aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "belaa"
تو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دےتو باغ میں جس وقت لچکتی ہوئی آئےساون کی طرح جھوم کے پودوں کو جھمائےجوڑے کی گرہ کھول کے بیلا جو اٹھائےپربت پہ برستی ہوئی برکھا کو نچا دےتو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دےآنکھوں کو جھکائے ہوئے پلو کو اٹھائےمکھڑے پہ لیے صبح کے مچلے ہوئے سائےلیتی ہوئی انگڑائی اگر گھاٹ پہ آئےگنگا کی ہر اک لہر میں اک دھوم مچا دےتو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دےکرنوں سے گرے اوس جو ہو تیرا اشارامٹی کو نچوڑے تو بہے رنگ کا دھاراذرے کو جو روندے تو بنے صبح کا تاراکانٹے پہ جو تو پاؤں دھرے پھول بنا دےتو گھر سے نکل آئے تو دھرتی کو جگا دے
مختصر کمرے کیایک چھوٹی سی مغموم کھڑکیکبھی دیکھتی ہے جو باہر کی دنیااداسی بہت بڑھ جاتی ہے اس کیمگر سامنے کے ہرے لان کے پھولچمپا چمیلی گلاب اور بیلا کی پوشاکپہنے ہوئے مسکراتے ہوئےرنگ و خوشبو کے لہجے میں اس کوسناتے ہیں معصوم لمحوں کا قصہہتھیلی پہ پھر انہی معصوم لمحوں کیتحریر کرتی ہے دل کش ہنسیایک چہکار کوئل کیاور جب محبت کی انگلی نزاکت سے تھامےخراماں خراماںانوکھا سا اک پھول اس لان پرمیرؔ کے شعر کہ پنکھڑی چننے لگتا ہےتب وقت کے قہقہوں کابہت خوشنما سلسلہٹھہر جاتا ہےاس مختصر کمرے کیچھوٹی سی کھڑکی میں
گل عباس گلاب چنبیلیگیندا چمپا بیلا جوہیکل تک ان سے لدے ہوئے تھےآج اداس کھڑے ہیں پودےچوہے پھول کتر جاتے ہیں
میرے گھر کے آنگن میں توجانے پہچانے سب موسماپنے وقت پہ آ جاتے ہیںموسم گل میںسرخ گلاب اور پیلا گیندااجلا بیلا گوری چنبیلیچمپا اور گل داؤدیکتنے رنگ بکھر جاتے ہیںپھر موسم کروٹ لیتا ہےیخ بستہ بے مہر ہواجب رقص زمستاں کا آغاز کیا کرتی ہےسارا آنگن زرد شکستہ جاں پتوں سے بھر جاتا ہے
آخر ایسا کیوں ہے پاپامیرے شہر کلکتہ میںمرغی نہیں مرغی ہٹے میںکولہو نہیں کولہو ٹولے میںمالا نہیں مالا پاڑے میںبیلا نہیں بلیا گھاٹے میںآخر ایسا کیوں ہے پاپامیرے شہر کلکتہ میںچونا گلی میں چونا کب ہےشیشہ گلی میں شیشہ کب ہےچھاتا گلی میں چھاتا کب ہےبکسا گلی میں بکسا کب ہےآخر ایسا کیوں ہے پاپامیرے شہر کلکتہ میںبھشتی نہیں بھشتی پاڑے میںموچی نہیں موچی پاڑے میںحاجی نہیں حاجی پاڑے میںقاضی نہیں قاضی پاڑے میںآخر ایسا کیوں ہے پاپامیرے شہر کلکتہ میںتال نہیں ہے تال تلے میںنیم نہیں ہے نیم تلے میںجھاؤ نہیں ہے جھاؤ تلے میںبانس نہیں ہے بانس تلے میںآخر ایسا کیوں ہے پاپامیرے شہر کلکتہ میںحیرت سے جب میں نے پوچھابس اتنا ہی بولے پاپاآج نہیں ہے لیکن بیٹابرسوں پہلے ہوتا ہوگا
ابھی کچھ دن مجھے اس شہر میں آوارہ رہنا ہےکہ اب تک دل کو اس بستی کی شامیں یاد آتی ہیںجہاں بیلے کی جھاڑی میں کسی ناگن کی بانبی تھیابھی تک دل یہ کہتا ہے کہ اس بستی میں پھر جاؤبھرو دامن کو پھولوں سے بدن ناگن سے ڈسواؤجہاں اب ہوں وہاں بیلا ہے نہ ناگن کی بانبی ہےاسی کارن یہ ظالم دل مجھے الجھائے رکھتا ہےاسی کارن مجھے اس شہر میں آوارہ رہنا ہے
پودے نہیں اکیلےچھایا ہے ان کی سنگی ساتھیپر آتما اکیلیوادی کی گود میں چانددرپن اچھالتا ہےچاندی کا جگمگاتاوہ جھلملاتا منڈواخوشہ سا کھل اٹھا ہےاس میں جنونی تاراپربت نہیں اکیلے چلتےچلتے ہیں ساتھ ان کےوحشی ہوا کے جھونکے ریلےپر آتما اکیلیگاتی ہے جب یہ دھرتیساتھ اس کے گونجتی ہےاک صورت سرمدی بھیساگر لہر لہر میںبیلا چرا رہا ہےنر ناری کے ملن کیدریا نہیں اکیلے بہتےبہتی ہیں ساتھ ان کےموجیںان کیپر آتما اکیلی
دیکھ کبھی تو موسم گل کوپت جھڑ کی آوازوں میںاور کبھی تو پربت بن جااور کبھی بہہ ساگر میںصحراؤں میں تنہا چلاور ہنستا جا گلزاروں میںپتھر سے اگا لے پھولوں کوخاروں میں شیرینی بھر دےروتی شبنم ڈھلتا سورجسانجھ کی سندر بیلا بھیصبح کا تارا چاند کا ہالہہر موسم البیلا بھی
ننھے منے دو بچوں کی ہے دلچسپ کہانیروپ نگر کی سیر کریں گے بات جو دل میں ٹھانیلاکھ منایا ماں نے لیکن بات نہ اس کی مانیصبح سویرے گھر سے نکلے گھر والوں سے چھپ کےچلتے چلتے دونوں بچے اک جنگل میں پہنچےشدت کی گرمی تھی اس پہ دونوں ہی تھے بھوکےتھوڑی دیر چلے جنگل میں دیکھا باغ انوکھاپھول کھلے تھے رنگ برنگے جوہی بیلا چمپاننھا سا اک پیڑ بھی دیکھا پھل تھا جس کا میٹھاپھل کھایا دونوں نے مل کر اپنی پیاس بجھائیاتنے میں اک ننھی بچی سامنے ان کے آئیآگے بڑھ کر بولی تم ہو کون بتاؤ بھائیسچ سچ بولو کیوں تم دونوں میرے دیس میں آئےیہ وہ دیس ہے بھائی اس میں جو آئے رہ جائےروپ نگر میں کوئی آ کر کیسے جانے پائےبات سنی جب بچوں نے تو اپنا حال بتایاروپ نگر کا شوق ہی ہم کو اس جنگل میں لایابرسوں سے تھی جس کی خواہش اس کو دیکھ تو پایاسن کر بچی ہنس کر بولی آؤ شہر دکھائیںسونے چاندی کے محلوں کی تم کو سیر کرائیںبھوکے ہو تو گھر پہ چل کر پہلے کھانا کھائیںجگ مگ کرتی سڑکیں دیکھیں دیکھے محل دو محلےایسی دنیا ان بچوں نے کب دیکھی تھی پہلےبچے بوڑھے اور جواں تھے سب اخلاق کے پتلےننھی بچی نے دونوں کو اپنا بھائی سمجھااس کے ابو امی نے بھی پیار سے ان کو رکھااچھے کھانے خوب دئے پھر اچھا اچھا کپڑالیکن اک بچے کو اپنی ماں کی یاد جو آئیرو رو کر امی امی کو پھر آواز لگائیہاتھ پکڑ کر کوئی بولا کیوں روتے ہو بھائیآنکھ کھلی تو امی بولیں دیکھ رہے تھے سپناشاہد میری باتیں مانو سن لو میرا کہناروپ نگر جانے کو جھگڑا ہرگز اب مت کرنانانی اماں کے قصے کو بالکل جھوٹ سمجھناورنہ میری مار سے مشکل ہے اب تیرا بچنا
مجھے خواب پسند ہیںتمہیں میںتمہیں گلاب پسند ہیںاور مجھے تممجھے سوچتے ہوئے تمہاری آنکھوں میںضرور تیرتی ہوگیرجنی گندھا بیلہ یا ہر سنگار کی خوشبو
میں گل نہیںمجھے دست صبا سے کام نہیںنہ مثل برگ نہ مانند گل نہ شاخ گلابکہ تند و تیز ہواؤں سے کانپ کانپ اٹھوںکہ سرد و گرم سے موسم کےڈر کے زیست کروںمجھے تو گرم ہواؤں نے مل کے پالا ہےزمیں کے حبس نےدم خم یہ مجھ میں ڈالا ہےکہ ایک ننھا سا بے حیثیت وجود مراذرا بھی نم جوں ہی مٹی میں اپنی پاتا ہےزمیں کا چیر کے سینہ یہ پھوٹ آتا ہےہوا کے دھوپ کے باراں کے برف کے موسمجنہیں یہ رشک چمن حادثات کہتے ہیںیہ سینچتے ہیں مجھے میرا قد بڑھاتے ہیںیہ حادثات تصرف میں میرے رہتے ہیںگلاب بیلا چنبیلی او نسترن کے یہ پھولیہ سیم تن ہیںمرا ایسا کوئی نام نہیںکھڑی ہوں تھام کے آندھی کی راس ہاتھوں میںمیں گل نہیںمجھے دست صبا سے کام نہیں
اپنی آنکھیں بند کر لو اور میرے ساتھ آؤایک دریا ایک کشتیایک کشتی دو مسافردو مسافر اک جزیرہاک جزیرہ اور چاروں سمت پانیایک راجہ ایک رانی
میں نے تو اک وحشی سےپیار کی آس لگائی ہےمیرے من کی بیلا بھیاس کے لمس کو پانے کیخواہش میں بیتاب ہوئیتن میں ہلچل جاری ہےبے قابو جذبات بھی ہیںاور یہ بھی معلوم ہے مجھ کووہ وحشی دیوانہ ہےنوچے گااور روند کے مجھ کووہ آگے بڑھ جائے گا
کٹھ پتلی نے ناٹک کھیلاننھی منی گڑیا رانیسر پہ چندریادھانی دھانیبولو رانیبولو رانیبالوں میں تاروں کو گوندھےدور کھڑی جانے کیا سوچےپیر میں گھنگھرو چھم چھم چھمکان کے بالے چم چم چمپہنے ہے وہ لال شلوکادور سے چمکے آگ کا لوکاغصہ چہرے پر جب آئےہو جائے وہلال بھبوکالال بھبوکاکٹھ پتلی نے ناٹک کھیلاہاتھوں میں مہندی کی لالیگوری گوری کالی کالیباتیں اس کیتیکھی تیکھیروکھی روکھیپھیکی پھیکیکٹھ پتلی نے ناٹک کھیلاہنستے ہنستے سب دکھ جھیلاچوں چوں چوںچن چن چنجھوں جھوں جھوںجھن جھن جھنگھن گھن گھنسن سن سنٹن ٹن ٹنگھنٹہ بولاگھر آئی پھر شام کی بیلاکٹھ پتلی نے ناٹک کھیلا
کس قدر دل فریب ہے بیلاخوش نما دل پذیر البیلاہے بھرا اس کی ذات سے گلزاردیدنی شام کو ہے اس کی بہاراس کا پودا فلک سے برتر ہےاس کا ہر پھول رشک اختر ہےشوق سے اس کو توڑ لاتے ہیںلوگ ہمدم اسے بناتے ہیںحسن افزائے مہ جبیناں ہےرونق محفل حسیناں ہےاس سے پاتے ہیں تقویت ارماںبزم عشرت کی ہے یہ روح رواںبوئے خوش اس کی دل کو بھاتی ہےتازگی اس سے روح پاتی ہےاس کا رنگ صبیح آفت ہےاس کی صورت خدا کی قدرت ہے
آنگن میں چھوٹی سی کیاری ہوتی تھیجس میں بیلا اور چنبیلی ہوتے تھے
یہ گو دھول بیلافضا جیسے گھر لوٹتی گائے بھینسوں کا ریوڑبہت نیم جاںیہ سرسبز شاخیں جو دن بھر کسی پھول کا تاج پہنے ہوئےرقص کرتی رہیں تھک چکی ہیںابھی جیسے سرگوشیاں کر رہی ہیںسیاہی کا چڑھتا سمندر اگر شب گئے تک نہ اترا تو کیا ہےمری گود میں غنچۂ گل ہنسے گاادھر پو پھٹے گی
ہم باغبان سارے ہندوستاں چمن ہےبچے ہیں اس کے ہم سب یہ مادر وطن ہےہندو ہوں یا مسلماں عیسائی ہوں کہ سکھ ہوںسب ہاتھ پاؤں اس کے ہندوستاں بدن ہےاس کا ہر ایک چپہ موتی اگل رہا ہےیہ سرزمین ساری فردوس ہے عدن ہےدولت ابل رہی ہے ہر کھیت ہے خزانہیہ روئی ہے یہ چاول یہ چائے ہے یہ سن ہےہر چیز میں ہے اس کی اک شان دل ربائیدریا پہاڑ جنگل ہر شے میں بانکپن ہےپھول اس کے خوب صورت جاں بخش ان کی نگہتچمپا ہے موتیا ہے بیلا ہے یاسمن ہےپھل اس کے میٹھے میٹھے خوش ذائقہ رسیلےشہد و شکر کی گویا ایک نہر موجزن ہےپھولی ہوئی وہ سرسوں کھیتوں میں پیلی پیلیگویا کہ زرد چادر اوڑھے ہوئے دلہن ہےوہ جیٹھ کا پسینہ ساون کا پھر مہینہسبزے کی ہے یہ کثرت ہر کھیت اک چمن ہےہے گا رہی وہ کوئل آموں کی ڈالی ڈالیمینہ میں نہا نہا کر وہ مست ہے مگن ہےکیوں ہند کو نہ چاہیں حب وطن ہے ایماںاس سرزمیں پہ صدقے سب اپنا جان و تن ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
منتظر ہے ایک طوفان بلا میرے لیےاب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وا میرے لیےپر مصیبت ہے مرا عہد وفا میرے لیےاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books