aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kaf-e-gul"
جو بات ہے وہ شوخئ گلدستۂ چمنجو لفظ ہے بہار کف گل فروش ہے
ہر نفس اپنا امنگوں کی ہے تفسیر نئیآج ہر سانس سے بے باک ارادے ہیں عیاںاب کے تزئین چمن ہوگی لہو کی سرخیفصل گل اب کے نئے جلوے بکھیرے گی یہاں
آرزو میں تیری اے گل پوش شہزادی نہ پوچھکیسے عالم تاب سرداروں کے سر جاتے رہےسرزمین ہند کو جنت بنانے کے لئےکیسے کیسے دست و بازو کے شجر جاتے رہے
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
خواب گراں سے غنچوں کی آنکھیں نہ کھل سکیںگو شاخ گل سے نغمہ برابر اٹھا کیا
دیکھ کبھی تو موسم گل کوپت جھڑ کی آوازوں میںاور کبھی تو پربت بن جااور کبھی بہہ ساگر میںصحراؤں میں تنہا چلاور ہنستا جا گلزاروں میںپتھر سے اگا لے پھولوں کوخاروں میں شیرینی بھر دےروتی شبنم ڈھلتا سورجسانجھ کی سندر بیلا بھیصبح کا تارا چاند کا ہالہہر موسم البیلا بھی
کیوں شام کا آنچل میلا ہےہر سمت دھواں سا پھیلا ہےمعدوم ہوئے آثار سبھیکلیوں کی چنچل آنکھیںجھکی جھکی سی موندے پلکیںگل بدن سر نگوں ہو گئےخوشبو بھی اڑیاور گیسوئے شب میں جا الجھی
راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جاپیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جارونق بزم ہے او جام کہاں ہے آ جازینت جلوہ گہ عام کہاں ہے آ جااے امید دل نا کام کہاں ہے آ جاتیری فرقت خلل انداز سکون پیہمتیری فرقت دل مایوس پہ اک طرفہ ستمتیری فرقت سبب کاوش و بیداریٔ غمتو نہیں ہے تو پھر آرام کہاں ہے آ جاشاہد دور سیہ بخت و شب تار ہوں میںخوگر نالۂ لذت کش آواز ہوں میںدام طوفان حوادث میں گرفتار ہوں میںروز و شب منتظر دید رخ یار ہوں میںدل ہے وقف غم آلام کہاں ہے آ جاشعلۂ بر کف گل داغ جگر تیرے بغیرخار بردوش ہے دامان نظر تیرے بغیرخوں فشاں ہے شب غم دیدۂ تر تیرے بغیرچلن آتا ہی نہیں شام و سحر تیرے بغیرمنتظر ہوں سحر و شام کہاں ہے آ جادور تاریکیٔ غم سے شب تنہائی سےدم بدم جوش جنوں کی ستم آرائی سےکعبہ و دیر و کلیسا کی جبیں سائی سےخوف مجبوری و ناکامی و رسوائی سےعشق ہے لرزہ بر اندام کہاں ہے آ جامنتشر ہونے لگی انجمن ناز حیاتبن گیا خواب ہر اک منظر آغاز حیاتدم شکستہ سا نظر آنے لگا ساز حیاتاب کوئی دم میں ہوا جاتا ہے وا راز حیاتآ گیا نزع کا ہنگام کہاں ہے آ جا
لاہور میں دیکھا اسے مدفوں تہ مرقدگرد کف پا جس کی کبھی کاہکشاں تھی
گماں سے حسیں خواب تک میںنے محسوس تجھ کو کیا پاؤں سے سر تلک ہو گیا میں منورکف آرزو کھولتا ہوںتجھے آج آزاد کرتا ہوں بوئے فروزاںہواؤں میں نیلی فضاؤں میں اڑتی پھرو آسمانوں کو چھو لوستاروں پہ اتروعناصر کو باہوں میں لے لوکہ خوشبو ہو تم رنگ ہو روشنی ہوسر موسم گلسنورتی ہوئی کیف جشن ادا میںنئی زندگی ہو
دیکھو ابھی ہے وادیٔ کنعاں نگاہ میںتازہ ہر ایک نقش کف پا ہے راہ میںیعقوب بے بصر سہی یوسف کی چاہ میںلہرا رہا ہے آج بھی طرہ کلاہ میں
سبق یہ سیکھ علی کی خموشیوں سے ذرا''سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر''
بہت قریب سے آئی ہوائے دامن گلکسی کے روئے بہاریں نے حال دل پوچھا
بہار شبنم آسودہ تھی کہ روح خلیلفروغ لالہ و گل تھا کہ آتش نمرود
بساط خاک کو دے کر بہار لالہ و گلچمن کے سینے پہ زخم بہار چھوڑ گیا
سر رہ گزر مری داستاں کا یہ پیڑ ابشب منجمد شب بے زباںسے لپٹ کے سوئے گا صبح تکیہ وہ پیڑ ہےجسے سینچتا تھا میں خون سےدل منحرف کی ادائے حیلۂ نور سےاسے پھینکتا تھا میں بوٹیاںکبھی جسم کی کبھی ذہن کیکبھی روح کیمری آرزو مری آبرومرے نخل حرف نوا کبھیتری ایک جنبش لب مجھےمجھے زندگی سے عزیز تھیمری داستاں کا یہ پیڑ ابشب منجمد شب بے زباںسے لپٹ کے سوئے گا صبح تکجوں ہی آفتاب نوید نوسر گوش موج صدائے گل میں ڈھلا کبھیمیں دل و جگر کی متاع شیشہ گداز کودر واژگوں سے کروں گا پھراسی داستاں پہ نثار جسکا میں نخل سایہ طراز ہوںمرے زخم دلتری محفلوں ترے ہمہموں ترے قہقہوںکا میں ساز ہوں ترا راز ہوں
کھبی تم نے بھی اپنے بچپنے میںخواب بوئے تھےکبھی سوتے میں روئے تھےتمہیں بھی یاد کب ہوگاسر مژگاں ستاروں کا چمکنا اور بکھر جانابروئے برگ گل تحریر افسانہ
گلدستۂ رنگیں کف ساحل پہ دھرا ہےبلور کا ساغر ہے کہ صہبا سے بھرا ہے
اندھیری رات ہوا تیز برشگال کا شورکروں تو کیسے کروں شمع کی نگہبانیان آندھیوں میں کف دست کا سہارا کیا
خزاں تمام ہوئی کس حساب میں لکھیےبہار گل میں جو پہنچے ہیں شاخ گل کو گزند
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books