aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "barf"
جو تیرے میرے لہو کی حدتکو آخرش برف کر گئی ہیں
مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ہےبرہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ہےوہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھ گئیمیں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ہےگھرا ہوا ہے ابر ماہتاب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی، وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میںکہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
زندگی نام ہے کچھ لمحوں کااور ان میں بھی وہی اک لمحہجس میں دو بولتی آنکھیںچائے کی پیالی سے جب اٹھیںتو دل میں ڈوبیںڈوب کے دل میں کہیںآج تم کچھ نہ کہوآج میں کچھ نہ کہوںبس یوں ہی بیٹھے رہوہاتھ میں ہاتھ لیےغم کی سوغات لیےگرمئ جذبات لیےکون جانے کہ اسی لمحے میںدور پربت پہ کہیںبرف پگھلنے ہی لگے
گھوڑا تھا گھمنڈی پہنچا سبزی منڈیسبزی منڈی برف پڑی تھی برف میں لگ گئی ٹھنڈیدوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا
دل کے چھالوں کو پھوڑنے کے لئےبرف اداسی کی توڑنے کے لئےرخ ہواؤں کا موڑنے کے لئےدل کے ٹکڑوں کو جوڑنے کے لئےدوست سچ مچ بہت ضروری ہیں
اور یوں کہیں بھی رنج و بلا سے مفر نہیںکیا ہوگا دو گھڑی میں کسی کو خبر نہیںاکثر ریاض کرتے ہیں پھولوں پہ باغباںہے دن کی دھوپ رات کی شبنم انہیں گراںلیکن جو رنگ باغ بدلتا ہے ناگہاںوہ گل ہزار پردوں میں جاتے ہیں رائیگاںرکھتے ہیں جو عزیز انہیں اپنی جاں کی طرحملتے ہیں دست یاس وہ برگ خزاں کی طرحلیکن جو پھول کھلتے ہیں صحرا میں بے شمارموقوف کچھ ریاض پہ ان کی نہیں بہاردیکھو یہ قدرت چمن آرائے روزگاروہ ابر و باد و برف میں رہتے ہیں برقرارہوتا ہے ان پہ فضل جو رب کریم کاموج سموم بنتی ہے جھونکا نسیم کااپنی نگاہ ہے کرم کارساز پرصحرا چمن بنے گا وہ ہے مہرباں اگرجنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہو حضررہتا نہیں وہ حال سے بندے کے بے خبراس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیںدامان دشت دامن مادر سے کم نہیں
آواز میں یہ رس یہ لطافت یہ اضطرارجیسے سبک مہین رواں ریشمی پھوارلہجے میں یہ کھٹک ہے کہ ہے نیشتر کی دھاراور گر رہا ہے دھار سے شبنم کا آبشارچہکی جو تو چمن میں ہوائیں مہک گئیںگل برگ تر سے اوس کی بوندیں ٹپک گئیں
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماںتجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاںایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیےامتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تومطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے توسوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے توبرف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سرخندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پرتیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زنچوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطنچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہےابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطےتازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نےاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیےہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابرجنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلییوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھیکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مراآتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئیآئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئیچھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کولیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صداوہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہواکانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پرخوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پراے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن تراکچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھاہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
برف پگھلے گی جب پہاڑوں سےاور وادی سے کہرا سمٹے گابیج انگڑائی لے کے جاگیں گےاپنی السائی آنکھیں کھولیں گےسبزہ بہہ نکلے گا ڈھلانوں پر
زندگی تو مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہےخواب کھلتے تھے جہاں برف وہاں چھائی ہے
برف برسائی مرے ذہن و تصور نے مگردل میں اک شعلہ بے نام سا لہرا ہی گیاتیری چپ چاپ نگاہوں کو سلگتے پا کرمیری بیزار طبیعت کو بھی پیار آ ہی گیا
میں اکثر سوچتا ہوںذہن کی تاریک گلیوں میںدہکتا اور پگھلتادھیرے دھیرے آگے بڑھتاغم کا یہ لاوااگر چاہوںتو رک سکتا ہےمیرے دل کی کچی کھال پر رکھا یہ انگارااگر چاہوںتو بجھ سکتا ہےلیکنپھر خیال آتا ہےمیرے سارے رشتوں میںپڑی ساری دراڑوں سےگزر کے آنے والی برف سے ٹھنڈی ہوااور میری ہر پہچان پر سردی کا یہ موسمکہیں ایسا نہ ہواس جسم کو اس روح کو ہی منجمد کر دےمیں اکثر سوچتا ہوںذہن کی تاریک گلیوں میںدہکتا اور پگھلتادھیرے دھیرے آگے بڑھتاغم کا یہ لاوااذیت ہےمگر پھر بھی غنیمت ہےاسی سے روح میں گرمیبدن میں یہ حرارت ہےیہ غم میری ضرورت ہےمیں اپنے غم سے زندہ ہوں
جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیدن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیچلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیتن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی سیتھر تھر کا زور اکھاڑا ہو بجتی ہو سب کی بتیسیہو شور پھپو ہو ہو کا اور دھوم ہو سی سی سی سی کیکلے پہ کلا لگ لگ کر چلتی ہو منہ میں چکی سیہر دانت چنے سے دلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکرجو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو ہر آن کڑاکڑ اور تھر تھرپیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھرجھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تس پر لہریں لے لے کرسناٹا باؤ کا چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کااور تن میں نیمہ شبنم کا ہو جس میں خس کا عطر لگاچھڑکاؤ ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگاہاتھوں میں پیالہ شربت کا ہو آگے اک فراش کھڑافراش بھی پنکھا جھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیجب ایسی سردی ہو اے دل تب روز مزے کی گھاتیں ہوںکچھ نرم بچھونے مخمل کے کچھ عیش کی لمبی راتیں ہوںمحبوب گلے سے لپٹا ہو اور کہنی، چٹکی، لاتیں ہوںکچھ بوسے ملتے جاتے ہوں کچھ میٹھی میٹھی باتیں ہوںدل عیش وطرب میں پلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہو فرش بچھا غالیچوں کا اور پردے چھوٹے ہوں آ کراک گرم انگیٹھی جلتی ہو اور شمع ہو روشن اور تس پروہ دلبر، شوخ، پری، چنچل، ہے دھوم مچی جس کی گھر گھرریشم کی نرم نہالی پر سو ناز و ادا سے ہنس ہنس کرپہلو کے بیچ مچلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیترکیب بنی ہو مجلس کی اور کافر ناچنے والے ہوںمنہ ان کے چاند کے ٹکڑے ہوں تن ان کے روئی کے گالے ہوںپوشاکیں نازک رنگوں کی اور اوڑھے شال دو شالے ہوںکچھ ناچ اور رنگ کی دھومیں ہوں عیش میں ہم متوالے ہوںپیالے پر پیالہ چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں ہو خلوت کا اور عیش کی سب تیاری ہووہ جان کہ جس سے جی غش ہو سو ناز سے آ جھنکاری ہودل دیکھ نظیرؔ اس کی چھب کو ہر آن ادا پر واری ہوسب عیش مہیا ہو آ کر جس جس ارمان کی باری ہوجب سب ارمان نکلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
تم سمجھتے ہو یہ شب آپ ہی ڈھل جائے گیخود ہی ابھرے گا نئی صبح کا زریں پرچممیں سمجھتا ہوں کسی صبح درخشاں کے عوضقہر کی ایک نئی رات کو دے گی یہ جنماور اس رات کی تاریکی میں کھو جائیں گےمکتب و خانقہ و دیر و کلیسا و حرمدیو ظلمات کی ٹھوکر سے نہ پائیں گے پناہیہ شوالے، یہ مساجد، یہ پجاری، یہ صنمرکھ دیے جائیں گے شمشیر کے زیر سایہدست ماتم لب فریاد، زبان و تنقیدبرف جم جائے گی افکار کے گلزاروں پریخ ہواؤں میں ہی جم جائے گی کشت امیدچاندنی ظلمت سیال میں ڈھل جائے گیرات کی مانگ سنوارے گی شعاع امیداہل فن دیں گے اندھیروں کو اجالوں کا لقبزہر کو قند، محرم کو کہا جائے گا عیدیہ مرا وہم نہیں، ناول و افسانہ نہیںدوستو! غور کرو، اور نگاہیں تو اٹھاؤوہ جو اک سرخ ستارہ ہے افق کے نزدیککچھ تمہیں علم ہے کس رخ پہ ہے اس کا پھیلاؤکاش تم اس کی حقیقت پہ نظر ڈال سکوہے یہ اک آتش صد برق بداماں کا الاؤاس کی کرنوں میں ہے چلتی ہوئی تلوار کی کاٹاس کی سرخی میں ہے امڈے ہوئے دریا کا بہاؤاس کے دامن میں ہے آسودہ وہ فتنہ جس سےجسم تو جسم میسر نہیں روحوں کو اماںدل، نظر، ذہن، خیالات، اصول و اقدارسب کے سب اس کی تگ و تاز سے لرزاں ترساںاس کی پرچھائیں بھی پڑ جائے تو سبزہ جل جائےدیکھتے دیکھتے ماحول پہ چھا جائے دھواںاس کے شعلوں کا تو کیا ذکر کہ شعلے ٹھہرےاس کی شبنم بھی گلستاں کے لیے برق تپاں
دروازۂ جاں سے ہو کرچپکے سے ادھر آ جاؤاس برف بھری بوری کوپیچھے کی طرف سرکاؤہر گھاؤ پہ بوسے چھڑکوہر زخم کو تم سہلاؤمیں تاروں کی اس شب کوتقسیم کروں یوں سب کوجاگیر ہو جیسے میرییہ عرض نہ تم ٹھکراؤچپکے سے ادھر آ جاؤ
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہےدسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گااسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گامگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جائے گااسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کے کہرے دیواروں میں لرزاں ہیںاسے کہنا شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیںاور ان پر برف کی چادر بچھی ہےاسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گاتو کیسے برف پگھلے گیاسے کہنا کہ لوٹ آئے
اک غمگیں لڑکی کے چہرے پر چاند کی زردی چھائی ہےجو برف گری تھی اس پہ لہو کے چھینٹوں کی رشنائی ہےخوں کا ہر داغ دمکتا ہےشوپیںؔ کا نغمہ بجتا ہے
اور اعلان کر دیا کہ اٹھوبرف سی جم گئی ہے سینوں میںگرم بوسوں سے اس کو پگھلا دوکر لو جو بھی گناہ وہ کم ہےآج کی رات جشن آدم ہے
اب جو سوچیں بھی تو خوف آتا ہےکس قدر خواب تھے جو خواب رہےکس قدر نقش تھے جو نقش سر آب رہےکس قدر لوگ تھے جودل کی دہلیز پہ دستک کی طرح رہتے تھے اور نایاب رہےکس قدر رنگ تھے جوبند گلیوں کے خم و پیچ میں چکراتے رہےاپنے ہونے کی تب و تاب میں لہراتے رہےپر کبھی آپ سے باہر نہ ہوئےپھول کے ہاتھ میں ظاہر نہ ہوئےدل کے گرداب میں ٹوٹے ہوئے پتوں کی طرح ہمہ تن رقص رہےخوں بے نام ستاروں کی طرح عکس در عکس رہےکیسے آدرش تھے جن کے سائےسنسناتے ہوئے تیروں کی طرح چلتے تھےہست اور نیست کے مابین عجب رشتہ تھاروح کی آگ بھڑکتی تو بدن جلتے تھےوہ شب و روز تھے کیاجب کسی خواہش بیدار کی طغیانی میںوقت کی قید سے لمحات نکل جاتے تھےخوں میں جب بھی سلگتا تھا ارادہ کوئیآہنی طوق تمازت سے پگھل جاتے تھے۲آنکھ کے دشت میں اب لاکھ الاؤ دیکھیںروح کی برف پگھلتی ہی نہیںاب وہ آدرش کبھیوقت کی ریت سے جھانکیں بھی تو یوں جھانکتے ہیںجس طرح ٹوٹتا تارا کوئیایک لمحے کے لئے کوند کے چھپ جاتا ہےکس قدر خواب تھے جو خواب رہےاب جو سوچیں بھی تو خوف آتا ہے
تتلی معصومانہ حیرت سے سرشارسیہ شاخوں کے حلقے سے نکلیصدیوں کے جکڑے ہوئے ریشمی پر پھیلائے اور اڑنے لگیکھلی فضا کا ذائقہ چکھانرم ہوا کا گیت سناان دیکھے کہساروں کی قامت ناپیروشنیوں کا لمس پیاخوشبو کے ہر رنگ کو چھو کر دیکھالیکن رنگ ہوا اور خوشبو کا وجدان ادھورا تھاکہ رقص کا موسم ٹھہر گیارت بدلیاور سورج کی کرنوں کا تاج پگھلنے لگاچاند کے ہاتھ دعا کے حرف ہی بھول گئےہوا کے لب برفیلے سموں میں نیلے پڑ کر اپنی صدائیں کھو بیٹھےپتوں کی بانہوں کے سر بے رنگ ہوئےاور تنہا رہ گئے پھولوں کے ہاتھبرف کی لہر کے ہاتھوں تتلی کو لوٹ آنے کا پیغام گیابھنورے شبنم کی زنجیریں لے کر دوڑےاور بے چین پروں میں ان چکھی پروازوں کی آشفتہ پیاس جلا دیاپنے کالے ناخونوں سےتتلی کے پر نوچ کے بولےاحمق لڑکیگھر واپس آ جاؤناٹک ختم ہواخواتین کا عالمی سال
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books