aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "charchaa"
ہم کیا کرتے کس رہ چلتےہر راہ میں کانٹے بکھرے تھےان رشتوں کے جو چھوٹ گئےان صدیوں کے یارانوں کےجو اک اک کر کے ٹوٹ گئےجس راہ چلے جس سمت گئےیوں پاؤں لہولہان ہوئےسب دیکھنے والے کہتے تھےیہ کیسی ریت رچائی ہےیہ مہندی کیوں لگائی ہےوہ کہتے تھے کیوں قحط وفاکا ناحق چرچا کرتے ہوپاؤں سے لہو کو دھو ڈالو!یہ راہیں جب اٹ جائیں گیسو رستے ان سے پھوٹیں گےتم دل کو سنبھالو جس میں ابھیسو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے
مستی میں اٹھا آنکھ جدھر دیکھو اہاہاناچے ہے طوائف کہیں مٹکے ہے بھویاچلتے ہیں کہیں جام کہیں سوانگ کا چرچااو رنگ کو گلیوں میں جو دیکھو تو ہر اک جابہتی ہیں امنڈ کر جمن و گنگ زمیں پرہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر
کسی نے گھر کی حویلی گرو رکھا ہاریجو کچھ تھی جنس میسر بنا بنا ہاریکسی نے چیز کسی کسی کی چرا چھپا ہاریکسی نے گٹھری پڑوسن کی اپنی لا ہارییہ ہار جیت کا چرچا پڑا دوالی کا
سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہاچرچا ہے جا بجا ترے حال تباہ کاسمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدادل میں ذرا اثر نہ رہا لا الہ کاہو تجھ سے ترک صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حجکچھ ڈر نہیں جناب رسالت پناہ کاشیطان نے دکھا کے جمال عروس دہربندہ بنا دیا ہے تجھے حب جاہ کااس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواجراحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کاافسوس ہے کہ آپ ہیں دنیا سے بے خبرکیا جانیے جو رنگ ہے شام و پگاہ کایورپ کا پیش آئے اگر آپ کو سفرگزرے نظر سے حال رعایا و شاہ کاوہ آب و تاب و شوکت ایوان خسرویوہ محکموں کی شان وہ جلوہ سپاہ کاآئے نظر علوم جدیدہ کی روشنیجس سے خجل ہو نور رخ مہر و ماہ کادعوت کسی امیر کے گھر میں ہو آپ کیکمسن مسوں سے ذکر ہو الفت کا چاہ کانوخیز دل فریب گل اندام نازنیںعارض پہ جن کے بار ہو دامن نگاہ کارکئے اگر تو ہنس کے کہے اک بت حسیںسن مولوی یہ بات نہیں ہے گناہ کااس وقت قبلہ جھک کے کروں آپ کو سلامپھر نام بھی حضور جو لیں خانقاہ کاپتلون و کوٹ و بنگلہ و بسکٹ کی دھن بندھےسودا جناب کو بھی ہو ترکی کلاہ کامنبر پہ یوں تو بیٹھ کے گوشے میں اے جنابسب جانتے ہیں وعظ ثواب و گناہ کا
چرچا ہر ایک آن ہے اردو زبان کاگرویدہ کل جہان ہے اردو زبان کا
ہر چار طرف ہولی کی دھومیں ہیں اہا ہادیکھو جدھر آتا ہے نظر روز تماشاہر آن جھمکتا ہے عجب عیش کا چرچاہولی کو نظیرؔ اب تو کھڑا دیکھے ہے یاں کیامحبوب یہ آیا ارے نادان ادھر دیکھ
اردو زباں ہماریہے جان و دل سے پیارییہ مادری زباں ہےرگ رگ میں جو رواں ہےجب سے زبان کھولیاردو ہے اپنی بولیبچپن کی ہے یہ ساتھیکی اس نے ذہن سازیشیریں زباں ہے اردوچرچا ہے اس کا ہر سواردو میں نغمگی ہےکیا اس میں دل کشی ہےاردو جو کوئی بولےکانوں میں رس یہ گھولےاردو میں پڑھنا لکھنابات اس زباں میں کرنااردو کو زندہ رکھناہم پر ہے فرض اپنالب جو فراغؔ کھولواردو میں تم بھی بولو
آج ہم سب شاد ہیں اپنا وطن آزاد ہےہم ہیں بلبل جس چمن کے وہ چمن آزاد ہےآج آزادی کا دن ہے آؤ ہم خوشیاں منائیںناچ آزادی کا ناچیں گیت آزادی کے گائیںتھی گھٹا چھائی ہوئی اندھیر کی وہ چھٹ گئیتیغ آزادی سے زنجیر غلامی کٹ گئیآج وہ دن ہے ہوئی تھی دیش کی جنتا کی جیتآج ہی کے دن چلی تھی اس میں آزادی کی ریتآج وہ دن ہے ترانے عیش کے عشرت کے گائیںآج وہ دن ہے کہ تانیں مل کے خوشیوں کی اڑائیںقوم جو آزاد ہے دنیا میں عزت اس کی ہےآن اس کی شان اس کی اور عظمت اس کی ہےدیش کے بچے بھی خوش ہیں کیوں نہ ہو ان کی خوشیکھل گئی ہے پھول بن کر آج ہر دل کی کلیدل لگی ہے چہل ہے اور ہر طرف ہیں قہقہےہیں یہ بلبل اس چمن کے کر رہے ہیں چہچہےدل میں جذبہ ہے جواں ہو کر سبھی آگے بڑھیںعزم ہے یہ جان و دل سے دیس کی خدمت کریںامن و آزادی کا ہم پیغام دنیا کو سنائیںدیس کی اپنے بڑائی اپنے کاموں سے دکھائیںفرض اپنا ہم کریں دل سے ادا اور جان سےہو وفاداری ہماری اپنے ہندوستان سےایک اک بچہ گئی ہو علم کا چرچا بڑھےایک اک بچہ دھنی ہو دیس کی سیوا کرےایک اک بچہ رہے بڑھ چڑھ کے گن اور گیان میںاک سے اک بڑھ کر دکھائے آپ کو وگیان میںآؤ نیرؔ دیس کے بچوں کی جھرمٹ میں تم آؤآؤ آؤ نظم آزادی کی بچوں کو سناؤآؤ سب نعرہ لگائیں زندہ باد ہندوستانآؤ ہم سب مل کے گائیں زندہ باد ہندوستانزندہ باد ہندوستانزندہ باد
درد جس دل میں ہو اس دل کی دوا بن جاؤںکوئی بیمار اگر ہو تو شفا بن جاؤںدکھ میں ہلتے ہوئے لب کی میں دعا بن جاؤںاف وہ آنکھیں کہ ہیں بینائی سے محروم کہیںروشنی جن میں نہیں نور جن آنکھوں میں نہیںمیں ان آنکھوں کے لیے نور ضیا بن جاؤںہائے وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلےاف وہ آنسو جو کسی دیدۂ تر سے نکلےمیں اس آنسو کے سکھانے کو ہوا بن جاؤںدور منزل سے اگر راہ میں تھک جائے کوئیجب مسافر کہیں رستے سے بھٹک جائے کوئیخضر کا کام کروں راہنما بن جاؤںعمر کے بوجھ سے جو لوگ دبے جاتے ہیںناتوانی سے جو ہر روز جھکے جاتے ہیںان ضعیفوں کے سہارے کو عصا بن جاؤںخدمت خلق کا ہر سمت میں چرچا کر دوںمادر ہند کو جنت کا نمونہ کر دوںگھر کرے دل میں جو افسرؔ وہ صدا بن جاؤں
کچھ کام کرو کچھ کام کرودنیا میں پیدا نام کرودن بھر محنت میں شاد رہوجب رات پڑے آرام کروانجام خدا کے ہاتھ میں ہےتم کوشش صبح و شام کروتکلیف سے راحت ملتی ہےیہ سودا لو وہ دام کروہمت سے آگے بڑھ جاؤبڑھ کر حاصل انعام کروہمدردی سے غم خواری سےہر شخص کے دل کو رام کرولوگوں میں تمہاری قدر بڑھےبچو کوئی ایسا کام کروتعلیم جہاں میں پھیلاؤاس فیضؔ کا چرچا عام کرو
جمیلہ شکیلہ کی تھی اک سہیلیسہیلی بھی اک عمر کی ساتھ کھیلیبہت ہی تھا اخلاص اور پیار ان میںہوئی تھی نہ جھوٹوں بھی تکرار ان میںتھی یوں تو ہر اک کھیل سے ان کو رغبتمگر سب سے بڑھ کر تھی گڑیوں کی چاہتجمیلہ کی گڑیا تھی چینی کی مورتشکیلہ کا گڈا بھی تھا خوب صورتشکیلہ نے سوچا کہ شادی رچائیںجمیلہ سہیلی کو سمدھن بنائیںشکیلہ بڑے چاؤ سے چل کے آئیوہ گڈے کی منگنی کا پیغام لائیکئی لڑکیاں اور بھی ساتھ آئیںجمیلہ کے گھر آ کے باتیں بنائیںادھر کی ادھر کی ہوئیں خوب باتیںیہ منگنی کی باتیں رہیں چند راتیںیہ بات اور وہ بات اور کبھی ہاں کبھی ناںکئی دن رہیں بی شکیلہ پریشاںپر آخر وہ آ ہی گئی نیک ساعتنہ باقی رہی کوئی جھگڑے کی صورتجمیلہ نے منظور کر لی یہ شادیخبر سارے بچوں کو اس کی سنا دیاجازت انہوں نے بڑوں سے بھی لے لیپھر اچھی سی تاریخ شادی کی طے کیقریب آئے شادی کی تقریب کے دنتو کاٹے یہ دن سارے بچوں نے گن گنوہ شادی کی تاریخ جس روز آئیمسرت نے دنیا میں نوبت بجائیشکیلہ نے گڈے کو دولہا بنایااسے ایک بڑھیا سا جوڑا پہنایاوہ کرتا وہ اچکن وہ پگڑی وہ پٹکاوہ ریشم کی شلوار وصلی کا جوتاوہ منا سا رومال موزے ٹسر کےجھمکتی کلا اس کے سلمے ستارےجڑاؤ انگوٹھی وہ موتی کی مالاوہ رنگین جامہ وہ پھولوں کا صحرابٹھا اس کو گھوڑے پہ وہ ساتھ لائیبرات اس نے گڈے کی اپنی سجائیچلے ساتھ بن بن کے بچے براتیچلی پارٹی ایک گاتی بجاتیتڑاتڑ وہ تاشوں کی باجوں کی ٹیں ٹیںمجیرے کی ٹن ٹن نفیری کی پیں پیںوہ لوگوں کا چلنا پٹاخوں کا چھٹناہوا میں اناروں کے پھولوں کا لٹنااسی ٹھاٹھ سے چل کے بارات آئیدلہن کی طرف سے ہوئی پیشوائیجمیلہ نے سب کا کیا خیر مقدمملے ہو کے باہم وہ سب شاد و خرمجہاں فرش اک چاندنی کا بچھا تھاتھی مسند نئی گاؤ تکیہ نیا تھاوہاں مہمانوں کو لاکر بٹھایادئے پان اور سب کو شربت پلایابلائے گئے شہر سے ایک قاضیدلہن اور دولہا ہوئے دونوں راضیذرا دیر میں ہو گئی ان کی شادیسبھی اہل محفل نے دل سے دعا دیچھوارے لٹے پھر بٹی کچھ مٹھائیمٹھائی یہ سب نے مزے لے کے کھائیہوئے شاد مہمان چھوٹے بڑے کلمبارک سلامت کا پس مچ گیا غلہوا وقت گڑیا کی رخصت کا جس دمجمیلہ کے چہرے پہ تھا غم کا عالمشکیلہ نے جھٹ پالکی اک منگائیبٹھا اس میں گڑیا کو گھر اپنے لائیہوئی خوب شہرت ہوا خوب خرچہرہا شہر میں مدتوں اس کا چرچاغرض بیاہ گڈے کا گڑیا کا جیساہوا یہ ہوا ہوگا نیرؔ نہ ایسا
گو خاک ہو چکا ہے ہندوستاں ہماراپھر بھی ہے کل جہاں میں پلا گراں ہمارامنہ تک رہا ہے اب تک سارا جہاں ہماراہے نام کشوروں میں ورد زباں ہمارازرخیز ہے سراسر یہ گلستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہمارابھارت میں دیکھتے تھے ہم صنعتیں جہاں کیمشہور تھی جہاں میں کاری گری یہاں کیوہ بات ہندیوں نے غیروں کے درمیاں کیجس پر جھکی ہے گردن انبوہ سرکشاں کیملتا تھا علم و فن میں ہمسر کہاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراتسلیم کر رہے ہیں اسپین اور جاپاںسب مانتے ہیں لوہا جرمن فرانس و یوناںامریکہ میں ہے چرچا اس ملک کا نمایاںبھارت کی سلطنت پر برطانیہ ہے نازاںاونچا ہے آسماں سے یہ آستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراپربت کی چوٹیاں ہیں درباں ہمارے در کیدامن میں جس کے پنہاں کانیں ہیں سیم و زر کیگنگ و جمن پہ جس دم صیاد نے نظر کیسرسبز وادیوں سے اس کی نظر نہ سر کیکیا غیرت ارم ہے یہ بوستاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہماراپیدا کئے تھے جس نے ارجن کناد گوتمآغوش میں پلے تھے جس کی بیاس و بکرمگودی میں جس کی کھیلے تھے بھیم رام بھیشمجن کے سبب سے اب تک ہے ہندیوں میں دم خموہ ملک بے بدل ہے جنت نشاں ہماراہے طائر طلائی ہندوستاں ہمارا
جاں سپاری کی ادا مجھ کو سکھانے والےآج یہ حکم کہ میں پیار کا چرچا نہ کروںگھٹ کے رہ جاؤں پہ رخسار تری یادوں کےاپنی تخیل کی آنکھوں سے بھی چوما نہ کروںبھول جاؤں ترے ہونٹوں کے چھلکتے ساغرتیری آنکھوں کی مئے تاب سے توبہ کر لوںنور پیشانی کا ہونٹوں سے چرانا کیساابروؤں کی جھکی محراب میں آیا نہ کروں
ہر سر میں امتحان کا سودا ہے آج کلہر دل میں فیل ہونے کا دھڑکا ہے آج کلپرچوں کے آؤٹ ہونے کا چرچا ہے آج کلکوئی نہیں کسی کی بھی سنتا ہے آج کلمنی کی آنکھ نم ہے تو منا کے دل میں غمبے چینیوں میں کوئی کسی سے نہیں ہے کمدیمک کی طرح چاٹ رہا ہے کوئی کتابکوئی یہ سوچتا ہے کہ اب آئے گا عتابپڑھتا ہے رات بھر کوئی جغرافیہ کا بابپنسل سے سوختہ پہ ہے لکھتا کوئی جوابہر ذی شعور کھیل کے میداں سے دور ہےپڑھنے سے کوئی اور کوئی لکھنے سے چور ہےانجم کی آنکھ نم ہے تو فردوس ہیں اداسمحسنؔ یہ سوچتے ہیں کہ ہوں گے یہ کیسے پاسعذرا کی یہ دعا ہے کہ آ جائے رٹنا راسہر ذہن میں ہے خوف تو ہر دل میں ہے ہراسکوئی نظر میں موت کا نقشہ لئے ہوئےبیٹھا ہے کوئی ہاتھ میں بستہ لئے ہوئےکھانے کی فکر ہے نہ ہے فٹ بال کا خیالچہرے پہ ہر نفس کے ہے تحریر دل کا حالاس بار فیل گر ہوئے جینا ہوا محالابو کے مار پیٹ سے اترے گی میری کھالیاروں کو کس طرح سے منہ اپنا دکھائیں گےاور کس طرح سے منزل امید پائیں گےباقی کچھ ایسے لوگ بھی ہیں اس جہان میںجو فرق آنے دیتے نہیں اپنی آن میںسینے پھلا پھلا کے نکلتے ہیں شان میںجیسے کہ کوئی خطرہ نہ ہو امتحان میںیہ لوگ زندہ دل ہیں بہادر ہیں شیر ہیںجو فیل ہو کے ہوتے ہیں خوش وہ دلیر ہیںپڑھنے کا غم ہے ان کو نہ ہے ان کو فکر دوشہر وقت کھیلتے ہیں پڑھائی کا کس کو ہوشآپس میں لڑ بھی لیتے ہیں جب آئے ان کو جوشہنستے ہیں امتحان کے دن یہ کتب فروشان کے لئے زمانہ میں کوئی بھی غم نہیںچکنے گھڑے ہیں یہ انہیں کوئی الم نہیں
تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گےخدایا عمر بھر رویا کریں گےمحبت کا گلہ الفت کا شکوہپتہ کیا تھا کہیں ایسا کریں گےرہی جب نہ خوشی کی زندگی گرپھر ایسی زندگی کو کیا کریں گےلٹا تھا قافلہ دل کا ہماراملے گا کیا جو ہم چرچا کریں گےجگر میں درد لب پر ہائے ہائےبھلا اس طرح جی کر کیا کریں گےکوئی کونین کی دولت سے بھی ہممحبت کا نہیں سودا کریں گےنظر سے ہو تو سکتا ہے پہ ناشادمگر ہم دل سے کیا پردہ کریں گے
فاقہ مستی تنگ دستی کا ہے چرچا چار سومر گئی ہے اب دلوں سے زندگی کی آرزوہو گیا ہے خشک انسانوں کے جسموں کا لہواے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
تیرے انجام کا چرچا تو نہیں کر سکتابد نصیبی کا میں شکوہ تو نہیں کر سکتا
دولت کا جس کی عالم میں چار سو تھا چرچاجس کے جواہروں نے تاجوں کو نور بخشاغیروں کا جس زمیں کی کھیتی نے پیٹ پالاادبار نے پلٹ دی آ کر جہاں کی کایامیرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
احمد ببلو بابو سلمیٰایک جماعت کے یہ بچےاخلاقی گھنٹے میں دیکھوجمع ہوئے ہیں اک اک کر کےنظم و ضبط جماعت میں تھااف نہیں کرتا تھا کوئی بچہیہ جو کہانی کا تھا گھنٹہسب کو شوق کہانی کا تھادیکھو کلاس میں استاد آئےاٹھ کے کھڑے ہوئے سارے بچےسب نے کیا سلام اب ان کوبچے تھے سب من کے اچھےہم آواز تھا ہر اک بچہہم ہیں کہانی کے سب شیداسب نے مل کر کیا تقاضاہم کو سنائیے اچھا قصہسن کر بچوں سے یہ باتیںہو گئے خوش استاد اسی دممنو چنو منو خوش تھےقابل دید ہے شوق کا عالمٹیچر نے جو چھیڑی کہانیبچے ہمہ تن گوش ہوئے سبخاموشی تھی ہر چہرے پرسب سے کہا یہ ٹیچر نے ابایک پہاڑی کے دامن میںقریہ اک شاداب تھا بچوگاؤں میں اک چرواہا بھی تھاہاں وہ بہت نادان تھا پیاروروز پہاڑی پر وہ جاتابکریاں اپنی خود ہی چراتادن بھر ہانکتا وہ گلے کوشام ڈھلے گھر واپس آتااک دن اس کو سوجھی شرارترہ رہ کر اس نے چلایالوگو آؤ مجھ کو بچاؤشیر نے بولا ہے اب دھاوالٹھے بھالے برچھیاں لے کربھاگے آئے لوگ برابرپایا سلامت چرواہے کوکہنے لگا چرواہا ہنس کرشیر یہاں آیا نہیں کوئییوں ہی شرارت میں نے کی تھیشکریہ آپ یہاں سب آئےآپ کی ہمدردی ہے سچیمیں نے سب کو یوں ہی پرکھاامتحاں آپ کی چاہت کا تھاخوش ہوں آپ کی ہمدردی پرمیں نے پیار سبھوں کا پایاتھا یہ کرتب چرواہے کااس نے الو سب کو بنایامایوسی کے ساتھ وہ لوٹےجھوٹا چرواہے کو پایا
میں حسیں ہوں مگراس قدر بھی نہیںمجھ کو معلوم ہےجانتی ہوں کہ میںتیرے الفاظ کیسب ہے جادوگریتیرے الفاظ نےاور جنوں نے ترےاپنے شعروں میں کر کے بیاں میرا حسندل کشی کو مریشاعری کو مریایک پہچان دیہر زباں پر مراتذکرہ ہے مگرمجھ کو سچ سچ بتااے سخنور مرےاے مرے جادوگرتیرے اشعار نےگفتگو نے تریاور جنوں نے ترےمجھ کو پہچان دیمیرا چرچا کیایا زمانے میں بسمجھ کو رسوا کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books