aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "amit"
اس اپنی مٹی میں جو کچھ امٹ ہے مٹی ہےجو دن ان آنکھوں نے دیکھا ہے کون دیکھے گا
کبھی اس سبک رو ندی کے کنارے گئے ہی نہیں ہوتمہیں کیا خبر ہےوہاں ان گنت کھردرے پتھروں کوسجل پانیوں نےملائم رسیلے، مدھر گیت گا کرامٹ چکنی گولائیوں کو ادا سونپ دی ہےوہ پتھر نہیں تھاجسے تم نے بے ڈول، ان گھڑ سمجھ کرپرانی چٹانوں سے ٹکرا کے توڑااب اس کے سلگتے تراشےاگر پاؤں میں چبھ گئے ہیں تو کیوں چیختے ہو؟
احساس کی مہنگائی بہت بڑھ گئی ہےآج کل کوئی نظمیں خریدنے نہیں آتاتمہارے سرہانے میرے ہاتھوں کی لکیریں رکھی ہیںیقین نہیں تو ٹٹول کر دیکھ لینایہ وقت کی ہی گستاخی ہے جو گزرنے سے کبھی بعض نہیں آتااگر میں ٹھہرا ہوا نہ ہوتا تو نہ جانے وقت کیسے گزرتااس خالی ایش ٹرے میں تیرے نام والے احساس کوکش مار کر بجھا دیا ہے ہم نےتمہارے عشق کے ماتھے پر یہ کیسی جھریاں پڑ گئی ہیںبڑھاپے کے علاوہ اور کیا حاصل ہواایک بوڑھا ندی کے کنارے کھڑا سوریاست دیکھ رہا تھاکچھ لوگوں کے نہ گھر میں آئینہ ہوتا ہے اور نہ زندگی میں
آؤ زندگی زندگی کھیلیںیہ جھوٹ ہے کہ میں تمہارے لیے چاند توڑ کے لا سکتا ہوںپر اس خیال کی سچائی کو ہی عشق کہتے ہیںروح جب جلتی ہے تو کندن بنتا ہےتیری بے وفائی کی اس سے اچھی وجہ اور کیا ہو سکتی ہےصبح سے روٹی کمانے میں لگا ہوا ہوںاب جب شام ہو گئی ہے تو شراب پینے کا من ہوتا ہےمیرے داغ دل میں ایک چراغ ایسا بھی ہےجو اماوس کی رات میں میری بجھتی سانسوں کو گرماہٹ دیتا ہےآدمی کی کھدائی کا وقت کیوں نہیں آتادنیا مر رہی ہے کوئی اسے بچانے کیوں نہیں آتاتیرے آنے سے وہ تمام ادھورے خواب پورے ہو گئےجنہیں دیکھنا نا میری تقدیر میں تھا اور نا تدبیر میںمیں ایک مشہور شاعر نہیںپر اس سے میری شاعری میں درد کم تو نہیں ہو جاتاکورے کاغذ پر بھی کچھ شبد بستے ہیںہم بس انہیں پڑھ نہیں پاتےکون کس کے خلاف گواہی دےسب کے من میں ایک چور تو ہے ہیمیری گواہی اس کی جان لے سکتی ہےگواہی نا دی تو میرا ضمیر مجھے مار دے گاچند دوستوں کے افسانے اب پرائے ہو گئے ہیںاب کھوٹے سکے جیب میں رکھنے کا من نہیں ہوتاجب بھی کسی شمشان کے پاس سے گزرتا ہوںاپنی اوقات پتہ لگ جاتی ہےکل رات آئینہ دیکھ کر کیوں نہیں سویاصبح اپنے ہی گھر میں پرایا بن گیاہر شہر ہر گلی میں صرف لوگوں کی چیخیں سنائی دیتیں ہیںرام رحیم کے اس جھگڑے میں ان دونوں کے علاوہ سب ہیں
تمہاری آنکھیں کتنی خوبصورت ہیںہے دل آویز نقطۂ نظر بھیہر اک شے کو تمہارا دیکھنے کا زاویہ کتنا جدا ہےمگر اک بات جو سب سے زیادہ خاص ہےوہ یہکہ یہ عینک بھی آنکھوں پر تمہاری خوب جچتی ہے
جنوری کا سرد دن تھایاد ہےہم گرم چائے کی طلب میںریستراں کی سیڑھیاں جب چڑھ رہے تھےتب تمہارے ادھ کھلے جوتے کے تسمے باندھنے کے واسطےتم رک گئیں تھیںرکی اور جھک کے تسمے باندھ کرپھر سیڑھیاں چڑھنے کو تھیںتب ایک لمحے کے لیے تم نے توازن کھو دیا تھااور سنبھلنے کے لیے کاندھے پہ میرے ہاتھ رکھا تھا
بہ مشکل ملنے والےقرب کے لمحوں کویکجا جوڑ کر جو تھی سجائیاس پگھلتی شاممدھم روشنی میںریستراں کی میز پرجب چاند میرے ساتھ بیٹھا تھامسالہ چائے کی چسکی پہاس کے جڑواں لب اک دوسرے سے مل رہے تھےتب ہمارے ہجر کی مجبوریاں مصرعوں میں لپٹا کراسے اک شعر میں نے یوں سنایا تھا
اخبار کے بکھرے ہوئے پنوں میںیا شایدواٹس ایپ کے کسی گروپ میں کہیںاس نے پڑھی تھیںکچھ درد میں ڈوبی غم ہجراں سے معطرمانوس سے الفاظ میں پہچانی سی سطریںبے نام سی نظمیںجن میں کہیں شاعر کا کوئی نام نہیں تھا
ساتھ میں دونوں کیبس یہ آخری تصویر ہےوقت رخصتآخری لمحوں کاکوئی بوجھ لے کر لوٹناآساں نہیں تھااس لئے میں نے بھیکچھ کچھ بے یقینی سے ہی پوچھا تھاچلو نا ساتھ میں تصویر لیتے ہیںگزشتہ وقت کیکوئی کدورتدل میں لے کر لوٹنااچھا نہ ہوتااس لئےتم نے بھی شایدیوں ہی آدھے من سےکھنچوا لی تھی یہ تصویرجس میںہاتھ تو کاندھوں پہ ہیں اک دوسرے کےپر ہمارے درمیاں کا فاصلہبٹوین دی لائنسصاف لکھا دکھ رہا ہےساتھ میں دونوں کیبس یہ آخری تصویر ہےجو وال پیپر میں مرےاب بھی لگی ہے
مجھے یہ شام بھی تجھ سی حسین لگتی ہےگزرتی شام کے صندل سے آسمان پہ دیکھپلٹ کے جانے سے پہلے سنہرے سورج نےگھنے درخت پہ ماتھا ٹکا دیا اپنامرے بھی کاندھے پہ تو سر ٹکا کے بیٹھ ذراکچھ اور دیر مرے پاس آ کے بیٹھ ذرا
مجھ کو کل رات اس کی ہتھیلی میں مہندی لگانی تھیمہندی سے بیلیں بنانی تھیں بوٹے سجانے تھےگل نقش کرنے تھےاور درمیان ان گلوں کےمیرے نام کا حرف اول بھی لکھنا تھاتھوڑا سا پنہاں بھی تھوڑا نمایاں بھیرنگ حنا سے لکیریں ہمارے مقدر کیاس کی ہتھیلی میں پھر سے بنانی تھیںکچھ یوں کہ اس کی ہتھیلی کی ریکھائیںمیری ہتھیلی میں پیوست ہو جائیں
محبتوں کے نشاں دیر تک نہیں جاتے
زمانہ ایک وہ بھی تھاکہ میرے راستے میں آ بھی جاتی گر کوئی مشکلتو تیرا نام ہی میرے لیے مشکل کشا تھاجیسے کوئی قفل ابجدجس سے کھل جاتے تھےسارے بند دروازےوہ دروازےکہ جن سے ہو کے جاتے تھےمری دنیا کے سب رستےمسرت کی سبھی راہیںمحبت کی گزر گاہیں
اس سنہری شام جب مندر کی سیڑھی پربچھائے دھوپ اوڑھے چھاؤںہم تم ساتھ بیٹھے تھےبہت کچھ کہہ رہا تھا میںبہت کچھ کہہ رہی تھیں تمبہت کچھ سن رہے تھے ہمہماری پیٹھ کے پیچھے تو سورج ڈھل رہا تھاپر مرے شانے پہ اک سورج ٹکا تھاجس کی جگ مگ روشنی میںآسماں اپنے ورق پرپھر کوئی دل کش کہانی لکھ رہا تھا
کسی دن میرے بارے میںکسی اخبار میںیا پھر رسالے میںذرا سا ذکر ہوتا ہےتو اپنے آپ پر کچھ فخر ہوتا ہےدکھاتا پھرتا ہوں سب کو میں اخباروں رسالوں میں چھپی خبریںبہت مغرور رہتا ہوں میں کچھ دن
تم اگلی بار جب آنا مقرر وقت پر آناتمہارا منتظر کب سےمیں جس ٹیبل پہ بیٹھا ہوںوہاں سے بائیں جانب گلاس ونڈو سےمیں اب تک گن چکا ہوںپچھلے دس منٹوں میں باون گاڑیاں نکلی ہیںان میں دو سفاری پانچ آڈی دس انووا آٹھ ہونڈا دس ڈزایر اور سترہ چھوٹی کاریں تھیںسڑک پر آتی جاتی گاڑیاں گنتے ہوئے بھیوقت کٹتا ہی نہیں ٹھہرا ہوا سا ہے
کسی مندر میںیا درگاہ میںمیں نے کبھی منت نہیں مانگیکوئی دھاگا نہیں باندھامری جتنی بھی منت اور منت ہیںتمہیں سے ہیں
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کینہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سےنہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سےنہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نےشاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہوایک بے نام سی امید پہ اب بھی شایداپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books