aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bune"
تمہاری جو حماسہ ہے بھلا اس کا تو کیا کہناہے شاید مجھ کو ساری عمر اس کے سحر میں رہنامگر میرے غریب اجداد نے بھی کچھ کیا ہوگابہت ٹچا سہی ان کا بھی کوئی ماجرا ہوگایہ ہم جو ہیں ہماری بھی تو ہوگی کوئی نوٹنکیہمارا خون بھی سچ مچ کا صحنے پر بہا ہوگاہے آخر زندگی خون از بن ناخن بر آور ترقیامت سانحہ مطلب قیامت فاجعہ پرور
درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نےہر رگ جاں سے الجھنا چاہاہر بن مو سے ٹپکنا چاہااور کہیں دور ترے صحن میں گویاپتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کرحسن مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگامیرے ویرانۂ تن میں گویاسارے دکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کرسلسلہ وار پتا دینے لگیںرخصت قافلۂ شوق کی تیاری کااور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیںایک پل آخری لمحہ تری دل داری کادرد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہاہم نے چاہا بھی مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا
مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہےاکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتےجب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہواپھر سے باندھ کےاور سرا کوئی جوڑ کے اس میںآگے بننے لگتے ہوتیرے اس تانے میں لیکناک بھی گانٹھ گرہ بنتر کیدیکھ نہیں سکتا ہے کوئی
کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھےآج بھی میرے درد کا درماں کوئی نہیںمیں اس دھرتی کا ادنیٰ سا باسی ہوںسچ پوچھو تو مجھ سا پریشاں کوئی نہیںکیسے کیسے خواب بنے تھے آنکھوں نےآج بھی ان خوابوں سا ارزاں کوئی نہیںکل بھی میرے زخم بھنائے جاتے تھےآج بھی میرے ہاتھ میں داماں کوئی نہیںکل میرا نیلام کیا تھا غیروں نےآج تو میرے اپنے بیچے دیتے ہیںسچ پوچھو تو میری خطا بس اتنی ہےمیں اس دھرتی کا ادنیٰ سا باسی ہوں
ساتھیو! میں نے برسوں تمہارے لیےچاند تاروں بہاروں کے سپنے بنےحسن اور عشق کے گیت گاتا رہاآرزوؤں کے ایواں سجاتا رہامیں تمہارا مغنی تمہارے لیےجب بھی آیا نئے گیت لاتا رہاآج لیکن مرے دامن چاک میںگرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیںمیرے بربط کے سینے میں نغموں کا دم گھٹ گیاتانیں چیخوں کے انبار میں دب گئی ہیںاور گیتوں کے سر ہچکیاں بن گئے ہیںمیں تمہارا مغنی ہوں نغمہ نہیں ہوںاور نغمے کی تخلیق کا ساز و ساماںساتھیو! آج تم نے بھسم کر دیا ہےاور میں اپنا ٹوٹا ہوا ساز تھامےسرد لاشوں کے انبار کو تک رہا ہوںمیرے چاروں طرف موت کی وحشتیں ناچتی ہیںاور انساں کی حیوانیت جاگ اٹھی ہےبربریت کے خوں خار عفریتاپنے ناپاک جبڑوں کو کھولےخون پی پی کے غرا رہے ہیں
پھر ترے کانپتے ہونٹوں کی فسوں کار ہنسیجال بننے لگی بنتی رہی بنتی ہی رہیمیں کھنچا تجھ سے مگر تو مری راہوں کے لیےپھول چنتی رہی چنتی رہی چنتی ہی رہی
تہ نجوم، کہیں چاندنی کے دامن میںہجوم شوق سے اک دل ہے بے قرار ابھیخمار خواب سے لبریز احمریں آنکھیںسفید رخ پہ پریشان عنبریں آنکھیںچھلک رہی ہے جوانی ہر اک بن مو سےرواں ہو برگ گل تر سے جیسے سیل شمیمضیائے مہ میں دمکتا ہے رنگ پیراہنادائے عجز سے آنچل اڑا رہی ہے نسیمدراز قد کی لچک سے گداز پیدا ہےادائے ناز سے رنگ نیاز پیدا ہےاداس آنکھوں میں خاموش التجائیں ہیںدل حزیں میں کئی جاں بلب دعائیں ہیںتہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میںکسی کا حسن ہے مصروف انتظار ابھیکہیں خیال کے آباد کردہ گلشن میںہے ایک گل کہ ہے نا واقف بہار ابھی
بنام اذن تکلم بنام جبر سکوتکسی نے ہونٹ چبائے کسی نے گیت بنے
کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتارات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میںتو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میںصبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھولمیرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملولتو مجھے ڈھونڈھتی کس شوق سے گھبراہٹ میںاپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میںجوں ہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھےملتا اس گوش کا پھر گوشۂ مانوس مجھےکان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتیتو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتییوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوشعمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوشکاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا
ہر نقش قدم پر ہے فدا تاج کیانیہر گام میں ہے چشمۂ کوثر کی روانیہر ایک بن مو سے ابلتی ہے جوانیاٹھتی ہے مسامات سے یوں بھاپ سی دھانیگویا کوئی مہکی ہوئی چادر سی تنی ہےکیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے
چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیبام سونا ہے، کہاں ڈھونڈیں کسی کا چہرا(لوگ سمجھیں گے کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی)شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپلکون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیںدور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادلچاند تنہا ہے (اگر اس کی بلائیں لے لیں؟)دوستو جی کا عجب حال ہے، لینا بڑھناچاندنی رات ہے کاتک کا مہینہ ہوگامیر مغفور کے اشعار نہ پیہم پڑھناجینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگاچاند ٹھٹھکا ہے سر شاخ صنوبر کب سےکون سا چاند ہے کس رت کی ہیں راتیں لوگودھند اڑنے لگی بننے لگی کیا کیا چہرےاچھی لگتی ہیں دوانوں کی سی باتیں لوگوبھیگتی رات میں دبکا ہوا جھینگر بولاکسمساتی کسی جھاڑی میں سے خوشبو لپکیکوئی کاکل کوئی دامن، کوئی آنچل ہوگاایک دنیا تھی مگر ہم سے سمیٹی نہ گئی
ہر جگہ پھر سینۂ نخچیر میںاک نیا ارماں نئی امید پیدا ہو چلیحجلۂ سیمیں سے تو بھی پیلۂ ریشم نکلوہ حسیں اور دور افتادہ فرنگی عورتیںتو نے جن کے حسن روز افزوں کی زینت کے لئےسالہا بے دست و پا ہو کر بنے ہیں تار ہائے سیم و زران کے مردوں کے لئے بھی آج اک سنگین جالہو سکے تو اپنے پیکر سے نکالشکر ہے دنبالۂ زنجیر میںاک نئی جنبش نئی لرزش ہویدا ہو چلیکوہساروں ریگ زاروں سے صدا آنے لگیظلم پروردہ غلامو بھاگ جاؤپردۂ شبگیر میں اپنے سلاسل توڑ کرچار سو چھائے ہوئے ظلمات کو اب چیر جاؤاور اس ہنگام باد آور کوحیلۂ شب خوں بناؤ
دیر و کعبہ میں جلائے مری وحشت نے چراغمیری محراب تمنا میں اندھیرا ہی رہارخ تاریخ پہ ہے میرے لہو کا غازہپھر بھی حالات کی آنکھوں میں کھٹکتا ہی رہامیں نے کھینچی ہے یہ مے میں نے ہی ڈھالے ہیں یہ جامپر ازل سے جو میں پیاسا تھا تو پیاسا ہی رہایہ حسیں اطلس و کم خواب بنے ہیں میں نےمیرے حصہ میں مگر دور کا جلوہ ہی رہا
اب گاڑھا پسینہ بننے والےاوڑھے پھریں گے شال دو شالےمفت نہ جھولیں جھولیں گیپھولے ہوئے گال اب پچکیں گےپچکی ہوئی توندیں پھولیں گیسب عقلیں چوکڑی بھولیں گیاب خوب ہنسے گا دیوانہ
پھر وہی ماحول وہی شور شرابہوہی کچھ نئے پرانے چہروں کا بول بالاپھر سے سج گئی تبدیلیوں کی منڈیاںپر اصل میں کچھ نہیں بدلنے والاپھر چیختے پھر رہے بد حواس چہرہپھر رچے جانیں لگیں ہیں سڈینتر گہرےپھر سے گونجنے لگیں ہیں فضاؤں میں نعرےپچھلگو بن گئے ہیں کچھ بھوک کے مارےپھر سے یہ بتائی جانے لگی بدلاؤ کی باتیںپھر سے کرسی قبضانے کو ہونے لگیں ہیں گھاتیںپھر سے آ گیا ہے چناؤ کا موسم پانچ سالہپر اصل میں کچھ نہیں بدلنے والاکچھ آ جائیں گے چہرہ نئے پرانےبن کے رہنما لگ جائیں گے دیش کو کھانےپھر شروع ہوگا عام آدمی کی تقدیر سے کھیلپھر بھیجا جائے گا کچھ ہارے ہوؤں کو جیلپھر سے نیایے کا ڈھونگ رچایا جائے گاآدمی کو روٹی کے وعدے سے بہلایا جائے گاپھر سے ہوگا لوٹ کھسوٹ کا ننگا ناچپھر جھوٹھ کو بتایا جائے گا سانچمجھے جلائے گی میرے اندر کی آنچاور ٹوٹتے سپنے چبھیں گے بن کے کانچپھر سے زندگی بننے لگے گی مکڑ جالامیں جانتا ہوں کہ کچھ نہیں بدلنے والا
برف بستر بنی ہمارے لیےاور دوزخ کے سرخ ریشم سےہم نے اپنے لیے لحاف بنے
یہ کھڑکیمیری دوست میری رفیقمیری رازدارمیرے دل کی سب دھڑکنوں کی امیںمسرت کے لمحاتاور بے کراں غم کے سائےسب اترے میری زندگی میںمیری سرد تنہائیوں میںاسی کے سہارےیہیں میں نے سر رکھ کر اکثر بنےان گنت خوابادھورےمکملحسینمرتب کئے خاکے مستقبل نارسا کےیہیں سے کبھی مڑ کے دیکھاکہ ماضی اندھیروں میں لپٹا ہوا ہےمگر چند باریک کرنیں بھیدامن میں انگڑائیاں لے رہی ہیںگھٹا ٹوپ راتوں میں برسات کیاڑیں جیسے آوارہ جگنویہیں میں نے جاناکہ اتنی ہی پیاری ہیں ماضی کی تاریکیاںجتنی پیاری ہے مستقبل نارسا کی چمک
وقت کے دریا میں اٹھی تھی ابھی پہلی ہی لہرچند انسانوں نے لی اک وادیٔ پنہاں کی راہمل گئی ان کو وہاںآغوش راحت میں پناہکر لیا تعمیر اک موسیقی و عشرت کا شہرمشرق و مغرب کے پارزندگی اور موت کی فرسودہ شہ راہوں سے دورجس جگہ سے آسماں کا قافلہ لیتا ہے نورجس جگہ ہر صبح کو ملتا ہے ایمائے ظہوراور بنے جاتے ہیں راتوں کے لیے خواب کے جالسیکھتی ہے جس جگہ پرواز حوراور فرشتوں کو جہاں ملتا ہے آہنگ سرورغم نصیب اہریمنوں کو گریہ آہ و فغاں
بھٹکتی ہوئی وقت کی آتمائیںترے گھاٹ کے پتھروں کی زباں سےیگوں کی صداؤں کی صورت ابھر کرگھلی جا رہی ہے بجھے پانیوں میںتری سانس کی شاہراہوں پر پھوٹیوہی تنگ گلیاں، وہ گلیوں میں گلیاں!کہ جیسے رگوں کا بنے جال کوئیجہاں لاکھ بھٹکو، نہ کوئی سفر ہوسفر فاصلہ ہے، سفر مرحلہ ہےیہیں پر حیات اور یہیں پر فنا ہےاسی مرحلے سے ،اسی فاصلے سےاک امکان بن کر جو بہتا ہے پانیسبھی اپنی اپنی قدامت کے آثاردھیرے سے اس میں بہانے لگے ہیںسبھی اپنی فلک بوس تنہائیترے افق پر سجانے لگے ہیںکوئی راگ خاموش گانے لگے ہیںمقدس بیابان، جسموں کے مرکز!تری روح کے بے کراں ،سرد کونے میںصدیاں غلاظت کیے جا رہی ہیںبنارس تری سب مجرد ادائیںحسیں موت پا کر جیے جا رہی ہے!
اس کی ہنسی مجھے چبھ رہی تھیانگلیاں وہ مجھے دکھی رہی تھیمیں دیکھ نہیں سکتی تھیپر ان دیکھی کیسے کرتیمیں نے خواب بنے تھےکچھ لمحہ چنے تھےان کے ساتھ بتانے کوانہیں اپنا بنانے کوکیونکہیہ وہ راج کمار تھاجو مجھے پانے کو بے قرار تھامجھ سے پیار بہت کرتا تھامجھے کھونے سے بھی ڈرتا تھااس لئے تومیری عزت کو تار تار کیامجھے توڑ دیا مجھے مار دیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books