aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aish"
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیاتلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میںننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میںیہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میںعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیامردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطامردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزامردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتاعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کو بیوپار کیاجس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیاجس تن سے اگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیاسنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہےچکلوں ہی میں آ کر رکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہےمردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاعورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہےاوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہےیہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظرگوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوارموج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پيک جہاں پيما خضرجس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازلچشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوامیں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيمعلم موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگیفطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰخاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب خضرصحرا نوردی
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہمیں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروںروح کو اس کی اسیر غم الفت نہ کروںاس کو رسوا نہ کروں وقف مصیبت نہ کروں
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لےزندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میںڈر سے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہورقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگیڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے میرااور جرم عیش کرتے دیکھ لے!
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرابڑی جناب تری فیض عام ہے تیراستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائمنظام مہر کی صورت نظام ہے تیراتری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کیمسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرانہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبیبڑی ہے شان بڑا احترام ہے تیرااگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توامدگر کشادہ جبینم گل بہار توامچمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گلہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کوچلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سےشراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کونظر ہے ابر کرم پر درخت صحرا ہوںکیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کوفلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے میںتری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کومقام ہم سفروں سے ہو اس قدر آگےکہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کومری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھےکسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کودلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثرتری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کوبنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس میں نےچمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کوپھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبیںکیا جنہوں نے محبت کا راز داں مجھ کووہ شمع بارگہہ خاندان مرتضویرہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کونفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلیبنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کودعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیںکرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کووہ میرا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشقہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کوجلا کے جس کی محبت نے دفتر من و توہوائے عیش میں پالا کیا جواں مجھ کوریاض دہر میں مانند گل رہے خنداںکہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کوشگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائےیہ التجائے مسافر قبول ہو جائے
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
مرے ساقیا مجھے بھول جامرے دل ربا مجھے بھول جانہ وہ دل رہا نہ وہ جی رہانہ وہ دور عیش و خوشی رہانہ وہ ربط و ضبط دلی رہانہ وہ اوج تشنہ لبی رہانہ وہ ذوق بادہ کشی رہامیں الم نواز ہوں آج کلمیں شکستہ ساز ہوں آج کلمیں سراپا راز ہوں آج کلمجھے اب خیال میں بھی نہ ملامجھے بھول جا مجھے بھول جا
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو رنگ بھرےکچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرےدل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرےکچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منہ چنگ بھرے
خیموں کا اک جنگل دیکھااس جنگل میں منگل دیکھابرھما اور ورنگل دیکھاعزت خواہوں کا دنگل دیکھا
ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریںسبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریںبوندوں کی جھمجھماوٹ قطرات کی بہاریںہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
اس خاک دل نشیں سے چشمے ہوئے وہ جاریچین و عرب میں جن سے ہوتی تھی آبیاری
دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانامت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جاناباطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیںوہ شمعیں روشن کر جانا سچ ہی لکھتے جاناپل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دینا کیا جھکناآخر سب کو ہے مر جانا سچ ہی لکھتے جانالوح جہاں پر نام تمہارا لکھا رہے گا یوں ہیجالبؔ سچ کا دم بھر جانا سچ ہی لکھتے جانا
لب بیاباں، بوسے بے جاںکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟جسم کی یہ کار گاہیںجن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم!نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہمسائےکہ جیسے دزد شب گرداں کوئی!شام سے تھے حسرتوں کے بندۂ بے دام ہمپی رہے تھے جام پر ہر جام ہمیہ سمجھ کر جرعۂ پنہاں کوئیشاید آخر ابتدائے راز کا ایما بنے!مطلب آساں حرف بے معنیتبسم کے حسابی زاویےمتن کے سب حاشیےجن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رہے!اور آخر بعد جسموں میں سر مو بھی نہ تھاجب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلےقرب چشم و گوش سے ہم کون سی الجھن کو سلجھاتے رہے!کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ہم؟یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو بہ رویا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزوکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہےعشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہےطائر زیر دام کے نالے تو سن چکے ہو تمیہ بھی سنو کہ نالہ طائر بام اور ہےآتی تھی کوہ سے صدا راز حیات ہے سکوںکہتا تھا مور ناتواں لطف خرام اور ہےجذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کااس کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہےموت ہے عیش جاوداں ذوق طلب اگر نہ ہوگردش آدمی ہے اور گردش جام اور ہےشمع سحر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا سازغم کدۂ نمود میں شرط دوام اور ہےبادہ ہے نيم رس ابھی شوق ہے نارسا ابھیرہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کلیسیا ابھی
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books