aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jaanib-e-dar"
بارش سنگ الم اپنا مقدر ٹھہریراحت درد ملی لطف و کرم کے بدلےزیست ہر طور سے ہر طرح گوارا تھی ہمیںنہ ہمیں بدلے نہ انداز ستم کے بدلے
بجھا دولہو کے سمندر کے اس پارآئنہ خانوں میں اب جھلملاتے ہوئے قمقموں کو بجھا دوکہ دل جن سے روشن تھا اب ان چراغوں کی لو بجھ چکی ہےمٹا دومنقش در و بام کے جگمگاتےچمکتے ہوئے سب بتوں کو مٹا دوکہ اب لوح دل سے ہر اک نقش حرف غلط کی طرح مٹ چکا ہےاٹھا دولہو کے جزیرے میںبپھری ہوئی موت کے زرد پنجوں سے پردہ اٹھا دوکہ اب اس جزیرے میںلاشوں کے انبار بکھرے پڑے ہیںفضا میں ہر اک سمتجلتے ہوئے خون کی بو رچی ہےوہ آنکھیں جو اپنے بدن کی طرح صاف شفاف تھیںاب ان درختوں پہ بیٹھے ہوئے چیل کوؤں گدھوں کی غذا بن چکی ہیںیہ سولہ دسمبر کی بجھتی ہوئی شام ہےاور میںاس لہو کے جزیرے میں جلتا ہوا آخری آدمی ہوں
ماضی کی ڈیوڑھی کی چلمنکھلے دریچے کی جالی سےچھن چھن آئیںروپ کی جوت حنا کی لالی کل کی یادیںسوندھی خوشبو ٹھنڈی بوندیںکل کے باسی آنسو جن سےفردا کے بالیں کا پردا بھیگ رہا ہےسحر زدہ محبوس حسینہسپنوں کے شیلاٹ کی رانیآئینوں میں حسن شکستہ دیکھ رہی ہےکتنے چہرے ٹوٹے ٹوٹےپہچانے ان پہچانے سےآگے پیچھے آگے پیچھے بھاگ رہے ہیںقلعے کے آسیب کی صورت کس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے
چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیبام سونا ہے، کہاں ڈھونڈیں کسی کا چہرا(لوگ سمجھیں گے کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی)شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپلکون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیںدور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادلچاند تنہا ہے (اگر اس کی بلائیں لے لیں؟)دوستو جی کا عجب حال ہے، لینا بڑھناچاندنی رات ہے کاتک کا مہینہ ہوگامیر مغفور کے اشعار نہ پیہم پڑھناجینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگاچاند ٹھٹھکا ہے سر شاخ صنوبر کب سےکون سا چاند ہے کس رت کی ہیں راتیں لوگودھند اڑنے لگی بننے لگی کیا کیا چہرےاچھی لگتی ہیں دوانوں کی سی باتیں لوگوبھیگتی رات میں دبکا ہوا جھینگر بولاکسمساتی کسی جھاڑی میں سے خوشبو لپکیکوئی کاکل کوئی دامن، کوئی آنچل ہوگاایک دنیا تھی مگر ہم سے سمیٹی نہ گئی
سوچ رہا ہوں جنگ سے پہلے، جھلسی سی اس بستی میںکیسا کیسا گھر کا مالک، کیسا کیسا مہماں تھاسب گلیوں میں ترنجن تھے اور ہر ترنجن میں سکھیاں تھیںسب کے جی میں آنے والی کل کا شوق فراواں تھامیلوں ٹھیلوں باجوں گاجوں باراتوں کی دھومیں تھیںآج کوئی دیکھے تو سمجھے، یہ تو سدا بیاباں تھاچاروں جانب ٹھنڈے چولھے، اجڑے اجڑے آنگن ہیںورنہ ہر گھر میں تھے کمرے، ہر کمرے میں ساماں تھااجلی اور پر نور شبیہیں روز نماز کو آتی تھیںمسجد کے ان طاقوں میں بھی کیا کیا دیا فروزاں تھااجڑی منڈی، لاغر کتے، ٹوٹے کھمبے خالی کھیتکیا اس نہر کے پل کے آگے ایسا شہر خموشاں تھا
سانولی! تو مرے پہلو میں ہےلیکن تری پیاسی آنکھیںکبھی دیوار کو تکتی ہیںکبھی جانب در دیکھتی ہیںمجھ سے اس طرح گریزاں جیسےانہیں مجھ سے نہیں دیوار سے کچھ کہنا ہےیا یہ پنچھی ہیں جنہیںایک ہی پرواز میں اڑ جانا ہےہاتھ نہیں آنا ہے(اے مری سانولی! ان آنکھوں کے دونوں پنچھیگر اڑے بھی تو مرے دل کی طرف آئیں گے)
اب صبا کوچۂ جاناں میں گزرے ہے کہ نہیںتجھ کو اس فتنۂ عالم کی خبر ہے کہ نہیںبجھ گیا مہر کا فانوس کہ روشن ہے ابھیاب ان آنکھوں میں لگاوٹ کا اثر ہے کہ نہیںاب میرے نام کا پڑھتا ہے وظیفہ کوئیاب مرا ذکر وفا درد سحر ہے کہ نہیںاب بھی تکتی ہیں مری راہ وہ کافر آنکھیںاب بھی دزدیدہ نظر جانب در ہے کہ نہیںچھپ کے راتوں کو مری یاد میں روتا ہے کوئیموجزن آنکھ میں اب خون جگر ہے کہ نہیںحسن کو پرسش بیمار کا ہے اب بھی خیالمہر کی ذرہ خاکی پہ نظر ہے کہ نہیںبے خبر مجھ کو زمانے سے کیا ہے جس نےکچھ اسے میری تباہی کی خبر ہے کہ نہیںکھائے جاتا ہے مجھے درد غریب الوطنیدل پر اس جان وطن کے بھی اثر ہے کہ نہیںجوشؔ خاموش بھی ہو پوچھ رہا ہے کیا کیاکچھ تجھے تاڑنے والوں کی خبر ہے کہ نہیں
تو مری زندگی کی بھیک نہ مانگہے مری تلخ کامیوں کا لہوتیری یادوں کے آبگینے میںدو دلوں کا ملاپ ہوتا ہےکھیلتی ظلمتوں کے سینے میںزندگی موت کے سفینے میںکیف و مستی کے جھرمٹوں میں ہےجانب ساحل حیات رواں
روکنا متتیری جانب آ رہا ہوں
جب ترے شہر و کوچہ و در سےزندگی سرگراں رہی تو نےکوئی عہد وفا کی بات نا کی
اک ہو گئے دریچہ و دیوار و بام و درمیں چپ ہی تھا کہ بول پڑا سارا گھر کا گھر
وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگراب تو کتنے قافلوں کا کارواں سنجیو ہے
بجھا جو روزن زنداں تو دل یہ سمجھا ہےکہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگیچمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہےکہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگیغرض تصور شام و سحر میں جیتے ہیںگرفت سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں
اک تیغ کی جنبش سی نظر آتی ہے مجھ کواک ہاتھ پس پردۂ در دیکھ رہا ہوں
شب وعدہنہ ڈھلتی رات کیپاگل ہواؤں نےپہن کر نقرئی پائلسر دیوار و درشوخی سے دستک دینہ وحشی راگنی چھیڑی
اونگھتی ہے فرش اور دیوار و درفٹ پاتھ
وہ لب جو حرف سر دار کا مغنی تھاجو نغمہ خواں سر مقتل رہا اجالوں کاہو نظم یا کہ غزل مختلف وہ سب سے تھاکمال پیار اسے منصب ادب سے تھا
شکستہ دیوار و در پہ سبزہ بہار کے راگ الاپتا ہے
کچے آنگن کا وہ گھر وہ بام و درگاؤں کی پگڈنڈیاں وہ رہ گزروہ ندی کا سرمئی پانی شجرجا نہیں سکتا بجا ان تک مگرسامنے رہتے ہیں وہ شام و سحر
پھر جھروکوں میں کوئی چاند اتر آیا ہےپھر سر پردۂ در جنبش مضراب ہوئیلٹ گیا نقد سکوں پھر اسی آواز کے ساتھزلف کی چھاؤں میں پھر شام مئے ناب ہوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books