aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "basta"
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پرکبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میںکبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میںسحر دم جھٹپٹے کے وقت راتوں کے اندھیرے میںکبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میںتعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے سونی راہوں میںکبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میںبرہنہ پاؤں جلتی ریت یخ بستہ ہواؤں میںگریزاں بستیوں سے مدرسوں سے خانقاہوں میںکبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہکبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہہوا میں تیرتا خوابوں میں بادل کی طرح اڑتاپرندوں کی طرح شاخوں میں چھپ کر جھولتا مڑتامجھے اک لڑکا آوارہ منش آزاد سیلانیمجھے اک لڑکا جیسے تند چشموں کا رواں پانینظر آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاںمرا ہم زاد ہے ہر گام پر ہر موڑ پر جولاںاسے ہم راہ پاتا ہوں یہ سائے کی طرح میراتعاقب کر رہا ہے جیسے میں مفرور ملزم ہوںیہ مجھ سے پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیںجس میں دھندلا چکر کھاتا چمکیلا پن چھ اطراف کا روگ بنا ہے
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
ایک یخ بستہ اداسی ہے دل و جاں پہ محیطاب مری روح میں باقی ہے نہ امید نہ جوش
اردو کے جنازے کی یہ سج دھج ہو نرالیصف بستہ ہوں مرحومہ کے سب وارث و والیآزادؔ و نذیرؔ و شررؔ و شبلیؔ و حالیؔفریاد یہ سب کے دل مغموم سے نکلےاردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اک ذرا سوچنے دواس خیاباں میںجو اس لحظہ بیاباں بھی نہیںکون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلےکون بے رنگ ہوئی رنج و تعب سے پہلےاور اب سے پہلےکس گھڑی کون سے موسم میں یہاںخون کا قحط پڑاگل کی شہ رگ پہ کڑاوقت پڑاسوچنے دوسوچنے دواک ذرا سوچنے دویہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی نہیںاس میں کس وقت کہاںآگ لگی تھی پہلےاس کے صف بستہ دریچوں میں سے کس میں اولزہ ہوئی سرخ شعاعوں کی کماںکس جگہ جوت جگی تھی پہلےسوچنے دوہم سے اس دیس کا تم نام و نشاں پوچھتے ہوجس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئےاور یاد آئے تو محبوب گزشتہ یاد آئےروبرو آنے سے جی گھبرائےہاں مگر جیسے کوئیایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کوآ نکلتا ہے کبھی رات بتانے کے لیےہم اب اس عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یونہیدل سے مل آتے ہیں بس رسم نبھانے کے لیےدل کی کیا پوچھتے ہوسوچنے دو
اے عشق ازل گیر و ابد تابمیرے بھی ہیں کچھ خواب!ہر خواب کی سوگند!ہر چند کہ وہ خواب ہیں سربستہ و رو بندسینے میں چھپائے ہوئے گویائی دوشیزۂ لب خندہر خواب میں اجسام سے افکار کا، مفہوم سے گفتار کا پیوندعشاق کے لب ہائے ازل تشنہ کی پیوستگی شوق کے مانند(اے لمحۂ خورسند)اے عشق ازل گیر و ابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خوابوہ خواب ہیں آزادئ کامل کے نئے خوابہر سعئ جگر دوز کے حاصل کے نئے خوابآدم کی ولادت کے نئے جشن پہ لہراتے جلاجل کے نئے خواباس خاک کی سطوت کی منازل کے نئے خوابیا سینۂ گیتی میں نئے دل کے نئے خواباے عشق ازل گیر و ابد تابمیرے بھی ہیں کچھ خوابمیرے بھی ہیں کچھ خواب!
جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کوسو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیںخشک خشک ہونٹوں میں جیسے دل کھنچ آتا ہےدل میں کتنے آئینے تھرتھرانے لگتے ہیںپھول کیا شگوفے کیا چاند کیا ستارے کیاسب رقیب قدموں پر سر جھکانے لگتے ہیںذہن جاگ اٹھتا ہے روح جاگ اٹھتی ہےنقش آدمیت کے جگمگانے لگتے ہیںلو نکلنے لگتی ہے مندروں کے سینے سےدیوتا فضاؤں میں مسکرانے لگتے ہیںرقص کرنے لگتی ہیں مورتیں اجنتا کیمدتوں کے لب بستہ غار گانے لگتے ہیںپھول کھلنے لگتے ہیں اجڑے اجڑے گلشن میںتشنہ تشنہ گیتی پر ابر چھانے لگتے ہیںلمحہ بھر کو یہ دنیا ظلم چھوڑ دیتی ہےلمحہ بھر کو سب پتھر مسکرانے لگتے ہیں
جاگو سونے والو جاگووقت کے کھونے والو جاگوباغ میں چڑیاں بول رہی ہیںکلیاں آنکھیں کھول رہی ہیںپھول خوشی سے جھوم رہے ہیںپتوں کا منہ چوم رہے ہیںجاگ اٹھے دریا اور نہریںجاگ اٹھیں موجیں اور لہریںناؤ چلانے والے جاگےپار لگانے والے جاگےساری دنیا جاگ رہی ہےکام کی جانب بھاگ رہی ہےلکھنے پڑھنے والو جاگوپھولنے بڑھنے والو جاگومنہ دھو دھا کر ناشتہ کھاؤبستہ لے کر مدرسے جاؤصبح کا سونا خوب نہیں ہےاچھا یہ اسلوب نہیں ہےجاگو سونے والو جاگووقت کے کھونے والو جاگو
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوںغم و الم خلق کو دکھاؤںنہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤںنہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرمکہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤںاگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیںاگر میں جاں کی امان پاؤںتو دست بستہ کروں گزارشکہ بندہ پرورحضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہےنہ جانے کب کا گلا سڑا ہےیہ آپ سے رحم چاہتا ہےحضور اتنا کرم تو کیجےسیاہ چادر مجھے نہ دیجئےسیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئےکہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونتوہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہےوہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پربرہنگی تن کی ڈھانپتی ہےسنیں ذرا دل خراش چیخیںبنا رہی ہیں عجب ہیولےجو چادروں میں بھی ہیں برہنہ
ہم جیتیں گےحقا ہم اک دن جیتیں گےبالآخر اک دن جیتیں گےکیا خوف ز یلغار اعداہے سینہ سپر ہر غازی کاکیا خوف ز یورش جیش قضاصف بستہ ہیں ارواح الشہداڈر کاہے کا
سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہردیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہردور افق تک گھٹتی بڑھتی اٹھتی رہتی ہےکہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہربستا ہے اس کہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےسایۂ شام غریباں کی طرحشورش دیدۂ گریاں کی طرحموسم کنج بیاباں کی طرحکتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجومجیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہجیسے لفظوں کو گہن لگ جائےجیسے روٹھے ہوئے رستوں کے مسافر چپ چاپجیسے مرقد کے سرہانے کوئی خاموش چراغجیسے سنسان سے مقتل کی صلیبجیسے کجلائی ہوئی شب کا نصیبمیرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سےپھر سے زخموں کی قطاریں جاگیںاول شام چراغاں کی طرحہر نئے زخم نے پھر یاد دلایا مجھ کواسی کمرے میں کبھیمحفل احباب کے ساتھگنگناتے ہوئے لمحوں کے شجر پھیلتے تھےرقص کرتے ہوئے جذبوں کے دہکتے لمحےقریۂ جاں میں لہو کی صورتشمع وعدہ کی طرح جلتے تھےسانس لیتی تھی فضا میں خوشبوآنکھ میں گلبن مرجاں کی طرحسانس کے ساتھ گہر ڈھلتے تھےآج کیا کہیے کہ ایسا کیوں ہےشام چپ چاپفضا یخ بستہدل مرا دل کہ سمندر کی طرح زندہ تھاتیرے ہوتے ہوئے تنہا کیوں ہےتو کہ خود چشمۂ آواز بھی ہےمیری محرم مری ہم راز بھی ہےتیرے ہوتے ہوئے ہر سمت اداسی کیسیشام چپ چاپفضا یخ بستہدل کے ہم راہ بدن ٹوٹ رہا ہو جیسےروح سے رشتۂ جاں چھوٹ رہا ہو جیسےاے کہ تو چشمۂ آواز بھی ہےحاصل نغمگیٔ ساز بھی ہےلب کشا ہو کہ سر شام فگاراس سے پہلے کہ شکستہ دل میںبد گمانی کی کوئی تیز کرن چبھ جائےاس سے پہلے کہ چراغ وعدہیک بہ یک بجھ جائےلب کشا ہو کہ فضا میں پھر سےجلتے لفظوں کے دہکتے جگنوتیر جائیں تو سکوت شب عریاں ٹوٹےپھر کوئی بند گریباں ٹوٹےلب کشا ہو کہ مری نس نس میںزہر بھر دے نہ کہیںوقت کی زخم فروشی پھر سےلب کشا ہو کہ مجھے ڈس لے گیخود فراموشی پھر سےمیرے کمرے میں اتر آئیخموشی پھر سے
لیکن ان ماؤں کا سوچوجن کے بیٹےچاند تلک اک دن جائیں گےجا کے وہاں پر بس جائیں گےایسے میںجب رات آئے گیچاند زمیں پر نکلا ہوگاچاند میں ان کا چہرہ ہوگالیکن ان کے گھر کا آنگنکتنا سونا سونا ہوگادروازوں پر خاموشی کا پہرہ ہوگاآنکھوں میں ویرانی ہوگیدل میں بھی سناٹا ہوگارات آئے گیاور آنکھوں سےنیند کی پریاں روٹھی ہوں گیوہ بس چاند کو دیکھتی ہوں گیجاگتی ہوں گیان ماؤں کے بارے میں بھیکچھ تو سوچوشاید تم کو نیند آ جائےمیں تو اتنی دور نہیں ہوںمیں تو یہیں پر ہی بستا ہوںسانس یہیں پر ہی لیتا ہوںمیں تو زمیں پر ہی رہتا ہوں
ایک ذرہ کف خاکستر کاشرر جستہ کے مانند کبھیکسی انجانی تمنا کی خلش سے مسروراپنے سینے کے دہکتے ہوئے تنور کی لو سے مجبورایک ذرہ کہ ہمیشہ سے ہے خود سے مہجورکبھی نیرنگ صدا بن کے جھلک اٹھتا ہےآب و رنگ و خط و محراب کا پیوند کبھیاور بنتا ہے معانی کا خداوند کبھیوہ خداوند جو پابستۂ آنات نہ ہو!
اک بچہ چھوٹا سا بچہایک ہاتھ میں اس کے تختی تھیایک ہاتھ میں اس کے بستہ تھااور پاؤں کے نیچے دور تلکاسکول کو جاتا رستہ تھاوہ افسر بننا چاہتا تھاوہ سچ مچ پڑھنا چاہتا تھاکچھ خواب تھے اس کی آنکھوں میںجو رفتہ رفتہ ٹوٹ گئےغربت نے اسے مجبور کیایوں پڑھنے سے وہ دور ہواپھر پاؤں سے رستے روٹھ گئےاور ہاتھ سے بستے چھوٹ گئے
بہت دنوں سےوہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہےکہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھےبہت دنوں سےوہ گرد احساس چھٹ چکی ہےکہ جس کے ذروں پہ تم نےپلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھےاور اب تو یوں ہے کہ جیسےلب بستہ ہجرتوں کا ہر ایک لمحہطویل صدیوں کو اوڑھ کر سانس لے رہا ہےاور اب تو یوں ہے کہ جیسے تم نےپہاڑ راتوں کومیری اندھی اجاڑ آنکھوں میںریزہ ریزہ بسا دیا ہےکہ جیسے میں نےفگار دل کا ہنر اثاثہکہیں چھپا کر بھلا دیا ہےاور اب تو یوں ہے کہاپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کرمرے بدن پر سجے ہوئے آبلوں سے بہتا لہو نہ دیکھومجھے کبھی سرخ رو نہ دیکھونہ میری یادوں کے جلتے بجھتے نشاں کریدونہ میرے مقتل کی خاک دیکھواور اب تو یوں ہے کہاپنی آنکھوں کے خواباپنے دریدہ دامن کے چاک دیکھوکہ گرد احساس چھٹ چکی ہےکہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books