aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "farz"
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوںفرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دواس محفل غم میں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ رہنے دویہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیںیہ سچ کہ بھڑکتے شعلوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیںرستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیںاوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیںلیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دوجو آگ دبی ہے سینے میں ہونٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دوجاری ہیں وطن کی راہوں میں ہر سمت لہو کے فوارےدکھ درد کی چوٹیں کھا کھا کر لرزاں ہیں دلوں کے گہوارےانگشت بہ لب ہیں شمس و قمر حیران و پریشاں ہیں تارےہیں باد سحر کے جھونکے بھی طوفان مسلسل کے دھارےاب فرصت ناؤ نوش کہاں اب یاد نہ آؤ رہنے دوطوفان میں رہنے والوں کو غافل نہ بناؤ رہنے دومانا کہ محبت کی خاطر ہم تم نے قسم بھی کھائی تھییہ امن و سکوں سے دور فضا پیغام سکوں بھی لائی تھیوہ دور بھی تھا جب دنیا کی ہر شے پہ جوانی چھائی تھیخوابوں کی نشیلی بد مستی معصوم دلوں پر چھائی تھیلیکن وہ زمانہ دور گیا اب یاد نہ آؤ رہنے دوجس راہ پہ جانا لازم ہے اس سے نہ ہٹاؤ رہنے دواب وقت نہیں ان نغموں کا جو خوابوں کو بیدار کریںاب وقت ہے ایسے نعروں کا جو سوتوں کو ہشیار کریںدنیا کو ضرورت ہے ان کی جو تلواروں کو پیار کریںجو قوم و وطن کے قدموں پر قربانی دیں ایثار کریںروداد محبت پھر کہنا اب مان بھی جاؤ رہنے دوجادو نہ جگاؤ رہنے دو فتنے نہ اٹھاؤ رہنے دومیں زہر حقیقت کی تلخی خوابوں میں چھپاؤں گا کب تکغربت کے دہکتے شعلوں سے دامن کو بچاؤں گا کب تکآشوب جہاں کی دیوی سے یوں آنکھ چراؤں گا کب تکجس فرض کو پورا کرنا ہے وہ فرض بھلاؤں گا کب تکاب تاب نہیں نظارے کی جلوے نہ دکھاؤ رہنے دوخورشید محبت کے رخ سے پردے نہ اٹھاؤ رہنے دوممکن ہے زمانہ رخ بدلے یہ دور ہلاکت مٹ جائےیہ ظلم کی دنیا کروٹ لے یہ عہد ضلالت مٹ جائےدولت کے فریبی بندوں کا یہ کبر اور نخوت مٹ جائےبرباد وطن کے محلوں سے غیروں کی حکومت مٹ جائےاس وقت بہ نام عہد وفا میں خود بھی تمہیں یاد آؤں گامنہ موڑ کے ساری دنیا سے الفت کا سبق دہراؤں گا
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانیتیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانیشہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کاکرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانیکہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعتجس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانیلبریز مئ زہد سے تھی دل کی صراحیتھی تہہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانیکرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنیمنظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانیمدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرےتھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانیحضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھااقبالؔ کہ ہے قمرئ شمشاد معانیپابندئ احکام شریعت میں ہے کیساگو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانیسنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتاہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانیہے اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا ساتفضیل علی ہم نے سنی اس کی زبانیسمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخلمقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانیکچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہےعادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانیگانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوتاس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانیلیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نےبے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانیمجموعۂ اضداد ہے اقبالؔ نہیں ہےدل دفتر حکمت ہے طبیعت خفقانیرندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقفپوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانیاس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتیہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانیالقصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنےتا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانیاس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میںمیں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانیاک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہدپھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانیفرمایا شکایت وہ محبت کے سبب تھیتھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانیمیں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہےیہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانیخم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگےپیری ہے تواضع کے سبب میری جوانیگر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقتپیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانیمیں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناساگہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانیمجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبالؔ کو دیکھوںکی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانیاقبالؔ بھی اقبالؔ سے آگاہ نہیں ہےکچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
اپنا جو فرض ہےاس طرح ہو اداجیسے ایک قرض ہے
ہماری چاہتوں کی بزدلی تھیورنہ کیا ہوتااگر یہ شوق کے مضموںوفا کے عہد نامےاور دلوں کے مرثیےاک دوسرے کے نام کر دیتےزیادہ سے زیادہچاہتیں بد نام ہو جاتیںہماری دوستی کی داستانیں عام ہو جاتیںتو کیا ہوتایہ ہم جو زیست کے ہر عشق میں سچائیاں سوچیںیہ ہم جن کا اثاثہ تشنگی، تنہائیاں سوچیںیہ تحریریںہماری آرزو مندی کی تحریریںبہم پیوستگی اور خواب پیوندی کی تحریریںفراق و وصل و محرومی و خورسندی کی تحریریںہم ان پر منفعل کیوں ہوںیہ تحریریںاگر اک دوسرے کے نام ہو جائیںتو کیا اس سے ہمارے فن کے رسیاشعر کے مداحہم پر تہمتیں دھرتےہماری ہمدمی پر طنز کرتےاور یہ باتیںاور یہ افواہیںکسی پیلی نگارش میںہمیشہ کے لئے مرقوم ہو جاتیںہماری ہستیاں مذموم ہو جاتیںنہیں ایسا نہ ہوتااور اگر بالفرض ہوتا بھیتو پھر ہم کیاسبک ساران شہر حرف کی چالوں سے ڈرتے ہیںسگان کوچۂ شہرت کے غوغاکالے بازاروں کے دلالوں سے ڈرتے ہیںہمارے حرف جذبوں کی طرحسچے ہیں، پاکیزہ ہیں، زندہ ہیںبلا سے ہم اگر مصلوب ہو جاتےیہ سودا کیا برا تھاگر ہماری قبر کے کتبےتمہارے اور ہمارے نام سے منسوب ہو جاتے!
آنکھ بوجھل ہےمگر نیند نہیں آتی ہےمیری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیںکسی کروٹ بھی مجھے چین نہیں پڑتا ہےسرد پڑتی ہوئی راتمانگنے آئی ہے پھر مجھ سےترے نرم بدن کی گرمیاور دریچوں سے جھجکتی ہوئی آہستہ ہواکھوجتی ہے مرے غم خانے میںتیری سانسوں کی گلابی خوشبو!میرا بستر ہی نہیںدل بھی بہت خالی ہےاک خلا ہے کہ مری روح میں دہشت کی طرح اترا ہےتیرا ننھا سا وجودکیسے اس نے مجھے بھر رکھا تھاترے ہوتے ہوئے دنیا سے تعلق کی ضرورت ہی نہ تھیساری وابستگیاں تجھ سے تھیںتو مری سوچ بھی، تصویر بھی اور بولی بھیمیں تری ماں بھی، تری دوست بھی ہمجولی بھیتیرے جانے پہ کھلالفظ ہی کوئی مجھے یاد نہیںبات کرنا ہی مجھے بھول گیا!تو مری روح کا حصہ تھامرے چاروں طرفچاند کی طرح سے رقصاں تھا مگرکس قدر جلد تری ہستی نےمرے اطراف میں سورج کی جگہ لے لی ہےاب ترے گرد میں رقصندہ ہوں!وقت کا فیصلہ تھاترے فردا کی رفاقت کے لیےمیرا امروز اکیلا رہ جائےمرے بچے، مرے لالفرض تو مجھ کو نبھانا ہے مگردیکھ کہ کتنی اکیلی ہوں میں!
ہم بھی حب وطن میں ہیں گو غرقہم میں اور ان میں ہے مگر یہ فرقہم ہیں نام وطن کے دیوانےوہ تھے اہل وطن کے پروانےجس نے یوسف کی داستاں ہے سنیجانتا ہوگا روئداد اس کیمصر میں قحط جب پڑا آ کراور ہوئی قوم بھوک سے مضطرکر دیا وقف ان پہ بیت الماللب تک آنے دیا نہ حرف سوالکھتیاں اور کوٹھے کھول دیےمفت سارے ذخیرے تول دیےقافلے خالی ہاتھ آتے تھےاور بھرپور یاں سے جاتے تھےیوں گئے قحط کے وہ سال گزرجیسے بچوں کی بھوک وقت سحر
وہ وقت کبھی تو آئے گا جب دل کے چمن لہرائیں گےمر جاؤں تو کیا مرنے سے مرے یہ خواب نہیں مر جائیں گےیہ خواب ہی میری دولت ہیں یہ خواب تمہیں دے جاؤں گااس دہر میں جینے مرنے کے آداب تمہیں دے جاؤں گاممکن ہے کہ یہ دنیا کی روش پل بھر کو تمہارا ساتھ نہ دےکانٹوں ہی کا تحفہ نذر کرے پھولوں کی کوئی سوغات نہ دےممکن ہے تمہارے رستے میں ہر ظلم و ستم دیوار بنےسینے میں دہکتے شعلے ہوں ہر سانس کوئی آزار بنےایسے میں نہ کھل کر رہ جانا اشکوں سے نہ آنچل بھر لیناغم آپ بڑی اک طاقت ہے یہ طاقت بس میں کر لیناہو عزم تو لو دے اٹھتا ہے ہر زخم سلگتے سینے کاجو اپنا حق خود چھین سکے ملتا ہے اسے حق جینے کالیکن یہ ہمیشہ یاد رہے اک فرد کی طاقت کچھ بھی نہیںجو بھی ہو اکیلے انساں سے دنیا کی بغاوت کچھ بھی نہیںتنہا جو کسی کو پائیں گے طاقت کے شکنجے جکڑیں گےسو ہاتھ اٹھیں گے جب مل کر دنیا کا گریباں پکڑیں گےانسان وہی ہے تابندہ اس راز سے جس کا سینا ہےاوروں کے لیے تو جینا ہی خود اپنے لیے بھی جینا ہے
کچھ الٹا سیدھا فرض کروںکچھ سیدھا الٹا ہو جائے
کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرودہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کروجس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیابھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقاباغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاںآدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاںہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پرتیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پرسخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکرنوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکرجب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطےنوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھےہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھیسچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھیاپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہےکمپنی کا پھر وہ دور مجرمانہ یاد ہےلوٹتے پھرتے تھے جب تم کارواں در کارواںسر برہنہ پھر رہی تھی دولت ہندوستاںدست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تمسرد لاشوں سے گڈھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تمصنعت ہندوستاں پر موت تھی چھائی ہوئیموت بھی کیسی تمہارے ہات کی لائی ہوئیاللہ اللہ کس قدر انصاف کے طالب ہو آجمیر جعفرؔ کی قسم کیا دشمن حق تھا سراجؔکیا اودھ کی بیگموں کا بھی ستانا یاد ہےیاد ہے جھانسی کی رانی کا زمانہ یاد ہےہجرت سلطان دہلی کا سماں بھی یاد ہےشیر دل ٹیپوؔ کی خونیں داستاں بھی یاد ہےتیسرے فاقے میں اک گرتے ہوئے کو تھامنےکس کے تم لائے تھے سر شاہ ظفر کے سامنےیاد تو ہوگی وہ مٹیا برج کی بھی داستاںاب بھی جس کی خاک سے اٹھتا ہے رہ رہ کر دھواںتم نے قیصر باغ کو دیکھا تو ہوگا بارہاآج بھی آتی ہے جس سے ہائے اخترؔ کی صداسچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہآج تک رنگون میں اک قبر ہے جس کی گواہذہن میں ہوگا یہ تازہ ہندیوں کا داغ بھییاد تو ہوگا تمہیں جلیانوالا باغ بھیپوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہےڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہےوہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہےاس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہےاہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سےپوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سےاب بھی ہے محفوظ جس پر طنطنہ سرکار کاآج بھی گونجی ہوئی ہے جن میں کوڑوں کی صداآج کشتی امن کے امواج پر کھیتے ہو کیوںسخت حیراں ہوں کہ اب تم درس حق دیتے ہو کیوںاہل قوت دام حق میں تو کبھی آتے نہیں''بینکی'' اخلاق کو خطرے میں بھی لاتے نہیںلیکن آج اخلاق کی تلقین فرماتے ہو تمہو نہ ہو اپنے میں اب قوت نہیں پاتے ہو تماہل حق روشن نظر ہیں اہل باطن کور ہیںیہ تو ہیں اقوال ان قوموں کے جو کمزور ہیںآج شاید منزل قوت میں تم رہتے نہیںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لئے کہتے نہیںکیا کہا انصاف ہے انساں کا فرض اولیںکیا فساد و ظلم کا اب تم میں کس باقی نہیںدیر سے بیٹھے ہو نخل راستی کی چھاؤں میںکیا خدا ناکردہ کچھ موچ آ گئی ہے پاؤں میںگونج ٹاپوں کی نہ آبادی نہ ویرانے میں ہےخیر تو ہے اسپ تازی کیا شفا خانے میں ہےآج کل تو ہر نظر میں رحم کا انداز ہےکچھ طبیعت کیا نصیب دشمناں ناساز ہےسانس کیا اکھڑی کہ حق کے نام پر مرنے لگےنوع انساں کی ہوا خواہی کا دم بھرنے لگےظلم بھولے راگنی انصاف کی گانے لگےلگ گئی ہے آگ کیا گھر میں کہ چلانے لگےمجرموں کے واسطے زیبا نہیں یہ شور و شینکل یزیدؔ و شمرؔ تھے اور آج بنتے ہو حسینؔخیر اے سوداگرو اب ہے تو بس اس بات میںوقت کے فرمان کے آگے جھکا دو گردنیںاک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کیجس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کیوقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیںموت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں
سرد سلوں پرزرد سلوں پرتازہ گرم لہو کی صورتگلدستوں کے چھینٹے ہیںکتبے سب بے نام ہیں لیکنہر اک پھول پہ نام لکھا ہےغافل سونے والے کایاد میں رونے والے کااپنے فرض سے فارغ ہو کراپنے لہو کی تان کے چادرسارے بیٹے خواب میں ہیںاپنے غموں کا ہار پرو کراماں اکیلی جاگ رہی ہے
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
سمجھتے کیا ہو تم دل کوبالآخر کیا سمجھتے ہوکبھی کہتے ہو پتھر ہےتراشو خوب نکھرے گاکبھی شیشہ سمجھتے ہوجو آندھی نے بکھیرا ہوسیہ وہ راز صدیوں کےاسی دل میں چھپاتے ہوکبھی مردہ سی یادوں کوبھی سینے میں دباتے ہومیں اکثر فرض کرتی ہوںمیں جو تم سے اگر کہہ دوںکہ دل میں کوئی بستا ہےنگاہوں میں اترتا ہےبہاروں میں سنورتا ہےوہ دل کو گھر بتاتا ہےوہ گھر میں بت بناتا ہےوہ خود کا عکس چنتا ہےوہ دل کو چاک کرتا ہےمیں اس کی کارسازی میںخموشی سے تڑپتی ہوںاسے اپنا بتانے کےعمل کو پھر جھپٹتی ہوںدعا کرتی ہوں قدرت سےکہ جس نے گھر بنایا تھاجسے گھر کا مکیں جانااسے مہمان کر دے توتو قدرت پھر مرے ہاتھوںکو کچھ اوزار دیتی ہےمیں اپنے آپ ہی اس دلکے گھر کو نوچ دیتی ہوںتمہیں معلوم ہے کتنیمیں اب تکلیف سہتی ہوںکہ جب دیوار کو گھر کیمیں خود ہی صاف کرتی ہوںمیں اکثر فرض کرتی ہوںمیں جو تم سے اگر کہہ دوںکہ دل میں اب نہیں کوئییہ دل بنجر زمیں کوئیتو کیا تم پھر بھی آؤ گےتو کیا دل کو سنوارو گے
اک بوڑھا بستر مرگ پہ ہےبیمار بدن لاچار بدنسانسیں بھی کچھ بوجھل سی ہیںاور آنکھیں بھی جل تھل سی ہیںایسا بھی نہیں تنہا ہے وہپانی ہے مگر پیاسا ہے وہگھر میں بہوویں بیٹے بھی ہیںہیں پوتیاں بھی پوتے بھی ہیںلیکن کوئی پاس نہیں آتاسب جھانکتے ہیں چلے جاتے ہیںجیسے یہ اس کا گھر ہی نہیںجیسے وہ سب بیگانے ہیںجس بہو کا نمبر ہوتا ہےکھانے کے نوالے ٹھونس کے وہفرض اپنا مکمل کرتی ہےپھر وقت پہ کوئی اک بیٹاوہ جس کو تھوڑی فرصت ہوپہلے تو آ کر ڈانٹتا ہےدیتا ہے دوائی پھر ایسےجیسے احسان کرے کوئیجیسے اپمان کرے کوئیہر دن یہ بوڑھا سوچتا ہےکوئی بات نئی ہو آج کے دنکوئی دو میٹھے الفاظ کہےکبھی محفل اس کے پاس سجےکبھی ہنسنے کی کوئی بات چلےمگر ایسا پچھلے برسوں میںکبھی ہو پایا نہیں ہو پایااپنے اس بیگانے پن پراپنے اس ویرانے پن پریہ بوڑھا انکشاف رہتا ہےیہ بوڑھا روتا رہتا ہےاک بوڑھا بستر مرگ پہ ہے
گھٹ گیا اندھیرے کا آج دم اکیلے میںہر نظر ٹہلتی ہے روشنی کے میلے میںآج ڈھونڈھنے پر بھی مل سکی نہ تاریکیموت کھو گئی شاید زندگی کے ریلے میںاس طرح سے ہنستی ہیں آج دیپ مالائیںشوخیاں کریں جیسے ساتھ مل کے بالائیںہر گلی نئی دلہن ہر سڑک حسینہ ہےہر دیہات انگوٹھی ہے ہر نگر نگینہ ہےپڑ گئی ہے خطرے میں آج یم کی یمراجیموت کے بھی ماتھے پر موت کا پسینہ ہےرات کے کروں میں ہے آج رات کا کنگناک سہاگنی بن کر چھائی جاتی ہے جوگنقمقمے جلے گھر گھر روشنی ہے پٹ پٹ پرلے کے کوئی منگل گھٹ چھا گیا ہے گھٹ گھٹ پرروشنی کرو لیکن فرض پر نہ آنچ آئےہو نگاہ سیما پر اور کان آہٹ پرہوشیار ان سے بھی جو نگاہ پھیرے ہیںپاک ہی نہیں تنہا اور بھی لٹیرے ہیںچھوڑ اپنی ناپاکی یا بدل دے اپنی دھنموت لے گا یا جیون دو میں جس کو چاہے چنہم ہیں کرشن کی لیلا ہم ہیں ویر بھارت کےہم نکل ہیں ہم سہدیو ہم ہیں بھیم ہم ارجندروپدیؔ سے درگھٹنا دور کر کے چھوڑیں گےاے سمے کے دریودھن چور کر کے چھوڑیں گےقبر ہو سمادھی ہو سب کو جگمگائیں گےدھوم سے شہیدوں کا سوگ ہم منائیں گےتم سے کام لینا ہے ہم کو دیپ مالاؤسارے دیپ کی لو سے دل کی لو بڑھائیں گےسب سے گرمیاں لے کر سینے میں چھپانا ہےدل کو اس دوالی سے اگنی بم بنانا ہے
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
ایک ہے اپنی زمیںایک ہے اپنا گگنایک ہے اپنا جہاںایک ہے اپنا وطناپنے سبھی سکھ ایک ہیںاپنے سبھی غم ایک ہیںآواز دو ہم ایک ہیںیہ وقت کھونے کا نہیںیہ وقت سونے کا نہیںجاگو وطن خطرے میں ہےسارا چمن خطرے میں ہےپھولوں کے چہرے زرد ہیںزلفیں فضا کی گرد ہیںامڑا ہوا طوفان ہےگھر کی حفاظت فرض ہےبیدار ہو بیدار ہوآمادۂ پیکار ہوآواز دو ہم ایک ہیںیہ ہے ہمالہ کی زمیںتاج و اجنتا کی زمیںسنگم ہماری آن ہےچتور اپنی شان ہےگل مرگ کا مہکا چمنجمنا کا تٹ گوکل کا بنگنگا کے دھارے اپنے ہیںیہ سب ہمارے اپنے ہیںکہہ دو کوئی دشمن نظراٹھے نہ بھولے سے ادھرکہہ دو کہ ہم بیدار ہیںکہہ دو کہ ہم تیار ہیںآواز دو ہم ایک ہیںاٹھو جوانان وطنباندھے ہوئے سر سے کفناٹھو دکن کی اور سےگنگ و جمن کی اور سےپنجاب کے دل سے اٹھوستلج کے ساحل سے اٹھوبنگال سے گجرات سےکشمیر کے باغات سےنیفا سے راجستھان سےکل خاک ہندوستان سےآواز دو ہم ایک ہیںہم ایک ہیںہم ایک ہیں
جان سکوں کہ اچھا کیا ہےکھرا ہے کیوں کر کھوٹا کیا ہےحق اور فرض میں فرق ہے کتناسچ اور جھوٹ کا جھگڑا کیا ہے
آئینۂ خلوص و محبت یہاں تھے رامامن اور شانتی کی ضمانت یہاں تھے رامسچائیوں کی ایک علامت یہاں تھے رامیعنی دل و نگاہ کی چاہت یہاں تھے رامقدموں سے رام کے یہ زمیں سرفراز ہےہندوستاں کو ان کی شجاعت پہ ناز ہےان کے لئے گناہ تھا یہ ظلم و انتشارایثار ان کا سارے جہاں پر ہے آشکاردامن نہیں تھا ان کا تعصب سے داغدارحرص و ہوس سے دور تھے وہ صاحب وقاربے شک انہیں کے نام سے روشن ہے نام ہنداقبال نے بھی ان کو کہا ہے امام ہندلعل و گہر کی کوئی نہیں تھی طلب انہیںعزت کے ساتھ دل میں بساتے تھے سب انہیںبچپن سے نا پسند تھے غیظ و غضب انہیںلوگوں کا دل دکھانا گوارا تھا کب انہیںوہ ظالموں پہ قہر غریبوں کی ڈھال تھےکردار و اعتبار کی روشن مثال تھےان کو تھا اپنی رسم اخوت پہ اعتمادخود کھا کے جوٹھے بیر دیا درس اتحادفرض آشنا تھے فرض کو رکھا ہمیشہ یادکہنے پہ اپنی ماں کے کہا گھر کو خیربادرخصت ہوئے تو لب پہ نہ تھے شکوہ و فغاںیہ حوصلہ نصیب ہوا ہے کسے یہاںبن باس پر بھی لب پہ نہ تھا ان کا احتجاجبھائی کے حق میں چھوڑ دیا اپنا تخت و تاجکرتے رہے وہ چودہ برس تک دلوں پہ راجہندوستاں میں ہے کوئی ان کی مثال آجراہ وفا پہ چل کے دکھایا ہے رام نےکہتے ہیں کس کو تیاگ بتایا ہے رام نےرہبر یہ شر پسند کہاں اور کہاں وہ راموہ بے نیاز عیش و طرب زر کے یہ غلاموہ پیکر وفا یہ ریاکار و بد کلاموہ امن کے نقیب یہ شمشیر بے نیامرسم و رواج رام سے عاری ہیں شر پسندراون کی نیتیوں کے پجاری ہیں شر پسند
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books