aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bevafaa"
جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکاغم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکاجب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیںجب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیںپھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیںتنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
تمہیں میری ہوس پیشہمری سفاک قاتل بے وفائی کا گماں تک
اس قدر بھی نہیں مجھے معلومکس محلے میں ہے مکاں تیراکون سی شاخ گل پہ رقصاں ہےرشک فردوس آشیاں تیراجانے کن وادیوں میں اترا ہےغیرت حسن کارواں تیراکس سے پوچھوں گا میں خبر تیریکون بتلائے گا نشاں تیراتیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںحال دل بھی نہ کہہ سکا گرچہتو رہی مدتوں قریب مرےکچھ تری عظمتوں کا ڈر بھی تھاکچھ خیالات تھے عجیب مرےآخر کار وہ گھڑی آئیبار ور ہو گئے رقیب مرےتو مجھے چھوڑ کر چلی بھی گئیخیر قسمت مری نصیب مرےاب میں کیوں تجھ کو یاد کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںگو زمانہ تری محبت کاایک بھولی ہوئی کہانی ہےتیرے کوچے میں عمر بھر نہ گئےساری دنیا کی خاک چھانی ہےلذت وصل ہو کہ زخم فراقجو بھی ہو تیری مہربانی ہےکس تمنا سے تجھ کو چاہا تھاکس محبت سے ہار مانی ہےاپنی قسمت پہ ناز کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںاشک پلکوں پہ آ نہیں سکتےدل میں ہے تیری آبرو اب بھیتجھ سے روشن ہے کائنات مریتیرے جلوے ہیں چار سو اب بھیاپنے غم خانۂ تخیل میںتجھ سے ہوتی ہے گفتگو اب بھیتجھ کو ویرانۂ تصور میںدیکھ لیتا ہوں روبرو اب بھیاب بھی میں تجھ کو پیار کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںآج بھی کارزار ہستی میںتو اگر ایک بار مل جائےکسی محفل میں سامنا ہو جائےیا سر رہ گزار مل جائےاک نظر دیکھ لے محبت سےایک لمحے کا پیار مل جائےآرزوؤں کو چین آ جائےحسرتوں کو قرار مل جائےجانے کیا کیا خیال کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںآج میں ایسے مقام پر ہوں جہاںرسن و دار کی بلندی ہےمیرے اشعار کی لطافت میںتیرے کردار کی بلندی ہےتیری مجبوریوں کی عظمت ہےمیرے ایثار کی بلندی ہےسب ترے درد کی عنایت ہےسب ترے پیار کی بلندی ہےتیرے غم سے نباہ کرتا ہےجب ترے شہر سے گزرتا ہوںتجھ سے کوئی گلہ نہیں مجھ کومیں تجھے بے وفا نہیں کہتاتیرا ملنا خیال و خواب ہواپھر بھی نا آشنا نہیں کہتاوہ جو کہتا تھا مجھ کو آوارہمیں اسے بھی برا نہیں کہتاورنہ اک بے نوا محبت میںدل کے لٹنے پہ کیا نہیں کہتامیں تو مشکل سے آہ بھرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںکوئی پرسان حال ہو تو کہوںکیسی آندھی چلی ہے تیرے بعددن گزارا ہے کس طرح میں نےرات کیسے ڈھلی ہے تیرے بعدشمع امید صرصر غم میںکس بہانے جلی ہے تیرے بعدجس میں کوئی مکیں نہ رہتا ہودل وہ سونی گلی ہے تیرے بعدروز جیتا ہوں روز مرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںلیکن اے ساکن حریم خیالیاد ہے دور کیف و کم کہ نہیںکیا کبھی تیرے دل پہ گزرا ہےمیری محرومیوں کا غم کہ نہیںمیری بربادیوں کا سن کر حالآنکھ تیری ہوئی ہے نم کہ نہیںاور اس کارزار ہستی میںپھر کبھی مل سکیں گے ہم کہ نہیںڈرتے ڈرتے سوال کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوں
تم اس کی یاد بھلا دو کہ بے وفا ہے وہہر ایک دل نہیں ہوتا تمہارے دل کی طرحتم اپنے پیار کو رسوا کرو نہ رو رو کرتمہارا پیار مقدس ہے بائبل کی طرح
مدتوں میں اک اندھے کنویں میں اسیرسر پٹکتا رہا گڑگڑاتا رہاروشنی چاہیئے، چاندنی چاہیئے، زندگی چاہیئےروشنی پیار کی، چاندنی یار کی، زندگی دار کیاپنی آواز سنتا رہا رات دندھیرے دھیرے یقیں دل کو آتا رہاسونے سنسار میںبے وفا یار میںدامن دار میںروشنی بھی نہیںچاندنی بھی نہیںزندگی بھی نہیںزندگی ایک راتواہمہ کائناتآدمی بے بساطلوگ کوتاہ قدشہر شہر حسدگاؤں ان سے بھی بدان اندھیروں نے جب پیس ڈالا مجھےپھر اچانک کنویں نے اچھالا مجھےاپنے سینے سے باہر نکالا مجھےسیکڑوں مصر تھے سامنےسیکڑوں اس کے بازار تھےایک بوڑھی زلیخا نہیںجانے کتنے خریدار تھےبڑھتا جاتا تھا یوسف کا موللوگ بکنے کو تیار تھے
تم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو موجود تھے تمآنکھ میں نور کی اور دل میں لہو کی صورتدرد کی لو کی طرح پیار کی خوشبو کی طرحبے وفا وعدوں کی دل داری کا انداز لیےتم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو تم آئے تھےرات کے سینے میں مہتاب کے خنجر کی طرحصبح کے ہاتھ میں خورشید کے ساغر کی طرحشاخ خوں رنگ تمنا میں گل تر کی طرحتم نہیں آؤ گے جب تب بھی تو تم آؤ گےیاد کی طرح دھڑکتے ہوئے دل کی صورتغم کے پیمانۂ سر شار کو چھلکاتے ہوئےبرگ ہائے لب و رخسار کو مہکاتے ہوئےدل کے بجھتے ہوئے انگارے کو دہکاتے ہوئےزلف در زلف بکھر جائے گا پھر رات کا رنگشب تنہائی میں بھی لطف ملاقات کا رنگروز لائے گی صبا کوئے صباحت سے پیامروز گائے گی سحر تہنیت جشن فراقآؤ آنے کی کریں باتیں کہ تم آئے ہواب تم آئے ہو تو میں کون سی شے نذر کروکہ مرے پاس بجز مہر و وفا کچھ بھی نہیںایک خوں گشتہ تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں
اس سے پہلے کہ تیری چشم کرممعذرت کی نگاہ بن جائےاس سے پہلے کہ تیرے بام کا حسنرفعت مہر و ماہ بن جائےپیار ڈھل جائے میرے اشکوں میںآرزو ایک آہ بن جائےمجھ پہ آ جائے عشق کا الزاماور تو بے گناہ بن جائےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گااس سے پہلے کہ سادگی تیریلب خاموش کو گلہ کہہ دےمیں تجھے چارہ گر خیال کروںتو مرے غم کو لا دوا کہہ دےتیری مجبوریاں نہ دیکھ سکےاور دل تجھ کو بے وفا کہہ دےجانے میں بے خودی میں کیا پوچھوںجانے تو بے رخی سے کیا کہہ دےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچارۂ درد ہو بھی سکتا تھامجھ کو اتنی خوشی بہت کچھ ہےپیار گو جاوداں نہیں پھر بھیپیار کی یاد بھی بہت کچھ ہےآنے والے دنوں کی ظلمت میںآج کی روشنی بہت کچھ ہےاس تہی دامنی کے عالم میںجو ملا ہے وہی بہت کچھ ہےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گاچھوڑ کر ساحل مراد چلااب سفینہ مرا کہیں ٹھہرےزہر پینا مرا مقدر ہےاور ترے ہونٹ انگبیں ٹھہرےکس ترا تیرے آستاں پہ رکوںجب نہ پاؤں تلے زمیں ٹھہرےاس سے بہتر ہے دل یہی سمجھےتو نے روکا تھا ہم نہیں ٹھہرےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گامجھ کو اتنا ضرور کہنا ہےوقت رخصت سلام سے پہلےکوئی نامہ نہیں لکھا میں نےتیرے حرف پیام سے پہلےتوڑ لوں رشتۂ نظر میں بھیتم اتر جاؤ بام سے پہلےلے مری جان میرا وعدہ ہےکل کسی وقت شام سے پہلےمیں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
وفا بھی جس پہ ہے نازاں وہ بے وفا تم ہوجو کھو گئی ہے مرے دل کی وہ صدا تم ہوبہت قریب ہو تم پھر بھی مجھ سے کتنی دورحجاب جسم ابھی ہے حجاب روح ابھیابھی تو منزل صد مہر و ماہ باقی ہےحجاب فاصلہ ہائے نگاہ باقی ہےوصال یار ابھی تک ہے آرزو کا فریب
تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرےتو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرےمجروح ہو بلا سے ترے حسن کا غرورپر تجھ کو چشم شوق نہ دیکھے خدا کرےکھو جائیں تیرے حسن کی رعنائیاں تمامتیری ادا کسی کو نہ بھائے خدا کرےمیری ہی طرح کشتئ دل ہو تری تباہطوفان اتنے زور کا اٹھے خدا کرےراہوں کے پیچ و خم میں رہے تا حیات گممنزل ترے قریب نہ آئے خدا کرےظلمت ہو تو ہو اور تری رہ گزار ہودنیا میں تیری صبح نہ پھوٹے خدا کرےتجھ پر نشاط و عیش کی راتیں حرام ہوںمر جائیں تیرے ساز کے نغمے خدا کرےآئیں نہ تیرے باغ میں جھونکے نسیم کےتیرا گل شباب نہ مہکے خدا کرےہر لمحہ تیری روح کو اک بے کلی سی ہواور بے کلی میں نیند نہ آئے خدا کرےہو تیرے دل میں میری خلش میری آرزومیرے بغیر چین نہ آئے خدا کرےتو جا رہی ہے بزم طرب میں تو خیر جاپر تیرا جی وہاں بھی نہ بہلے خدا کرےالمختصر ہوں جتنے ستم تجھ پہ ٹوٹ جائیںلیکن یہ ربط زیست نہ ٹوٹے خدا کرےجو کچھ میں کہہ گیا ہوں جنوں میں وہ سب غلطتجھ پر کوئی بھی آنچ نہ آئے خدا کرےتو ہے متاع قلب و نظر بے وفا سہیہے روشنیٔ داغ جگر بے وفا سہی
ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہکچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہکہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہتری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خواردوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوارترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میںبھری تھی روح لطافت ترے تکلم میںنوائے حق کی کشش تھی ترے ترنم میںیقیں کی شمع جلائی شب توہم میںدلوں کو حق سے ہم آہنگ کر دیا تو نےگلوں کو گوندھ کے یک رنگ کر دیا تو نےتری نوا نے دیا نور آدمیت کومٹا کے رکھ دیا حرص و ہوا کی ظلمت کودلوں سے دور کیا سیم و زر کی رغبت کوکہ پا لیا تھا ترے دل نے حق کی دولت کوہجوم ظلمت باطل میں حق پناہی کیفقیر ہو کے بھی دنیا میں بادشاہی کیتری نگاہ میں قرآن و دید کا عالمترا خیال تھا راز حیات کا محرمہر ایک گل پہ ٹپکتی تھی پیار کی شبنمکہ بس گیا تھا نظر میں بہشت کا موسمنفس نفس میں کلی رنگ و بو کی ڈھلتی تھینسیم تھی کہ فرشتوں کی سانس چلتی تھیتری شراب سے بابا فرید تھے سرشارترے خلوص سے بے خود تھے صوفیان کبارکہاں کہاں نہیں پہنچی ترے قدم کی بہارترے عمل نے سنوارے جہان کے کردارتری نگاہ نے صہبائے آگہی دے دیبشر کے ہاتھ میں قندیل زندگی دے دیترے پیام سے ایسی کی تھی مسیحائیترے سخن میں حبیب خدا کی رعنائیترے کلام میں گوتم کا نور دانائیترے ترانے میں مرلی کا لحن یکتائیہر ایک نور نظر آیا تیرے پیکر میںتمام نکہتیں سمٹی ہیں اک گل تر میںجہاں جہاں بھی گیا تو نے آگہی بانٹیاندھیری رات میں چاہت کی روشنی بانٹیعطا کیا دل بیدار زندگی بانٹیفساد و جنگ کی دنیا میں شانتی بانٹیبہار آئی کھلی پیار کی کلی ہر سوترے نفس سے نسیم سحر چلی ہر سورضائے حق کو نجات بشر کہا تو نےتعینات خودی کو ضرر کہا تو نےوفا نگر کو حقیقت نگر کہا تو نےظہور عشق کو سچی سحر کہا تو نےجہان عشق میں کچھ بیش و کم کا فرق نہ تھاتری نگاہ میں دیر و حرم کا فرق نہ تھابتایا تو نے کہ عرفاں سے آشنا ہوناکبھی نہ عاشق دنیائے بے وفا ہونابدی سے شام و سحر جنگ آزما ہوناخدا سے دور نہ اے بندۂ خدا ہونانشے میں دولت و زر کے نہ چور ہو جاناقریب آئے جو دنیا تو دور ہو جاناجو روح بن کے سما جائے ہر رگ و پے میںتو پھر نہ شہد میں لذت نہ ساغر مے میںوہی ہے ساز کے پردے میں لحن میں لے میںاسی کی ذات کی پرچھائیاں ہر اک شے میںنہ موج ہے نہ ستاروں کی آب ہے کوئیتجلیوں کے ادھر آفتاب ہے کوئیابد کا نور فراہم کیا سحر کے لئےدیا پیام بہاروں کا دشت و در کے لئےدیے جلا دئے تاریک رہ گزر کے لئےجیا بشر کے لئے جان دی بشر کے لیےدعا یہ ہے کہ رہے عشق حشر تک تیرازمیں پہ عام ہو یہ درد مشترک تیراخدا کرے کہ زمانہ سنے تری آوازہر اک جبیں کو میسر ہو تیرا عکس نیازجہاں میں عام ہو تیرے ہی پیار کا اندازخلوص دل سے ہو پوجا خلوص دل سے نمازترے پیام کی برکت سے نیک ہو جائیںیہ امتیاز مٹیں لوگ ایک ہو جائیں
جانتے تو ہو گے تماتنی تیز بارش میںرابطے نہیں رہتےنیٹ ورک نئیں ملتافون کی بھی لائنیں بارشوں کے پانی سےایسے ٹوٹ جاتی ہیںجس طرح محبت میںبے وفا کی باتوں سےدل ہی ٹوٹ جائے تورابطے نہیں رہتے
بھولنا تھا تو یہ اقرار کیا ہی کیوں تھابے وفا تو نے مجھے پیار کیا ہی کیوں تھاصرف دو چار سوالات کا موقع دے دے
میری محبوب یہ توہین محبت ہوگیبے وفا کہہ کے مرے پیار کو مجروح نہ کرتجھ کو شکوہ ہے شکایت ہے گلہ ہے مجھ سےمیری قسمت کی طرح تو بھی خفا ہے مجھ سےتیری ہر بات ہے تسلیممگر کہنے دےدور سرمایہ کیروندی ہوئی اک لاش ہمظلم کی آگ میںمعصوم محبت جھلسےاس سے بہتر ہے کہبیگانہ بنا لیں خود کولفظ در لفظحکایات میں کھو جائیں ہمکپکپاتے ہوئے ہونٹوں پہ تبسم رکھ لیںٹمٹماتی ہوئی آنکھوں میں تجلی بھر لیںعصر حاضر کاتقاضا بھی یہی ہے ہمدماپنی بے گانگی کواپنا مقدر سمجھیںتو مقدس ہےترے گرد تقدس کا حصارمیں کہاس عہد کااک شاعر آشفتہ مزاجمیرے حصے میںفقطنظم غزل اور اشعارمیں بہرحالترے شوق کا سامان نہیںمیری آنکھوں میں ہیں ٹوٹے ہوئےلفظوں کے نقوشمیرے ہونٹوں پہ ہیںبکھرے ہوئے ماضی کے حروفسچ تو یہ ہے کہ مرا تجھ سے کوئی میل نہیںعشق معراج مقدر ہے کوئی کھیل نہیں
اب کے بچھڑنا المناک ہوگاکئی گزرے سانحوں کی طرحآؤ تمہیں ایک نوحہ سنا دوںجو عشق کی حکایت ہےجو داستان بنے گیان بے وفا دہکتی گلیوں میں
بھول جاؤں گا کہ تم نے کبھی چاہا تھا مجھےبھول جاؤں گا کہ تم مجھ پہ فدا رہتے تھےتم تڑپ اٹھتے تھے ہلکی سی اداسی پہ مریمہرباں مجھ پہ سدا بن کے خدا رہتے تھےٹوٹ کر چاہنا سیکھا ہے تری آنکھوں سےبھول جانے کی ادائیں بھی سکھا دے مجھ کومیں محبت کا پجاری ہوں وفا کا شیدابے وفا کیسے بنوں یہ تو بتا دے مجھ کو
دم عمر رواں کا دائرہرکتا ہے اک لمحے پہ شاید ہر برسوہ میری پیدائش کی ساعت ہےتمہاری یا ہمارے ننھے بچوں کیہمارے رشتۂ انداراج میںیا شعلۂ گل سےمنور غیر رسمی اجنبی وابستگی کیجو رگ و پے میں مسلسل ہو گئیمیں روکتا ہوں بے وفا لمحے کوپیہم سینچتا ہوں خون سے اس کودریدہ انگلیوں سےکاٹ کر اس کو کھلاتا ہوں میں دل کا خوشۂ نازکمگر یہ طائر رعناپریشاں فاصلوں کے نور کا رسیازمینوں آسمانوں اور خلاؤںسے بھی شاید ماورا ہےمختصر سے جشن پر ہنستا ہواہر سرحد امکاں سے میری تیرگی سےدور جاتا ہےفلک کی روشنی کیوادیوں میںمنتظر ہےکوئی انجانا انوکھا خوب صورت اجنبی اس کا
مری جان ہو کہ مرا بدنترا جلوہ گاہ ہے اے وطنتری خاک ان کا خمیر ہےمرے خون میں یہ جھلک تریمری نبض میں یہ چپک تریمری سانس تری صفیر ہےتری خاک جگ کا خلاصہ ہےتیرا حسن ایک تماشا ہےتری پھیلی گود کہ باغ ہےتری خاک پاک ذلیل ہےتو غلامیوں کی دلیل ہےتری پود شرم کا داغ ہےتجھے ماسوا سے گرا دیاہمیں ماسوا نے مٹا دیاہوئے تفرقوں سے تمام ہمتجھے جب تلک کہ بھلا رکھاہمیں وقت نے بھی مٹا رکھابنے گھر میں اپنے غلام ہمترے خون ہیں یہ پھٹے پھٹےترے پوت ہیں یہ بٹے بٹےترے دل جگر ہیں یہ بے وفاترا کچھ لہو ہی سفید ہےکہ عجب طرح کا یہ بھید ہےنہیں بھائی بھائی سے آشنانہیں غیر کا ہمیں کچھ گلاکہ غلامیوں کا یہ پھل ملاہمیں تفرقہ کے جنون سےترے دودھ میں مری پیاری ماںنہیں درد کی کوئی بجلیاںکہ ملا دے خون کو خون سےہمیں بھائیوں سے غرور ہیںترے جہل و وہم میں چور ہیںکہ جو کام ہیں سو خطا کے ہیںکہیں ذات پات کی لاگ ہےکہیں دین دھرم کی آگ ہےکہیں بیر مفت خدا کے ہیںجنہیں پیت ہے انہیں جیت ہےیہی جگ میں جیت کی ریت ہےترے پوت اپنوں سے غیر ہیںہمیں غیریت یہ مٹانی ہےہمیں جیت آپ پہ پانی ہےاسی گھر کے غیر سے غیر ہیںترے پوت بھائی ہیں بھائی ہوںترے دل سے سب ہی فدائی رہوںکہ تو آپ اپنی مثال ہوترے زور کی یہی دھاک ہوکہ جہاں برائی سے پاک ہوترا علم حق کا کمال ہو
انوکھا اور نیا غم شرط ہے کوئیتمہارے خودکشی کرنے کیتو پھر بھول جاؤیہاں تو بس وہی غم ہیںپرانے غمکہ جن سے کام یہ دنیا چلاتی آ رہی ہےمگر تم ہو کہ ہنس دیتے ہو ان پراگر یہ غم تمہیں غم ہی نہیں لگتےکہ محبوبہ تمہاری بے وفا ہےکہ وہ بچہچھٹی جس کی منانا تھی تمہیں آجناک میں ہے آکسیجن ٹیوب اس کےتو پھر یہ گولیاں سلفاس کی بیکار میں تم جیب میں رکھے ہوئے ہوانہیں جا کر اسی کٹھیا میں رکھ آؤکہ جس میں کل ہی تم نے سال بھر کے واسطے گیہوں بھرا ہے
جس جگہ کی ہو بے وفا مٹیاس جگہ سے مری اٹھا مٹیایک دن خود بہ خود یہ ہونا ہےتو تو مٹی میں مت ملا مٹیجانے کس کس طرح ملے بچھڑےآگ پانی فلک ہوا مٹیرنگ اور نسل کی تمیز غلطآدمی اصل میں ہے کیا مٹیہم سدا جاں پہ کھیل جاتے ہیںہم کو دیتی ہے جب صدا مٹیسجدہ کرنے کو دل ترستا ہےلا وطن کی وطن سے لا مٹیکیسی مردہ پرست ہے دنیامر کے پاتی ہے مرتبہ مٹیسب پہ حق اس کا سب پہ قرض اس کاجانے کب کس کو لے بلا مٹیروتی ہنستی ہے چلتی پھرتی ہےکتنے رنگوں میں جا بجا مٹیروندتا ہے کمہار مٹی کواس کو روندے گی دیکھنا مٹیجس کو ہم نے عزیز تر جاناسب سے پہلے وہ دے گیا مٹیاپنے اندر چھپائے بیٹھی ہےساری دنیا کا فلسفہ مٹییہ کہیں پر ہے ڈھیر بے معنیاور کہیں پر ہے کیمیا مٹی
بظاہر یہ لگتا ہےاس ملگجی صبح کو سب سہاروں نے جیسےاچانک ترا ساتھ چھوڑاسحر نے زمیں پر قدم جب رکھاتو اچانک زمیں بے وفا ہو گئیابھرتا ہوا آفتابایک ہی ناگہاں لغزش پا سے یوں لڑکھڑایاکہ مغرب کے پاتال میں منہ کے بل جا سمایااچانک فرشتے کفن سائباں کی طرح تان کرآسمانوں سے اترےگلوں کی مہک کی جگہ دفعتاً بوئے کافور کی سرد مہری نے لے لیشجر کے بدن سے نئی کونپلوں کی بجائے خزاں پھوٹ نکلیبظاہر یہ لگتا ہےلیکن بھلا حادثہ ایک دم کب ہوا ہےبہت دن سے اس سر بمہر آتشیں راز کا گنگ فیتہخموشی سے جلتا چلا جا رہا تھافنا کے گرجتے ہوئے آبشاروں کے اوپر تنارسیوں کا یہ پلایک مدت سے گلتا جا رہا تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books