aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bar-sar-e-kuu-e-jafaa"
پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنتا ہوا سائباںاونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواںدیکھ پہنچا ہے آخر کہاں سے کہاںجھانکتا صورت خیل آوارگاںغرفہ غرفہ بہر کاخ و کو شہر میں
مرے دل، مرے مسافرہوا پھر سے حکم صادرکہ وطن بدر ہوں ہم تمدیں گلی گلی صدائیںکریں رخ نگر نگر، کاکہ سراغ کوئی پائیںکسی یار نامہ بر کاہر اک اجنبی سے پوچھیںجو پتا تھا اپنے گھر کاسر کوئے ناشنایاںہمیں دن سے رات کرناکبھی اس سے بات کرناکبھی اس سے بات کرناتمہیں کیا کہوں کہ کیا ہےشب غم بری بلا ہےہمیں یہ بھی تھا غنیمتجو کوئی شمار ہوتاہمیں کیا برا تھا مرنااگر ایک بار ہوتا!
دماغ بر سر ہفت آسماں تھا دہلی کاخطاب خطۂ ہندوستاں تھا دہلی کا
حسینوں کی نظروں کے حق دار ہوتےاگر ہم یہاں بر سر کار ہوتے
صدا سے بات کرویہی کہ جن کو سر دشت و بر پکارا گیاوہ سر کشیدہ قبائل کی سر پھری اولادکس زمیں میں کھپیکس فلک کا رزق ہوئی
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزریتنہا پس زنداں کبھی رسوا سر بازارگرجے ہیں بہت شیخ سر گوشۂ منبرکڑکے ہیں بہت اہل حکم بر سر دربار
اپنے ہونےاور نہ ہونے میںخوشی کی غم کی اطمینان کی تحقیقبے مصرف ہےاور اک سعئ لا حاصل کے سوا کچھ بھی نہیںیہ زندگیاک جنگ تحمیلی ہےاور میںبے نتیجہ جنگ کا سر باز ہوں کوئیجو بیہودہ سوالوں سےازل سے بر سر پیکارابد آثار نا پیدا
یہ رنگ و بو یہ نظارے یہ بزم آرائینیاز و ناز و ادا حسن عشق رعنائیشباب نظم و غزل در پئے شکیبائیمجھے یہ ساعت گذراں کہاں پہ لے آئیقرار دیکھ لیا اضطرار دیکھ لیاغم حبیب غم روزگار دیکھ لیااداس چہروں پہ اڑتا غبار دیکھ لیانوائے شوق کو بے اختیار دیکھ لیاخزاں گزیدہ سا رنگ بہار دیکھ لیاگماں دریدہ یقین تار تار دیکھ لیاتمام عشوۂ حسن نگار دیکھ لیاجنوں کا سجدہ سر کوئے یار دیکھ لیاسواد عقل و خرد بے وقار دیکھ لیارہا نہ خود کا بھی پھر اعتبار دیکھ لیاکبھی جو دیکھا نہ تھا بار بار دیکھ لیانہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومنوشتۂ پس دیوار کیا ہے کیا معلوم
انقلابات ہونے والے ہیںانتخابات ہونے والے ہیںجیسے حالات تھے کبھی پہلےویسے حالات ہونے والے ہیںبھائی بھائی میں باپ بیٹے میںاختلافات ہونے والے ہیںزیر دستوں کے زور دستوں سےایک دو ہات ہونے والے ہیںبر سر عام راز کھلتے ہیںانکشافات ہونے والے ہیںجلسہ گاہوں میں ماہ پاروں میںاتفاقات ہونے والے ہیںپھر مچلتا ہے دل کہ سچ کہہ دیںپھر حوالات ہونے والے ہیں
اے شخص اگر جوشؔ کو تو ڈھونڈھنا چاہےوہ پچھلے پہر حلقۂ عرفاں میں ملے گااور صبح کو وہ ناظر نظارۂ قدرتطرف چمن و صحن بیاباں میں ملے گااور دن کو وہ سرگشتۂ اسرار و معانیشہر ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گااور شام کو وہ مرد خدا رند خراباترحمت کدۂ بادہ فروشاں میں ملے گااور رات کو وہ خلوتئ کاکل و رخساربزم طرب و کوچۂ خوباں میں ملے گااور ہوگا کوئی جبر تو وہ بندۂ مجبورمردے کی طرح کلبۂ احزاں میں ملے گا
اندھیری شام کے ساتھیادھوری نظم سے زور آزما ہیںبر سر کاغذ بچھڑنے کیسنو ۔۔۔تم سے دل محزوں کی باتیں کہنے والوں کایہی انجام ہوتا ہےکہیں سطر شکستہ کی طرح ہیں چار شانے چتکہیں حرف تمنا کی طرح دل میں ترازو ہیںسنو۔۔۔ ان نیل چشموں سخت جانوں بے زبانوں پرجو گزرے گی سو گزرے گیمگر میں اک ادھوری نظم کی ہیجان میں کھویاتمہیں آواز دیتا ہوںکہ تنہا آدمی تخلیق سے عاری ہوا کرتا ہےجان من!سنو۔۔۔ میرے قریب آؤکہ مجھ کو آج کی رات اک ادھوری نظم پوری کر کے سونا ہے!
میں نے چاہا تھا کہ تاروں کی بجھا دوں شمعیںنکہت و نور کے سانچے میں جو دیکھا تھا اسےکون کر سکتا ہے انکار وجودمیں نے دیکھی ہیں لچکتی ہوئی بانہیں اس کیمرمریں شانوں پہ بکھری ہوئی مشکیں زلفیںرس بھرے ہونٹرسیلی آنکھیںتاب نظارہ نہ موسیٰ کو ہوئی کیوں ہوتیاس کی آنکھوں میں تھے سہمے ہوئے جذبات نہاںکاش اس نے مرے محبوب کو دیکھا ہوتاکاش موسیٰ کا خدا میرا رقیبمیرے محبوب کے ہوتے بھی خدائی کرتاہائے یہ بے بسی اور مجبوریبر سر طور میں روشن تارےمیں نے چاہا تھا کہ تاروں کی بجھا دوں شمعیں
طوفاں بہ دل ہے ہر کوئی دل دار دیکھناگل ہو نہ جائے مشعل رخسار دیکھناآتش بہ جاں ہے ہر کوئی سرکار دیکھنالو دے اٹھے نہ طرۂ طرار دیکھناجذب مسافران رہ یار دیکھناسر دیکھنا، نہ سنگ، نہ دیوار دیکھناکوئے جفا میں قحط خریدار دیکھناہم آ گئے تو گرمئ بازار دیکھنااس دل نواز شہر کے اطوار دیکھنابے التفات بولنا، بیزار دیکھناخالی ہیں گرچہ مسند و منبر، نگوں ہے خلقرعب قبا و ہیبت دستار دیکھناجب تک نصیب تھا ترا دیدار دیکھناجس سمت دیکھنا، گل و گلزار دیکھناپھر ہم تمیز روز و مہ و سال کر سکیںاے یاد یار پھر ادھر اک بار دیکھنا
قتل گل قتل صبا قتل سحر کی تقریبمنعقد ہوتی رہی بارہا ایوانوں میںقلعۂ جبر و تشدد میںقصر ظلمت میںخلوت شب میںگاہے گاہے سر راہےاور اس بار یہ تقریب بڑی شان کے ساتھمنعقد اہل ہوس کے ہاتھوںرہ گزاروں پہ ہوئیبر سر بازار ہوئیکوچۂ شہر نگاراں میں ہوئیدشت و صحرا میں ہوئیکوہساروں میں ہوئینام گل نام صبا نام سحر ورد زباںہر نفس گام بہ گاممحترم ہے روش مکر و فریب پیہمشیوۂ راہزنی کی خیرپیشۂ قتل کی عظمت کی دہائی دیجےدست قاتل کے تقدس کی قسم کھائی گئیساتھیو چلتے رہوہم روایات شکاگو کے امیںخون فیوچک کے تقدس کے امیںعظمت خون لوممبا کے امیںخون ناصر کے امیںنذر خوں دیتے رہے ہیںسر محفل سر زنداں سر مقتل سر دارنذر خوں دیتے رہیں گے ہم لوگ
اولیں سانس سےساعت کن تلک کا سفر پھر سے بار دگرکس سہولت سے ہم کو کرا دیتی ہےکس سہولت سے ہم کو کرا دیتی ہے
دشت امکان کی پہنائی میںخاک بر سر تھے کہ گھر یاد آیا
عشق کا سر نہاں جان تپاں ہے جس سےآج اقرار کریں اور تپش مٹ جائےحرف حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرحآج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے
تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیےتیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیےتیری بانہیں ترا پہلو ہے ابھی میرے لیےسب سے بڑھ کر مری جاں تو ہے ابھی میرے لیےزیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھیآج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی!آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہوگاعشق حیراں ہے سر شہر صبا کیا ہوگامیرے قاتل ترا انداز جفا کیا ہوگا!
تم سر بام آ کراٹھایا ہوا ہاتھ اپنا ہلا کرچمک دار آنکھوں سے اپنیمجھے رخصتی کا اگر اذن دیتیںتو میں دشمنوں کے لیےموت بن کر نکلتاتمہارے فقط اک اشارے سےکشتوں کے پشتے لگاتا چلا جاتاتم دیکھتیں کس طرح میںزمانے کی سرحد ذرا دیر میں پار کرتاہر اک سمت سے وار کرتامحبت کی تاریخ تبدیل کرتانئی رزم بوطیقا تشکیل دیتامیں لشکر کا سب سے بہادر سپاہی تھامیرے لیے ایک آنسو بہت تھامگر تم نے اشکوں کی برسات کر کےمجھے اس قدر غم زدہ کر دیا ہےکہ لگتا ہے یہ معرکہ ہار جاؤں گا میںلوٹ کر اب نہ آؤں گا میں.....!
بھلائی سب کی ہو جس سے وہ کام اس کا ہےجہاں بھی جاؤ وہیں احترام اس کا ہےاٹھائے سر کوئی کیا سر اٹھا نہیں سکتامقابلے کے لئے آگے آ نہیں سکتاکسی سے اس کو محبت کسی سے الفت ہےکسی کو اس کی ہے اس کو کسی کی حسرت ہےوفا و لطف ترحم کی خاص عادت ہےغرض کرم ہے مدارات ہے عنایت ہےکسی کو دیکھ ہی سکتا نہیں ہے مشکل میںیہ بات کیوں ہے کہ رکھتا ہے درد وہ دل میںوہ رشک شمع ہدایات ہے انجمن کے لئےوہ مثل روح رواں عنصر بدن کے لئےوہ ایک ساغر نو محفل کہن کے لئےوہ خاص مصلح کل شیخ و برہمن کے لئےلگن اسے ہے کہ سب مالک وطن ہو جائیںقفس سے چھوٹ کے زینت دہ چمن ہو جائیںجفا شعار سے ہوتا ہے بر سر پیکارنہ پاس توپ نہ گولا نہ قبضے میں تلوارزمانہ تابع ارشاد حکم پر تیاروہ پاک شکل سے پیدا ہیں جوش کے آثارکسی خیال سے چرخے کے بل پہ لڑتا ہےکھڑی ہے فوج یہ تنہا مگر اکڑتا ہےطرح طرح کے ستم دل پر اپنے سہتا ہےہزار کوئی کہے کچھ خموش رہتا ہےکہاں شریک ہیں آنکھوں سے خون بہتا ہےسنو سنو کہ یہ اک کہنے والا کہتا ہےجو آبرو تمہیں رکھنی ہو جوش میں آؤرہو نہ بے خود و بیہوش ہوش میں آؤاسی کو گھیرے امیر و غریب رہتے ہیںندیم و مونس و یار و حبیب رہتے ہیںادب کے ساتھ ادب سے ادیب رہتے ہیںنصیب ور ہیں وہ بڑے خوش نصیب رہتے ہیںکوئی بتائے تو یوں دیکھ بھال کس کی ہےجو اس سے بات کرے یہ مجال کس کی ہےرفاہ عام سے رغبت ہے اور مطلب ہےانوکھی بات نرالی روش نیا ڈھب ہےیہی خیال تھا پہلے یہی خیال اب ہےفقط ہے دین یہی بس یہی تو مذہب ہےاگر بجا ہے تو بسملؔ کی عرض بھی سن لوچمن ہے سامنے دو چار پھول تم چن لو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books