aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "asar-e-ishq"
1جب آنکھ کھول کے دیکھا تو ہو گیا مستوریہ میرا دیدۂ بینا ہی اک حجاب ہواتو چھپ گیا مہ و انجم میں لالہ و گل میںہر ایک جلوۂ رنگیں ترا نقاب ہواجب آنکھ بند ہوئی تو ہی جلوہ آرا تھا2مری زبان کھلی شرح عاشقی کے لیےمرا بیاں تھا مرقع مری خجالت کاہر ایک حرف میں تھا غیریت کا افسانہمری زباں نے کیا خوں مری محبت کامرے سکوت میں طوفان عشق برپا تھا3مرے حواس رہے تیرے وصل میں حائلجو بے خودی میں ہوا غرق تو ملا مجھ کوعجیب شے ہے محبت میں خود فراموشیفنا ہوا تو ملی لذت بقا مجھ کومرا وجود ہی اے دوست ایک پردہ تھا
حقیقت تلخ ہے اور تلخ تر ہیں اس کی تدبیریںڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتااگر اس بحر طوفانی میں ہونا ہی مقدر تھاتو اپنی کشتیٔ جذبات کا خود ناخدا ہوتاکبھی موجوں سے ٹکراتا کبھی لہروں پہ لہراتاہلاکت خیز گردابوں کا سینہ روندتا ہوتانسیم صبح بن کر شوخیاں کرتا گلستاں میںگلوں کو گدگداتا کونپلوں کو چھیڑتا ہوتاگھروں میں یاس کے کرتا امیدوں کے کنول روشنکسی بیمار غم کا مونس شام بلا ہوتااک ایسی بانسری ہوتا کہ جس کے کیف نغمہ سےجھپکتی آنکھ تاروں کی زمانہ جھومتا ہوتاقلوب سخت کی سنگین دیواروں سے ٹکراتاسکوت شب میں اک ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہوتاڈبو کر کشتیٔ سرمایہ داری قعر دریا میںمیں مغروروں کی حسرت کا تماشا دیکھتا ہوتاغریبوں کے محلوں میں چراغ رہگزر بن کراندھیرے جھونپڑوں کو بھیک اپنی دے رہا ہوتاچراغ رہ گزار بے کسی جس کے اجالے میںکسی مزدور فاقہ کش کا بچہ کھیلتا ہوتابہشت قیصر و فغفور کے سنسان کھنڈروں میںتباہی اور بغاوت کا ترانہ گا رہا ہوتاپتنگوں کو حرارت شمع کو سوزش عطا کرتااگر جلنا ہی تھا دل کو تو اک آتش کدہ ہوتامگر افسوس فطرت نے مجھے شاعر بنا ڈالانہیں تو اشکؔ اپنی آرزؤں کا خدا ہوتا
اگر اے شمع دل جلنا ہی تھا تجھ کو تو جلنا تھاکسی بیکس کی تربت پر چراغ نیم جاں ہو کریہ حسرت تھی کہ موجوں کے تلاطم میں بہا جاتامیں اپنی کشتیٔ بے بادباں کا پاسباں ہو کربتاتا حالت رفتار شب صحرا نشینوں کونجوم چرخ بن کر کارواں در کارواں ہو کرتھکے ماندے مسافر کو سلا دیتا لب دریاہوائے سرو بن کر موجۂ عنبر فشاں ہو کرگزر جاتا فغاں کرتا ہوا سنسان وادی سےفضاؤں کو جگا دیتا درائے کارواں ہو کرامید و بیم کے جھگڑے مٹا دیتا زمانے سےخودی کا دیوتا بن کر خدا کا ترجماں ہو کرفریب حسن دیتا دیدۂ کور تمنا کونگاہ دل نشیں بن کر ادائے دلستاں ہو کرکسی کی آرزو کرنی ہی تھی تو عمر بھر کرتاجوانی میں ہوس بن کر بڑھاپے میں جواں ہو کرترقی منحصر عصیاں پہ ہے مقصود فطرت کیتڑپتا سینہ ہائے شوق میں راز زیاں ہو کریہ حسرت تھی کہ عالمگیر ہوتی روشنی دل کییہ حسرت تھی کہ چھا جاتا زمیں پر آسماں ہو کرمگر کیا کیجئے جب فیصلہ یہ ہے مشیت کاکہ میں فطرت کی آنکھوں سے گروں اشک رواں ہو کر
آہ صد افسوس ہے پھر آم رخصت ہو گیاجس کو کھاتا تھا میں صبح و شام رخصت ہو گیاکیوں نہ اس غم پر پڑھوں میں انا للہ دوستودر حقیقت رب کا اک انعام رخصت ہو گیاحوصلہ رکھ منتظر رہ موسم گرما کا پھربین مت کر اب دل ناکام رخصت ہو گیادیکھنے سے جس کے ہوتی تھیں نگاہیں شادبادجس سے پاتا تھا یہ دل آرام رخصت ہو گیاروکنا چاہا بہت لیکن وہ نکلا بے وفاآخرش محبوب خاص و عام رخصت ہو گیاپھیکی لگتی ہے مجھے تو زندگی اس کے بغیرکیف و لذت کا وہ شیریں جام رخصت ہو گیاسیر کیا ہوتی طبیعت بطن ہے خالی ابھیچھوڑ کر وہ مجھ کو تشنہ کام رخصت ہو گیااب کسی کے جال میں یہ قید ہو سکتا نہیںتھا اثرؔ جس کا اسیر دام رخصت ہو گیا
ہو رہا ہے ذکر پیہم آم کاآ رہا ہے پھر سے موسم آم کانظم لکھ کر اس کے استقبال میںکر رہا ہوں خیر مقدم آم کاان سے ہم رکھیں زیادہ ربط کیوںشوق جو رکھتے ہیں کم کم آم کاتب کہیں آتا ہے میرے دم میں دمنام جب لیتا ہوں ہمدم آم کاشوق سے پڑھتے ہیں اس کو خاص و عامجب قصیدہ لکھتے ہیں ہم آم کاکیا کہوں اسمار کی فہرست میںنام ہے سب سے مقدم آم کااک فقط میں ہی نہیں شیدا اثرؔشیدا ہے عالم کا عالم آم کا
جذبۂ عشاق کام آنے کو ہےپھر لذیذ و شیریں جام آنے کو ہےموسم سرما کی آمد مرحباکیونکہ اس موسم میں آم آنے کو ہےختم ہونے کو ہے وقت انتظارانتخاب خاص و عام آنے کو ہےدھیرے دھیرے چلتا لنگڑاتا ہواخوش ادا و خوش خرام آنے کو ہےمقتدی تیار ہوں صف باندھ کرسب پھلوں کا اب امام آنے کو ہےقربتوں کا ہوگا اب آغاز پھرفرقتوں کا اختتام آنے کو ہےآتے ہی جانے کی تیاری کرےوہ سوار تیز گام آنے کو ہےوجد میں یوں گنگناتا ہے اثرؔآم آنے کو ہے آم آنے کو ہے
چھٹیاں ہیں میں ہوں میٹھا آم ہےاور اب میرا بھلا کیا کام ہےمینگو کھانا اور پینا ملک شیکشغل اب اپنا یہ صبح و شام ہےگرمیاں ہیں گرمیاں ہیں گرمیاںآم ہے اور آم ہے اور آم ہےناشتہ کھانا ڈنر یا لنچ ہوآم کے موسم میں نذر آم ہےمیں نہیں چھوڑوں گا اب لنگڑے کی ٹانگچوس لوں گا چوسا ایسا آم ہےآم کہتا ہے جسے سارا جہاںغالباً جنت کے پھل کا نام ہےاس کی قوت کا بھلا کیا پوچھنافوق صدہا پستہ و بادام ہےشوق جس کو آم کھانے کا نہیںذوق میں وہ ہم سر انعام ہےسب پھلوں کا جب تقابل ہو اثرؔآم ہی بس قابل انعام ہے
مرا جذبۂ شوق کام آ رہا ہےکہ بازار میں دیکھوں آم آ رہا ہےغریب و امیر اس کے شیدائی یکساںپسندیدۂ خاص و عام آ رہا ہےکسی مقتدی کو خریدوں میں کیوں کرکہ جب خود پھلوں کا امام آ رہا ہےسب ہاتھوں کو پھیلائیں آنکھیں بچھائیںپھلوں میں وہ عالی مقام آ رہا ہےوہ چوسا سرولی، وہ سندھڑی وہ فضلیوہ آموں کا اک ازدحام آ رہا ہےہے لنگڑا پہ لنگڑاتے لنگڑاتے دیکھووہ محبوب من خوش خرام آ رہا ہےمجھے ہے خوشی جو ہیں دیوانے اس کےاثرؔ ان میں میرا بھی نام آ رہا ہے
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیںگل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
تری چاہ میں دیکھا ہم نے بحال خراب اسےپر عشق و وفا کے یاد رہے آداب اسےترا نام و مقام جو پوچھا، ہنس کر ٹال گیا
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
عیسیٰ اشک نے چمکائی ہے پلکوں کی صلیبپیار نے درد کی انجیل کو دہرایا ہےپھر کسی یاد کا جلتا ہوا پاگل جھونکامیرے سوکھے ہوئے ہونٹوں کے قریب آیا ہے
جس طرح پرندہ صحرا کا پانی کی تلاش میں پھرتا ہےتو ڈھونڈھتا مجھ کو آئے گا کیوں مجھ سے نفرت کرتا ہےکیا میری جدائی سے بھی تڑپ دل کی ترے تیز نہیں ہوتیکیا بستیاں ارمانوں کی تری سینے میں پڑی ہیں یوں ہی سوتیکیا میرے تصور سے بھی ترے جذبات میں جوش نہیں آتاکیا خون کا اک قطرہ بھی ترا ایسا نہیں جو گرما جاتاجو دل ہے ترا وہ میرا ہے اور میری اطاعت کرتا ہےکمزور محبت ہے تیری پر دم وہ مرا ہی بھرتا ہےمیں تھامے ہوئے ہوں ہاتھوں سے پھندے میں مرے ہے وہ گویایا دام میں جیسے مرغ کوئی دانہ کی ہوس میں ہو آیااڑ جا ہے اجازت تجھ کو مری پر حلقۂ الفت سے باہرتو اڑ نہیں سکتا اے پیارے گر گھوم بھی لے سب بحر و بر
وہ تیری سادگی ترے اخلاص و اتقامجبور ہے زبان قلم کیا بیاں کرےایثار و ضبط و حوصلہ و جوہر وفااوصاف تیرے کوئی کہاں تک عیاں کرے
ہر ذرۂ دہلی ہے ترے ضو سے منورپنجاب کی مستی اثر جذب قلندرگنگوہ کی تقدیس سے قدوس سراسرپٹنے کی زمیں نکہت خواجہ سے معطر
مجلس اتحاد ملت کولکھیے حبل المتین کلکتہسارے ہندوستاں کی دولت کوکہئے ملک یمین کلکتہکفر ہگلی میں جا کے ڈوب گیادیں ہوا ہے مکین کلکتہاثر سجدہ ہائے پیہم سےہوئی روشن جبین کلکتہہر طرف پھر رہے ہیں نیلی پوشآسماں ہے زمین کلکتہ
تو ہے دریائے مقدس تو کہ ہے عصیاں سے پاکتیرا دامن ہے ابھی آلائش انساں سے پاکتیری شوکت کے ہیں شاہد اے وفادار کہنتیرے برجوں اور ترے قلعوں کے آثار کہنتیرے ساحل سے ٹپکتی اب بھی ہے شان بلندآسماں فرسا ہیں اب بھی تیرے ایوان بلندتیرے فرسودہ نشاں ہیں نقش ناز حسن و عشقتیری موجوں میں نہاں ہے آہ راز حسن و عشق
ہر لب جو پر ہیں یوں سرو خراماں سینکڑوںگویا شیشے میں اتر آئی ہیں پریاں سینکڑوں
یہ کائنات کے تلووں کو چاٹتا ہوا دنمجاوران در عشق کے قریں رہ کرجناب عشق کےحجرے میں شب گزارتا ہےچراغ عشق کی لو میں سےدن ابھارتا ہےچراغ عشق کی لو میں سےدن ابھارتا ہے
اسیر عشق ہوتا ہے غم دنیا سے وارستہتجھے اے میری جاں ہر غم سے آزادی مبارک ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books