aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bos"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنازندگی تلخ سہی زہر سہی سم ہی سہیدرد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہیلیکن اس درد و غم و جبر کی وسعت کو تو دیکھظلم کی چھاؤں میں دم توڑتی خلقت کو تو دیکھاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑجلسہ گاہوں میں یہ دہشت زدہ سہمے انبوہرہ گزاروں پہ فلاکت زدہ لوگوں کے گروہبھوک اور پیاس سے پژمردہ سیہ فام زمیںتیرہ و تار مکاں مفلس و بیمار مکیںنوع انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضادامن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فسادہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلاب عظیمنت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیملہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماںاور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواںیہ فلک بوس ملیں دل کش و سیمیں بازاریہ غلاظت پہ جھپٹتے ہوئے بھوکے ناداردور ساحل پہ وہ شفاف مکانوں کی قطارسرسراتے ہوئے پردوں میں سمٹتے گل زاردر و دیوار پہ انوار کا سیلاب رواںجیسے اک شاعر مدہوش کے خوابوں کا جہاںیہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے کچھ سوچنے دےکون انساں کا خدا ہے مجھے کچھ سوچنے دےاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنامیری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
بربط دل کے تار ٹوٹ گئےہیں زمیں بوس راحتوں کے محلمٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل!بزم ہستی کے جام پھوٹ گئےچھن گیا کیف کوثر و تسنیمزحمت گریہ و بکا بے سودشکوۂ بخت نا رسا بے سودہو چکا ختم رحمتوں کا نزولبند ہے مدتوں سے باب قبولبے نیاز دعا ہے رب کریمبجھ گئی شمع آرزوئے جمیلیاد باقی ہے بے کسی کی دلیلانتظار فضول رہنے دےراز الفت نباہنے والےبار غم سے کراہنے والےکاوش بے حصول رہنے دے
جہاں پہاڑوں کے آسماں بوس سلسلے ہیںوہاں کبھی بحر موجزن تھےجہاں بیاباں میں ریت اڑتی ہےباد مسموم گونجتی ہےوہاں کبھی سبزہ زار و گلگشت کا سماں تھابلند و بالا حقیر و ہیچاس شکست و تعمیر کے تسلسل میں بہہ رہے ہیںشکست و تعمیر کے تسلسل میں تو ہے میں ہوں
رات کے ہاتھ نے کرنوں کا گلا گھونٹ دیاجیسے ہو جائے زمیں بوس شوالہ کوئییہ گھٹا ٹوپ اندھیرا یہ گھنا سناٹااب کوئی گیت ہے باقی نہ اجالا کوئی
بستر میں لیٹے لیٹےاس نے سوچا''میں موٹا ہوتا جاتا ہوںکل میں اپنے نیلے سوٹ کوآلٹر کرنےدرزی کے ہاں دے آؤں گانیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی!درزی کی دوکان سے لگ کرجو ہوٹل ہےاس ہوٹل کیمچھلی ٹیسٹی ہوتی ہےکل کھاؤں گالیکن مچھلی کی بو سالیہاتھوں میں بس جاتی ہےکل صابن بھی لانا ہےگھر آتےلیتا آؤں گااب کے ''یارڈلی'' لاؤں گاآفس میں کل کام بہت ہےباس اگر ناراض ہوا تودو دن کی چھٹی لے لوں گااور اگر موڈ ہوا توچھ کے شو میں''رام اور شیام'' بھی دیکھ آؤں گاپکچر اچھی ہے سالینو سے بارہکلب رمیدو دن سے لک اچھا ہےکل بھی ساٹھ روپے جیتا تھاآج بھی تیس روپے جیتا ہوںاور امید ہےکل بھی جیت کے آؤں گابس اب نیند آئے تو اچھاکل بھیجیت کےنیند آئے تواکا دکی نہلہ دہلہاینٹ کی بیگممچھلی کی بوتاش کے پتےجوکر جوکرسوٹ پہن کرموٹا تگڑا جوکر....اتنا بہت سا سوچ کے وہسویا تھا مگرپھر نہ اٹھا!!دوسرے دن جباس کا جنازہدرزی کی دوکان کے پاس سے گزرا توہوٹل سے مچھلی کی بودور دور تک آئی تھی!!!
بھٹکتی ہوئی وقت کی آتمائیںترے گھاٹ کے پتھروں کی زباں سےیگوں کی صداؤں کی صورت ابھر کرگھلی جا رہی ہے بجھے پانیوں میںتری سانس کی شاہراہوں پر پھوٹیوہی تنگ گلیاں، وہ گلیوں میں گلیاں!کہ جیسے رگوں کا بنے جال کوئیجہاں لاکھ بھٹکو، نہ کوئی سفر ہوسفر فاصلہ ہے، سفر مرحلہ ہےیہیں پر حیات اور یہیں پر فنا ہےاسی مرحلے سے ،اسی فاصلے سےاک امکان بن کر جو بہتا ہے پانیسبھی اپنی اپنی قدامت کے آثاردھیرے سے اس میں بہانے لگے ہیںسبھی اپنی فلک بوس تنہائیترے افق پر سجانے لگے ہیںکوئی راگ خاموش گانے لگے ہیںمقدس بیابان، جسموں کے مرکز!تری روح کے بے کراں ،سرد کونے میںصدیاں غلاظت کیے جا رہی ہیںبنارس تری سب مجرد ادائیںحسیں موت پا کر جیے جا رہی ہے!
بے باک نگاہوں کا فلک بوس اشارہسنگین چٹانوں سے گزرتا ہوا دھارا
اے ہند کے باشندو آؤ اجڑا گلزار سجا ڈالیںاب دور غلامی ختم ہوا اک تازہ جہاں کی بنا ڈالیںاب ہند کی اصلی عید ہوئی جو آزادی کی دید ہوئیپڑھ پڑھ کے نماز آزادی اب روٹھے ہوؤں کو منا ڈالیںکشتی بھی نئی دریا بھی نیا ساحل بھی نیا ملاح بھی نئےاب کر کے بھروسہ ہمت پر طوفان میں راہ بنا ڈالیںہیں رنج و خصومت اک روڑا راہ آزادی میں اب بھیہم رنج پرانے دور کریں بچھڑوں کو گلے سے لگا ڈالیںجو ملک تھا سونے کی چڑیا بندھن نے اسے پامال کیاغربت کو یہاں سے دور کریں پھر دودھ کی نہریں بنا ڈالیںپھر بوس سے یودھا پیدا ہوں جو ہند کی قسمت جاگ اٹھےاک بار زمانے پر سکہ پھر مادر ہند بٹھا ڈالیںاس بوڑھے ہمالہ پربت سے پھر نور کا چشمہ اہل اٹھےاس میل و محبت کے جل سے ہر باشی کو نہلا ڈالیںیہ ہند کی آزادی گویا کل مشرق کی آزادی ہےپھر مشرق مشرق بن جائے جو ظلم کے دور مٹا ڈالیںانورؔ کی دعا ہے اے مولا پھر ہند کی قسمت جاگ اٹھےبچھڑے آپس میں مل جائیں ہم روٹھے ہوئے کو منا ڈالیں
بولے کہ راز واز تو کچھ بھی نہیں ہے بسسنڈے کی شام پانچ بجے اذن آم ہے
پیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانجان فدا ہے اس پر اپنی دل اس پر قربانملک نہیں یہ ہے جنت کا دل کش ایک مکانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیارے پیارے دریا اس کے پیاری پیاری نہریںپیارے پیارے چشمے اس کے پیاری پیاری لہریںپیارے پیارے منظر پیاری پیاری اس کی شانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیاری کھیتی باڑی پیاری پیاری پیداوارپیاری پیاری آب و ہوا ہے پیاری اس کی بہاردل میں ہمارے رہتا ہے ہر وقت اسی کا دھیانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارا پیارا دن ہے اس کا پیاری پیاری راتپیارا شام و سحر کا جلوہ پیاری ہر اک باتپیارے پیارے نظاروں کی پیاری پیاری کانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارے پھل پیاری ترکاری پیارے اس کے پھولپیارے آم اور جامن اس کے پیارے نیم ببولپیارے غلے پیارے میوے پیارے پیارے دھانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیاری گرمی پیاری سردی پیاری ہر برساتپیاری ہر ہر بات ہے اس کی پیاری ہر ہر گھاتپیاری ہے ہر اک ادا پیارا ہر ایک نشانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستاناقبالؔ اور ٹیگورؔ سے شاعر پی سی رے سے فاضلوی سی رامن شاہ سلیماں جے سی بوس سے کاملگاندھیؔ اور جناحؔ سے لیڈر ذاکرؔ سے ودوانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانجوہرؔ انصاریؔ اجملؔ آزادؔ جواہر لالؔدادا بھائیؔ داسؔ تلکؔ گوکھیلؔ سے نیک خصال
کیا کہوں کوئی بھی شے اصل پہ قائم نہیں رہتیبات پیرائے کے صحرا میں نکل جائے تو گھر لوٹ نہ پائےاستعارے کی زباں چاٹنے آ جائے مرے عجز کی شوخی مرے جذبوں کی حرارت مرے لفظوں کی بصارتہر کنایہ مرے تپتے ہوئے جذبات تپاں راکھ کی جھلی کی طرح اوٹ میں لے لےصاف شفاف تپاں راکھ کی چادرہولے ہولے مرے جذبات کے سر تک سرک آئےمیرے مولا مرا فن بھی مری بے جان محبت کی طرح نم سے تہی ہےپھر بھی اے مالک عزتجانے کیوں میرے گل اندام مربی مجھے چھونے پہ رضامند نہیں ہیںجانے کیوں میرے گل اندام کو ڈر ہےراکھ کے ڈھیر میں شاید کوئی جذبہ ابھی زندہ ہو اور اس دستحنا رنگ کی پوریں نہ جھلس دےلفظ بھوبھل کی تہیں ہیںآتش جذب کہیں سرو فلک بوس کا دامن نہ جلا دے
السلام اے عظمت ہندوستاں کی یادگاراے شہنشاہ دیار دل فقیر بے دیار
زندگی راحت جاں درد دل زار بھی ہےبانجھ کھیتی بھی ہے اور کشت گہر بار بھی ہےزندگی ایک دھنکشوخ رنگوں سے بنیزندگی قرض بھی ہے فرض بھی ہےزندگی ایک سرابزندگی جام شرابزندگی حسن شبابزندگی بوئے گلابزندگی کیوں ہو عذابجس نے جس رنگ میں دیکھا یہ بنی ویسی ہیشاد ناشاد تو آباد ہیں برباد یہاںفقر ایک پھول بھی ہے دھول بھی ہےزندگی گہرا سمندر کوئیاس فلک بوس بلندی سے پرےلوگ جیتے ہیں کہ مرنا ہے انہیںذہن و ماحول کی تاریکی میںجس طرح ہوگا بہ ہر طور گزر کر لیں گےلوگ جینے سے بہت پہلے ہی مر جاتے ہیںاک تساہل کا بہانہ ہے یہ انداز ان کاآؤ ہم زیست سجائیں اپنیعظمت آدم و حوا نہ گھٹائیں ہرگزہم وفا کیش بنیںخدمت قوم و وطن اپنا سلیقہ بن جائےحسن کے پھول بکھیریں خوشبوپیار کے نور سے روشن ہوں فضائیں ساریدل میں نفرت نہ رہےدرد مٹ جائیں ملے صبر و قرارروشنی پائے حیاترات کی ظلمتیں مٹ جائیں کہیں کھو جائیںخوگر رنج بنیں وارث اورنگ نشاطسر خوشی پائے حیاتجینا جب تک ہے سلیقہ سے جئیںموت آئے تو قرینے سے مریںحسن تدبیر سے گلشن میں گہر باری ہوکام کچھ ایسے کریںزیست جاوید بنے
دنیا کی نگاہیں بھی پابوس قیادت ہیںاس بنت جواہر کی اللہ رے مسیحائی
جو مزہ چاہت میں ہےحاصل میں اس کو ڈھونڈھنا بے کار ہےہو کہاں تم کس جہاں میںکیوں مجھے معلوم ہو؟دھند میں ہو خواب میںیا آسماں کی قوس میںیا موج کی گردش میں ہوتم ہاتھ کی ریکھا کے اندر ہو کہیںیا دور سناٹوں کے ٹکراؤ سے پیداان سنی آواز کی ریزش میں ہوچاہے کہیں بھی ہومری چاہت کے پھیلے بازوؤں کےحلقۂ موہوم میں موجود ہو!لمس میں حدت بہت ہےاور ستاروں کی چبھن کا بھی مجھے احساس ہےبند مٹھی میں دبے موتیکی لذت سے بھی ہوں میں آشناپر بیاں کیسے کروںوہ لطف جو چاہت کی پھیلی باس کیمدہوش کن ٹھنڈک میں ہےچاہت کے ہر دمپھیلتے آفاق کی لرزش میں ہے!!
اے وطن کے سجیلے جوانومیرے نغمے تمہارے لیے ہیںسرفروشی ہے ایماں تمہاراجرأتوں کے پرستار تم ہوجو حفاظت کرے سرحدوں کیوہ فلک بوس دیوار تم ہواے شجاعت کے زندہ نشانومیرے نغمے تمہارے لیے ہیںبیویوں ماؤں بہنوں کی نظریںتم کو دیکھیں تو یوں جگمگائیںجیسے خاموشیوں کی زباں سےدے رہی ہوں وہ تم کو دعائیںقوم کے اے جری پاسبانومیرے نغمے تمہارے لیے ہیںتم پہ جو کچھ لکھا شاعروں نےان میں شامل ہے آواز میریاڑ کے پہنچو گے تم جس افق پرساتھ جائے گی آواز میریچاند تاروں کے اے راز دانومیرے نغمے تمہارے لیے ہیں
۲زمیں کا زمانہ ہے یہہم زمیں بوس ہوئےسبز رنگوں کے سرابنیلگوں سطح آبہم فلک بوس ہوئےاور یہ بھول گئےتھے کبھی اپنے بدن پر تیرے قدموں کے نشاںسبز پتوں کے سوااور بھی رنگ تھے رنگوں سے سواکون سا کیف تھا ان چیزوں میںجن کی تم روح تھے ہم پیکر تھےنور ہو سایہ ہو کہ تاریکی ہولاکھ میں جسم سے اور روح سے آراستہ پیراستہ ہو کر اٹھوںبن بھی جائے یہ زمیںمیری کرشمہ گہ آلات گریتو مگر اور ہی کچھ چیز ہےتو نہ نوری ہے نہ ناری ہے نہ خاک آبیتو نہ شمسی ہے نہ ارضی ہے نہ ہے مہتابیتو نہ مریخ سے زہرہ سے نہ سرطان سے ہےتیرے قدموں کے نشاں اور کہیں دیکھے تھےجسم قد شکل یہ اطوار یہ تیور تیرےتیری بو باس لباس پھول یہ زیور تیرےخامشی تیری یہ آواز یہ چلنا تیرا آنا جانایہ ستاروں کا غبارسلسلہ ہے یہ اداؤں کاکہ ہے جسم کے پردوں پہ تیری روح کے نغموں کا خماراک نئی شان کا ہر روز نکھاراور پھر سوچتا ہوںتو تو کچھ اور ہے ان چیزوں کا مجموعہ نہیںتو تو کچھ اور ہے ان سے بھی سواان کے ہونے کا نہ ہونے کا بھی پابند نہیں تیرا وجودتیرے قدموں کے نشاں اور کہیں دیکھے تھےتیرے قدموں سے تو ہے آج بھی شاداب مرا سارا وجودیاد رکھنے کی یہی بات تھی ابن آدمتم نے جب چاند پہ رکھا تھا قدمتم کسی اور ستارے سے یہاں آئے تھے
یہ بر اعظم کی ساری بلائیںسنا ہے کہ اب منتشر ہو رہی ہیںفلک بوس تہذیب کے کیکٹس جھونپڑوں کی روایات کو ڈس رہے ہیںمگرکم نہیں یہ کہ اپنی زمیں اور اپنی فضا میںسیہ پیکروں کی دو دھاری انا اور آہن ارادوں نےاپنے لیے اب نئے تیوروں کے اجالے تراشےاندھیری زمینوں سے میرے نکالےخط استوا کے گھنے جنگلوں کی عمل داریوں میں ہیں دیپک جلائےقبیلوں کی ہر باہمی جنگ کو شاخ زیتون کے زمزمے ہیں سنائےدہکتے ہوئے ریگ زاروں کے نیچےسیہ زر کے چشموں کو مہمیز دی ہےیہ تحریک یہ انقلاب سارےنیلسن منڈیلاتمہاری رگوں میں نیا خوں شب و روز پہنچا رہے ہیںتمہاری ہتھیلی کو سورج میں تبدیل کرنے لگے ہیںتمہاری نظر میں بھرے منظروں کی دھنک بو رہے ہیںسلاخوں کے پیچھے اکیلے نہیں تمسیہ بر اعظم تمہاری جلو میںنہیںساری دنیا تمہاری جلو میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books