aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chaahte"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
قلندران وفا کی اساس تو دیکھوتمہارے ساتھ ہے کون آس پاس تو دیکھوسو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہوتو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دووگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کابس ایک تم ہو سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہیظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میںقاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہےہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہوکہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہےاس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہیظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قومظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہےپھلتی نہیں ہے شاخ ستم اس زمین پرتاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہےکچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہییہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہےیہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطےجو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کووہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطےپھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
ظالمجشن ہے ماتم امید کا آؤ لوگومرگ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگوعدم آباد کو آباد کیا ہے میں نےتم کو دن رات سے آزاد کیا ہے میں نےجلوۂ صبح سے کیا مانگتے ہوبستر خواب سے کیا چاہتے ہوساری آنکھوں کو تہ تیغ کیا ہے میں نےسارے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نےاب نہ لہکے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حنافصل گل آئے گی نمرود کے انگار لیےاب نہ برسات میں برسے گی گہر کی برکھاابر آئے گا خس و خار کے انبار لیےمیرا مسلک بھی نیا راہ طریقت بھی نئیمیرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئیاب فقیہان حرم دست صنم چومیں گےسرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گےفرش پر آج در صدق و صفا بند ہواعرش پر آج ہر اک باب دعا بند ہوا
میں ان سے پوچھتا ہوں:پل کیسے بنایا جاتا ہےپل بنانے والے کہتے ہیں:تم نے کبھی محبت نہیں کیمیں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہےوہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہوتو پہلے دریا سے ملو۔۔۔روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیںدریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہےیہ سپردگی ہےیہ سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت۔۔۔لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہےمیں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہے؟وہ کہتے ہیں: اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہےکوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتےانہیں مٹی سے محبت ہےانہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہےجو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں'گھر کیا ہے؟' میں پوچھتا ہوں؟وہ سب ہنسنے لگتے ہیںپہلا مزدور کہتا ہے:اپنی عورت کی طرف جاؤہر سوال کا جواب مل جائے گا
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنومرد ہو تم کسی کے کام آؤورنہ کھاؤ پیو چلے جاؤجب کوئی زندگی کا لطف اٹھاؤدل کو دکھ بھائیوں کے یاد دلاؤپہنو جب کوئی عمدہ تم پوشاککرو دامن سے تا گریباں چاککھانا کھاؤ تو جی میں تم شرماؤٹھنڈا پانی پیو تو اشک بہاؤکتنے بھائی تمہارے ہیں نادارزندگی سے ہے جن کا دل بیزارنوکروں کی تمہارے جو ہے غذاان کو وہ خواب میں نہیں ملتاجس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہوواں میسر نہیں وہ اوڑھنے کوکھاؤ تو پہلے لو خبر ان کیجن پہ بپتا ہے نیستی کی پڑیپہنو تو پہلے بھائیوں کو پہناؤکہ ہے اترن تمہاری جن کا بناؤایک ڈالی کے سب ہیں برگ و ثمرہے کوئی ان میں خشک اور کوئی ترسب کو ہے ایک اصل سے پیوندکوئی آزردہ ہے کوئی خورسندمقبلو! مدبروں کو یاد کروخوش دلو غم زدوں کو شاد کروجاگنے والے غافلوں کو جگاؤتیرنے والو ڈوبتوں کو تراؤہیں ملے تم کو چشم و گوش اگرلو جو لی جائے کور و کر کی خبرتم اگر ہاتھ پاؤں رکھتے ہولنگڑے لولوں کو کچھ سہارا دوتندرستی کا شکر کیا ہے بتاؤرنج بیمار بھائیوں کا ہٹاؤتم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیرہو مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہموجعفری ہووے یا کہ ہو حنفیجین مت ہووے یا ہو ویشنویسب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کوملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آبادہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیوں کرقوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہات دھو بیٹھیایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی پڑنے تم پہ نگاہپھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئیپاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگےکبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹاکبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیاسب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کییہ بھی تم پر خدا کا تھا انعامکہ پڑا تم کو ایسی قوم سے کامورنہ دم مارنے نہ پاتے تمپڑتی جو سر پہ وہ اٹھاتے تمملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہے غیروں سے
درخت! میرے دوستتم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پراور آسان کر دیتے ہو سفرتمہارے پیر کی انگلیاںجمی رہیں پاتال کے بھیدوں پرقائم رہے میرے دوستتمہارے تنے کی متانت اور قوتدھوپ اور بارش تمہیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہےتم بہت پروقار اور سادہ ہومیرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہوضرور.... یہ لو میں اسے کھولتا ہوںروٹیاں دعائیں اور نظمیںمیرے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیںایک شاعر کے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتادوست دکھ دینا تم نے سیکھا ہی نہیںتم نے نہ تو مجھ سے شاعری کا مطلب پوچھااور نہ کبھی میرے مطالعے پر شک کیاایسا ہی ہونا چاہئے دوستوں کواگر میرے پاس اک اور زندگی ہوتی توتو میں اپنی پہلی زندگی تمہاری جڑوں پر گزار دیتامگر میں گھر سے خاندان بھر خوشیوں کے لیے نکلا ہوںاور وہاں میرا انتظار کیا جا رہا ہےتم نے میرے دوستہاں تم نےبہت کچھ سکھایا ہے مجھےمثلاً زمین اور آسمانی بجلیاور ہوااور انتظاراور دوسروں کے لیے زندہ رہنابہت قیمتی ہیں یہ باتیںمیں کیا دے سکتا ہوں اس فیاضی کا جوابمیرے پاس تمہارے لیےایک روٹی اور دعا ہےروٹی: تمہاری چیونٹیوں کے لیےدعا تمہارے آخری دن کے لیےمجھے معلوم ہے تم نے کلہاڑی کے مصافحےاور آری کی ہنسی سے کبھی خوف نہیں کھایامگر تم روک نہیں سکتے انہیںکوئی بھی نہیں روک سکتاخدا کرےخدا کرے تمہاری شاخوں سے ایک جھونپڑی بنائی جائےبازوؤں کے گھیرے میں نہ آنے والے تمہارےتنے کی لکڑیبہت کافی ہےدو پہیوں اور ایک کشتی کے لیےدوست: ہم پھر ملیں گےمسافر اور چھکڑامسافر اور کشتیکہیں نہ کہیں ہم پھر ایک ساتھ ہوں گےکہیں نہ کہیںایک ساتھ.... ہم سامنا کریں گےہوا کا اور راستوں کامسرت اور موت کا....
تمہارا کہنا ہےتم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہوتمہاری چاہتوصال کی آخری حدوں تکمرے فقط میرے نام ہوگیمجھے یقیں ہے مجھے یقیں ہےمگر قسم کھانے والے لڑکے!تمہاری آنکھوں میں ایک تل ہے!
گرد و غبار یاں کا خلعت ہے اپنے تن کومر کر بھی چاہتے ہیں خاک وطن کفن کو
یہ تم نے کیا لکھامیں نے تمہیں دل سے بھلا ڈالاتمہیں تو یاد ہوگابچھڑتے وقت تم نے ہی کہا تھااگر تم چاہتے ہو یہتمہارے اور میرے درمیاںیہ رشتہ عمر بھر یونہی رہے قائمتو ان لفظوں سے یونہی دوستی رکھناکبھی فرصت ملے تو آؤ اور دیکھومیں اب بھی لفظ لکھتا ہوںمیں ان لفظوں میں جیتا اور مرتا ہوںمیں ان لفظوں میں اپنا غمکچھ اس صورت سموتا ہوںکہ میرا غم بھی سب کواپنا غم معلوم ہوتا ہےتمہیں فرصت ملے تو آؤ اور دیکھومری سانسوں میں بسنے والا اک پل بھیتمہارے ذکر سے خالی نہیں ہوتا
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنوتم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیرہوں مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہموسب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کوملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آبادہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیونکرقوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھیایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی تم پہ پڑنے نگاہپھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئیپاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگےکبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹاکبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیاسب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کیملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہی غیروں سے
مبارک مبارک نیا سال سب کونہ چاہا تھا ہم نے تو ہم سے جدا ہومگر کس نے روکا ہے بہتی ہوا کوجو ہم چاہتے ہیں وہ کیسے بھلا ہواے جاتے برس تجھ کو سونپا خدا کومبارک مبارک نیا سال سب کو
سندریا اپنی مٹھی کھول رہا ہےسنکچھ پتے اور پتوں کے ساتھ کچھ ہوا اکھڑ گئی ہےجنگل کے پیڑ ارادےزمین کو بوسہ دے رہے ہیںچاہتے ہیں دریا کو مٹھی کا جال لگائیںآنکھیں منظر تہہ کرتی جا رہی ہیںسمندر مٹی کو چوکور کر نہیں پا رہے سنگلی لے پہ پھنکار رہی ہےاس میں جلے ہوئے کپڑے پھینکزینے گلیوں میں دھنسے جا رہے ہیںجسموں سے آنکھیں باندھ دی گئی ہیںبہتے ستارے تجھے عکس کر رہے ہیںتیرے پاس کوئی چہرہ نہیںبتاجنگل سے لوٹنے والوں کے پاسمیرے لفظ تھے یا مورتکئی جنم بعد بات دہرائی ہےمیری بات میں جال مت لگا میری بات بتابتابوجھل سائے پہ کتنا وزن رکھا گیا تھاسنموت کی چادر تمہاری آنکھیں ناپنا چاہتی ہےکنچے اس چادر کو چھید چھید کر دیں گےچادر میں پہلے ہی سی کر لائی تھیکیا پیمانہ زنگ آلود تھایہ چادر تمہیں مٹی سے دور رکھے گیایسی حد ایسی حد سے میرا وجود انکار کرتا ہےتمہارا وجود تو پرندے رٹ چکےتمہاری زبان کہیں تمہاری محتاج تو نہیں
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
تم چاہتے ہو کہ میںتمہیں تمہارے لئے چاہوںکیوں بھلاکیا کبھی تم نےمجھے میرے لئے چاہانہیں نادراصلیہ چاہنے اور نہ چاہنے کیخواہش ہیبے معنی ہےبا معنی ہے توبس چاہتمیری چاہتتمہاری چاہتیا پھرکسی اور کی چاہت
یہ لفظ سقراط لفظ عیسیٰمیں ان کا خالق یہ میرے خالقیہی ازل ہیں یہی ابد ہیں یہی زماں ہیں یہی مکاں ہیںیہ ذہن تا ذہن رہگزر ہیں یہ روح تا روح اک سفر ہیںصداقت عصر بھی یہی ہیں کراہت جبر بھی یہی ہیںعلامت درد بھی یہی ہیں کرامت صبر بھی یہی ہیںبغیر تفریق رنگ و مذہب زمیں زمیں ان کی بادشاہیکھنچے ہوئے ہیں لہو لہو میں بچھے ہوئے ہیں زباں زباں پریہ جھوٹ بھی ہیں یہ لوٹ بھی ہیں یہ جنگ بھی ہیں یہ خون بھی ہیںمگر یہ مجبوریاں ہیں ان کیبغیر ان کے حیات ساری توہماتیہر ایک حرکت سکوت ٹھہرےنہ کہہ سکیں کچھ نہ سن سکیں کچھہر ایک آئینہ اپنی عکاسیوں پہ حیراں ہو اور چپ ہونگاہ نظارہ بیں تماشا ہو وحشتوں کااجازت جلوہ دے کے جیسے زباں سے گویائی چھین لی جائےنہ حسن کچھ ہو نہ عشق کچھ ہوتمام احساس کی ہوائیں تمام عرفان کے جزیرے تمام یہ علم کے سمندرسراب ہوں وہم ہوں گماں ہوںیہ لفظ تیشہ ہیں جن سے افکار اپنی صورت تراشتے ہیںمسیح دست و قلم سے نکلیں تو پھر یہ الفاظ بولتے ہیںیہی مصور یہی ہیں بت گر یہی ہیں شاعریہی مغنی یہی نوا ہیںیہی پیمبر یہی خدا ہیںمیں کیمیا ہوں یہ کیمیا گریہ میرا کلیان چاہتے ہیںمیں ان کی تسخیر کر رہا ہوںیہ میری تعمیر کر رہے ہیں
یہ چلنا نہیں چاہتےبس اڑنا چاہتے ہیں
سچ ہے پیاسی ہوں میںبے حد پیاسیلیکن تم سے کس نے کہاکہ تم میری پیاس بجھاؤکہیں زیادہ خالی ہو تممجھ سے کہیں زیادہ ریتےاور تمہیں احساس تک نہیںبھرنا چاہتے ہو تماپنا خالی پنمیری پیاس بجھانے کے نام پرتعجب ہےمجھے مکمل بنانا چاہتا ہےایک آدھاادھورا انسان
میں اس سگریٹ کا ٹکڑا ہوںجسے تم نے پیا تھا اپنی خوشی کے لئےاور اب اپنے جوتے سےمسل دینا چاہتے ہوتاکہ اس کی چنگاری آگ نہ لگا دےتمہارے لکڑی نما وجود کومحفوظ رہنے کی تمہاری خواہشتمہارے جذبات کو سن کر دیتی ہےکسی دوسرے کی تڑپتم پر کوئی اثر نہیں کرتیسگریٹ کے بچے ٹکڑے کوآسانی سے پھینک سکتے ہومگر اس دھویں کا کیا کرو گےجو تمہارے دل میں بھر گیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books