aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khaar-e-paa"
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیںگل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
ہاں کس کے لیے سب اس کے لیےوہ جس کے لب پر ٹیسو ہیںوہ جس کے نیناں آہو ہیںجو خار بھی ہے اور خوشبو بھیجو درد بھی ہے اور دارو بھیوہ الہڑ سی وہ چنچل سیوہ شاعر سی وہ پاگل سیلوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیںہم نام نہ اس کا بتلائیںاے دیکھنے والو تم نے بھیاس نار کی پیت کی آنچوں میںاس دل کا تینا دیکھا ہے؟کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
خاک پاک جامعہآسماں سے بڑھ گیا ہے آج تیرا مرتبہہے تری آغوش میں اب محو خوابعلم و تہذیب و خرد کا آفتابآج ہے مدفون تیرے سینۂ بے نور میںمادر ہندوستاں کا نور عینصدر بزم اہل دل ذاکر حسین
مرحبا اے خاک پاک کشور ہندوستاںیادگار عہد ماضی ہے تو اے جان جہاںکیسے کیسے اولیا گزرے اور قطب زماںجن کے قدموں نے بنایا ہے تجھے جنت نشاںروشنی سے تیرے پھیلا ہے اجالا ہر طرفتیرا دنیا میں رہا ہے بول بالا ہر طرف
لاہور میں دیکھا اسے مدفوں تہ مرقدگرد کف پا جس کی کبھی کاہکشاں تھی
نہیں ممکن مٹانا مجھ کو مثل نقش پا یاروخلاؤں میں رہوں گا گونجتا بن کر صدا یارو
ہو نہ جائے راکھ جل کر یہ دیار خار و خسڈال دے بجلی سے لے کر اس کے سینے میں نفس
ہاں مگر سن لے تو اے حسن کی مے سے سرشارخار خار الم ہجر سے ہوں سخت حزیںیاں یہ سن لے مرے سرمست ادا خوش گفتارگھلتے گھلتے ترے غم میں ہوں میں اب مرگ قریں
دیکھو ابھی ہے وادیٔ کنعاں نگاہ میںتازہ ہر ایک نقش کف پا ہے راہ میںیعقوب بے بصر سہی یوسف کی چاہ میںلہرا رہا ہے آج بھی طرہ کلاہ میں
ہر اک دور بہاراں میرے بس میںمیں اپنے خار و گل کی پاسباں ہوں
خار و خس کے جھونپڑے مٹی کے بوسیدہ مکاںجیسے اندھوں کے اشارے جیسے گونگوں کی زباں
دیار گل میں وہ آیا تھا مسکراتا ہواہر ایک خار چمن کو گلے لگاتا ہوا
پژمردہ وہ گل دب کے ہوئے خاک کے نیچےخوابیدہ ہیں خار و خس و خاشاک کے نیچےرہنے کے لیے دیدہ و دل جن کے مکاں تھےجو پیکر ہستی کے لیے روح رواں تھےمحبوب دل خلق تھے جاں بخش جہاں تھےتھے یوسف ثانی کہ مسیحائے زماں تھے
ہم سے غافل تقدیریں ہیںبے دست و پا تدبیریں ہیںخشک لبوں کی مردہ آہیںبھوکے پیٹ کی تفسیریں ہیںکیسے کہیں ہم بھی جیتے تھےاب تو بے جاں تصویریں ہیں
اس کی نظروں میں خزینہ علم کا خار و خس و خاشاک ہیںکیا علائم کیا رموز اشکال الفاظ و حروف
ہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس میں ہر دمگردش خوں سے وہ کہرام بپا رہتا ہےجیسے رندان بلا نوش جو مل بیٹھیں بہممیکدے میں سفر جام بپا رہتا ہےسوز خاطر کو ملا جب بھی سہارا کوئیداغ حرمان کوئی، درد تمنا کوئیمرہم یاس سے مائل بہ شفا ہونے لگازخم امید کوئی پھر سے ہرا ہونے لگاہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس کی ضد پرہم نے اس رات کے ماتھے پہ سحر کی تحریرجس کے دامن میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھاہم نے اس دشت کو ٹھہرا لیا فردوس نظیرجس میں جز صنعت خون سر پا کچھ بھی نہ تھادل کو تعبیر کوئی اور گوارا ہی نہ تھیکلفت زیست تو منظور تھی ہر طور مگرراحت مرگ کسی طور گوارا ہی نہ تھی
سوال اب خار و خس یا غنچہ و گل کا نہیں ہمدمچلی تیغ خزاں سارے چمن کی آزمائش ہے
لوگ کہتے ہیں یہ امن کی جنگ ہےامن کی جنگ میں حملہ آورصرف بچوں کو بے دست و پا چھوڑتے ہیںان کو بھوکا نہیں چھوڑتےآخر انسانیت بھی کوئی چیز ہے
خال و خطدست و پادست و پا کی تمام انگلیاںانگلیوں سے لگے سارے ناخن کی گولائیاںسارے اعضا علامات ہم رشتگیہر تعلق نگر اعتبارات کاہر اکائی رواں اپنے مرکز کی سمت
پھر کیا ہواپھر یوں ہواکہ اس کی ایک آنکھ سے چمگادڑ نے چھلانگ لگائیاور ایک آنکھ سے پھڑپھڑاتا ہوا خار پشت نکلا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books