aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dolte"
جب فصل کٹی تو کیا دیکھاکچھ درد کے ٹوٹے گجرے تھےکچھ زخمی خواب تھے کانٹوں پرکچھ خاکستر سے کجرے تھےاور دور افق کے ساگر میںکچھ ڈولتے ڈوبتے بجرے تھے
سب مال نکالو، لے آؤاے بستی والو لے آؤیہ تن کا جھوٹا جادو بھییہ من کی جھوٹی خوشبو بھییہ تال بناتے آنسو بھییہ جال بچھاتے گیسو بھییہ لرزش ڈولتے سینے کیپر سچ نہیں بولتے سینے کییہ ہونٹ بھی، ہم سے کیا چوریکیا سچ مچ جھوٹے ہیں گوری؟ان رمزوں میں ان گھاتوں میںان وعدوں میں ان باتوں میںکچھ کھوٹ حقیقت کا تو نہیں؟کچھ میل صداقت کا تو نہیں؟یہ سارے دھوکے لے آؤیہ پیارے دھوکے لے آؤکیوں رکھو خود سے دور ہمیںجو دام کہو منظور ہمیں
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھےابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلےگرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کے
کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے کتابچے لیے ہوئےکھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاںڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاںمہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کوارٹر چیخ اٹھےابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پر ہراس قافلےگرے بڑھے مڑے بھنور ہجوم کےکھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف بیاض آرزو بکفنظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاںلرز رہا ہے دم بدم کمان آبروؤں کا خمکوئی جب ایک ناز بے نیاز سے کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیاحروف کج تراش کی لکیر سیتو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سیکسی عظیم شخصیت کی تمکنتحنائی انگلیوں پہ کانپتے ورق پہ جھک گئیتو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز نبض رک گئیوہ بالر ایک مہوشوں کے جمگھٹے میں گھر گیا وہ صفحۂ بیاض پربصد غرور کلک گوہریں پھریںحسین جھلملاہٹوں کے درمیاں وکٹ گریمیں اجنبی میں بے نشاں میں پا بہ گلنہ رفعت مقام ہے نہ شہرت دوام ہے یہ لوح دل پہ لوح دلنہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے
کل شب عجیب ادا سے تھا اک حسن مہرباںوہ شبنمی گلاب سی رنگت دھلی دھلیشانوں پہ بے قرار وہ زلفیں کھلی کھلیہر خط جسم پیرہن چست سے عیاںٹھہرے بھی گر نگاہ تو ٹھہرے کہاں کہاںہر زاویے میں حسن کا اک تازہ بانکپنہر دائرے میں کھلتے ہوئے پھول کی پھبنآنکھوں میں ڈولتے ہوئے نشے کی کیفیتروئے حسیں پہ ایک شکستہ سی تمکنتہونٹوں پہ ان کہی سی تمنا کی لرزشیںبانہوں میں لمحہ لمحہ سمٹنے کی کاوشیںسینے کے جزر و مد میں سمندر سا اضطرابامڈا ہوا سا جذبۂ بیدار کا عذابخوشبو طواف قامت زیبا کیے ہوئےشیشہ بدن کا عزم زلیخا لیے ہوئےپھر یوں ہوا کہ چھڑ گئی یوسف کی داستاںپھر میں تھا اور پاکئ دامن کا امتحاںاک سانپ بھی تھا آدم و حوا کے درمیاں
جب اس نے ہاتھ سے دھرتی دبا کےکہنیوں کی آزمائش کیکہ شاید اس طرح وہ اٹھ سکےتو صرف اپنے سر کو گردن کا سہارا دے سکابالوں کی لمبی ایک لٹماتھے پہ متوازی کھدی شکنوں میںچھپ کر کانپتی تھیاور کچھ بالوں کو تازہ چوٹ رنگیں کر گئی تھیتحیر بے بسی کے ساتھآنکھوں کی نمی میں جذب ہو کرآہنی چشمے کےشیشوں میں لرزتا تھاکھلے ہونٹوں میں دانتوں کے شگافوں کوزباں پیوند کرتی تھیدہن کے نم کنارےکان کے بنسرخ رخساروں کے بلچاہ ذقن کے منہ سے لٹکےتہ بہ تہ گردن کے سلوٹاور ان میں ڈولتے پانی کے قطرےسب کے سب ہلتے تھےبس رفتار میں اک دوسرے سے مختلف تھے
میں اور میری حیاتیوں تو دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیںپھر بھی ہم کلام نہیں ہوتےجیسے ایک دوسرے سے ناآشنایا پھر دونوں کی زبانیں جدا جداحالات کی کشتی میں ڈولتے جاتے ہیںانجام سے بے خبر خطرات سے بے خطرآبلہ جس کے پھوٹنے کا انتظارایک خار ایک کلی کا محتاجسال کے بارہ مہینے ہفتے کے سات دنصبح شام ان میں پھنسا ہوا میںیہی ابتدا یہی انتہابس سانس کا بھتہ چلتا ہےدن لوہے کی مانند پگھلتا ہےاور میں بھیلاوا بن کر ایک دنان سال کے بارہ مہینوںہفتے کے ساتھ دنوں میں کبھیبہہ جاؤں گا
دھند کے رشتے گہرے ہوتے جاتے ہیںآواز نہیں جو آئےاور کانوں کی بے کار ہوس پرجلتے پانی کے چھینٹے دےسوچ سکو تو سوچواور اس ڈولتے پل کی راکھ پراپنے الٹے سیدھے نام لکھوشنکر درگا ودیا وجے سمتراجو اب بھی ہے وہ کبھی نہ تھاجو کبھی نہ تھا وہ اب بھی ہےوہ اب بھی ہے اور تم اس کو پہچانتے ہوجب دھند کا جھوٹتمہارے سر پر ناچے گاتم روؤ گےکسی کو اس کے نہ ہونے کا دوش نہ دووہ کون تھااپنے برسوں کے بھولے بسرے ایمان کی لجابھیگی مٹی میں بند کیےاس دکھی زمین پہ ہار گیاپہچانتے ہوشایدشاید تو پھر جانے دوبرے بھلے تو پیٹ کی کالی تہہ میں ہوتے ہیںاور مٹیالی الجھناور جسم پہ کتنی سرد لکیریںکھینچی جاتی ہیںکوئی نہیں جورو کےکوئی نہیں جورو کےابھلاشا کب پیدا ہوتی ہےکتنی گھڑیاں روز بڑھاتی ہےکتنی گھڑیاں روز گھٹاتی ہےکب جاگتی ہے کب سوتی ہےابھلاشا درگا ہےاور درگا ڈیزل پینا سیکھ گئی ہےاس نے دودھیا کپڑے اور سنہرے گہنےاتار دیئے ہیںکھلونے اب بھی مل جاتے ہیںپر دھرتی اناج سے خالی ہےاور جیب میں خاک بھری ہےخاک چھپا کر چلنا مشکل ہےجب سڑکیں جاتی ہوںجب دھوپ اور کوڑے کے دھبےرفتار گھلاوٹ چھوٹے بڑے اجدادسمے کے اڑتے ذروں کابے ضمیر بھی جاگ اٹھےتو جیب کی تہہ میںخاک چھپا کے چلنا مشکل ہےشور ہی شور اور گونگے پاؤںتازہ اخبار کے ٹکڑے دنیادروازے بند کروننھے وجے سے کہہ دو وہ سو جائےدوری صرف سسکتی دوری ہےوہ کبھی نہیں بھلائے گیدروازہ بند کرو اور چپ ہو جاؤدھند کے رشتے گہرے ہوتے جاتے ہیں
یہاں سے جو دیکھو تو جیسے۔۔۔ کہیں حد امکاں تلکگم شدہ وقت جیسی اندھیری گپھا ہےیہاں سے جو دیکھو۔۔۔ توامید جیسا بہت حیرت افزا۔۔۔ عجب سلسلہ ہےجو اس تنگ، تاریک نقطے سےممکن کے مانند، اک روشنی زاد قریے کی جانب کھلا ہےفضا میں کہیں نیلگوں سبز، ہلکے سنہرےکہیں بس ہرے ہی ہرے۔۔۔ سخت گہرےبہت اونگھتے ڈولتے رنگسوکھے ہوئے سرخ پتوں کے ماننداس بے اماں راستے پر پڑے ہیں
گلی کے سرخ موڑ پرکنار شام نقرئی لباس میں جمالتی ہوئی شریر اپسرا نہیں رہیوہ ریش میں گندھے ہوئےبدن کا خم زمین پر اتارتے ہوئے ضعیف لاٹھیوں پہ ڈولتےخمیدہ سر نہیں رہےوہ ٹائروں سے کھیلتا غبار اڑاتا بچپناوہ سانولے حجاب میں سفید مسکراہٹیںحیا کی سبز کترنیں کہ جن پہ سرخ موتیوں کا نیلگوں لحاف تھانہ جانے کون سمت ہیں
خوف ابھی جڑا نہ تھا سلسلۂ کلام سےحرف ابھی بجھے نہ تھے دہشت کم خرام سےسنگ ملال کے لیے دل آستاں ہوا نہ تھااقلیم خواب میں کہیں کوئی زیاں ہوا نہ تھانکہت ابر و باد کی مستی میں ڈولتے تھے گھرصاف دکھائی دیتے تھےاس کی گلی کے سب شجرگرد مثال دستکیں در پہ ابھی جمی نہ تھیںرنگ فراق و وصل کی پرتیں ابھی کھلی نہ تھیںایسے میں تھی کسے خبرجب ساعت ماہتاب ہویوں بھی تو ہے کہ اور ہی نقشۂ خاک و آب ہو
نہ تنہائی یہ سناٹا یہ آنسوتمناؤں کی شمعوں کی قطاریںدلوں کے زخم یادوں کے جنازےدہکتے پھول کجلائی بہاریںخلا میں ڈولتے ہیں دکھ کے سائےکوئی اپنا نہیں کس کو پکاریںدل ویراں کا اک پرتو ہے جس نےجہاں میں شام غم کا نام پایاکبھی جو درد کی شدت سے چیخےتو دنیا نے اسے اک گیت سمجھاانہیں چیخوں میں ڈھالا میں نے تجھ کوانہیں چیخوں میں تجھ کو میں نے پایاتھرکتی روشنی کی چند لہریںبہکتی چاندنی میں ایک سایا
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہےحسین اس میں خط کربلا بناتا ہےیزید موسم عصیاں کا لا علاج مرضحسین خاک سے خاک شفا بناتا ہےیزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیادحسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہےیزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گمحسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہےیزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھرحسین شام سے پہلے دیا بناتا ہےیزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سےحسین خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے
بے سبب تو نہ تھیں تری یادیںتیری یادوں سے کیا نہیں سیکھاضبط کا حوصلہ بڑھا لیناآنسوؤں کو کہیں چھپا لیناکانپتی ڈولتی صداؤں کوچپ کی چادر سے ڈھانپ کر رکھنابے سبب بھی کبھی کبھی ہنسناجب بھی ہو بات کوئی تلخی کیموضوع گفتگو بدل دینابے سبب تو نہیں تری یادیںتیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
بہت سے کام ہیںلپٹی ہوئی دھرتی کو پھیلا دیںدرختوں کو اگائیںڈالیوں پہ پھول مہکا دیںپہاڑوں کو قرینے سے لگائیںچاند لٹکائیںخلاؤں کے سروں پہ نیلگوں آکاشپھیلائیںستاروں کو کریں روشنہواؤں کو گتی دے دیںپھدکتے پتھروں کو پنکھ دے کر نغمگی دے دیںلبوں کو مسکراہٹانکھڑیوں کو روشنی دے دیںسڑک پر ڈولتی پرچھائیوں کوزندگی دے دیں
لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہےشاعری سچ بولتی ہےمیں نے دیکھا ہے کہ جب مری زباں ڈولتی ہےشاعری سچ بولتی ہےتیرا اصرار کہ چاہت مری بیتاب نہ ہوواقف اس غم سے مرا حلقۂ احباب نہ ہوتو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں رولتی ہےشاعری سچ بولتی ہےیہ بھی کیا بات کہ چھپ چھپ کے تجھے پیار کروںگر کوئی پوچھ ہی بیٹھے تو میں انکار کروںجب کسی بات کو دنیا کی نظر تولتی ہےشاعری سچ بولتی ہےمیں نے اس فکر میں کاٹیں کئی راتیں کئی دنمرے شعروں میں ترا نام نہ آئے لیکنجب تری سانس مری سانس میں رس گھولتی ہےشاعری سچ بولتی ہےتیرے جلووں کا ہے پر تری مری ایک ایک غزلتو مرے جسم کا سایہ ہے تو کترا کے نہ چلپردہ داری تو خود اپنا ہی بھرم کھولتی ہےشاعری سچ بولتی ہے
وہ اس کا آخری بوسہجو اس نفرت بھری دنیا میںاک خوشبو کا جھونکا تھابکھرتی پتیوں میں موسم گل کے اشارے کی طرحاک ڈولتی خوشبو کا جھونکامیں جسے اس حبس کے کالے قفس کی تیلیوں سے مسکراتا دیکھ سکتا ہوں
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
کنارے پر کوئی آیا تھا جس کا خالی بجرا ڈولتا رہتا ہے پانی پرکوئی اترا تھا بجرے سےوہ مانجھی ہوگا جس کے پاؤں کے مدھم نشاں اب تک دکھائی دے رہے ہیں گیلے ساحل پرگیا تھا کہکشاں کے پار یہ کہہ کرابھی آتا ہوں ٹھہرو اس کنارے پر ذرا میں دیکھ لوں کیا ہےیہ بجرا ڈولتا رہتا ہے اس ٹھہرے ہوئے دریا کے پانی پروہ لوٹے گا یا میں جاؤںمجھے اس پار جانا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books