aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dosto"
تمہارے دیس میں آیا ہوں دوستو اب کےنہ ساز و نغمہ کی محفل نہ شاعری کے لئےاگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھرچلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لئے
اے دوستو ملیں تو بس اک پیام کہنااستاد محترم کو میرا سلام کہنا
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!جس میں رکھا نہیں ہے کسی نے قدمکوئی اترا نہ میداں میں دشمن نہ ہمکوئی صف بن نہ پائی، نہ کوئی علممنتشر دوستوں کو صدا دے سکااجنبی دشمنوں کا پتا دے سکاتم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!جس میں رکھا نہیں ہم نے اب تک قدمتم یہ کہتے ہو اب کوئی چارا نہیںجسم خستہ ہے، ہاتھوں میں یارا نہیں
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیےزمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیںاور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیںصاف پانی ہوا بارشیں چاندنییہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیںیہ ہماری تمہاری کسی کی نہیںمجھ کو تعلیم صحت اور امید کیسات رنگوں بھری اک دھنک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنہ ہوا صاف ہے نہ فضا صاف ہےوہ جو آب بقا تھا وہ ناصاف ہےزمیں ہو سمندر ہو یا آسماںاک ذرا سوچیے اب کہ کیا صاف ہےموت سے پر خطر ہے یہ آلودگیدوستو دل میں تھوڑی کسک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہےبتاؤں کیا تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہےیہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہےیہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہےیہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہےمگر مزدور کے تن سے لہو تک چوس لیتی ہےیہ انسانی بلا خود خون انسانی کی گاہک ہےوبا سے بڑھ کے مہلک موت سے بڑھ کر بھیانک ہےنہ دیکھے ہیں برے اس نے نہ پرکھے ہیں بھلے اس نےشکنجوں میں جکڑ کر گھونٹ ڈالے ہیں گلے اس نےبلائے بے اماں ہے طور ہی اس کے نرالے ہیںکہ اس نے غیظ میں اجڑے ہوئے گھر پھونک ڈالے ہیںقیامت اس کے غمزے جان لیوا ہیں ستم اس کےہمیشہ سینۂ مفلس پہ پڑتے ہیں قدم اس کےکہیں یہ خوں سے فرد مال و زر تحریر کرتی ہےکہیں یہ ہڈیاں چن کر محل تعمیر کرتی ہےغریبوں کا مقدس خون پی پی کر بہکتی ہےمحل میں ناچتی ہے رقص گاہوں میں تھرکتی ہےبظاہر چند فرعونوں کا دامن بھر دیا اس نےمگر گل باغ عالم کو جہنم کر دیا اس نےدرندے سر جھکا دیتے ہیں لوہا مان کر اس کانظر سفاک تر اس کی نفس مکروہ تر اس کاجدھر چلتی ہے بربادی کے ساماں ساتھ چلتے ہیںنحوست ہم سفر ہوتی ہے شیطاں ساتھ چلتے ہیںیہ اکثر لوٹ کر معصوم انسانوں کو راہوں میںخدا کے زمزمے گاتی ہے چھپ کر خانقاہوں میںیہ ڈائن ہے بھری گودوں سے بچے چھین لیتی ہےیہ غیرت چھین لیتی ہے حمیت چھین لیتی ہےیہ انسانوں سے انسانوں کی فطرت چھین لیتی ہےیہ آشوب ہلاکت فتنۂ اسکندر و دارازمیں کے دیوتاؤں کی کنیز انجمن آراہمیشہ خون پی کر ہڈیوں کے رتھ میں چلتی ہےزمانہ چیخ اٹھتا ہے یہ جب پہلو بدلتی ہےگرجتی گونجتی یہ آج بھی میداں میں آتی ہےمگر بد مست ہے ہر ہر قدم پر لڑکھڑاتی ہےمبارک دوستو لبریز ہے اب اس کا پیمانہاٹھاؤ آندھیاں کمزور ہے بنیاد کاشانہ
ناگہاں آج مرے تار نظر سے کٹ کرٹکڑے ٹکڑے ہوئے آفاق پہ خورشید و قمراب کسی سمت اندھیرا نہ اجالا ہوگابجھ گئی دل کی طرح راہ وفا میرے بعددوستو قافلۂ درد کا اب کیا ہوگااب کوئی اور کرے پرورش گلشن غمدوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنمتھم گیا شور جنوں ختم ہوئی بارش سنگخاک رہ آج لیے ہے لب دلدار کا رنگکوئے جاناں میں کھلا میرے لہو کا پرچمدیکھیے دیتے ہیں کس کس کو صدا میرے بعد'کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق''ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد'
اک یہی سوز نہاں کل مرا سرمایہ ہےدوستو میں کسے یہ سوز نہاں نذر کروںکوئی قاتل سر مقتل نظر آتا ہی نہیںکس کو دل نذر کروں اور کسے جاں نذر کروںتم بھی محبوب مرے، تم بھی ہو دل دار مرےآشنا مجھ سے مگر تم بھی نہیں، تم بھی نہیںختم ہے تم پہ مسیحا نفسی، چارہ گریمحرم درد جگر تم بھی نہیں تم بھی نہیںاپنی لاش آپ اٹھانا کوئی آسان نہیںدست و بازو مرے ناکارہ ہوئے جاتے ہیںجن سے ہر دور میں چمکی ہے تمہاری دہلیزآج سجدے وہی آوارہ ہوئے جاتے ہیںدرد منزل تھی، مگر ایسی بھی کچھ دور نہ تھیلے کے پھرتی رہی رستے ہی میں وحشت مجھ کوایک زخم ایسا نہ کھایا کہ بہار آ جاتیدار تک لے کے گیا شوق شہادت مجھ کوراہ میں ٹوٹ گئے پاؤں تو معلوم ہواجز مرے اور مرا راہنما کوئی نہیںایک کے بعد خدا ایک چلا آتا تھاکہہ دیا عقل نے تنگ آ کے خدا کوئی نہیں
آج کے دن نہ پوچھو مرے دوستودور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دنکھل کے ہنسنے کے دن گیت گانے کے دنپیار کرنے کے دن دل لگانے کے دن
اٹھا دو دوستو اس دشمنی کو محفل سےشکایتوں کے بھلانے کو عید آئی ہے
تم سمجھتے ہو یہ شب آپ ہی ڈھل جائے گیخود ہی ابھرے گا نئی صبح کا زریں پرچممیں سمجھتا ہوں کسی صبح درخشاں کے عوضقہر کی ایک نئی رات کو دے گی یہ جنماور اس رات کی تاریکی میں کھو جائیں گےمکتب و خانقہ و دیر و کلیسا و حرمدیو ظلمات کی ٹھوکر سے نہ پائیں گے پناہیہ شوالے، یہ مساجد، یہ پجاری، یہ صنمرکھ دیے جائیں گے شمشیر کے زیر سایہدست ماتم لب فریاد، زبان و تنقیدبرف جم جائے گی افکار کے گلزاروں پریخ ہواؤں میں ہی جم جائے گی کشت امیدچاندنی ظلمت سیال میں ڈھل جائے گیرات کی مانگ سنوارے گی شعاع امیداہل فن دیں گے اندھیروں کو اجالوں کا لقبزہر کو قند، محرم کو کہا جائے گا عیدیہ مرا وہم نہیں، ناول و افسانہ نہیںدوستو! غور کرو، اور نگاہیں تو اٹھاؤوہ جو اک سرخ ستارہ ہے افق کے نزدیککچھ تمہیں علم ہے کس رخ پہ ہے اس کا پھیلاؤکاش تم اس کی حقیقت پہ نظر ڈال سکوہے یہ اک آتش صد برق بداماں کا الاؤاس کی کرنوں میں ہے چلتی ہوئی تلوار کی کاٹاس کی سرخی میں ہے امڈے ہوئے دریا کا بہاؤاس کے دامن میں ہے آسودہ وہ فتنہ جس سےجسم تو جسم میسر نہیں روحوں کو اماںدل، نظر، ذہن، خیالات، اصول و اقدارسب کے سب اس کی تگ و تاز سے لرزاں ترساںاس کی پرچھائیں بھی پڑ جائے تو سبزہ جل جائےدیکھتے دیکھتے ماحول پہ چھا جائے دھواںاس کے شعلوں کا تو کیا ذکر کہ شعلے ٹھہرےاس کی شبنم بھی گلستاں کے لیے برق تپاں
چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیبام سونا ہے، کہاں ڈھونڈیں کسی کا چہرا(لوگ سمجھیں گے کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی)شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپلکون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیںدور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادلچاند تنہا ہے (اگر اس کی بلائیں لے لیں؟)دوستو جی کا عجب حال ہے، لینا بڑھناچاندنی رات ہے کاتک کا مہینہ ہوگامیر مغفور کے اشعار نہ پیہم پڑھناجینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگاچاند ٹھٹھکا ہے سر شاخ صنوبر کب سےکون سا چاند ہے کس رت کی ہیں راتیں لوگودھند اڑنے لگی بننے لگی کیا کیا چہرےاچھی لگتی ہیں دوانوں کی سی باتیں لوگوبھیگتی رات میں دبکا ہوا جھینگر بولاکسمساتی کسی جھاڑی میں سے خوشبو لپکیکوئی کاکل کوئی دامن، کوئی آنچل ہوگاایک دنیا تھی مگر ہم سے سمیٹی نہ گئی
یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہکرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار آہہم عید کے بھی دن رہے امیدوار آہہو جی میں اپنے عید کی فرحت سے شاد کامخوباں سے اپنے اپنے لیے سب نے دل کے کامدل کھول کھول سب ملے آپس میں خاص و عامآغوش خلق گل بدنوں سے بھرے تمامخالی رہا پر ایک ہمارا کنار آہکیا پوچھتے ہو شوخ سے ملنے کی اب خبرکتنا ہی جستجو میں پھرے ہم ادھر ادھرلیکن ملا نہ ہم سے وہ عیار فتنہ گرملنا تو اک طرف ہے عزیزو کہ بھر نظرپوشاک کی بھی ہم نے نہ دیکھی بہار آہرکھتے تھے ہم امید یہ دل میں کہ عید کوکیا کیا گلے لگاویں گے دل بر کو شاد ہوسو تو وہ آج بھی نہ ملا شوخ حیلہ جوتھی آس عید کی سو گئی وہ بھی دوستواب دیکھیں کیا کرے دل امیدوار آہاس سنگ دل کی ہم نے غرض جب سے چاہ کیدیکھا نہ اپنے دل کو کبھی ایک دم خوشیکچھ اب ہی اس کی جورو و تعدی نہیں نئیہر عید میں ہمیں تو سدا یاس ہی رہیکافر کبھی نہ ہم سے ہوا ہمکنار آہاقرار ہم سے تھا کئی دن آگے عید سےیعنی کہ عید گاہ کو جاویں گے تم کو لےآخر کو ہم کو چھوڑ گئے ساتھ اور کےہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور راہ دیکھتےکیا کیا غرض سہا ستم انتظار آہکیوں کر لگیں نہ دل میں مرے حسرتوں کے تیردن عید کے بھی مجھ سے ہوا وہ کنارہ گیراس درد کو وہ سمجھے جو ہو عشق کا اسیرجس عید میں کہ یار سے ملنا نہ ہو نظیرؔاس کے اپر تو حیف ہے اور صد ہزار آہ
نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کااس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کاگھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کاکھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کاکپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کاجب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگعشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگکھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن بھوگدل کو آنند ہوئے بھاگ گئے روگ اور دھوگایسی خوبی ہے جہاں آنا ہوا پیسے کاساتھ اک دوست کے اک دن جو میں گلشن میں گیاواں کے سرو و سمن و لالہ و گل کو دیکھاپوچھا اس سے کہ یہ ہے باغ بتاؤ کس کااس نے تب گل کی طرح ہنس دیا اور مجھ سے کہامہرباں مجھ سے یہ تم پوچھا ہو کیا پیسے کایہ تو کیا اور جو ہیں اس سے بڑے باغ و چمنہیں کھلے کیاریوں میں نرگس و نسرین و سمنحوض فوارے ہیں بنگلوں میں بھی پردے چلونجا بجا قمری و بلبل کی صدا شور افگنواں بھی دیکھا تو فقط گل ہے کھلا پیسے کاواں کوئی آیا لیے ایک مرصع پنجڑالال دستار و دوپٹا بھی ہرا جوں طوطااس میں اک بیٹھی وہ مینا کہ ہو بلبل بھی فدامیں نے پوچھا یہ تمہارا ہے رہا وہ چپکانکلی منقار سے مینا کے صدا پیسے کاواں سے نکلا تو مکاں اک نظر آیا ایسادر و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلاسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگاواہ وا کر کے کہا میں نے یہ ہوگا کس کاعقل نے جب مجھے چپکے سے کہا پیسے کاروٹھا عاشق سے جو معشوق کوئی ہٹ کا بھرااور وہ منت سے کسی طور نہیں ہے منتاخوبیاں پیسے کی اے یارو کہوں میں کیا کیادل اگر سنگ سے بھی اس کا زیادہ تھا کڑاموم سا ہو گیا جب نام سنا پیسے کاجس گھڑی ہوتی ہے اے دوستو پیسے کی نمودہر طرح ہوتی ہے خوش وقتئ و خوبی بہبودخوش دلی تازگی اور خرمی کرتی ہے درودجو خوشی چاہیئے ہوتی ہے وہیں آ موجوددیکھا یارو تو یہ ہے عیش و مزا پیسے کاپیسے والے نے اگر بیٹھ کے لوگوں میں کہاجیسا چاہوں تو مکاں ویسا ہی ڈالوں بنواحرف تکرار کسی کی جو زباں پر آیااس نے بنوا کے دیا جلدی سے ویسا ہی دکھااس کا یہ کام ہے اے دوستو یا پیسے کاناچ اور راگ کی بھی خوب سی تیاری ہےحسن ہے ناز ہے خوبی ہے طرح داری ہےربط ہے پیار ہے اور دوستی ہے یاری ہےغور سے دیکھا تو سب عیش کی بسیاری ہےروپ جس وقت ہوا جلوہ نما پیسے کادام میں دام کے یارو جو مرا دل ہے اسیراس لیے ہوتی ہے یہ میری زباں سے تقریرجی میں خوش رہتا ہے اور دل بھی بہت عیش پذیرجس قدر ہو سکا میں نے کیا تحریر نظیرؔوصف آگے میں لکھوں تا بہ کجا پیسے کا
نیا سال پھر آ گیا دوستونئے سال کا خیر مقدم کریںپڑھائی کا ہم عزم محکم کریںبلند کامیابی کا پرچم کریںنیا سال پھر آ گیا دوستونئے حوصلے ہوں نئے ولولےنئی کوششیں ہوں نئے سلسلےہے دنیا سبھی سکھ کے دامن تلےنیا سال پھر آ گیا دوستوخلائی مسافر کی باتیں کریںثمر کامیابی کے اپنے چنیںترقی کی راہوں پہ بڑھتے رہیںنیا سال پھر آ گیا دوستوفسردہ روایات کو چھوڑ کرمسائل نئے رکھ کے پیش نظرکریں گے چلو سعئ شام و سحرنیا سال پھر آ گیا دوستواٹھو پرچم امن لے کر اٹھوجیو خود بھی اوروں کو بھی جینے دوچلو تو قدم سب ملا کر چلونیا سال پھر آ گیا دوستو
جنوری کا مہینہ جو آ کر گیاپھر نئے سال کی ابتدائی کر گیافروری کر رہا ہے جدا سردیاںہم اتاریں گے اب اون کی وردیاںمارچ ہے سال کا تیسرا ماہ نوسب کو کرتا ہے تلقین اب خوش رہوماہ اپریل میں امتحاں آئیں گےرات دن پڑھ کے ہم پاس ہو جائیں گےلو مئی آ گیا بند مکتب ہوئےگرمیوں سے پریشان ہم سب ہوئےجون بارش کی لائے خبر دوستوہے فلک کی طرف ہر نظر دوستوہے جولائی کے آنے کے اب سلسلےکھل گئے سارے اسکول مکتب کھلےسال میں جب بھی ماہ اگست آ چلااپنی آزادیوں کا بڑھا قافلہجب بھی ماہ ستمبر جناب آئے گاکھیتیوں پر غضب کا شباب آئے گالائے خوش حالیاں دیکھنا اکتوبرکھیت کھلیان کو ہو رہی ہے نظرکتنا پر کیف موسم نومبر میں ہےموتیوں جیسی شبنم نومبر میں ہےسال رخصت ہوا لو دسمبر چلاہو شروع اب نئے سال کا سلسلہ
کام جو رشوت سے بن جائے بنانا چاہئےچور بازاری میں کالا دھن کمانا چاہئےدودھ میں پانی با آزادی ملانا چاہئےجس سے مطلب ہو اسے مکھن لگانا چاہئےدوستو! یوں جشن آزادی منانا چاہئے؟
شاعری کی دو صنفیں ہیں نظم و غزلاردو میں ان کی شہرت ہے بچو اٹلنظم پابند ہے نظم آزاد بھییہ کبھی نثر ہے اور معرا کبھینظم پابند میں وزن ہوگا میاںاور آزاد میں بھی ہے اس کا نشاںنظم پابند کا طرز ہے جو لطیفاس میں پاؤ گے تم قافیہ و ردیفنثری نظموں میں بس نثر ہی نثر ہےوزن اور قافیہ ہے نہ ہی بحر ہےوزن اور قافیے جن کو مشکل ہوئےنثری نظمیں عموماً وہ کہتے لگےوزن نظم معرا میں ہے دوستواس کو تم بے ردیف و قوافی کہومثنوی ہو قصیدہ ہو یا مرثیہنظم کا ملتا ہے بچو ہم کو پتانظم میں سلسلہ ہے خیالات کاایک دریا سا ہے دیکھو جذبات کاوہ مخمس ہو یا ہو مسدس کوئییہ بھی اک شکل ہے نظم پابند کیوہ غزل ہو کہ ہو نظم بچو سنودونوں یکساں ہیں شہرت میں بس جان لوجوشؔ کی نظمیں مشہور ہیں ہر جگہہیں غزل کے جگرؔ واقعی بادشہنظم میں جو کہانی کہی جائے گیشوق سے اے میاں وہ سنی جائے گینظمیں سیماب و اقبال نے بھی لکھیںجو نہایت ہی مشہور ثابت ہوئیںکرتا ہوں بچوں کے واسطے میں دعانظمیں بچوں کی لکھتا ہوں حافظؔ سدا
دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہےسب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایان ہےاس طرح ہیں کوچہ و بازار پر نقش و نگارہو عیاں حسن نگارستاں کی جن سے خوب رےگرم جوشی اپنی با جام چراغاں لطف سےکیا ہی روشن کر رہی ہے ہر طرف روغن کی مےمائل سیر چراغاں نخل ہر جا دم بدمحاصل نظارہ حسن شمع رویاں پے بہ پےعاشقاں کہتے ہیں معشوقوں سے با عجز و نیازہے اگر منظور کچھ لینا تو حاضر ہیں روپےگر مکرر عرض کرتے ہیں تو کہتے ہیں وہ شوخہم سے لیتے ہو میاں تکرار و حجت تا بہ کےکہتے ہیں اہل قمار آپ میں گرم اختلاطہم تو ڈب میں سو رپے رکھتے ہیں تم رکھتے ہو کےجیت کا پڑتا ہے جس کا دانوں وہ کہتا ہے یوںسوئے دست راست ہے میرے کوئی فرخندہ پےہے دسہرے میں بھی یوں گو فرحت و زینت نظیرؔپر دیوالی بھی عجب پاکیزہ تر تیوہار ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books