aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aamad-e-sub.h"
راہ الفت کی روایات کہن زندہ ہیںسر بکف اہل وفا بحر تماشا گزرےدرد کی رات وہی کرب کا احساس وہیآمد صبح تمنا کا گماں کیا گزرےخوف کلیوں کا تبسم بھی چرا لیتا ہےافق جبر اندھیروں کا پتا دیتا ہے
اک نئی صبح درخشاں کا روپہلا آنچلاپنے ہم راہ لئے عزم جواں کی تنویرساقیٔ وقت کے رخسار پہ لہرایا ہےیہ ہے تاریک فضاؤں میں اجالے کی لکیر
جب بھی ظلمت کے جگر چاک کئے ہیں ہم نےاک نئی صبح کا پیغام دیا کرتے ہیںجب بھی مہتاب زر افشاں کے ہو چہرے پہ نقابجان ہم رکھ کے ہتھیلی پر الٹ دیتے ہیں
صبح دم باد صبا کی شوخیاں کام آ گئیںلالہ و گل کو بغل گیری کا موقع مل گیادیکھ کر اس دوستی کے پر فضا ماحول کوساری کلیاں ہنس پڑیں سارا گلستاں کھل گیا
چراغ راہ میں اس کے عمل سے جلنے لگےلو آج صبح شب انتظار آ ہی گئیفضا مہکنے لگی دل نواز پھولوں سےدیار ہند میں فصل بہار آ ہی گئی
ہر اک کھیلنے والے کی بس اک ہی تمنا ہےاسی کیرم کے کونوں میں جو چھوٹے چھوٹے کمرے ہیںانہیں آباد کرنا ہے کنیزوں سے اور رانی سےکھلاڑی چال چلتا ہے اسٹرایکر کی مدد سےآمد و رفت ان کنیزوں کیلگی رہتی ہے کمروں میںکہیں گوری کہیں کالی کبھی رانیعجب ہے کھیل کیرم کا
انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہےہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں اداسی ہےخوابوں کے گلستاں کی خوشبوئے دل آرا ہےیا صبح تمنا کے ماتھے کا ستارا ہےترسی ہوئی نظروں کو اب اور نہ ترسا رےاے حسن کے سوداگر اے روپ کے بنجارےرمنا دل انشاؔ کا اب تیرا ٹھکانا ہواب کوئی بھی صورت ہو اب کوئی بہانا ہو
دیکھ کبھی تو موسم گل کوپت جھڑ کی آوازوں میںاور کبھی تو پربت بن جااور کبھی بہہ ساگر میںصحراؤں میں تنہا چلاور ہنستا جا گلزاروں میںپتھر سے اگا لے پھولوں کوخاروں میں شیرینی بھر دےروتی شبنم ڈھلتا سورجسانجھ کی سندر بیلا بھیصبح کا تارا چاند کا ہالہہر موسم البیلا بھی
قریب صبح صدائے شکست جاں ابھریلبوں کا زہر اچانک پگھل گیا آخر
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
راہ الفت کی روایات کہن زندہ ہیںسر بکف اہل وفا بہر تماشا گزرےدرد کی رات وہی کرب کا احساس وہیآمد صبح تمنا کا گماں کیا گزرےخوف کلیوں کا تبسم بھی چرا لیتا ہےافق جبر اندھیروں کا پتا دیتا ہےایک تصویر جو آویزاں تھی ایوانوں میںخون کا غازہ ملے حسن ستم ہو جیسےپیکر تمکنت و ناز و غرور باطلدر زنداں پہ تشدد کا علم ہو جیسےاب وہ تصویر کسی گوشۂ ایواں میں نہیںذکر اس بت کا کسی بزم شبستاں میں نہیں
سرمایۂ نشاط سہی آمد بہارلیکن اسے نصیب ترا بانکپن کہاں
میں نے کہا جناب سے مہنگائی ہے بہتبولے تمہاری آمد بالائی ہے بہت
جھلکا جھلکا سپیدۂ صبحجھلکا جھلکا سپیدۂ صبح
تکلفات کے پردے ذرا ہٹائیے توفسانۂ غم پنہاں ہمیں سنائیے تویہ کیسی آمد بے وقت ہے بتائیے تونہ اور کیجیے حیران ہم نہیں سمجھےمعاف کیجیے شریمان ہم نہیں سمجھے
اے وفا کھلتے ہیں تجھ پر آج کیا کیا راز دیکھچل چمن میں بلبل و گل کے نیاز و ناز دیکھجنبش موج نسیم صبح کا اعجاز دیکھطائر بے بال و پر کی حسرت پرواز دیکھ
اے صبح وطن اے صبح وطن
خوابوں کی رہ گزر سہیسوچوں کا قافلہ سہیمیں آمد رفیق کواک عکس با کمال دوں
یا غرور صبح صد امید ہےیا غم شام بتاں ہے زندگی
یہ نازنیں کہ جسے قاصد بہار کہیںجواں حسینہ کہ فطرت کا شاہکار کہیںپیام آمد فصل بہار دیتی ہےجنوں نصیب دلوں کی دعائیں لیتی ہےاسے چمن کے ہر اک پھول سے محبت ہےاسے بہار کی رعنائیوں سے الفت ہےگلوں میں پھرتی ہے یوں جیسے تیتری کوئیچمن کی سیر کرے یا حسیں پری کوئیجو پھول چنتے ہوئے نغمے گنگناتی ہےیہ شاید اپنی جوانی کے گیت گاتی ہےشباب نے جو اسے تمکنت سکھا دی ہےغریب ہی سہی پھولوں کی شاہزادی ہےجہان والوں کا حسن سلوک دیکھا ہےاسے زمانے کی بے رحمیوں سے شکوہ ہےگزر رہے ہیں شب و روز کتنے بھاری سےشباب کاٹ رہی ہے ہزار خواری سےخودی کا درس ہے افسانۂ حیات اس کاجواب پیدا کرے گی نہ کائنات اس کااسے زمانے کی نیرنگیوں کا ہوش نہیںمری نظر میں یہ دیوی ہے گل فروش نہیںستم ظریفیٔ فطرت کو آج شرماؤںجو ہار گوندھے ہیں آج اسی کو پہناؤں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books