aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jaa.eza"
تمہیں پیار ہے، تو یقین دو،مجھے نہ کہو، تمہیں پیار ہے، مجھے دیکھنے کی نہ ضد کرو،تمہیں فکر ہو، مرے حال کی،کوئی گفتگو ہو ملال کی،جو خیال ہو، نہ کیا کرو،نہ کہا کرو مری فکر ہےمیں عزیز تر ہوں جہان سےیا ایمان سے، نہ کہا کرو،نہ لکھا کرو مجھے ورق پر، کسی فرش پر،نہ اداس ہو، نہ ہی خوش رہومجھے سوچ کر، یا کھروچ کر، میری یاد کو نہ آواز دو،مجھے خط میں لکھ کے خداؤں کا نہ دو واسطہتمہیں پیار میں نہ قرار ہے، مجھے اس زباں کا یقین نہیںکچھ اور ہو، جو سنا نہ ہو، جو کہا نہ ہو، جو لکھا نہ ہوتو یقین ہو!رکو اور تھوڑا سا ضبط لو، مجھے سوچ لینے کو وقت دو،چلو یوں کرو مرے واسطے کہ بلند و بالا عمارتوں کا لو جائزہجو فلک کو بوسہ لگا رہی ہوں عمارتیں،جو تمہارے پیار سے لے رہی ہوں مشابہتیںجو ہو سب سے زیادہ بلند و بالا الگ تھلگاسے سر کرو،اسے چھت تلک، ہاں یہیں رکو، یہ وہ ہی ہے چھت،ذرا سانس لینے کو قیام لو، مرا نام لو،تو سفر کی ساری تھکن یہیں پہ اتار لو،اب! مرے تمہارے جو درمیاں میں ہے فاصلہ، وہ ذرا سا ہے،وہ مٹا سکو، تو غرور ڈھاتی بلندیوں کو پھلانگ دو!تمہیں پیار ہے تو یقین دو!!
رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسےدیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہےمیں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائےسونے سے پہلے خیالات میں کھویا ہوا ہوںدن میں کیا کچھ کیا اک جائزہ لیتا ہے ضمیرایک سادہ سا ورق نامۂ اعمال ہے سبکچھ نہیں لکھا بجز اس کے پسے جاؤ یوں ہیکچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ انساں کا نصیبگیلی گوندھی ہوئی مٹی کا ہے اک تودہ سادن میں سو شکلیں بنا کرتی ہیں اس مٹی سےکچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ چیونٹی دل ہےجوق در جوق جو انسان نظر آتے ہیںدانہ لے کر کسی دیوار پہ چڑھنا گرنااور پھر چڑھنا چڑھے جانا یوں ہی شام و سحرکچھ نہیں لکھا بس اتنا کہ پسے جاؤ یوں ہیاور اندوہ تأسف خوشی آلام نشاطخود کو سو ناموں سے بہلاتے رہو چلتے رہوسانس رک جائے جہاں سمجھو وہیں منزل ہےاور اس دوڑ سے تھک جاؤ تو سگریٹ پی لو
میری ایک خواہش ہےکوئی ایک نقطہ ہوجو وجود کی ساریسرحدوں سے باہر ہوجس پہ جا کے میں اپناایک جائزہ لے لوںاپنے آپ سے ہٹ کراپنے آپ کو دیکھوں
جون کی گرمی کڑکتی دھوپ لو چلتی ہوئیہر گھڑی مزدور کے سر سے قضا ٹلتی ہوئیسر پہ گارے کی کڑھائی اور دیوار بلندہانپتا وہ چڑھ رہا ہے لے کے ہمت کی کمندپاڑ پر پہنچا تو اک گالی سنی معمار سےجی میں آیا سر کو ٹکرا دے اسی دیوار سےہائے اس مظلوم کی مجبوریاں نا چاریاںجان کا آزار ہیں افلاس کی بیماریاںدل میں کہتا ہے کہ یہ معمار بھی مزدور ہےپھر یہی جان حزیں کیوں اس قدر مقہور ہےاس کی اجرت مجھ سے دگنی ہے مگر کم ہے شعورتمکنت کس بات پر کس چیز پر اتنا غرورمیں اگر نادار ہوں یہ بھی نہیں سرمایہ داربھوت وہ ہے کس بڑائی کا جو اس پر ہے سواراینٹ گارا میں نہ دوں اس کو تو یہ کس کام کااصل میں معمار میں ہوں یہ فقط ہے نام کامیری ہمت کہہ رہیں ہیں کاخ دیوان بلندآہ اس پر بھی میں دنیا میں ہوں اتنا مستمندلگ گیا پھر کام میں یہ سوچ کر وہ بد نصیباے خدا دنیا میں اتنا بھی نہ ہو کوئی غریبدن ڈھلا جس وقت مالک بھی مکاں کا آ گیااک سکوت مرگ سا دیوار و در پر چھا گیاکانپتا رہتا ہے ہر مزدور جس کے نام سےسب اسی دھن میں تھے وہ خوش ہو ہمارے کام سےاس کی پیشانی پہ لیکن بل ذرا آنے لگےپھن اٹھا کر تمکنت کے سانپ لہرانے لگےسب سے پہلے اس نے گالی دی اسی معمار کواپنی ملکیت جو سمجھا تھا ہر اک دیوار کوجوش نخوت سے کہا اس نے کہ اے پاجی لعیںکل جہاں تک تھی گئی دیوار اب بھی ہے وہیںکیا کیا ہے تو نے دن بھر میں ذرا مجھ کو بتایوں تکبر میں وہ آ کر جائزہ لینے لگادل میں وہ مزدور پھر کہنے لگا اف رے غضبجو بھی اس دنیا میں ہیں فرعون ہیں وہ سب کے سبجس کا جس پر بس چلے پامال کرتا ہے اسےخود اگر خوش حال ہے بد حال کرتا ہے اسےکیا کہوں سرمایہ داروں کے ستم کی داستاںدیدۂ مزدور ہے مزدور سے بھی خونفشاںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اس مثل کو صادق سمجھیہ سمجھ کر اس خدائے پاک کو رازق سمجھ
ندی کے حال کواب دیکھ کر افسوس ہوتا ہےندی کا ایک ماضی تھانہ جانے کتنی تاریخی کتابوں میںندی کی اہمیت کےان گنت ابواب روشن ہیںندی تہذیب کا مسکن رہی ہےاسی کی موج نےآغاز میں انسان کوواقف کرایاارتقائی مرحلوں سےاسی کے صاف اور شفاف پانی نےیگوں تکمختلف نسلوں کیدل سے آبیاری کیاسی کی چیختی چنگھاڑتی لہروں پہغلبہ پا کے انساں نےترقی کیمگر اندھی ترقی نےندی کی شکلاتنی مسخ کر ڈالیکہ آنکھوں کو کسی صورتیقیں آتا نہیںجو کچھ نظر کے سامنے ہےوہ حقیقت ہےگندے بدبو دار نالے کی طرح جوبہہ رہی ہےیہی تو وہ ندی ہےتذکرے جس کے کتابوں میں بھرے ہیںکتنی تہذیبوں کا جو مسکن رہی ہےندی کے حال کا جب جائزہلیتی ہیں نظریںتو بہت افسوس ہوتا ہے
شام کا وقت کسی دوست کے ساتھچائے خانے میں بتاؤتبصرہ گردش دوراں پہ کروجائزہ وقت کا لو اور کتھا اپنی سناؤ
زندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیمجائزہ لیتا ہوں ہر موڑ پہ شاعر کا دماغہر بدلتے ہوئے منظر پہ نظر رکھتا ہوںاور تاریک سی راتوں میں جلاتا ہوں چراغزندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیمجھلملاتے ہوئے آنچل میں سکوں ڈھونڈ چکااک تبسم کے لئے ایک اشارے کے لئےاپنے جذبات میں انداز جنوں ڈھونڈ چکازندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیمپردۂ ساز میں اک گیت چھپایا تھا کبھیاپنے احساس کی پرواز بڑھانے کے لئےیاد ہے مدھ بھری آنکھوں کو رلایا تھا کبھیزندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیمیہ جھپکتی ہوئی پلکیں ہیں یہ لب یہ رخساریہ تو زلفیں نہیں ساون کی گھٹائیں ہوں گیہاں یہی تو ہیں خیالات کے رنگیں شہکارزندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیممیں نے اک بار ہی چھیڑا تھا محبت کا ربابسانس جلنے لگی تھی جسم لرز اٹھا تھامیں نے پینے کے لئے صرف انڈیلی تھی شرابزندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیمحسن کو رہ گزر عام پہ چلتے دیکھاایک ہی سمت عنایات کے دھارے نہ رہےمیں نے پانی کئی سوتوں سے ابلتے دیکھازندگی کی سبھی راہوں سے گزرتا ہوں ندیممیں نے گھٹتے ہوئے کمرے میں دھواں دیکھا ہےتنگ گلیوں میں بناوٹ کی ہنسی بکتی ہےدور اک طاق پہ مٹی کا دیا جلتا ہے
محبت پیش قدمی کرتی ہےاور اپنی فوج میںکسی سپاہی کو بھرتی نہیں کرتیکسی ٹینک کو اپنے ساتھ نہیں رکھتیکوئی بکتر بند گاڑی یا توپ خانہاپنی حفاظت کے لیے استعمال نہیں کرتیکسی طیارے سےمیدان جنگ کا جائزہ نہیں لیتیمحبت پیش قدمی کرتی ہےاور ساری دنیا کے تیرزہر میں بجھا لیے جاتے ہیںسارے نیزہ بازگھات لگا کے بیٹھ جاتے ہیںساری تلواریںنیام سے باہر آ جاتی ہیںاسے اپنی ٹاپوں تلے روندنے کے لیےشہ سوار تیار ہو جاتے ہیںبادشاہوں کا غصہکالی آندھی بن کےاس طرف بڑھنے لگتا ہےاپنے دل پہ ہاتھ رکھ کےمحبت پیش قدمی کرتی ہےاور اس کا جہازکبھی غرق نہیں ہوتااس کا اسلحہ کبھی ختم نہیں ہوتامحبت کی ہمیشہ جاری رہنے والییہ پیش قدمی کوئی روک نہیں پاتاتھک ہار کے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہے
یہاں سے نشیب زمان و مکاں کا اگر جائزہ لیںتو لگتا ہے جیسے دھندلکوں کے اس پارجو کچھ بھی ہے ٹھیک ہےحسب معمول ہےمرا نام شینانڈورا ہےمیں کتنی صدیوں سے اس بحر ذخار میں خیمہ زن تھاجو مواج سمت دگر میں رہا
زندگی کی طویل راتوں میںجب کبھی جائزہ لیا میں نےزندگی کو عجیب پایا ہےاور میں سوچتا ہی رہتا ہوںزندگی بھی عجیب چکر ہے
یہ میرے بدن پرنہ تنگ ہےنہ ڈھیلاالبتہ میں اس لباس میںچل پھر نہیں سکتاباہر سےاس کا جائزہ نہیں لے سکتانہ اٹھ کر کھڑا ہو سکتا ہوںلوہے کے لباس میںآدمی بڑا محفوظ رہتا ہےوہ تمام شہر کواپنے سامنے جلتااور تمام لوگوں کو مرتا دیکھ سکتا ہےلوہے کے لباس میں آدمیکسی کی عبادت نہیں کر سکتاکسی کا ہاتھ نہیں تھام سکتالوہے کے لباس میں آدمیزندگی پرتھوک نہیں سکتا
پہاڑوں کی چاندی صفت چوٹیاںآسماں چھو رہی ہیںزمیں کے بدن میںشجر اپنی لمبی نکیلی جڑیںبو رہا ہےہر اک شخص ساحل پہاک دوسرے سے چمٹپڑا ہےسمندر کی موجیںاگر کوئی ساعت جنوں خیز ٹھہریںسمندر مگرروز اول سے خاموش ہےاپنی وسعت کا شایدہر اک سمت وہ جائزہ لے رہا ہے
جائزہ لینا ہے اب بدلے ہوئے حالات کازندگی کا وقت کا کردار کا جذبات کاسامنے ہے ملک کی بے روزگاری کا سوالغربت و افلاس کی آغوش میں ہیں ماہ و سالآج بھی پردوں میں ہے لیلائے ہستی کا جمالکتنے دل مغموم ہیں کتنی تمنا ہیں نڈھال
دیار زیست شکستہ نقوش سے پر ہےمگر نگاہ کو ہے عشق دشت امکاں سےمری نگاہ میں تکمیل کا یقیں نہ سہیمری نگاہ میں تکمیل کا ارادہ ہےاٹھا ہے جو بھی قدم راہ زندگی پہ اسےہزار رنگ مسرت کا جائزہ لے کرغم حیات کے ہونٹوں نے بڑھ کے چوم لیا
میں اس نیلے پربت کی اونچائیوں پرجو بے انتہا خوبصورت نظر آ رہی ہیںکئی سال رہ کرہر اک زاویے سےاک اک ذرے کا جائزہ لے کے لوٹا ہوںاور کہہ رہا ہوں وہاں تم نہ جاؤوہاں کچھ نہیں ہےفقط دور سے ہم کو آواز دیتے ہوئےچند سناٹوںاوربازوؤں کو پسارے ہوئے اک خلا کے سوااور کچھ بھی نہیں ہےوہاں تم نہ جاؤ
اپنے احساس کے آئینے میں خود کو دیکھااک سمٹتا ہوا سایہ ہوں بکھرتا ہوا پھولایک تپتا ہوا صحرا ہوں سلگتا ہوا شہردرد کا سرو رواں دکھ کا شجر دشت خلوصایک فن کار ہوں سرمایہ مرا خون جگرزندگی بارہا شعلوں میں گرفتار ہوئیبارہا فکر دل و جاں بھی شرر بار ہوئیاپنے ماحول کے معیار پہ خود کو پرکھاایک مجرم ہوں مرا جرم وفا کی تشہیرعظمت ظلم کا منکر ہوں شب غم کا حریفآدمیت کا تقدس ہے مرے فن کا جمالحق پرستی مرے افکار کا سر چشمہ ہے
تمہیں مجھ سے جو نفرت ہے وہی تو میری راحت ہےمری جو بھی اذیت ہے وہی تو میری لذت ہےکہ آخر اس جہاں کا ایک نظام کار ہے آخرجزا کا اور سزا کا کوئی تو ہنجار ہے آخرمیں خود میں جھینکتا ہوں اور سینے میں بھڑکتا ہوںمرے اندر جو ہے اک شخص میں اس میں پھڑکتا ہوںہے میری زندگی اب روز و شب یک مجلس غم ہاعزا ہا مرثیہ ہا گریہ ہا آشوب ماتم ہا
اگر میں سمجھوںکے یہ جو مہرے ہیںصرف لکڑی کے ہیں کھلونےتو جیتنا کیا ہے ہارنا کیانہ یہ ضرورینہ وہ اہم ہےاگر خوشی ہے نہ جیتنے کینہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہےتو کھیل کیا ہےمیں سوچتا ہوںجو کھیلنا ہےتو اپنے دل میں یقین کر لوںیہ مہرے سچ مچ کے بادشاہ و وزیرسچ مچ کے ہیں پیادےاور ان کے آگے ہےدشمنوں کی وہ فوجرکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کےسارے منصوبےسب ارادےمگر ایسا جو مان بھی لوںتو سوچتا ہوںیہ کھیل کب ہےیہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہےیہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائزکوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سےیہ جنگ بھی ہےیہ کھیل بھی ہےیہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کییہ کھیل ہے جنگ کی طرح کامیں سوچتا ہوںجو کھیل ہےاس میں اس طرح کا اصول کیوں ہےکہ کوئی مہرہ رہے کہ جائےمگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئےوزیر ہی کو ہے بس اجازتکہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گےکچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books