aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aabdaar"
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجاتھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پرآہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہےلطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیںہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیںآہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیںگیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہےاے جہان آباد اے گہوارۂ علم و ہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام درذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہےتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
در ہائے آب دار و شرر ہائے دل نشیںشب ہائے تلخ و ترش و سحر ہائے شکریںعقل نشاط خیز و جنون غم آفریںدولت وہ کون ہے جو مری جیب میں نہیںٹکرائی جب بھی مجھ سے خجل سروری ہوئییوں ہے ترے فقیر کی جھولی بھری ہوئی
طفلی میں آرزو تھی کسی دل میں ہم بھی ہوںاک روز سوز و ساز کی محفل میں ہم بھی ہوںدل ہو اسیر گیسوئے عنبر سرشت میںالجھے انہیں حسین سلاسل میں ہم بھی ہوںچھیڑا ہے ساز حضرت سعدیؔ نے جس جگہاس بوستاں کے شوخ عنادل میں ہم بھی ہوںگائیں ترانے دوش ثریا پہ رکھ کے سرتاروں سے چھیڑ ہو مہ کامل میں ہم بھی ہوںآزاد ہو کے کشمکش علم سے کبھیآشفتگان عشق کی منزل میں ہم بھی ہوںدیوانہ وار ہم بھی پھریں کوہ و دشت میںدلدادگان شعلۂ محمل میں ہم بھی ہوںدل کو ہو شاہزادیٔ مقصد کی دھن لگیحیراں سراغ جادۂ منزل میں ہم بھی ہوںصحرا ہو، خار زار ہو، وادی ہو، آگ ہواک دن انہیں مہیب منازل میں ہم بھی ہوںدریائے حشر خیز کی موجوں کو چیر کرکشتی سمیت دامن ساحل میں ہم بھی ہوںاک لشکر عظیم ہو مصروف کارزارلشکر کے پیش پیش مقابل میں ہم بھی ہوںچمکے ہمارے ہاتھ میں بھی تیغ آب دارہنگام جنگ نرغۂ باطل میں ہم بھی ہوںقدموں پہ جن کے تاج ہیں اقلیم دہر کےان چند کشتگان غم دل میں ہم بھی ہوں
نہیں ہے کوئی درخشندہ برق جس کی مثالمشابہ جس کے کوئی گہر آبدار نہیں
پیچ دار پہاڑوں پرچڑھتے راستےہانپنے لگےپیشانی پرجھلملاتے آبدارموتی پوچھےنیچےوادیوں میں دیکھابادلوں کے لہراتے آنچلاوڑھےمخمورگنگناتیمسکراتیپہاڑوں کے قدم چومتیوادیوں کیآغوش میں مچلتیسبزہ زاروں سےاٹکھیلیاں کرتینشے میں جھومتیآبشاروں کو گلے لگاتیپیغام آشتی دیتینشیب کی جانببڑھتی ندی
کسی گم شدہ رہ رائیگانی کی ساعتوں کے غبار میںمیں چھپا رہاکسی دیدۂ اشک بار میںمیرا عکس شامل نہ ہو سکاکسی گوہر آب دار میںمری خواب خواب سی خواہشیںمرے خار خار سے رت جگےمرے آئنوں کی شکستگیمری بے بسیرہی ایک لمحے کی منتظرجو نہ آ سکاجو نہ آئے گایوں ہی عمر بھر جو رلائے گایوں ہی عمر بھر جو رلائے گا
جو پیہم سازشیں دیکھیں غضب کی باغبانوں میںلگا لی بلبلوں نے آگ خود ہی آشیانوں میںنہیں جب آبیاری کا ہی جذبہ باغبانوں میںکھلیں کیونکر گل امید اپنے گلستانوں میںمیں شاعر ہوں بہت مشکل میں ہے جان حزیں میریکہیں گم ہو کے رہ جاؤں نہ غم کی داستانوں میںکہوں اشعار میں جو درد دل تو لوگ کہتے ہیںغضب کا رنگ بھر کر رکھ دیا تو نے فسانوں میںجو دل کی بات کہتا ہوں تو ہنستے ہیں وطن والےلہو روؤں تو شامل اشک ہوں رنگیں بیانوں میںالٰہی کیا کروں کیسے گزاروں زندگی اپنیکہ سب ارمان ہیں پابند غم کے قید خانوں میںمجھے افسردہ رکھتی ہے تباہیٔ وطن ہمدمفسانہ عبرت آگیں ہے مرا سارے فسانوں میںنشانے تک ہمارے تیر پہنچیں بھی تو کیا پہنچیںنہ وہ جرأت ہے سینوں میں نہ وہ طاقت کمانوں میںمصیبت آئے یا بجلی گرے کچھ غم نہیں ہوتاچمن والے پڑے ہیں مست و بے خود آشیانوں میںنہیں سمجھے ابھی تک ہم کہ مشرق کا علو کیا ہےہمارا دل پڑا ہے مغربی تہذیب خانوں میںہمارا ہی نشیمن پھونکنے کی فکر ہے اس کوکبھی رقصاں تھی جو بجلی عدو کے گلستانوں میںیہ ہے پستی کا عالم اب یہ مصرف رہ گیا اپناہمارے دم سے رونق ہے کسی کے قید خانوں میںوہ دل پامال کر دو جس میں آزادی کا جذبہ ہویہ چرچے ہر طرف ہیں سامراجی باغبانوں میںعروج دار تو دیتا ہے دعوت آج بھی ہم کومگر رنگ صداقت ہی نہیں اپنی زبانوں میںتزلزل کیوں یہ وقت انتعاش ملک و ملت ہےسماؤ بجلیاں بن کر فرنگی عیش خانوں میںتملق چھوڑ دو معجز نما ہو اب حقیقت کےکرو سوز سلف پیدا زبانوں میں فغانوں میںقلوب اہل باطل میں قیامت کا تلاطم ہوجوانو جوش وہ پیدا کرو قومی ترانوں میںجو تم چاہو تو بے شک دولت کونین مل جائےطیور عرش اعظم ہیں تمہارے رازدانوں میںتمہیں سوز دروں بخشا ہے حق نے کام لو اس سےلگا دو آگ بڑھ کر بجلیوں کے آشیانوں میںنہ لاؤ فرق اپنے عزم و ہمت میں وطن والوتمہیں ثابت قدم رہنا ہے بے شک امتحانوں میںافق سے شاہ خاور اے رضیؔ پیغام دیتا ہےکہ تیری نظم سن کر زلزلہ ہے آسمانوں میں
بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوںاس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوںتخت سلطاں کیا میں سارا قصر سلطاں پھونک دوںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگاغیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگاایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگابات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگایہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیںاس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگاجان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیرہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگاکبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسےاس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگاچلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کردوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگایاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگااور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگاجب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبراس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگاسوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دلیوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہےکہ خون رایگاں کے امر میں پڑنا نہیں ہم کووہ سود حال سے یکسر زیاں کارانہ گزرا ہےطلب تھی خون کی قے کی اسے اور بے نہایت تھیسو فوراً بنت اشعت کا پلایا پی گیا ہوگاوہ اک لمحے کے اندر سرمدیت جی گیا ہوگا
مرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئیکہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوںکہ چلتی گاڑی سے پیڑ دیکھوتو ایسا لگتا ہےدوسری سمت جا رہے ہیںمگر حقیقت میںپیڑ اپنی جگہ کھڑے ہیںتو کیا یہ ممکن ہےساری صدیاںقطار اندر قطار اپنی جگہ کھڑی ہوںیہ وقت ساکت ہواور ہم ہی گزر رہے ہوںاس ایک لمحے میںسارے لمحےتمام صدیاں چھپی ہوئی ہوںنہ کوئی آئندہنہ گزشتہجو ہو چکا ہےجو ہو رہا ہےجو ہونے والا ہےہو رہا ہےمیں سوچتا ہوںکہ کیا یہ ممکن ہےسچ یہ ہوکہ سفر میں ہم ہیںگزرتے ہم ہیںجسے سمجھتے ہیں ہمگزرتا ہےوہ تھما ہےگزرتا ہے یا تھما ہوا ہےاکائی ہے یا بٹا ہوا ہےہے منجمدیا پگھل رہا ہےکسے خبر ہےکسے پتا ہےیہ وقت کیا ہے
خیر اس بات کو تو چھوڑ بتا کیسی ہےتو نے چاہا تھا جسے وہ ترے نزدیک تو ہےکون سے غم نے تجھے چاٹ لیا اندر سےآج کل پھر سے تو چپ رہتی ہے سب ٹھیک تو ہے
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پرکہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہےیہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔نشہ آتا ہے اردو بولنے میںگلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیںلطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے کا گھونٹ اترتا ہےبڑی ارسٹوکریسی ہے زباں میںفقیری میں نوابی کا مزا دیتی ہے اردواگرچہ معنی کم ہوتے ہے اردو میںالفاظ کی افراط ہوتی ہےمگر پھر بھی، بلند آواز پڑھیے تو بہت ہی معتبر لگتی ہیں باتیںکہیں کچھ دور سے کانوں میں پڑتی ہے اگر اردوتو لگتا ہے کہ دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے، دھوپ اندر آ رہی ہےعجب ہے یہ زباں، اردوکبھی کہیں سفر کرتے اگر کوئی مسافر شعر پڑھ دے میرؔ، غالبؔ کاوہ چاہے اجنبی ہو، یہی لگتا ہے وہ میرے وطن کا ہےبڑی شائستہ لہجے میں کسی سے اردو سن کرکیا نہیں لگتا کہ ایک تہذیب کی آواز ہے, اردو
اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیاتحق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذاتمیں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہےہر دم متغیر تھے خرد کے نظریاتمحرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سےبینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتاتآج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافاتہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندےتو خالق اعصار و نگارندۂ آناتاک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوںحل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالاتجب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچےکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ باتگفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتاجب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالاتوہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبودوہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماواتمشرق کے خداوند سفیدان فرنگیمغرب کے خداوند درخشندہ فلزاتیورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہےحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلماترعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میںگرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عماراتظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہےسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجاتیہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومتپیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساواتبیکاری و عریانی و مے خواری و افلاسکیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحاتوہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محرومحد اس کے کمالات کی ہے برق و بخاراتہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتآثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخرتدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا ماتمے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزلبیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خراباتچہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شامیا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کراماتتو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میںہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقاتکب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہدنیا ہے تری منتظر روز مکافات
جو جسم کا ایندھن تھاگلنار کیا ہم نےوہ زہر کہ امرت تھاجی بھر کے پیا ہم نےسو زخم ابھر آئےجب دل کو سیا ہم نےکیا کیا نہ محبت کیکیا کیا نہ جیا ہم نےلو کوچ کیا گھر سےلو جوگ لیا ہم نےجو کچھ تھا دیا ہم نےاور دل سے کہا ہم نےرکنا نہیں درویشایوں ہے کہ سفر اپناتھا خواب نہ افسانہآنکھوں میں ابھی تک ہےفردا کا پری خانہصد شکر سلامت ہےپندار فقیرانہاس شہر خموشی میںپھر نعرۂ مستانہاے ہمت مردانہصد خارہ و یک تیشہاے عشق جنوں پیشہاے عشق جنوں پیشہ
یہ کتنے پھول ٹوٹ کر بکھر گئے یہ کیا ہوایہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے یہ کیا ہوابڑھی جو تیز روشنی چمک اٹھی روش روشمگر لہو کے داغ بھی ابھر گئے یہ کیا ہواانہیں چھپاؤں کس طرح نقاب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میںکہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
ہر اک سیہ شاخ کی کماں سےجگر میں ٹوٹے ہیں تیر جتنےجگر سے نوچے ہیں اور ہر اککا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے۳الم نصیبوں جگر فگاروںکی صبح افلاک پر نہیں ہےجہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوںسحر کا روشن افق یہیں ہےیہیں پہ غم کے شرار کھل کرشفق کا گلزار بن گئے ہیںیہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشےقطار اندر قطار کرنوںکے آتشیں ہار بن گئے ہیںیہ غم جو اس رات نے دیا ہےیہ غم سحر کا یقیں بنا ہےیقیں جو غم سے کریم تر ہےسحر جو شب سے عظیم تر ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books