aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aaqilo.n"
تم اپنے عقیدوں کے نیزےہر دل میں اتارے جاتے ہوہم لوگ محبت والے ہیںتم خنجر کیوں لہراتے ہواس شہر میں نغمے بہنے دوبستی میں ہمیں بھی رہنے دوہم پالنہار ہیں پھولوں کےہم خوشبو کے رکھوالے ہیںتم کس کا لہو پینے آئےہم پیار سکھانے والے ہیںاس شہر میں پھر کیا دیکھو گےجب حرف یہاں مر جائے گاجب تیغ پہ لے کٹ جائے گیجب شعر سفر کر جائے گاجب قتل ہوا سر سازوں کاجب کال پڑا آوازوں کاجب شہر کھنڈر بن جائے گاپھر کس پر سنگ اٹھاؤ گےاپنے چہرے آئینوں میںجب دیکھو گے ڈر جاؤ گے
اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میںاپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھےاپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوںاپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہیظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میںقاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہےہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہوکہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہےاس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہیظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قومظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہےپھلتی نہیں ہے شاخ ستم اس زمین پرتاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہےکچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہییہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہےیہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطےجو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کووہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطےپھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
ان اسیروں کے نامجن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہرجیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صرصر میںجل جل کے انجم نما ہوگئے ہیںآنے والے دنوں کے سفیروں کے ناموہ جو خوشبوئے گل کی طرحاپنے پیغام پر خود فدا ہوگئے ہیں
یہ فصل امیدوں کی ہم دماس بار بھی غارت جائے گیسب محنت صبحوں شاموں کیاب کے بھی اکارت جائے گیکھیتی کے کونوں کھدروں میںپھر اپنے لہو کی کھاد بھروپھر مٹی سینچو اشکوں سےپھر اگلی رت کی فکر کرو
جہاں زاد اس دور میں روز ہر روزوہ سوختہ بخت آ کرمجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گل سر بہ زانوتو شانوں سے مجھ کو ہلاتی(وہی چاک جو سال ہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتیحسن کوزہ گر ہوش میں آحسن اپنے ویران گھر پر نظر کریہ بچوں کے تنور کیونکر بھریں گےحسن اے محبت کے مارےمحبت امیروں کی بازیحسن اپنے دیوار و در پر نظر کرمرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسےکسی ڈوبتے شخص کو زیر گرداب کوئی پکارے!وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاںمگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے انخرابوں کا مجذوب تھا جنمیں کوئی صدا کوئی جنبشکسی مرغ پراں کا سایہکسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!
دل میں ناکام امیدوں کے بسیرے پائےروشنی لینے کو نکلا تو اندھیرے پائے
راتیں سہنا اور اپنے خوابوں میں رہناخوابوں کو بہکانے والے دن کے اجالوں سے اچھا ہے
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئیتم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئیڈرتا ہوں کہیں خشک نہ ہو جائے سمندرراکھ اپنی کبھی آپ بہاتا نہیں کوئیاک بار تو خود موت بھی گھبرا گئی ہوگییوں موت کو سینے سے لگاتا نہیں کوئیمانا کہ اجالوں نے تمہیں داغ دئے تھےبے رات ڈھلے شمع بجھاتا نہیں کوئیساقی سے گلا تھا تمہیں مے خانے سے شکوہاب زہر سے بھی پیاس بجھاتا نہیں کوئیہر صبح ہلا دیتا تھا زنجیر زمانہکیوں آج دوانے کو جگاتا نہیں کوئیارتھی تو اٹھا لیتے ہیں سب اشک بہا کےناز دل بیتاب اٹھاتا نہیں کوئی
زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیںدیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہےسوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہےآسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہےکیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہےسانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگرزندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہےاور اس کچھ اور بھی کا تذکرہ بھی جرم ہےاے خداوندان ایوان عقائداے ہنر مندان آئین و سیاستزندگی کے نام پر بس اک عنایت چاہیئےمجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہیئے
بے رحم زمانے کو اب چھوڑ رہے ہیں ہمبے درد عزیزوں سے منہ موڑ رہے ہیں ہمجو آس کہ تھی وہ بھی اب توڑ رہے ہیں ہم
جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعداک شہر مدفون کی ہر گلی میںمرے جام و مینا و گل داں کے ریزے ملے ہیںکہ جیسے وہ اس شہر برباد کا حافظہ ہوںحسن نام کا اک جواں کوزہ گر اک نئے شہر میںاپنے کوزے بناتا ہوا عشق کرتا ہوااپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہےہمیں میں کہ جیسے ہمیں ہوں سمویا گیا ہےکہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سےہزاروں برس رینگتی رات بھراک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریںبناتے رہے ہیںاور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلےیہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گرایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیںجہاں زادیہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہکوزوں کی لاشوں میں اترا ہےدیکھویہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیںکبھی جام و مینا کی لم تک نہ پہنچیںیہی آج اس رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںکو پھر سے الٹنے پلٹنے لگے ہیںیہ ان کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گےجو تاریخ کو کھا گئی تھیںوہ طوفان وہ آندھیاں پا سکیں گےجو ہر چیخ کو کھا گئی تھیںانہیں کیا خبر کس دھنک سے مرے رنگ آئےمرے اور اس نوجواں کوزہ گر کےانہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سےانہیں کیا خبر کون سے حسن سےکون سی ذات سے کس خد و خال سےمیں نے کوزوں کے چہرے اتارےیہ سب لوگ اپنے اسیروں میں ہیںزمانہ جہاں زاد افسوں زدہ برج ہےاور یہ لوگ اس کے اسیروں میں ہیںجواں کوزہ گر ہنس رہا ہے!یہ معصوم وحشی کہ اپنے ہی قامت سے ژولیدہ دامنہیں جویا کسی عظمت نارسا کےانہیں کیا خبر کیسا آسیب مبرم مرے غار سینے پہ تھاجس نے مجھ سے اور اس کوزہ گر سے کہااے حسن کوزہ گر جاگدرد رسالت کا روز بشارت ترے جام و میناکی تشنہ لبی تک پہنچنے لگا ہےیہی وہ ندا کے پیچھے حسن نام کایہ جواں کوزہ گر بھیپیاپے رواں ہے زماں سے زماں تکخزاں سے خزاں تک
رفتار ہے کہ چاندنی راتوں میں موج گنگیا بھیرویں کی پچھلے پہر قلب میں امنگیہ کاکلوں کی تاب ہے یہ عارضوں کا رنگجس طرح جھٹپٹے میں شب و روز کی ترنگروئے مبیں نہ گیسوئے سنبل قوام ہےوہ برہمن کی صبح یہ ساقی کی شام ہے
سامراج کے دوست ہمارے دشمن ہیںانہی سے آنسو آہیں آنگن آنگن ہیںانہی سے قتل عام ہوا آشاؤں کاانہی سے ویراں امیدوں کا گلشن ہے
عقل نے ایک دن یہ دل سے کہابھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میںہوں زمیں پر گزر فلک پہ مرادیکھ تو کس قدر رسا ہوں میںکام دنیا میں رہبری ہے مرامثل خضر خجستہ پا ہوں میںہوں مفسر کتاب ہستی کیمظہر شان کبریا ہوں میںبوند اک خون کی ہے تو لیکنغیرت لعل بے بہا ہوں میںدل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہےپر مجھے بھی تو دیکھ کیا ہوں میںراز ہستی کو تو سمجھتی ہےاور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میںہے تجھے واسطہ مظاہر سےاور باطن سے آشنا ہوں میںعلم تجھ سے تو معرفت مجھ سےتو خدا جو خدا نما ہوں میںعلم کی انتہا ہے بیتابیاس مرض کی مگر دوا ہوں میںشمع تو محفل صداقت کیحسن کی بزم کا دیا ہوں میںتو زمان و مکاں سے رشتہ بپاطائر سدرہ آشنا ہوں میںکس بلندی پہ ہے مقام مراعرش رب جلیل کا ہوں میں
سامنے طاق پہ رکھی ہوئی دو تصویریںاکثر اوقات مجھے پیار سے یوں تکتی ہیںجیسے میں دور کسی دیس کا شہزادہ ہوںمیرا کمرہ مرے ماضی کا حقیقی مونسآج ہر فکر ہر احساس سے بیگانہ ہےاپنے ہم راز کواڑوں کے احاطے کے عوضآج میں جیسے مزاروں پہ چلا آیا ہوںگرد آلودہ کلنڈر پہ اجنتا کے نقوشمیرے چہرے کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیںجیسے اک لاش کی پھیلی ہوئی بے بس آنکھیںاپنے مجبور عزیزوں کو تکا کرتی ہیں
دل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غمجیسے جنگل میں شام کے سائےجاتے جاتے سہم کے رک جائیںمر کے دیکھیں اداس راہوں پرکیسے بجھتے ہوئے اجالوں میںدور تک دھول ہی دھول اڑتی ہے!
ہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ ان کے جسموں پہ کس کا حق ہےہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ کس سے ان کے نکاح ہوں گےیہ کس کے بستر کی زینتیں ہیںوہ کون ہوگا جو اپنے ہونٹوں کوان کے جسموں کی آب دے گابھلے محبت کسی کے کہنے پہآج تک ہو سکی نہ ہوگیمگر یہ ہم طے کریں گےان کو کسے بسانا ہے اپنے دل میںہم ان کے مالک ہیںجب بھی چاہیںانہیں لحافوں میں کھینچ لائیںاور ان کی روحوں میں دانت گاڑیںیہ ماں بنیں گیتو ہم بتائیں گےان کے جسموں نے کتنے بچوں کو ڈھالنا ہےہمارے بچوں کے پیٹ بھرنےاگر یہ کوٹھے پہ جا کے اپنا بدن بھی بیچیںتو ہم بتائیں گےکس کو کتنے میں کتنا بیچیںہمیں کو حق ہےکہ ان کے گاہک جو خود ہمیں ہیں سےساری قیمت وصول کر لیںہمیں کو حق ہے کہ ان کی آنکھیںحسین چہرے شفاف پاؤںسفید رانیں دراز زلفیںاور آتشیں لب دکھا دکھا کرکریم صابن سفید کپڑے اور آم بیچیںدکاں چلائیں نفع کمائیںہمیں تو ہیں جو یہ طے کریں گےیہ کس صحیفے کی کون سی آیتیں پڑھیں گییہ کون ہوتی ہیںاپنی مرضی کا رنگ پہنیںاسکول جائیں ہمیں پڑھائیںہمیں بتائیںکہ ان کا رب بھی وہی ہے جس نے ہمیں بنایابرابری کے سبق سکھائیںیہ لونڈیاں ہیں یہ جوتیاں ہیںیہ کون ہوتی ہیں اپنی مرضی سے جینے والیبتانے والے ہمیں یہی تو بتا گئے ہیںجو حکمرانوں کی بات ٹالیںجو اپنے بھائی سے حصہ مانگیںجو شوہروں کو خدا نہ سمجھیںجو قدرے مشکل سوال پوچھیںجو اپنی محنت کا بدلہ مانگیںجو آجروں سے زباں لڑائیںجو اپنے جسموں پہ حق جتائیںوہ بے حیا ہیں
آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیرآیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیاسنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیںویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیاتھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیںپر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیااب دور جا چکا ہے وہ شاہ گدانمااور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیںچند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاصدو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیںپر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہےاور اس کے لے سے سیکڑوں لذت شناس ہیں
ریڈیو نے دس بجے شب کے خبر دی عید کیعالموں نے رات بھر اس نیوز کی تردید کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books