میںخود سے باہر نکلتا ہوںاور اپنے ہی جیسے کسی ہجوم کا حصہ بن کراپنے وجود پر اکتفا کرتا ہوںاپنی عمیق روشنی سے نیا جنم لیتے ہوئےخود کی بنت میں بے جوڑ ہونے کی کاوشرائیگاں نہیں جاتیسنو!سمے کے بھید بھاؤ میں اپنا تخمینہ لگاتے ہوئےذات کی جمع پونجی میں سےمیں تمہیں اپنی حسیات سے مسترد نہیں کرتابساط بھر صبر اور ایک مٹھی وصال کے عوضمیں تمہیں کشید کرتا ہوں اپنے اطراف سےاور گنجائش پیدا کرتا ہوں تمہاری میزبانی کے لیےکسی اور جہت سے اپنے آپ میںلیکن معذرتمیں انتظار نہیں کر سکتااپنی رگوں میں بہتے ہوئے اس دکھ کے پگھلنے کاجو اپنے بہاؤ میں میری توجہ بہا لے جا سکتا ہےاپنے ساتھمیں طے شدہ گزر گاہوں کا مسافر نہیںمجھے تو ہر امکان سے گزر کر آنا ہے تمہاری سمتاور ہاں۔۔۔میں تو اپنا بھی انتظار نہیں کرتا ہوں اب!!!
سلیمؔ اک ازل کی چیخرات کی بساط الٹ گئیچلو سمیٹ لیںجھلملاتے عکس پر نشاں شباہتیںبوند اشک کیچشم مہرباں سے بوند ایک اشک کیورنہ روز حشراپنے اپنے مرقدوں سےکس طرح اٹھائے جائیں گےکیسا سانحہ اپنے آپ سےکس قدر الگ ہیں ہمکیسا سانحہ ہے یہکیسا سانحہ ہے یہسرد راتکھڑکیوں میں سرد تیرگیتیرگی کے آئنہ تلےاک فضائے لا مکاںعمیق کس قدر عمیقبسیط کس قدر بسیطمیری دست میں سے دورمیری روح پر محیط
زخم پھر ہرے ہوئےپھر لہو تڑپ تڑپ اٹھااندھے راستوں پہ بے تکان اڑان کے لیےبند آنکھ کی بہشت میںسب دریچے سب کواڑ کھل گئےاور پھراپنی خلق کی ہوئی بسیط کائنات میںدھند بن کے پھیلتا سمٹتا جا رہا ہوں میںخدائے لم یزل کے سانس کی طرحمیرے آگے آگے اک ہجوم ہےجس کو جو بھی نام دے دیا وہ ہو گیامیرے واسطے سے سب کے سلسلےبندھے ہوئے ہیں سب کی موت زندگیمیرے واسطے سے ہےزمین و آسماں کے بیچجس کو بھی پناہ نہ مل سکےوہ آئے میرے ساتھ ساتھمنتظر ہے آج بھیفضا جو لفظ لفظ پر محیط ہےعمیق اور بسیط ہے
آج کس عالم میں ہیں احباب میرےآنکھ میں تاب و تب و نم کچھ نہیںدل کسی ریفریجیٹر میں رکھے ہوں گے کہیںجسم حاضر ہیں یہاں غائب دماغمسکراہٹ: اک لپ اسٹک خندہ پیشانی نقابروح: برقعہ پوش: آنکھیں بے حجاب!کس لیے مجھ کو پریشاں کر رہے ہیں خواب میرےنیند کے زخمی کف پا سے ٹپکتا ہے خود اپنا ہی لہوخواب میں پھولوں سے آتی ہے خود اپنے خوں کی بوبے عمل ہوں (خواب میں ہوں) پھر بھی جاری (ایک بے نام و نشاں (سی جستجودرمیاں سے اس زمیں کو چیرتا جاتا ہے چاک ارتقاموت آ کر کھٹکھٹاتی رہتی ہے در آنکھ کاکس لیے کھنچتے چلے جاتے ہیں یہ اعصاب میرےعہد نو کے کس مغنی کا جنوںتارسپتک میں انہیں کرتا ہوں ٹیونکون ان تاروں کو اتنا کس رہا ہےٹوٹ جائیں گے تو اس نغمے سے بھی محروم ہو جائے گا سازجس میں شامل ہے شکست ذات کی آواز
جس قدر بھی ہنس لونجات کا کوئی راستہ نہیںتم محبت کے گنہ گار ہوسو غم تمہاری ہڈیوں میں پھیلا ہوا ہےاپنے عمیق تجربے سے بتاؤایک محبت ماپنے کے لیےہمیں دوسری محبت کیوں تلاشنا پڑتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books