aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "but-e-bedard"
اغیار ہوں کہیں بت شوریدہ سر کہیںسب کچھ ہو آہ میں تو ہو اپنی اثر کہیں
چشم کرم ہے تجھ سے بت تیغ زن مجھےروٹھی ہوئی نگاہ نہیں دل شکن مجھے
تیری چٹکی کی صدا ہے یا کہ شیطاں کا خروشرحم کر انسانیت پر او بت عصمت فروش
ایسے ایسے گل کھلائے اس بت گلفام نےمرغ کو الو بنا دیتی تھی میرے سامنے
تھا حور کا ٹکڑا بت طناز کا مکھڑااک شمع تھی فانوس میں جو نور فشاں تھی
اے صنم خانۂ ماضی کے بت پر اعجازلا مرے لہجے کی لکنت مجھے واپس کر دےلا مرا صیغۂ الفت مجھے واپس کر دےلا مری اولیں چاہت مجھے واپس کر دےلا مری ساری محبت مجھے واپس کر دے
سر سے ڈھلکا ہوا آنچل شکن آلود لباسچھڑی آنکھوں میں مچلتی ہوئی نیندوں کی جھلکسو گئی تھی ذرا خود سب کو سلاتے شایدنیند کچی تھی کہ دی وعدے نے دل پر دستکچونک کر اٹھی تو دیکھا کہ ستارے بن کراوج افلاک پہ ہے مانگ کی افشاں کی دمکشیشۂ مہ سے چھلک کر مئے تند و بے درداس کے ماتھے سے چرا لیتی ہے سونے کی ڈلکچوڑیاں ہاتھوں میں تھامے چلی ہولے ہولےکر دے غمازی مبادا کہیں چھاگل کی چھنکسرخی ٹیکے کی جبیں پر ذرا پھیلی پھیلیجس طرح جام سے کچھ تھوڑی سی مے جائے چھلک''زلفیں یوں چہرے پہ بکھری ہوئی مانگیں تھیں دلجس طرح ایک کھلونے پہ مٹیں دو بالک''جس طرح غم خانے پہ پہنچی تو کچھ آیا جو خیالچوڑیاں چھوڑ دیں چھاگل بھی ہنسی چھانا چھنک
کوئی بتائے کہاں شہر آرزو ہوگاکہ جس مقام پہ دامن کے چاک سلتے ہیںنئی حیات نئی صبح و شام ملتے ہیںاداس اداس ہیں راتیں اداس اداس ہیں دنکٹے گی راہ کوئی داستاں سناتے چلوحکایت بت لالہ و شاں سناتے چلوکسی کی زود پشیماں نگاہیوں کا طلسمکسی خراب نگاہ کرم کا ذکر کرووفائے وعدہ و قول و قسم کا ذکر کروہر ایک آبلہ پا اور سر جنوں پیشہدلوں کے کعبے میں پتھر سجائے پھرتا ہےافق افق پہ نگاہیں جمائے پھرتا ہےاداس ہم سفرو سوئے دل بھی ایک نظراچھل رہا ہے بڑی دیر سے لہو اپنایہیں کہیں نہ ملے شہر آرزو اپنا
کہاں تک اپنے بوسیدہ بدن محفوظ رکھیں گےکسی کے ناخنوں ہی کا مقدر جاگ لینے دوکہاں تک سانس کی ڈوری سے رشتے جھوٹ کے باندھیںکسی کے پنجۂ بے درد ہی سے ٹوٹ جانے دوپھر اس کے بعد تو بس اک سکوت مستقل ہوگانہ کوئی سرخ رو ہوگا، نہ کوئی منفعل ہوگا
کہوں تو کس سے کہوں اے مرے بت معصوممتاع قلب و نظر ہار کر ہوا معلومفریب تھیں تری بانہیں سراب تھے ترے ہونٹ
برق بن کر بت ماضی کو گرانے دے مجھےرسم کہنہ کو تہ خاک ملانے دے مجھےتفرقے مذہب و ملت کے مٹانے دے مجھےخواب فردا کو بس اب حال بنانے دے مجھے
دیار غیر میں صبح وطن کی یاد آئینسیم آبلہ پا کو چمن کی یاد آئیجراحتوں نے کیا اہتمام لالہ و گلبہار رفتہ کو سرو و سمن کی یاد آئیگزر رہے تھے شب و روز کنج عزلت میںکہ شمع بن کے تری انجمن کی یاد آئیبجھی ہوئی تھی بہت دن سے آرزوئے سخنیہ آج کس بت شیریں دہن کی یاد آئی
تم کو آخر میرے ان کے درمیاں آنے سے کیامحسن من وہ سمجھ جائیں گے سمجھانے سے کیاحسن میں خود اعتمادی عشق میں بے رہ رویوہ اثر میں لے مرے ناراض ہو جانے سے کیاآپ اپنے رنگ میں ہیں میں ہوں اپنے رنگ میںآپ کو اے بندہ پرور میرے افسانے سے کیادل کو بہلانے کی کوشش اور ان سے دور دوردل بہل بھی جائے گا اس طرح بہلانے سے کیااشتعال آمیز باتوں سے اگر ضد پڑ گئیایسے سمجھانے سے حاصل ایسے سمجھانے سے کیامجھ کو تو یہ بے نیازی بے رخی سب کچھ قبولآپ کو راحت ملے گی میرے تڑپانے سے کیاان کا ملنا بھی غلط ترک تعلق بھی محالیہ حیات کشمکش بھی کم ہے مر جانے سے کیاپہلے ہی بچنا تھا نخشبؔ اس بت بے مہر سےاب بھلا مرد خدا ہوتا ہے پچھتانے سے کیا
سبزہ و برگ و لالہ و سرو و سمن کو کیا ہواسارا چمن اداس ہے ہائے چمن کو کیا ہوااک سکوت ہر طرف ہوش ربا و ہولناکخلد وطن کے پاسباں خلد وطن کو کیا ہوارقص طرب کدھر گیا نغمہ طراز کیا ہوئےغمزہ و ناز کیا ہوئے عشوہ و فن کو کیا ہواجس کی نوائے دلستاں زخمۂ ساز شوق تھیکوئی بتاؤ اس بت غنچہ دہن کو کیا ہواچشمک دم بدم نہیں مشق خرام و رم نہیںمیرے غزال کیا ہوئے میرے ختن کو کیا ہواچھائی ہے کیوں فسردگی عالم حسن و عشق پرآج وہ ''نل'' کدھر گئے آج ''دمن'' کو کیا ہواآنکھوں میں خوف و یاس ہے چہرہ اداس اداس ہےعصر رواں کی لیلیٰ برقعہ فگن کو کیا ہواآہ خرد کدھر گئی آہ جنوں نے کیا کیاآہ شباب خوگر دار و رسن کو کیا ہواکوئی بتائے عظمت خاک وطن کہاں ہے ابکوئی بتائے غیرت اہل وطن کو کیا ہواکوہ وہی دمن وہی دشت وہی چمن وہیپھر یہ مجازؔ جذبۂ حب وطن کو کیا ہوا
ہزار رنگ مرے مو قلم میں تھے جن سےبنا بنا کے بت آرزو کی تصویریںسیاہ پردۂ شب پر بکھیر دیں میں نےرواں تھے میرے رگ و پے میں ان گنت نغمےوہ دکھ کے گیت جو لب آشنا نہیں اب تکمیں تیرہ بخت تھا اس تیرگی کے دامن میںسکوں نصیب تھا ناکام آرزوؤں کومیں اپنے خوابوں سے تاریک رات سے خوش تھا
جانے کیا سچ ہے یہاںکہکشاؤں کا یہ جادو کہ گزر گاہ خیالکوئی تاراکہ دریچے میں چمکتا ہوا چاندیا مرے سرخ پپوٹوں پہ رکھے خواب کی وحشت کا غباریا کسی جسم کو چھو لینے کی خواہش میں بھٹکتی ہوئی آنکھیا رگ و پے میں سلگتی ہوئی لذت کا خمارکوئی انکار کہ اقرارجانے کیا سچ ہے یہاںشام افسوس کا ڈوبا ہوا سورج یا کوئی صبح وصالکہکشاؤں کا یہ جادو کہ گزر گاہ خیالکوئی پیغام محبت یہ سیاست یا کسی حلقۂ زنجیر میں جسمراہ میں جھکتے ہوئے سر یا کسی شاہ کے مغرور قدمیا کسی موج میں آئے ہوئے مجذوب کا روندا ہوا تاجلڑکھڑاتے ہوئے پلڑوں میں یہ انصاف کی بھیکیہ مورخ کی لہو چاٹتی مٹی کا بیاںجانے کیا سچ ہے یہاںاپنے ہونے کی حقیقت یا کسی قبر میں گاڑے ہوئے کتبے کی دراڑیہ خدا یا کسی درگاہ پہ رکھے ہوئے آنسو کی تپشمیرا ایماں کہ صنم خانہ تنہائی میںاس بت کافر کی کششاپنے مرنے کی تمنا ہے کہ جینے کی خلش
خود کو بہلانا تھا آخر خود کو بہلاتا رہامیں بہ ایں سوز دروں ہنستا رہا گاتا رہامجھ کو احساس فریب رنگ و بو ہوتا رہامیں مگر پھر بھی فریب رنگ و بو کھاتا رہامیری دنیائے وفا میں کیا سے کیا ہونے لگااک دریچہ بند مجھ پر ایک وا ہونے لگااک نگار ناز کی پھرنے لگیں آنکھیں مجازؔاک بت کافر کا دل درد آشنا ہونے لگاعین ہنگام طرب روح طرب تھرا گئیدفعتاً دل کے افق پر اک گھٹا سی چھا گئیایک آغوش تمنا کا تقاضا دیکھ کرایک دل کی سرد مہری بھی مجھے یاد آ گئیمجرم سرتابی حسن جواں ہو جائیےگل فشانی تا کجا شعلہ فشاں ہو جائیےکھائیے گا اک نگاہ لطف کا کب تک فریبکوئی افسانہ بنا کر بد گماں ہو جائیے
سجتی تھی کبھی تن پہ جو تھی عید کی اچکنسجتے تھے کبھی ہم، تو کبھی عید کی اچکنسو سو طرح پروان چڑھی عید کی اچکناب اتنے گھٹے ہم کہ بڑھی عید کی اچکناچکن نہیں اس وقت عبا اور قبا ہےیا کوئی دوشالہ ہے جو کھونٹی پہ ٹنگا ہےاس عید کی اچکن نے مچائی تھی بڑی دھومجب اس کو پہنتے تو چمک اٹھتا تھا مقسومجاتے جو کہیں دور سے ہو جاتا تھا معلومہم اس میں نظر آتے تھے جیسے کہ ہوں معصوماس عید کی اچکن میں بڑے لعل جڑے تھےعیدی بھی ہمیں دیتے تھے جو ہم سے بڑے تھےاس عہد میں یہ عید کی اچکن تھی بنائیجس عہد میں ہم کھاتے تھے بابا کی کمائیدیتے نہ تھے افلاس کی اس وقت دہائیمل جاتی تھی جس شے کی ضرورت نظر آئیہر بات پہ جب روٹھ کے ہنسنے کا مزہ تھاتب عید کی اچکن کے پہننے کا مزہ تھااس عید کی اچکن کو پہن لیتے تھے جب ہمآتی تھی نظر ہیچ ہمیں سلطنت جمجس نے مجھے دیکھا وہ یہی کہتا تھا ہر دم''جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم''''میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا''میں بھی غم دنیا کا شناور نہ ہوا تھااس عید کی اچکن نے گلے ان سے ملایاگھبراتا تھا پاس آنے سے جن لوگوں کا سایہکس کس کے نہ جانے بت پندار کو ڈھایاجب عید کا دن آیا تو پھر دل کو سجایااچکن نہیں ماضی کا سنہرا سا ورق ہےہم بدلے پر اچکن نہیں بدلی یہ قلق ہےاے جعفریؔ اچکن کو نہ لٹکا مرے آگے''جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے''وہ دھوپ ڈھلی رہ گیا سایا مرے آگےاب قصۂ ماضی کو نہ دہرا مرے آگےکام آئی یہ اچکن نہ غریب الوطنی میں''ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں''
اس لمس کا کوئی نام تو ہو جو تجھ کو سوچ کے جگتا ہےجو تیرے ذکر کے آتے ہی رگ رگ میں دوڑنے لگتا ہےکیوں تیرے نام کو سنتے ہی مری سانس مہکنے لگتی ہےاحساس نشے میں ہوتا ہے ہر فکر بہکنے لگتی ہےاک نادیدہ احساس مری پوروں میں گھلنے لگتا ہےاک بند دریچہ حسرت کا خوابوں میں کھلنے لگتا ہےجب چاند نکل کر بادل سے آنکھوں میں سپنا بوتا ہےاک خواہش کی تنہائی سے بیدار جنوں جب ہوتا ہےجب دشت طلب میں پیاس مری آنکھوں کو نگلنے لگتی ہےجب آس امید کی دنیا میں اک شام سی ڈھلنے لگتی ہےجس وقت غموں کی وحشت کا اک سایہ مجھ پر جھکتا ہےاس وقت ترا احساس مرے پہلو میں آ کر رکتا ہےاور اس احساس کے چھوتے ہی میں تابندہ ہو جاتی ہوںمری سانسیں چلنے لگتی ہیں پھر سے زندہ ہو جاتی ہوں
مطرب خوشنوا زندگی کے حسین گیت گاتا رہااس کی آواز پر انجمن جھوم اٹھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books