aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".wise"
اے میرے وطن کے فن کارو ظلمت پہ نہ اپنا فن وارویہ محل سراؤں کے باسی قاتل ہیں سبھی اپنے یاروورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا اس غم کو نیا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
گلشن یاد میں گر آج دم باد صباپھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو تو ہو جانے دوعمر رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا دردپھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہو جانے دوجیسے بیگانے سے اب ملتے ہو ویسے ہی سہیآؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھوگرچہ مل بیٹھیں گے ہم تم تو ملاقات کے بعداپنا احساس زیاں اور زیادہ ہوگاہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں تو ہر بات کے بیچان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہوگاکوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا نہ تمکوئی مضمون وفا کا نہ جفا کا ہوگاگرد ایام کی تحریر کو دھونے کے لیےتم سے گویا ہوں دم دید جو میری پلکیںتم جو چاہو تو سنو اور جو نہ چاہو نہ سنواور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیںتم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو
او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی وہاں کے باغوں میںمستانہ ہوائیں آتی ہیںکیا اب بھی وہاں کے پربت پرگھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیںکیا اب بھی وہاں کی برکھائیںویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیںاو دیس سے آنے والے بتا
یوں تو ہر رشتہ کا انجام یہی ہوتا ہےپھول کھلتا ہےمہکتا ہےبکھر جاتا ہےتم سے ویسے تو نہیں کوئی شکایتلیکنشاخ ہو سبزتو حساس فضا ہوتی ہےہر کلی زخم کی صورت ہی جدا ہوتی ہےتم نےبیکار ہی موسم کو ستایا ورنہپھول جب کھل کے مہک جاتا ہےخود بہ خودشاخ سے گر جاتا ہے
باقی آدھے کمرے میں کیا ہو رہا ہےلڑکیاںکیا حرف چن رہی ہیںاستعارے کے لحاظ سےحرام کے بچے گن رہی ہیںلڑکیوں کے نام قافیے کی وجہ سےسارتر زیادہ نہیں رکھ پا رہا ہےاس لیے ان کی غزل چھوٹی پڑ رہی ہےزمین کے لحاظ سے نقاداپنے کمروں سے اکھڑنے کے لیے تیار نہیںلیکن انہوں نے وعدہ کیا ہےسارے تھنکر اکٹھے ہوں گےاور بتائیں گے کہ سوسائٹی کیا ہےاور کیوں ہےویسے ہواؤں کا کام ہے چلتے پھرتے رہنادور اندیش کی آنکھ کیسی ہےسگریٹ کے کش سے بڑی ہےوہ گھڑے سے پتھر نکال کر گن رہے تھےاور کہہ رہے تھے میں اس گھڑے کا بانی ہوںچائے کے ساتھ غیبت کے کیکضروری ہوتے ہیںاور چغلخوری کی کتاب کا دیباچہہر شخص لکھتا ہےزبانوں میں بجھے تیروں سے مقتول زندہ ہو رہے ہیںبڑا ابلاغ ہےسوسائٹی کے چہرے پہ وہ زبان چلتی ہےکہ ایک ایک بندے کے پاسکتابوں کی ریاست بندے سے زیادہ ہے
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
کیا بچے سلجھے ہوتے ہیںجب گیند سے الجھے ہوتے ہیںوہ اس لیے مجھ کو بھاتے ہیںدن بیتے یاد دلاتے ہیںوہ کتنے حسین بسیرے تھےجب دور غموں سے ڈیرے تھےجو کھیل میں حائل ہوتا تھانفرین کے قابل ہوتا تھاہر اک سے الجھ کر رہ جانارک رک کے بہت کچھ کہہ جاناہنس دینا باتوں باتوں پربرسات کی کالی راتوں پربادل کی سبک رفتاری پربلبل کی آہ و زاری پراور شمع کی لو کی گرمی پرپروانوں کی ہٹ دھرمی پردنیا کے دھندے کیا جانیںآزاد یہ پھندے کیا جانیںمعصوم فضا میں رہتے تھےہم تو یہ سمجھ ہی بیٹھے تھےخوشیوں کا الم انجام نہیںدنیا میں خزاں کا نام نہیںماحول نے کھایا پھر پلٹاناگاہ تغیر آ جھپٹااور اس کی کرم فرمائی سےحالات کی اک انگڑائی سےآ پہنچے ایسے بیڑوں میںجو لے گئے ہمیں تھپیڑوں میںبچپن کے سہانے سائے تھےسائے میں ذرا سستائے تھےوہ دور مقدس بیت گیایہ وقت ہی بازی جیت گیااب ویسے مرے حالات نہیںوہ چیز نہیں وہ بات نہیںجینے کا سفر اب دوبھر ہےہر گام پہ سو سو ٹھوکر ہےوہ دل جو روح قرینہ تھاآشاؤں کا ایک خزینہ تھااس دل میں نہاں اب نالے ہیںتاروں سے زیادہ چھالے ہیںجو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہےرونے کو چھپانا ہوتا ہےکوئی غنچہ دل میں کھلتا ہےتھوڑا سا سکوں جب ملتا ہےغم تیز قدم پھر بھرتا ہےخوشیوں کا تعاقب کرتا ہےمیں سوچتا رہتا ہوں یوں ہیآخر یہ تفاوت کیا معنییہ سوچ عجب تڑپاتی ہےآنکھوں میں نمی بھر جاتی ہےپھر مجھ سے دل یہ کہتا ہےماضی کو تو روتا رہتا ہےکچھ آہیں دبی سی رہنے دےکچھ آنسو باقی رہنے دےیہ حال بھی ماضی ہونا ہےاس پر بھی تجھے کچھ رونا ہے
ایک آیا گیا دوسرا آئے گا دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گیمیں کھڑا ہوں یہاں کس لیے مجھ کو کیا کام ہے یاد آتا نہیں یاد بھی ٹمٹماتاہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہےمگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا ایک آندھی چلی چل کے مٹبھی گئی آج تک میرے کانوں میں موجود ہے سائیں سائیں مچلتی ہوئی اورابلتی ہوئی پھیلتی پھیلتی دیر سے میں کھڑا ہوں یہاں ایک آیا گیادوسرا آئے گا رات اس کی گزر جائے گی ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھرآ رہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے اور ٹہلتے ہوئے اور رکتے ہوئے پھر سےبڑھتے ہوئے اور لپکتے ہوئے آ رہے جا رہے ہیں ادھر سے ادھر اور ادھر سےادھر جیسے دل میں مرے دھیان کی لہر سے ایک طوفان ہے ویسے آنکھیںمری دیکھتی ہی چلی جا رہی ہیں کہ اک ٹمٹماتے دئیے کی کرن زندگی کو پھسلتےہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کیے جا رہی ہے مجھے دھیانآتا ہے اب تیرگی اک اجالا بنی ہے مگر اس اجالے سے رستی چلی جا رہیہیں وہ امرت کی بوندیں جنہیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں ہتھیلیمگر ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی تھی لپک سے اجالا ہوا لو گری پھر اندھیرا ساچھانے لگا بیٹھتا بیٹھتا بیٹھ کر ایک ہی پل میں اٹھتا ہوا جیسے آندھی کےتیکھے تھپیڑوں سے دروازے کے طاق کھلتے رہیں بند ہوتے رہیںپھڑپھڑاتے ہوئے طائر زخم خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا ایک آیاگیا دوسرا آئے گا سوچ آئی مجھے پاؤں بڑھنے سے انکار کرتےگئے میں کھڑا ہی رہا دل میں اک بوند نے یہ کہا رات یوں ہی گزر جائے گیدل کی اک بوند کو آنکھ میں لے کے میں دیکھتا ہی رہا پھڑپھڑاتے ہوئے طائرزخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے مجھ کو آہستہ آہستہاحساس ہونے لگا اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقتتڑپائے گا میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہوں گا وہ امرت کی بوندیں جنہیں آنکھسے میری رسنا تھا لیکن مری زندگی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئیاور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے کہ اس تیرگی میں کوئی بات ایسی نہیںجس کو پہلے اندھیرے میں دیکھا ہو میں نے سفر یہ اجالے اندھیرے کا چلتارہا ہے تو چلتا رہے گا یہی رسم ہے راہ کی ایک آیا گیا دوسراآئے گا رات ایسے گزر جائے گی ٹمٹماتے ستارے بتاتے تھے رستے کیندی بہی جا رہی ہے بہے جا اس الجھن سے ایسے نکل جا کوئی سیدھا منزل پہ جاتاتھا لیکن کئی قافلے بھول جاتے تھے انجم کے دور یگانہ کے مبہم اشارے مگر وہبھی چلتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے شام سے پہلے ہی دیکھ لیتے تھے مقصود کا بنددروازہ کھلنے لگا ہے مگر میں کھڑا ہوں یہاں مجھ کو کیا کام ہے میرا دروازہکھلتا نہیں ہے مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرہ ذرہ یہی کہہ رہا ہےکے ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کے جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھیکہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو مگر میں کھڑا ہوں یہاں کس لیےکام کوئی نہیں ہے تو میں بھی ان آتے ہوئے اور جاتے ہوئے ایک دو تینلاکھوں بگولوں میں مل کر یوں ہی چلتے چلتے کہیں ڈوب جاتا کے جیسے یہاںبہتی لہروں میں کشتی ہر ایک موج کو تھام لیتی ہے اپنی ہتھیلی کے پھیلے کنولمیں مجھے دھیان آتا نہیں ہے کہ اس راہ میں تو ہر اک جانے والے کے بسمیں ہے منزل میں چل دوں چلوں آئیے آئیے آپ کیوں اس جگہایسے چپ چاپ تنہا کھڑے ہیں اگر آپ کہیے تو ہم اک اچھوتی سی ٹہنی سےدو پھول بس بس مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں اکدوست کا راستہ دیکھتا ہوں مگر وہ چلا بھی گیا ہے مجھے پھر بھیتسکین آتی نہیں ہے کہ میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خوداپنی نظر میں مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے یہ بات ممکن نہیں ہےمیں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لےمجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرےوہ سب ایک بہتا سا جھونکا بنا ہے جسے ہاتھ میرے نہیں روک سکتےکہ میری ہتھیلی میں امرت کی بوندیں تو باقی نہیں ہیں فقط ایک پھیلا ہواخشک بے برگ بے رنگ صحرا ہے جس میں یہ ممکن نہیں میں کہوںایک آیا گیا دوسرا آئے گا رات میری گزر جائے گی
مری گلی کے غلیظ بچوتم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھوتمہاری آنکھیںاداسیوں سے بھری ہوئی ہیںازل سے جیسے ڈری ہوئی ہیںتمہارے ہونٹوں پہ پیڑھیوں کی جمی ہوئی تہہ یہ کہہ رہی ہےحیات کی آب جو پس پشت بہہ رہی ہےتمہاری جیبیں منافقت سے اٹی ہوئی ہیںسبھی قمیصیں پھٹی ہوئی ہیںتمہاری پھیکی ہتھیلیوں کی بجھی لکیریںبقا کی ابجد سے اجنبی ہیںتمہاری قسمت کی آسمانی نشانیاں اب خطوط وحدانیت کا مقسوم ہو رہی ہیںنظر سے معدوم ہو رہی ہیںمری گلی کے غلیظ بچوتمہارے ماں باپ نے تمدن کا قرض لے کرتمہاری تہذیب بیچ دی ہےتمہارا استاد اپنی ٹوٹی ہوئی چھڑی لے کے چپ کھڑا ہےکہ اس کے سوکھے گلے میں نان جویں کا ٹکڑا اڑا ہوا ہےمری گلی کے غلیظ بچوتمہارے میلے بدن کی ساری غلاظتیں اب گئے زمانوں کے ارمغاں ہیںتمہارے ورثے کی داستاں ہیںانہیں سنبھالوکہ آنے والا ہر ایک لمحہ تمہارے جھڑتے ہوئے پپوٹوں سے جانے والے دنوں دنوں کی اتار لے گامری گلی کے غلیظ بچوضدوں کو چھوڑوقریب آؤرتوں کی نفرت کو پیار سمجھوخزاں کو رنگ بہار سمجھوغلاظتوں کو ادھار سمجھو
برائی آج نہ ایسے رہے نہ ویسے رہےصفائی دل میں رہے آج چاہے جیسے رہےغبار دل میں کسی کے رہے تو کیسے رہےابیر اڑتی ہے بن کر غبار ہولی میں
میرے ہونے کی زمانے میں وضاحت کرنادل کے جذبات کی دنیا سے حفاظت کرناویسے مشکل ہے کسی پر بھی یہ نعمت کرناپھر بھی ممکن ہو تو تا عمر محبت کرنا
کیوں گنہ گار بنوں ویزا فراموش رہوںکب تلک خوف زدہ صورت خرگوش رہوںوقت کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ خاموش رہوںہم نوا! میں کوئی مجرم ہوں کہ روپوش رہوں
تو اس نے بھی دکھلائے ویسے ہی دانتیہ غرایا غرائی پرچھائیں بھیپلٹ کے کنویں سے جو آواز لوٹی
جانے کس کوکھ نے جنا اس کوجانے کس صحن میں جوان ہوئیجانے کس دیس سے چلی کمبختویسے یہ ہر زبان بولتی ہےزخم کھڑکی کی طرح کھولتی ہے
دیس میں بسنے والا ہر اک سچ پسندظلم و وحشت سے دوری پر ہر کار بندسانس لینے کا حق مانگنے والا ہر نوجواںزندگی کی رمق کھوجنے والا ہر خانداںسارے غدار ہیںسارے جاسوس ہیںحاکم و سپہ سالار و اشرافیہکے اشاروں پہ نہ ناچنے والے کفار ہیںناقدیں سازشیسوچنے والےگستاخ ہیںاور وہ سارے قلم کارایجنٹ ہیںجو نگوں سر نہیںوہ جنہیں فطرت سبز نےجاں فشانی سے لوگوں کے چہروں پہ اگتی تھکنوحشتیں تیرگیدور پر شور کی سچی تاریخ میں ٹانک دینے کی گستاخیوںکا جریدہ کیاآیت مفلسی سے کوئی سرکشیگنبد تشنگی پر شکایت کوئیمذہب تیرہ بختی کی توہین ہےاپنی دھرتی کے گلے سے اپنے لیے کوئی حصہ طلب کرنا الحاد ہےاور ویسے بھی گندم تو شیطانیت ہی کی ایجاد ہےبھوک غدار ہے
دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہےیا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہےہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہےناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہورلے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نورگزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیوررو رو یہی کہے ہے ہر اک قبر کے حضورجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےدنیا سے جب کہ انبیا اور اولیا اٹھےاجسام پاک ان کے اسی خاک میں رہےروحیں ہیں خوب جان میں روحوں کے ہیں مزےپر جسم سے تو اب یہی ثابت ہوا مجھےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہیںوہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہحشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہمرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہاب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےکس کس طرح کے ہو گئے محبوب کج کلاہتن جن کے مثل پھول تھے اور منہ بھی رشک ماہجاتی ہے ان کی قبر پہ جس دم مری نگاہروتا ہوں جب تو میں یہی کہہ کہہ کے دل میں آہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےوہ گورے گورے تن کہ جنہوں کی تھی دل میں جائےہوتے تھے میلے ان کے کوئی ہاتھ گر لگائےسو ویسے تن کو خاک بنا کر ہوا اڑائےرونا مجھے تو آتا ہے اب کیا کہوں میں ہاےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےعمدوں کے تن کو تانبے کے صندوق میں دھرامفلس کا تن پڑا رہا ماٹی اپر پڑاقائم یہاں یہ اور نہ ثابت وہ واں رہادونوں کو خاک کھا گئی یارو کہوں میں کیاجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگر ایک کو ہزار روپے کا ملا کفناور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تنکیڑے مکوڑے کھا گئے دونوں کے تن بدندیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخنجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے جہاں میں ناچ ہیں کنگنی سے تا گیہوںاور جتنے میوہ جات ہیں تر خشک گوناگوںکپڑے جہاں تلک ہیں سپیدہ و سیہ نموںکمخواب تاش بادلہ کس کس کا نام لوںجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے درخت دیکھو ہو بوٹے سے تا بہ جھاڑبڑ پیپل آنب نیب چھوارا کھجور تاڑسب خاک ہوں گے جب کہ فنا ڈالے گی اکھاڑکیا بوٹے ڈیڑھ پات کے کیا جھاڑ کیا پہاڑجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنا یہ خاک کا ہے طلسمات بن رہاپھر خاک اس کو ہوتا ہے یارو جدا جداترکاری ساگ پات زہر امرت اور دوازر سیم کوڑی لعل زمرد اور ان سواجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگڑھ کوٹ توپ رہکلہ تیغ و کمان و تیرباغ و چمن محل و مکانات دل پزیرہونا ہے سب کو آہ اسی خاک میں خمیرمیری زباں پہ اب تو یہی بات ہے نظیرؔجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے
اس کی خواہش کا اظہارمعصوم حد تک روایت کی بندش میں الجھا ہوا تھاکہ میں اس کے ہاتھوں پہ مہندی لگاؤںمگر شاعری ایک دیوی ہے جس کی جلن کوکبھی لکھنے والوں کے ہاتھوں پہ اتنا ترس ہی نہیں آ سکا ہےکہ باغی دماغوں میں بھی عام رستوں کی تقلید بھرتییا ہاتھوں کی جنبش خرد کے تسلط سے آزاد کرتیمرے ہاتھ بھی ذہن میں گھومتے کچھ سوالوں کے سانچے بنانے لگےاس کے ہاتھوں پہ مہندی سے ایٹم کے ماڈل بنانے لگےاور ماڈل بھی ایسے جو متروک تھےجس میں ذرہ بہت دور سے گھومتا جھومتا دائرہ دائرہرفتہ رفتہ کسی مرکزے کی طرف گامزنبس تسلسل سے بڑھتی ہوئی اک کشش کے اثر میں رہےاک یقینی فنا کے سفر میں رہےسالہا سال چیزیں بدلتی گئیںوقت نے درد کے جو بھی لیرکس لکھے ان کو گانا پڑاجانے کیسے مگراس کو جانا پڑامیں نے ویسے تو یہ عمر بھر سوچنا ہی نہیں تھامگر شاعری ایک دیوی جلنناسٹیلجک زمانوں کی تصویر لاجک کے کچھ مسئلےپوچھنے لگ گئے ہیںبھلا ایسا جاہل کہاں پر ملے گاکہ جو کیمیا پڑھ کے بھیاک تعلق میں پہلے تو ذرہ بنےاور نبھاتے ہوئےڈائنیمکس کے وہ ہی متروک ماڈل چنےاور تسلسل سے بڑھتی ہوئی اک کشش کے اثر میں رہےاک یقینی فنا کے سفر میں رہے
تعلقترک کرنا ہےتعلقترککر لینامگرویسے نہیںجیسےزمانہترککرتا ہےدلوں میںفرقکرتا ہےوفا کوغرق کرتا ہیںتعلقترک کرنا ہےتعلقترک کر لینامگراک مشورہ سن لواسے تم التجا سمجھوتمہیں بس اتناکرنا ہےکہ اسانجام سے پہلےمیرا آغاز دہرا دومجھے پھر مجھ سے ملوا دوتمہیں بس اتناکرنا ہےمحبتکے مہینے کیوہی تاریخ چنی ہےوہیاک وقترکھنا ہےوہیکپڑے پہننے ہیںوہیخوشبو لگانی ہےجو پہلے دن لگائی تھیمحبت کیوہپہلیمسکراہٹساتھ لانی ہےاسی کیفے میں آنا ہےاسی ٹیبل کو چننا ہےوہی کافی منگانی ہےکہ جو اس دن منگائی تھیچمکآنکھوں میںوہ ہی ہوکھنکباتوں میںوہ ہی ہوہتھیلی پراسی انداز میںمہندی رچا لیناکہ جواس دن رچائی تھیسنو جاناںمحبت کامرا پہلالفافہوہ گلابی خطاسے تم ساتھ لے آناتمہاراخطکہ جس کے رنگاب تکہو بہ ہو وہ ہیںاسے میں ساتھ لاؤں گالفافے ہمبدل لیں گےتعلقترک کر لیں گےاسی دنکی طرحکیفے سے جاتے وقتمڑ کر دیکھ پاؤ تویہ تم پر چھوڑتا ہوں میںتعلق توڑتا ہوں میںجہاں سےابتدا کی تھیوہیں پرانتہا کرناتعلقترک کرنا ہےتعلقترککر لینامگرویسے نہیںجیسےزمانہترککرتا ہے
ذہن میں عظمت اجداد کے قصے لے کراپنے تاریک گھروندوں کے خلا میں کھو جاؤمرمریں خوابوں کی پریوں سے لپٹ کر سو جاؤابر پاروں پہ چلو، چاند ستاروں میں اڑویہی اجداد سے ورثہ میں ملا ہے تم کودور مغرب کی فضاؤں میں دہکتی ہوئی آگاہل سرمایہ کی آویزش باہم نہ سہیجنگ سرمایہ و محنت ہی سہیدور مغرب میں ہے مشرق کی فضا میں تو نہیںتم کو مغرب کے بکھیڑوں سے بھلا کیا لینا؟تیرگی ختم ہوئی سرخ شعاعیں پھیلیںدور مغرب کی فضاؤں میں ترانے گونجےفتح جمہور کے انصاف کے آزادی کےساحل شرق پہ گیسوں کا دھواں چھانے لگاآگ برسانے لگے اجنبی توپوں کے دہنخواب گاہوں کی چھتیں گرنے لگیںاپنے بستر سے اٹھونئے آقاؤں کی تعظیم کرواور پھر اپنے گھروندوں کے خلا میں کھو جاؤتم بہت دیر بہت دیر تلک سوئے رہے
کبھی کبھی لگتا ہےجیسے زندگیکان میں آ کر کہہ رہی ہویار میرے ساتھ کر کیا رہے ہوویسے سچ میںہمیں کرنا کیا تھااور ہم کر کیا رہیں ہیںہمیں بننا کیا تھااور ہم بن کیا گئے ہیںرونا چاہیںتو کھل کر روتے نہیں ہیںہنسنا چاہیںتو کھل کر ہنستے نہیں ہیںخوابوں میں یوں بہتے ہیں اکثرحقیقت میں ہم رہتے نہیں ہیںیہ چاندنی راتیںوہ تاروں سے باتیںتھوڑا راتوں میں جاگناتھوڑا سچ سے بھاگناکچھ پیارے سپنےکچھ بری یادیںکچھ پوری ضرورتیںکچھ ادھوری خواہشیںسب ہیںاگر کچھ نہیں ہےتو وہ ہیں ہم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books