aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dalii"
ہدف ہوں گے تمہارا کون تم کس کے ہدف ہوگےنہ جانے وقت کی پیکار میں تم کس طرف ہوگےہے رن یہ زندگی اک رن جو برپا لمحہ لمحہ ہےہمیں اس رن میں کچھ بھی ہو کسی جانب تو ہونا ہےسو ہم بھی اس نفس تک ہیں سپاہی ایک لشکر کےہزاروں سال سے جیتے چلے آئے ہیں مر مر کےشہود اک فن ہے اور میری عداوت بے فنوں سے ہےمری پیکار ازل سےیہ خسروؔ میرؔ غالبؔ کا خرابہ بیچتا کیا ہےہمارا غالبؔ اعظم تھا چور آقائے بیدلؔ کاسو رزق فخر اب ہم کھا رہے ہیں میرؔ بسمل کاسدھارت بھی تھا شرمندہ کہ دو آبے کا باسی تھاتمہیں معلوم ہے اردو جو ہے پالی سے نکلی ہےوہ گویا اس کی ہی اک پر نمو ڈالی سے نکلی ہے
دو پاؤں بنے ہریالی پرایک تتلی بیٹھی ڈالی پرکچھ جگمگ جگنو جنگل سےکچھ جھومتے ہاتھی بادل سےیہ ایک کہانی نیند بھریاک تخت پہ بیٹھی ایک پریکچھ گن گن کرتے پروانےدو ننھے ننھے دستانےکچھ اڑتے رنگیں غبارےببو کے دوپٹے کے تارےیہ چہرہ بنو بوڑھی کایہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کایہ مجھ سے ملنے آئے ہیںمیں خود نہ جنہیں پہچان سکوںکچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
حسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہےمیرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے
بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمکبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سےتو مجھ کو خدا را غلط مت سمجھناکہ میری ضرورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاریہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاریجو کانٹے ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوںسجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہارینظر سے زمانے کی خود کو بچاناکسی اور سے دیکھو دل مت لگاناکہ میری امانت ہو تمبہت خوبصورت ہو تمہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہراہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہرااور اس پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہراگلابوں سے نازک مہکتا بدن ہےیہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہےبکھیرو جو زلفیں تو شرمائے بادلفرشتے بھی دیکھیں تو ہو جائیں پاگلوہ پاکیزہ مورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمجو بن کے کلی مسکراتی ہے اکثرشب ہجر میں جو رلاتی ہے اکثرجو لمحوں ہی لمحوں میں دنیا بدل دےجو شاعر کو دے جائے پہلو غزل کےچھپانا جو چاہیں چھپائی نہ جائےبھلانا جو چاہیں بھلائی نہ جائےوہ پہلی محبت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم
تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہےکیا کیا نہ دل زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیںآنکھوں سے لگایا ہے کبھی دست صبا کوڈالی ہیں کبھی گردن مہتاب میں باہیں
بسر اوقات کے لیے شایدیہ لکیریں بکھیر ڈالی ہیں
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
جب دکھ کی ندیا میں ہم نےجیون کی ناؤ ڈالی تھیتھا کتنا کس بل بانہوں میںلوہو میں کتنی لالی تھییوں لگتا تھا دو ہاتھ لگےاور ناؤ پورم پار لگیایسا نہ ہوا، ہر دھارے میںکچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیںکچھ مانجھی تھے انجان بہتکچھ بے پرکھی پتواریں تھیںاب جو بھی چاہو چھان کرواب جتنے چاہو دوش دھروندیا تو وہی ہے ناؤ وہیاب تم ہی کہو کیا کرنا ہےاب کیسے پار اترنا ہےجب اپنی چھاتی میں ہم نےاس دیس کے گھاؤ دیکھے تھےتھا ویدوں پر وشواش بہتاور یاد بہت سے نسخے تھےیوں لگتا تھا بس کچھ دن میںساری بپتا کٹ جائے گیاور سب گھاؤ بھر جائیں گےایسا نہ ہوا کہ روگ اپنےکچھ اتنے ڈھیر پرانے تھےوید ان کی ٹوہ کو پا نہ سکےاور ٹوٹکے سب بیکار گئےاب جو بھی چاہو چھان کرواب جتنے چاہو دوش دھروچھاتی تو وہی ہے، گھاؤ وہیاب تم ہی کہو کیا کرنا ہےیہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے
آہو مانگے بن کا رمنابھنورا چاہے پھول کی ڈالیسوکھے کھیت کی کونپل مانگےاک گھنگھور بدریا کالیدھوپ جلے کہیں سایہ چاہیںاندھی راتیں دیپ دوالیہم کیا مانگیں ہم کیا چاہیںہونٹ سلے اور جھولی خالیدل بھنورا نہ پھول نہ کونپلبگیا نا بگیا کا مالیدل آہو نہ دھوپ نہ سایادل کی اپنی بات نرالیدل تو کسی درشن کا بھوکادل تو کسی درشن کا سوالینام لیے بن پڑا پکارےکسے پکارے دشت کنارے
سنوارا جس نے نہ میرے جھنڈولے بالوں کوبسا سکی نہ جو ہونٹوں سے سونے گالوں کوجو میری آنکھوں میں آنکھیں کبھی نہ ڈال سکینہ اپنے ہاتھوں سے مجھ کو کبھی اچھال سکیوہ ماں جو کوئی کہانی مجھے سنا نہ سکیمجھے سلانے کو جو لوریاں بھی گا نہ سکیوہ ماں جو دودھ بھی اپنا مجھے پلا نہ سکیوہ ماں جو ہاتھ سے اپنے مجھے کھلا نہ سکیوہ ماں گلے سے مجھے جو کبھی لگا نہ سکیوہ ماں جو دیکھتے ہی مجھ کو مسکرا نہ سکیکبھی جو مجھ سے مٹھائی چھپا کے رکھ نہ سکیکبھی جو مجھ سے دہی بھی بچا کے رکھ نہ سکیمیں جس کے ہاتھ میں کچھ دیکھ کر ڈہک نہ سکاپٹک پٹک کے کبھی پاؤں میں ٹھنک نہ سکا
چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیںچاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی جاتی ہےاور سناٹوں کی اک دھول اڑی جاتی ہے
اے دل اے بندۂ وطن ہوشیارخواب غفلت سے ہو ذرا بیداراو شراب خودی کے متوالےگھر کی چوکھٹ کے چومنے والےنام ہے کیا اسی کا حب وطنجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگنکبھی بچوں کا دھیان آتا ہےکبھی یاروں کا غم ستاتا ہےیاد آتا ہے اپنا شہر کبھیلو کبھی اہل شہر کی ہے لگینقش ہیں دل پہ کوچہ و بازارپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوارکیا وطن کیا یہی محبت ہےیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہےاس میں انساں سے کم نہیں ہیں درنداس سے خالی نہیں چرند و پرندٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میںسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میںجا کے کابل میں آم کا پوداکبھی پروان چڑھ نہیں سکتاآ کے کابل سے یاں بہی و انارہو نہیں سکتے بارور زنہارمچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سےہاتھ دھوتی ہے زندگانی سےآگ سے جب ہوا سمندر دوراس کو جینے کا پھر نہیں مقدورگھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیںجان کے لالے ان کے پڑتے ہیںگائے، بھینس اونٹ ہو یا بکریاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھیکہیے حب وطن اسی کو اگرہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم ترہے کوئی اپنی قوم کا ہمدردنوع انساں کا سمجھیں جس کو فردجس پہ اطلاق آدمی ہو صحیحجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیحقوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکےقوم کا حال بد نہ دیکھ سکےقوم سے جان تک عزیز نہ ہوقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہوسمجھے ان کی خوشی کو راحت جاںواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاںرنج کو ان کے سمجھے مایۂ غمواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتمبھول جائے سب اپنی قدر جلیلدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیلجب پڑے ان پہ گردش افلاکاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاک
ڈالی میں نارنگی دیکھیمحفل میں سارنگی دیکھیبیرنگی بارنگی دیکھیدہر کی رنگا رنگی دیکھی
اک ننھی منی سی پجارنپتلی بانہیں پتلی گردنبھور بھئے مندر آئی ہےآئی نہیں ہے ماں لائی ہےوقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےنیند ابھی آنکھوں میں بھری ہےٹھوڑی تک لٹ آئی ہوئی ہےیوں ہی سی لہرائی ہوئی ہےآنکھوں میں تاروں کی چمک ہےمکھڑے پہ چاندی کی جھلک ہےکیسی سندر ہے کیا کہیےننھی سی اک سیتا کہیےدھوپ چڑھے تارا چمکا ہےپتھر پر اک پھول کھلا ہےچاند کا ٹکڑا پھول کی ڈالیکمسن سیدھی بھولی بھالیہاتھ میں پیتل کی تھالی ہےکان میں چاندی کی بالی ہےدل میں لیکن دھیان نہیں ہےپوجا کا کچھ گیان نہیں ہےکیسی بھولی چھت دیکھ رہی ہےماں بڑھ کر چٹکی لیتی ہےچپکے چپکے ہنس دیتی ہےہنسنا رونا اس کا مذہباس کو پوجا سے کیا مطلبخود تو آئی ہے مندر میںمن اس کا ہے گڑیا گھر میں
(۱)اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے(۲)اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے(۳)اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے(۴)اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
مری بیٹی مری جاناںتمہیں سب یاد تو ہوگابہت پہلے بہت پہلےجوانی کا تھا جب عالممرے بازو میں طاقت تھیمرے سینے میں ہمت تھیانہیں ایام میں اک دنمری آغوش الفت میںکسی نے لا کے رکھا تھاتمہارا پھول سا چہرہبدن بے انتہا نازکمرے ان سخت ہاتھوں میںعجب نرمی سی آئی تھیمری اس آنکھ نے بو سے لئے تھے اور روئی تھیمجھے تو یاد ہے سب کچھتمہیں بھی یاد تو ہوگانئے کپڑے کھلونے دودھ کی بوتل خریدی تھیبہت بے چین ہوتا تھا جو تم راتوں کو روتی تھیںچلی تھیں اپنے پیروں پر جو تم پہلے پہل بیٹامجھے ایسا لگا تھا چل پڑی دل کی مرے دھڑکنقدم دو چار لے کر تم جو اک دم لڑکھڑائی تھیںمری سانسیں مرے سینے کے اندر تھرتھرائی تھیںمری گودی میں رفتہ رفتہ دن گزرا کئے اور تمنہ جانے سوتے سوتے میرے سینے پر جوانی تکمری جاں آج آئی ہوتمہیں مجھ سے شکایت ہےکہ میں نے سختیاں کی ہیںمری وہ سختیاں تم کو بہت رنجور کرتی تھیںمجھے بھی رنج ہوتا تھامگر تھی تربیت لازمتمہیں سانچے میں ڈھلنا تھاطبیعت کو بدلنا تھاتمہیں سب یاد تو ہوگامری بیٹی مرے بازو میں وہ قوت نہیں باقیتمہاری ہر خوشی کی ہیں ضمانت دھڑکنیں میریمگر اک مشورہ سن لوکہ اب سب بھول جاؤ تمنئے رشتے بناؤ تمہمارا ساتھ چھوٹے گانئے رشتوں کے میری جاں مسائل کم نہیں ہو گےمگر تب ہم نہیں ہوں گےاکیلی جان ہوگی تمفقط وہ تربیت ہوگیجو میں نے سختیاں کر کےتمہارے دل میں ڈالی ہےوہ تم کو یاد تو ہوگیسبق سب یاد تو ہوگا
آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہےگلشن زیست جلانے کو شرر رکھتی ہےتوپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہےبنت حوا کی طرح تیر نظر رکھتی ہےاتنا پر سوز ہوا نالۂ سفاک مراکر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرایہ کہا سن کے سسر نے کہ کہیں ہے کوئیساس چپکے سے یہ بولیں کہ یہیں ہے کوئیسالیاں کہنے لگیں قرب و قریں ہے کوئیسالے یہ بولے کہ مردود و لعیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا ہے تو ہم زلف کے بہتر سمجھامجھ کو بیگم کا ستایا ہوا شوہر سمجھااپنے حالات پہ تم غور ذرا کر لو اگرجلد کھل جائے گی پھر ساری حقیقت تم پرمیں نے اگنے نہ دیا ذہن میں نفرت کا شجرتم پہ ڈالی ہے سدا میں نے محبت کی نظرکہہ کے سرتاج تمہیں سر پہ بٹھایا میں نےتم تو بیٹے تھے فقط باپ بنایا میں نےمیں نے سسرال میں ہر شخص کی عزت کی ہےساس سسرے نہیں نندوں کی بھی خدمت کی ہےجیٹھ دیور سے جٹھانی سے محبت کی ہےمیں نے دن رات مشقت ہی مشقت کی ہےپھر بھی ہونٹوں پہ کوئی شکوہ گلہ کچھ بھی نہیںمیرے دن رات کی محنت کا صلہ کچھ بھی نہیںصبح دم بچوں کو تیار کراتی ہوں میںناشتہ سب کے لئے روز بناتی ہوں میںباسی تم کھاتے نہیں تازہ پکاتی ہوں میںچھوڑنے بچوں کو اسکول بھی جاتی ہوں میںمیں کہ انسان ہوں انسان نہیں جن کوئیمیری تقدیر میں چھٹی کا نہیں دن کوئیوہ بھی دن تھے کہ دلہن بن کے میں جب آئی تھیساتھ میں جینے کی مرنے کی قسم کھائی تھیپیار آنکھوں میں تھا آواز میں شہنائی تھیکبھی محبوب تمہاری یہی ہرجائی تھیاپنے گھر کے لیے یہ ہستی مٹا دی میں نےزندگی راہ محبت میں لٹا دی میں نےکس قدر تم پہ گراں ایک فقط ناری ہےدال روٹی جسے دینا بھی تمہیں بھاری ہےمجھ سے کب پیار ہے اولاد تمہیں پیاری ہےتم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےگھر تو بیوی سے ہے بیوی جو نہیں گھر بھی نہیںیہ ڈبل بیڈ یہ تکیہ نہیں چادر بھی نہیںمیں نے مانا کہ وہ پہلی سی جوانی نہ رہیہر شب وصل نئی کوئی کہانی نہ رہیقلزم حسن میں پہلی سی روانی نہ رہیاب میں پہلے کی طرح رات کی رانی نہ رہیاپنی اولاد کی خاطر میں جواں ہوں اب بھیجس کے قدموں میں ہے جنت وہی ماں ہوں اب بھیتھے جو اجداد تمہارے نہ تھا ان کا یہ شعارتم ہو بیوی سے پریشان وہ بیوی پہ نثارتم کیا کرتے ہو ہر وقت یہ جو تم بیزارتم ہو گفتار کے غازی وہ سراپا کرداراپنے اجداد کا تم کو تو کوئی پاس نہیںہم تو بے حس ہیں مگر تم بھی تو حساس نہیںنہیں جن مردوں کو پروائے نشیمن تم ہواچھی لگتی ہے جسے روز ہی الجھن تم ہوبن گئے اپنی گرہستی کے جو دشمن تم ہوہو کے غیروں پہ فدا بیوی سے بد ظن تم ہوپھر سے آباد نئی کوئی بھی وادی کر لوکسی کل بسنی سے اب دوسری شادی کر لو
چند تتلائے ہوئے بولوں میں آہٹ بھی سنیدودھ کا دانت گرا تھا تو وہاں بھی دیکھابوسکی بیٹی مری چکنی سی ریشم کی ڈلیلپٹی لپٹائی ہوئی ریشمی تانگوں میں پڑی تھیمجھ کو احساس نہیں تھا کہ وہاں وقت پڑا ہےپالنا کھول کے جب میں نے اتارا تھا اسے بستر پرلوری کے بولوں سے اک بار چھوا تھا اس کوبڑھتے ناخونوں میں ہر بار تراشا بھی تھا
تھوڑا سوڈا اور ملاؤکدھر لوٹری ہے بتلاؤتم اتنے خاموش ہو کیوںنظم کوئی کہہ ڈالی کیاتو پھر کیا ہے ہو جائےلیکن شرط ترنم ہے
کمرے میں خاموشی ہے اور باہر رات بہت کالی ہےاونچے اونچے پیڑوں پر سیاہی نے چھاؤنی ڈالی ہےتیز ہوا کہتی ہے پل میں برکھا آنے والی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books