aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khilnaa"
وہی گیسو وہی نظریں وہی عارض وہی جسممیں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیںوہ کنول جن کو کبھی ان کے لیے کھلنا تھاان کی نظروں سے بہت دور بھی کھل سکتے ہیں
یوں وقت گزرتا ہےفرصت کی تمنا میںجس طرح کوئی پتابہتا ہوا دریا میںساحل کے قریب آ کرچاہے کہ ٹھہر جاؤںاور سیر ذرا کر لوںاس عکس مشجر کیجو دامن دریا پرزیبائش دریا ہےیا باد کا وہ جھونکاجو وقف روانی ہےاک باغ کے گوشے میںچاہے کہ یہاں دم لوںدامن کو ذرا بھر لوںاس پھول کی خوشبو سےجس کو ابھی کھلنا ہےفرصت کی تمنا میںیوں وقت گزرتا ہے
پریاگ پہ بچھڑی ہوئی بہنیں جو ملی ہیںپانی کی زمیں پر بھی تو کلیاں سی کھلی ہیںکچھ گنگا کا رکناکچھ جمنا کا جھکناپھر دونوں کا ملناوہ پھول سے کھلناکس شوق سے اٹھلاتی ہوئی ساتھ چلی ہیںیہ عشق و محبت کے نظارے ازلی ہیںکہتے ہیں کہ جنت سے بھی آئی ہے بہن ایکگو تینوں کا ہی اصل میں گھر ایک وطن ہےگھر جب سے چھٹا تھادل سرد ہوا تھاوہ کوہ سے گرناوہ دشت میں پھرناراتوں کو وہ سنسان بیابان میں چلناسہمے ہوئے تاروں کا وہ سینے میں مچلناتھا وہ سفر دشت میں میدان میں بن میںخاموش پہاڑوں میں گلستاں میں چمن میںجنگل سے نکلنارکتے ہوئے چلناکچھ بڑھ کے پلٹناڈر ڈر کے سمٹنامر مر کے اکیلے یہ گزارا ہے زمانہجیسے کوئی دنیا میں نہ ہو اپنا یگانہخالی کبھی جاتی نہیں بے لفظ صدائیںآخر کو اثر کر گئیں خاموش دعائیںجاگا ہے مقدرپریاگ پہ آ کراب غم نہ سہیں گےتنہا نہ رہیں گےپریاگ پہ بہنوں کو ملایا ہے خدا نےمدت میں یہ دن آج دکھایا ہے خدا نےکیا جوش محبت سے بغل گیر ہوئی ہیںوارفتگئ شوق کی تصویر ہوئی ہیںاللہ رے محبتسرمایۂ راحتیہ کس کو خبر تھیدل ملتے ہیں یوں بھیہوں گی نہ جدا حشر تک اب ایسے ملی ہیںخوش بہنیں ہیں یا پانی پہ کلیاں سی کھلی ہیں
مغربی صحرا کے کنارے کندن کے پھول کھلنا شروع ہو گئے ہیںمشرقی صحرا کے بیچوں بیچ کھڑی سندری کی ناک کا لونگ مرجھا گیا ہےیہ کس تاریخ کے اخبار کی خبر ہےکوئی اشتہار ہے کیادیواروں پہ لکیریں نہ ڈالو مٹاؤ گے تو تمہارے ہی ہاتھ کالے ہوں گےہاں کھیل کھیل میں ہی دلالی سیکھ جاؤ گے کوئلوں کا تو بہانہ ہےکوئلے چار دن اور دہک رہے ہیںپنکھے میرے دل میں لگے ہیں مجھے اب بھی سردی لگتی ہےبرف کی وہ ڈلی پگھلتی کیوں نہیں جس کی آئینے جیسی سطح پرمیرا چہرہ بھی مجھے دکھائی کیوں نہیں دیتا درمیان کون حائل ہےگرم لرزتے ہوئے آنسو اور ملنے کی تاہنگآنسوؤں کے جھکولے میں ہمارے چہرے ڈس لوکیٹ ہو گئے ہیںاور پھر سانس سے سانس نہ ملیدم میں دم نہ آیارانجھا رانجھا کوکدی میں آپے رانجھن ہوئی
ہو تو سکتا ہے کسی دیو کے جیسے میں بھیلے اڑوں تجھ کو کہیں دور کی دنیاؤں میںدل کی دیواروں میں لو تیری مقید کر کےتشنہ آشاؤں کے قلعے کو منور کر لوںخواب دیرینہ کی تعبیر بنا کر تجھ کواپنی آنکھوں کے کواڑوں میں مقفل کر لوںساری دنیا کی نگاہوں سے چھپا کر تجھ کولے اڑوں رینگتے بل کھاتے ہوئے رستوں پرجو پہاڑوں کے بدن کاٹ کے اوپر کی طرفسبز کائی سے اٹے محلوں پہ جا رکتے ہیںخود غرض ہو کے تجھے قید میں رکھوں ایسےذی نفس کوئی نہ ہو چار چفیرے تیرےاپنی تنہائی کی وحشت کو مٹانے کے لئےڈھونڈ پائے نہ کسی کو تو سوائے میرےصرف اک میں ہوں اور اک تو ہو رفاقت کے لئےماسوا میرے نہ ہو کوئی محبت کے لئےلیکن اے پھول صفت دیکھ کے صورت تیریسوچتا ہوں کہ اگر باغ جہاں سے تجھ کوتوڑ بھی لوں گا تو تو کیسے جیے گی آخررنگ ہا رنگ مہکتے ہوئے پھولوں سے پرےدور افتادہ پر اسرار خرابے میں قیامدرد کے پھیلتے سائے میں کہاں ممکن ہےتجھ تر و تازہ کا خوش رہنا چٹکنا کھلنامیری ویران سرائے میں کہاں ممکن ہے
تمہیں خبر ہےمرے سرہانے کے بیل بوٹوں میںاک شگوفہ نیا کھلا ہےتمہیں خبر ہےکہ خشک سالی کے زرد موسم میںپھول کھلنا دلیل ہے کہمیں اپنے خوابوں کو رہن رکھ کرتمام شباک اذیت سے کاٹتی ہوںروش روش کو سنوارتی ہوںمجھے یہ ڈر ہےتمہاری یادوں سے میرا رشتہ نہ ٹوٹ جائےکہیں یہ گلشن نہ سوکھ جائے
مل مل کر ہٹنا پتوں کاتھم تھم کر کھلنا کلیوں کاٹکرائے جانا لہروں کاجگ مگ ہے مندر نغموں کاپیاری چڑیو چہکے جاؤسورج کی چنچل کرنوں سےڈھلتے ہیں جب راگ تمہارےایسے رنگیں ایسے میٹھےکیا ہوں گے دنیا کے گانےپیاری چڑیو چہکے جاؤآنکھیں ہیں ہر دم ہنسنا ہےدل اک راحت کی دنیا ہےایک تڑپ ہے ایک مزہ ہےجانے تم میں کون چھپا ہےپیاری چڑیو چہکے جاؤروٹھی ہوئی قسمت کو منائیںبھٹکے ہوئے ہیں راہ پہ آئیںاپنی اپنی منزل پائیںہاں جب تک سب جاگ نہ جائیںپیاری چڑیو چہکے جاؤ
وہ جلوہ سحر کا وہ چڑیوں کا گاناوہ ٹھنڈی ہوائیں وہ منظر سہاناوہ پھولوں کا کھلنا وہ بو بھینی بھینیمسرت سے کلیوں کا وہ مسکراناافق پر وہ سرخی وہ رنگین بادلوہ پورب میں سورج کا جلوہ دکھانادرختوں کا وہ جھومنا مست ہو کروہ پتوں کا خوش ہو کے تالی بجاناخدا کے وہ بندوں کا بیدار ہوناوہ منہ ہاتھ دھونا وہ ان کا نہاناوہ پھر کام میں اپنے مصروف رہ کرمشقت سے محنت سے روزی کماناوہ بیلوں کے گھنگرو وہ ٹن ٹن سہانیکسانوں کا اٹھ کر وہ کھیتوں میں جاناوہ سرسبز کھیتوں کے دل کش نظارےوہ شاداب کھیتی کا منظر سہاناوہ ایک ایک بستی کے گھر گھر میں رونقوہ جھاڑو بہارو وہ کھانا پکاناوہ آزاد رہنے کی دل سے دعائیںوطن کی محبت کے وہ گیت گانانرالی ہیں یوں تو فضائیں وطن کیمگر اس کا وقت سحر ہے یگانہچلو ہم بھی نیرؔ کا اک گیت گائیںوہی یعنی اپنے وطن کا ترانہ
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہوجام رندوں کو ملنے لگے تم کہوچاک سینوں کے سلنے لگے تم کہواس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کومیں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
جب ساون بادل چھائے ہوںجب پھاگن پھول کھلائے ہوںجب چندا روپ لٹاتا ہوجب سورج دھوپ نہاتا ہویا شام نے بستی گھیری ہو
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےمجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئےکچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئےوہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوںکل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوںپل دو پل میں کچھ کہہ پایا اتنی ہی سعادت کافی ہےپل دو پل تم نے مجھ کو سنا اتنی ہی عنایت کافی ہےکل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والےہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہےساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گاکل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرےمصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلقنہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئییوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھولنہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئیاسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتےترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے
یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستییہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستییہاں پر تو جیون سے ہے موت سستییہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
تمہاری ارجمند امی کو میں بھولا بہت دن میںمیں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میںوہی تو ہیں جنہوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایاوہ کس رگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکالہو اور تھوکنا اس کا ہے کاروبار بھی میرایہی ہے ساکھ بھی میری یہی معیار بھی میرامیں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیںنجانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیںمیں اک تاریخ ہوں اور میری جانے کتنی فصلیں ہیںمری کتنی ہی فرعیں ہیں مری کتنی ہی اصلیں ہیںحوادث ماجرا ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےشداید سانحہ ہی ہم رہے ہیں اک زمانے سےہمیشہ سے بپا اک جنگ ہے ہم اس میں قائم ہیںہماری جنگ خیر و شر کے بستر کی ہے زائیدہیہ چرخ جبر کے دوار ممکن کی ہے گرویدہلڑائی کے لیے میدان اور لشکر نہیں لازمسنان و گرز و شمشیر و تبر خنجر نہیں لازمبس اک احساس لازم ہے کہ ہم بعدین ہیں دنوںکہ نفی عین عین و سر بہ سر ضدین ہیں دونوںLuis Urbina نے میری عجب کچھ غم گساری کیبصد دل دانشی گزران اپنی مجھ پہ طاری کیبہت اس نے پلائی اور پینے ہی نہ دی مجھ کوپلک تک اس نے مرنے کے لیے جینے نہ دی مجھ کو''میں تیرے عشق میں رنجیدہ ہوں ہاں اب بھی کچھ کچھ ہوںمجھے تیری خیانت نے غضب مجروح کر ڈالامگر طیش شدیدانہ کے بعد آخر زمانے میںرضا کی جاودانہ جبر کی نوبت بھی آ پہنچی''
اگر میں سمجھوںکے یہ جو مہرے ہیںصرف لکڑی کے ہیں کھلونےتو جیتنا کیا ہے ہارنا کیانہ یہ ضرورینہ وہ اہم ہےاگر خوشی ہے نہ جیتنے کینہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہےتو کھیل کیا ہےمیں سوچتا ہوںجو کھیلنا ہےتو اپنے دل میں یقین کر لوںیہ مہرے سچ مچ کے بادشاہ و وزیرسچ مچ کے ہیں پیادےاور ان کے آگے ہےدشمنوں کی وہ فوجرکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کےسارے منصوبےسب ارادےمگر ایسا جو مان بھی لوںتو سوچتا ہوںیہ کھیل کب ہےیہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہےیہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائزکوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سےیہ جنگ بھی ہےیہ کھیل بھی ہےیہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کییہ کھیل ہے جنگ کی طرح کامیں سوچتا ہوںجو کھیل ہےاس میں اس طرح کا اصول کیوں ہےکہ کوئی مہرہ رہے کہ جائےمگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئےوزیر ہی کو ہے بس اجازتکہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے
بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمکبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سےتو مجھ کو خدا را غلط مت سمجھناکہ میری ضرورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاریہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاریجو کانٹے ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوںسجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہارینظر سے زمانے کی خود کو بچاناکسی اور سے دیکھو دل مت لگاناکہ میری امانت ہو تمبہت خوبصورت ہو تمہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہراہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہرااور اس پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہراگلابوں سے نازک مہکتا بدن ہےیہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہےبکھیرو جو زلفیں تو شرمائے بادلفرشتے بھی دیکھیں تو ہو جائیں پاگلوہ پاکیزہ مورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمجو بن کے کلی مسکراتی ہے اکثرشب ہجر میں جو رلاتی ہے اکثرجو لمحوں ہی لمحوں میں دنیا بدل دےجو شاعر کو دے جائے پہلو غزل کےچھپانا جو چاہیں چھپائی نہ جائےبھلانا جو چاہیں بھلائی نہ جائےوہ پہلی محبت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم
دیکھوں جو آسماں سے تو اتنی بڑی زمیںاتنی بڑی زمین پہ چھوٹا سا ایک شہرچھوٹے سے ایک شہر میں سڑکوں کا ایک جالسڑکوں کے جال میں چھپی ویران سی گلیویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا اک شجرتنہا شجر کے سائے میں چھوٹا سا اک مکانچھوٹے سے اک مکان میں کچی زمیں کا صحنکچی زمیں کے صحن میں کھلتا ہوا گلابکھلتے ہوئے گلاب میں مہکا ہوا بدنمہکے ہوئے بدن میں سمندر سا ایک دلاس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو گیا ہوں میںیوں ہے کہ اس زمیں سے بڑا ہو گیا ہوں میں
دکن کے ولیؔ نے مجھے گودی میں کھلایاسوداؔ کے قصیدوں نے مرا حسن بڑھایاہے میرؔ کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایامیں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی
تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاںیہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
اتنی مدت بعد تو پریتمآج کلی ہردے کی کھلی ہےکتنی راتیں جاگ کے ساجنآج مجھے یہ رات ملی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books