aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kada"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
ہوا بھی خوش گوار ہےگلوں پہ بھی نکھار ہےترنم ہزار ہےبہار پر بہار ہےکہاں چلا ہے ساقیاادھر تو لوٹ ادھر تو آارے یہ دیکھتا ہے کیااٹھا سبو سبو اٹھاسبو اٹھا پیالہ بھرپیالہ بھر کے دے ادھرچمن کی سمت کر نظرسماں تو دیکھ بے خبروہ کالی کالی بدلیاںافق پہ ہو گئیں عیاںوہ اک ہجوم مے کشاںہے سوئے مے کدہ رواںیہ کیا گماں ہے بد گماںسمجھ نہ مجھ کو ناتواںخیال زہد ابھی کہاںابھی تو میں جوان ہوںعبادتوں کا ذکر ہےنجات کی بھی فکر ہےجنون ہے ثواب کاخیال ہے عذاب کامگر سنو تو شیخ جیعجیب شے ہیں آپ بھیبھلا شباب و عاشقیالگ ہوئے بھی ہیں کبھیحسین جلوہ ریز ہوںادائیں فتنہ خیز ہوںہوائیں عطر بیز ہوںتو شوق کیوں نہ تیز ہوںنگار ہائے فتنہ گرکوئی ادھر کوئی ادھرابھارتے ہوں عیش پرتو کیا کرے کوئی بشرچلو جی قصہ مختصرتمہارا نقطۂ نظردرست ہے تو ہو مگرابھی تو میں جوان ہوںیہ گشت کوہسار کییہ سیر جوئے بار کییہ بلبلوں کے چہچہےیہ گل رخوں کے قہقہےکسی سے میل ہو گیاتو رنج و فکر کھو گیاکبھی جو بخت سو گیایہ ہنس گیا وہ رو گیایہ عشق کی کہانیاںیہ رس بھری جوانیاںادھر سے مہربانیاںادھر سے لن ترانیاںیہ آسمان یہ زمیںنظارہ ہائے دل نشیںانہیں حیات آفریںبھلا میں چھوڑ دوں یہیںہے موت اس قدر قریںمجھے نہ آئے گا یقیںنہیں نہیں ابھی نہیںابھی تو میں جوان ہوںنہ غم کشود و بست کابلند کا نہ پست کانہ بود کا نہ ہست کانہ وعدۂ الست کاامید اور یاس گمحواس گم قیاس گمنظر سے آس پاس گمہمہ بجز گلاس گمنہ مے میں کچھ کمی رہےقدح سے ہمدمی رہےنشست یہ جمی رہےیہی ہما ہمی رہےوہ راگ چھیڑ مطرباطرب فزا، الم ربااثر صدائے ساز کاجگر میں آگ دے لگاہر ایک لب پہ ہو صدانہ ہاتھ روک ساقیاپلائے جا پلائے جاابھی تو میں جوان ہوں
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہخودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہیہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےصنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہکیا ہے تو نے متاع غرور کا سودافریب سود و زیاں لا الہ الا اللہیہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوندبتان وھم و گماں لا الہ الا اللہخرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنارینہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہیہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابندبہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہاگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میںمجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیالہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیابے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیاتوبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیازاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنارحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیاسر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئیدنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیاآزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کرمجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیااے رحمت تمام مری ہر خطا معافمیں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیاپیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجالدر پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیااس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔکل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کیقدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کیآہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبرغافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجرآشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھاہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھاشمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھیبارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھیآہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہےدرد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہےبرہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میںشمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میںبتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوانور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہواپھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سےہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
اک ذرا سوچنے دواس خیاباں میںجو اس لحظہ بیاباں بھی نہیںکون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلےکون بے رنگ ہوئی رنج و تعب سے پہلےاور اب سے پہلےکس گھڑی کون سے موسم میں یہاںخون کا قحط پڑاگل کی شہ رگ پہ کڑاوقت پڑاسوچنے دوسوچنے دواک ذرا سوچنے دویہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی نہیںاس میں کس وقت کہاںآگ لگی تھی پہلےاس کے صف بستہ دریچوں میں سے کس میں اولزہ ہوئی سرخ شعاعوں کی کماںکس جگہ جوت جگی تھی پہلےسوچنے دوہم سے اس دیس کا تم نام و نشاں پوچھتے ہوجس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئےاور یاد آئے تو محبوب گزشتہ یاد آئےروبرو آنے سے جی گھبرائےہاں مگر جیسے کوئیایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کوآ نکلتا ہے کبھی رات بتانے کے لیےہم اب اس عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یونہیدل سے مل آتے ہیں بس رسم نبھانے کے لیےدل کی کیا پوچھتے ہوسوچنے دو
ہم پریم پجاری ہیں تو پریم کنہیا ہےتو پریم کنہیا ہے یہ پریم کی نیا ہےیہ پریم کی نیا ہے تو اس کا کھویا ہے
کئی تار ساز سے کٹ گئےکسی مطربہ کی رگ گلومئے آتشیں میں وہ زہر تھاکہ تڑخ گئے قدح و سبو
وہ جو ہر دین سے منکر تھا ہر اک دھرم سے دورپھر بھی ہر دین ہر اک دھرم کا غم خوار رہا
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہےاتنا تو کڑا سفر نہیں تھاوہ چار قدم کا فاصلہ کیاپھر راہ سے بے خبر نہیں تھالیکن یہ تھکن یہ لڑکھڑاہٹیہ حال تو عمر بھر نہیں تھا
اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہےعشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہےطائر زیر دام کے نالے تو سن چکے ہو تمیہ بھی سنو کہ نالہ طائر بام اور ہےآتی تھی کوہ سے صدا راز حیات ہے سکوںکہتا تھا مور ناتواں لطف خرام اور ہےجذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کااس کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہےموت ہے عیش جاوداں ذوق طلب اگر نہ ہوگردش آدمی ہے اور گردش جام اور ہےشمع سحر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا سازغم کدۂ نمود میں شرط دوام اور ہےبادہ ہے نيم رس ابھی شوق ہے نارسا ابھیرہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کلیسیا ابھی
بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہےاور پھر شاعری تو کڑا جرم ہےمیں تماشا نہیں اپنا اظہار ہوںسوچ سکتی ہوں سو لائق دار ہوںمیرا ہر حرف ہر اک صدا جرم ہےاور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
غایت سود و زیاں صورت آغاز و مآلوہی بے سود تجسس وہی بے کار سوالمضمحل ساعت امروز کی بے رنگی سےیاد ماضی سے غمیں دہشت فردا سے نڈھالتشنہ افکار جو تسکین نہیں پاتے ہیںسوختہ اشک جو آنکھوں میں نہیں آتے ہیںاک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیںدل کے تاریک شگافوں سے نکلتا ہی نہیںاور الجھی ہوئی موہوم سی درباں کی تلاشدشت و زنداں کی ہوس چاک گریباں کی تلاش
یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےدھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئیچٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئےلبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہےکنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئےقدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزرادا ادا میں بے شمار بجلیاں لئے ہوئےنکلتے بیٹھتے دنوں کی آہٹیں نگاہ میںرسیلے ہونٹ فصل گل کی داستاں لئے ہوئےخطوط رخ میں جلوہ گر وفا کے نقش سر بسردل غنی میں کل حساب دوستاں لئے ہوئےوہ مسکراتی آنکھیں جن میں رقص کرتی ہے بہارشفق کی گل کی بجلیوں کی شوخیاں لئے ہوئےادائے حسن برق پاش شعلہ زن نظارہ سوزفضائے حسن اودی اودی بجلیاں لئے ہوئےجگانے والے نغمۂ سحر لبوں پہ موجزننگاہیں نیند لانے والی لوریاں لئے ہوئےوہ نرگس سیاہ نیم باز مے کدہ بہ دوشہزار مست راتوں کی جوانیاں لئے ہوئےتغافل و خمار اور بے خودی کی اوٹ میںنگاہیں اک جہاں کی ہوشیاریاں لئے ہوئےہری بھری رگوں میں وہ چہکتا بولتا لہووہ سوچتا ہوا بدن خود اک جہاں لئے ہوئےز فرق تا قدم تمام چہرہ جسم نازنیںلطیف جگمگاہٹوں کا کارواں لئے ہوئےتبسمش تکلمے تکلمش ترنمےنفس نفس میں تھرتھراتا ساز جاں لئے ہوئےجبین نور جس پہ پڑ رہی ہے نرم چھوٹ سیخود اپنی جگمگاہٹوں کی کہکشاں لئے ہوئے''ستارہ بار و مہ چکاں و خورفشاں'' جمال یارجہان نور کارواں بہ کارواں لئے ہوئےوہ زلف خم بہ خم شمیم مست سے دھواں دھواںوہ رخ چمن چمن بہار جاوداں لئے ہوئےبہ مستیٔ جمال کائنات، خواب کائناتبہ گردش نگاہ دور آسماں لئے ہوئےیہ کون آ گیا مرے قریب عضو عضو میںجوانیاں، جوانیوں کی آندھیاں لئے ہوئےیہ کون آنکھ پڑ رہی ہے مجھ پر اتنے پیار سےوہ بھولی سی وہ یاد سی کہانیاں لئے ہوئےیہ کس کی مہکی مہکی سانسیں تازہ کر گئیں دماغشبوں کے راز نور مہ کی نرمیاں لئے ہوئےیہ کن نگاہوں نے مرے گلے میں باہیں ڈال دیںجہان بھر کے دکھ سے درد سے اماں لئے ہوئےنگاہ یار دے گئی مجھے سکون بے کراںوہ بے کہی وفاؤں کی گواہیاں لئے ہوئےمجھے جگا رہا ہے موت کی غنودگی سے کوننگاہوں میں سہاگ رات کا سماں لئے ہوئےمری فسردہ اور بجھی ہوئی جبیں کو چھو لیایہ کس نگاہ کی کرن نے ساز جاں لئے ہوئےستے سے چہرے پر حیات رسمساتی مسکراتینہ جانے کب کے آنسوؤں کی داستاں لئے ہوئےتبسم سحر ہے اسپتال کی اداس شامیہ کون آ گیا نشاط بے کراں لئے ہوئےترے نہ آنے تک اگرچہ مہرباں تھا اک جہاںمیں رو کے رہ گیا ہوں سو غم نہاں لئے ہوئےزمین مسکرا اٹھی یہ شام جگمگا اٹھیبہار لہلہا اٹھی شمیم جاں لئے ہوئےفضائے اسپتال ہے کہ رنگ و بو کی کروٹیںترے جمال لالہ گوں کی داستاں لئے ہوئےفراقؔ آج پچھلی رات کیوں نہ مر رہوں کہ ابحیات ایسی شامیں ہوگی پھر کہاں لئے ہوئے(۲)مگر نہیں کچھ اور مصلحت تھی اس کے آنے میںجمال و دید یار تھے نیا جہاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے آدمیجبیں پہ شاہکار دہر کا نشاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے دیوتاطہارتوں کا فرق پاک پر نشاں لئے ہوئےخدائی آدمی کی ہوگی اس نئے جہان پرستاروں کے ہیں دل یہ پیش گوئیاں لئے ہوئےسلگتے دل شرر فشاں و شعلہ بار برق پاشگزرتے دن حیات نو کی سرخیاں لئے ہوئےتمام قول اور قسم نگاہ ناز یار تھیطلوع زندگیٔ نو کی داستاں لئے ہوئےنیا جنم ہوا مرا کہ زندگی نئی ملیجیوں گا شام دید کی نشانیاں لئے ہوئےنہ دیکھا آنکھ اٹھا کے عہد نو کے پردہ داروں نےگزر گیا زمانہ یاد رفتگاں لئے ہوئےہم انقلابیوں نے یہ جہاں بچا لیا مگرابھی ہے اک جہاں وہ بدگمانیاں لئے ہوئے
گلدستۂ رنگیں کف ساحل پہ دھرا ہےبلور کا ساغر ہے کہ صہبا سے بھرا ہے
ہم نشیں رات کی مغموم خموشی میں مجھےدور کچھ دھیمی سی نغموں کی صدا آتی ہےجیسے جاتی ہوئی افسردہ جوانی کی پکارجس کو سن سن کے مری روح لرز جاتی ہےجیسے گھٹتی ہوئی موجوں کا اترتا ہوا شورمطربہ جیسے کوئی دور نکل جاتی ہےیا ہواؤں کا ترنم کسی ویرانے میںجیسے تنہائی میں دوشیزہ کوئی گاتی ہےمیں بہت غور سے نغمات سنا کرتا ہوںسچ تو یہ ہے کہ مری جان پہ بن جاتی ہےبار بار اٹھ کے میں جاتا ہوں صداؤں کی طرفلیکن اک شے ہے جو واپس مجھے لے آتی ہےچونک اٹھتا ہوں جب اس خواب سے حیراں ہو کرپھر مجھے دوسری دنیا ہی نظر آتی ہےآہ، وہ بھوک کے مارے ہوئے افراد ہنسیںجن کی صورت پہ قناعت بھی ترس کھاتی ہےجیسے اجڑی ہوئی محفل کے کچھ افسردہ چراغروشنی میں جنہیں ہر گام پہ ٹھکراتی ہےآہ وہ حضرت انسان ہی کا درد و ستمجس کا اظہار بھی کرتے ہوئے شرم آتی ہےوہ ترانے جو سنا کرتا ہوں تنہائی میںان ترانوں میں مجھے بوئے وفا آتی ہےگاؤں گا نغمے وہ تعمیر محبت کے لیےمے کدہ چھوڑ دیا جن کی اشاعت کے لیے
شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیرگیں زمیں کے مناظر کی پڑ چلیں ڈھیلییہ خستہ حالی یہ درماندگی یہ سناٹافضائے نیم شبی بھی ہے سنسنائی ہوئیدھواں دھواں سے مناظر ہیں شبنمستاں کےسیارہ رات کی زلفیں ہیں رسمسائی ہوئییہ رنگ تاروں بھری رات کے تنفس کاکہ بوئے درد میں ہر سانس ہے بسائی ہوئیخنک اداس فضاؤں کی آنکھوں میں آنسوترے فراق کی یہ ٹیس ہے اٹھائی ہوئیسکوت نیم شبی گہرا ہوتا جاتا ہےرگیں ہیں سینۂ ہستی کی تلملائی ہوئیہے آج ساز نوا ہائے خونچکاں اے دوستحیات تیری جدائی کی چوٹ کھائی ہوئیمری ان آنکھوں سے اب نیند پردہ کرتی ہےجو تیرے پنجۂ رنگیں کی تھیں جگائی ہوئیسرشک پالے ہوئے تیرے نرم دامن کےنشاط تیرے تبسم سے جگمگائی ہوئیلٹک وہ گیسوؤں کی جیسے پیچ و تاب کمندلچک بھوؤں کی وہ جیسے کماں جھکائی ہوئیسحر کا جیسے تبسم دمک وہ ماتھے کیکرن سہاگ کی بندی کی لہلہائی ہوئیوہ انکھڑیوں کا فسوں روپ کی وہ دیوئیتوہ سینہ روح نمو جس میں کنمنائی ہوئیوہ سیج سانس کی خوشبو کو جس پہ نیند آئےوہ قد گلاب کی اک شاخ لہلہائی ہوئیوہ جھلملاتے ستارے ترے پسینے کےجبین شام جوانی تھی جگمگائی ہوئیہو جیسے بت کدہ آذر کا بول اٹھنے کووہ کوئی بات سی گویا لبوں تک آئی ہوئیوہ دھج وہ دلبری وہ کام روپ آنکھوں کاسجل اداؤں میں وہ راگنی رچائی ہوئیہو خواب گاہ میں شعلوں کی کروٹیں دم صبحوہ بھیرویں تری بیداریوں کی گائی ہوئیوہ مسکراتی ہوئی لطف دید کی صبحیںتری نظر کی شعاعوں کی گدگدائی ہوئیلگی جو تیرے تصور کے نرم شعلوں سےحیات عشق سے اس آنچ کی تپائی ہوئیہنوز وقت کے کانوں میں چہچہاہٹ ہےوہ چاپ تیرے قدم کی سنی سنائی ہوئیہنوز سینۂ ماضی میں جگمگاہٹ ہےدمکتے روپ کی دیپاولی جلائی ہوئیلہو میں ڈوبی امنگوں کی موت روک ذراحریم دل میں چلی آتی ہے ڈھٹائی ہوئیرہے گی یاد جواں بیوگی محبت کیسہاگ رات کی وہ چوڑیاں بڑھائی ہوئییہ میری پہلی محبت نہ تھی مگر اے دوستابھر گئی ہیں وہ چوٹیں دبی دبائی ہوئیسپردگی و خلوص نہاں کے پردے میںجو تیری نرم نگاہی کی تھیں بٹھائی ہوئیاٹھا چکا ہوں میں پہلے بھی ہجر کے صدمےوہ سانس دکھتی ہوئی آنکھ ڈبڈبائی ہوئییہ حادثہ ہے عجب تجھ کو پا کے کھو دینایہ سانحہ ہے غضب تیری یاد آئی ہوئیعجیب درد سے کوئی پکارتا ہے تجھےگلا رندھا ہوا آواز تھر تھرائی ہوئیکہاں ہے آج تو اے رنگ و نور کی دیویاندھیری ہے مری دنیا لٹی لٹائی ہوئیپہنچ سکے گی بھی تجھ تک مری نوائے فراقجو کائنات کے اشکوں میں ہے نہائی ہوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books