aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gesu-e-urduu"
سب مال نکالو، لے آؤاے بستی والو لے آؤیہ تن کا جھوٹا جادو بھییہ من کی جھوٹی خوشبو بھییہ تال بناتے آنسو بھییہ جال بچھاتے گیسو بھییہ لرزش ڈولتے سینے کیپر سچ نہیں بولتے سینے کییہ ہونٹ بھی، ہم سے کیا چوریکیا سچ مچ جھوٹے ہیں گوری؟ان رمزوں میں ان گھاتوں میںان وعدوں میں ان باتوں میںکچھ کھوٹ حقیقت کا تو نہیں؟کچھ میل صداقت کا تو نہیں؟یہ سارے دھوکے لے آؤیہ پیارے دھوکے لے آؤکیوں رکھو خود سے دور ہمیںجو دام کہو منظور ہمیں
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
خاکستر دل کو ہے پھر شعلہ بجاں ہوناحیرت کا جہاں ہونا حسرت کا نشاں ہونااے شخص جو تو آکر یوں دل میں سمایا ہےتو درد کہ درماں ہے تو دھوپ کہ سایا ہے؟نیناں ترے جادو ہیں گیسو ترے خوشبو ہیںباتیں کسی جنگل میں بھٹکا ہوا آہو ہیںمقصود وفا سن لے کیا صاف ہے سادہ ہےجینے کی تمنا ہے مرنے کا ارادہ ہے
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجاتھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پرآہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہےلطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیںہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیںآہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیںگیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہےاے جہان آباد اے گہوارۂ علم و ہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام درذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہےتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
غزلوں کے اے شہنشاہ میرؔ جہان اردوباقی نہیں جہاں میں نام و نشان اردوخون جگر سے تو نے جس ریختہ کو سینچاعالم میں نزع کے ہے ملتا نہیں مسیحاجس باغ میں پلی تھی اس میں سبھی نے مسلاجس گلستاں کی جاں تھی اس میں بھی اب ہے رسواجس کی زبانوں پر ہے کم ایسے رہ گئے ہیںبہوٹ میں وقت ہی کی سب لوگ بہہ گئے ہیںاہل زباں نے چھوڑا دانشور اٹھ رہے ہیںرسوائی ہے مقدر جس سمت بھی گئے ہیںغزلوں کے اے شہنشاہ میرؔ جہان اردوباقی نہیں جہاں میں نام و نشان اردو
عروس فطرت کے ریشمیں پیرہن کا یہ آتشیں تبسمضیائے خاموش کے سکوت آشنا ترنم میں گھل رہا ہےکہ عقدۂ گیسوئے شب تار کھل رہا ہے
اے اہل سخن ملک کا بھی آپ پہ حق ہےمانا کہ دل آویز ہیں گیسو و لب یار
پیام دیدۂ افسانہ کار چھوڑ گیاحکایت خم گیسوئے یار چھوڑ گیا
کہیں نہ کیوں اے قوی تجھے ہم بصدق دل پاسبان اردوبنا ہے تیری ہی سعی و کاوش سے سیفیہ گلستان اردونفس نفس میں ترے یقیناً بسی ہے بوئے زبان اردوتری نوا ہے نوائے اردو ترا بیاں ہے بیان اردودکھائیں بھوپال کو ترے ہی جنوں نے جہد و عمل کی راہیںوگرنہ مایوس ہو چکے تھے یہاں کے چارہ گران اردووجود تیرا سبھی کے حق میں ہے چشمہ و آبشار و دریابجھاتے ہیں پیاس اپنی اپنی تجھی سے سب تشنگان اردواسے زمانہ شناسی تیری نہ ہم کہیں گے تو کیا کہیں گےبنا دیا سیفیہؔ کو تو نے جو ایک دارالامان اردوتجھی سے شہر غزل کو اقبالیات کی منزلیں ملی ہیںترے ہی عزم و عمل سے ہے گامزن یہاں کاروان اردوترا اجالا مٹا رہا ہے شب جہالت کی تیرگی کوچمک رہا ہے تو بن کے بھوپال میں مہ آسمان اردوکھلائے ہیں شاخ شاخ تو نے یہاں پہ نطق و نوا کے غنچےغلط نہیں ہے جو کہہ رہے ہیں سبھی تجھے خوش بیان اردوترے عزائم کی استقامت پہ سر بکف ہیں حریف تیرےخوشا کہ تیرے جوان ہاتھوں میں آج بھی ہے کمان اردوصد آفریں تیری ہمتوں پر صد آفریں تیری جرأتوں پرسنائی ہے بزم غیر میں تو نے بارہا داستان اردویہ کم نہیں ہے کہ معترف ہے تری بصیرت کا یہ زمانہرہا ہے صدہا خلوص دل سے تو شامل عاشقان اردورواں ہیں تقریر اور تحریر سے تری آگہی کے چشمےترا قلم ہے وقار اردو تری زباں ترجمان اردومجلہ غالبؔ پہ کر کے شائع کیا ہے بے شک کمال تو نےجہان علم و ادب کے حق میں ہے خوب یہ ارمغان اردونئے نئے گل کھلا رہا ہے ادب میں تیرے قلم کا جادوتری فراست کے معترف ہیں تمام تر نکتہ دان اردواگرچہ راہوں میں تیری حائل ہوئے ہیں دیوار بن کے اکثرمگر ترے عزم و حوصلہ سے خجل ہیں سب حاسدان اردویہ تیری کوشش حفاظتوں کی یہ تیرا جذبہ سلامتی کانہ ہو تو اردو کو بیچ کھائیں ذرا میں یہ تاجران اردومثال خورشید تو نے بخشی ہے روشنی جن کو علم و فن کیچمک رہے ہیں ادب کے گردوں پہ بن کے وہ اختران اردوجو تیرے فن کے امین بن کر فضائے عالم پہ چھا گئے ہیںبڑی عقیدت سے دیکھتے ہیں تجھے وہ شائستگان اردواجالا کرتے رہیں گے یوں ہی چراغ بن کر رہ طلب میںہر اک قدم پر جو تو نے چھوڑے ہیں جگمگاتے نشان اردوکہا ہے تو نے بھی بارہا خود یہیں پلی ہے یہیں بڑھی ہےکسی زباں کی حریف ہرگز یہاں نہیں ہے زبان اردوترے جہاد و عمل کے صدقے یقین ہے اے قوی یہ ہم کواسی طرح تو بنا رہے گا یہاں سدا پاسبان اردو
کتنے ماتھوں کے ابھی سرد ہیں رنگین گلابگرد افشاں ہیں ابھی گیسوئے پر خم کتنے
خواہش سایہ گیسوئے پریشاں ہی نہیںجنت عارض و لب کی بھی تمنا نہ کروںاپنی تنہائی کے سنسان در و بام کبھیمیں ترے حسن تصور سے سجایا نہ کروں
سونا سونا سا ہے کیوں آج جہان اردواٹھ گیا کہتے ہیں اک پیر مغان اردو
نہ سیاہی کا سمندر نہ فلک سا کاغذکیسے لکھے کوئی تعریف زبان اردو
آج بھی کرب مسلسل کا وہی عالم ہےسلسلہ ہر نئی الجھن کا اسی غم سے ہےآج بھی ذہن میں زندہ ہیں وہی افسانےجن کا رشتہ بھی اسی گیسوئے پر خم سے ہے
رخ اردو پہ تری فکر کا اک غازہ ہےدل زمیں کا ہے تو آفاق کا آوازہ ہے
ہے اب تک سحر سا چھایا تری جادو نوائی کادل اردو پہ اب تک داغ ہے تیری جدائی کا
گل سحر کی نہ گیسوئے شام کی خوشبوفضا فضا میں ہے تیرے کلام کی خوشبو
میری تصویر دھنک رنگ نہیں ہو پائیمیرے خوابوں کو تری آنکھ نہیں دیکھ سکیتو ہے خطاط مرے حرف بدن کے بدلےوہ لکیریں بھی بنا فکر کو ظاہر جو کریںگیسو و عارض و لب ہی ترا معیار رہےسنگ مرمر کا بدن ہی ترا شہکار رہےمیں کچھ اس سے بھی سوا ہوں تجھے معلوم نہیںمیں تری دوست ہوں لیکن تری محکوم نہیں
عارض پر نور جھلکا گیسوئے شب رنگ سےجوئے بار ساز دل نکلی سکوت سنگ سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books