aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lams"
یہ واقعےحادثےتصادمہر ایک غماور ہر اک مسرتہر اک اذیتہر ایک لذتہر اک تبسمہر ایک آنسوہر ایک نغمہہر ایک خوشبووہ زخم کا درد ہوکہ وہ لمس کا ہو جادوخود اپنی آواز ہو کہ ماحول کی صدائیںیہ ذہن میں بنتی اور بگڑتی ہوئی فضائیںوہ فکر میں آئے زلزلے ہوں کہ دل کی ہلچلتمام احساسسارے جذبےیہ جیسے پتے ہیںبہتے پانی کی سطح پرجیسے تیرتے ہیںابھی یہاں ہیںابھی وہاں ہیںاور اب ہیں اوجھلدکھائی دیتا نہیں ہے لیکنیہ کچھ تو ہےجو کہ بہہ رہا ہےیہ کیسا دریا ہےکن پہاڑوں سے آ رہا ہےیہ کس سمندر کو جا رہا ہےیہ وقت کیا ہے
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گیرات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھیمیرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھیمیری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھیمیرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھیزیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی
میں بنجارہوقت کے کتنے شہروں سے گزرا ہوںلیکنوقت کے اس اک شہر سے جاتے جاتے مڑ کے دیکھ رہا ہوںسوچ رہا ہوںتم سے میرا یہ ناتا بھی ٹوٹ رہا ہےتم نے مجھ کو چھوڑا تھا جس شہر میں آ کروقت کا اب وہ شہر بھی مجھ سے چھوٹ رہا ہےمجھ کو وداع کرنے آئے ہیںاس نگری کے سارے باسیوہ سارے دنجن کے کندھے پر سوتی ہےاب بھی تمہاری زلف کی خوشبوسارے لمحےجن کے ماتھے پر روشناب بھی تمہارے لمس کا ٹیکانم آنکھوں سےگم سم مجھ کو دیکھ رہے ہیںمجھ کو ان کے دکھ کا پتا ہےان کو میرے غم کی خبر ہےلیکن مجھ کو حکم سفر ہےجانا ہوگاوقت کے اگلے شہر مجھے اب جانا ہوگا
تو میرا ہےتیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیںتیری آنکھ کے آنسو میرےتیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میریتو میرا ہےہر وہ جھونکاجس کے لمس کواپنے جسم پہ تو نے بھی محسوس کیا ہےپہلے میرے ہاتھوں کوچھو کر گزرا تھاتیرے گھر کے دروازے پردستک دینے والاہر وہ لمحہ جس میںتجھ کو اپنی تنہائی کاشدت سے احساس ہوا تھاپہلے میرے گھر آیا تھاتو میرا ہےتیرا ماضی بھی میرا تھاآنے والی ہر ساعت بھی میری ہوگیتیرے تپتے عارض کی دوپہر ہے میریشام کی طرح گہرے گہرے یہ پلکوں سائے ہیں میرےتیرے سیاہ بالوں کی شب سے دھوپ کی صورتوہ صبحیں جو کل جاگیں گیمیری ہوں گیتو میرا ہےلیکن تیرے سپنوں میں بھی آتے ہوئے یہ ڈر لگتا ہےمجھ سے کہیں تو پوچھ نہ بیٹھےکیوں آئے ہومیرا تم سے کیا ناطہ ہے
میں جب بھی چھوتا ہوں اپنے بدن کی مٹی کوتو لمس پھر اسی ٹھنڈے بدن کا ہوتا ہےلباس روز بدلتا ہوں میں بھی سب کی طرحمگر خیال تمہارے کفن کا ہوتا ہے
لڑکی!یہ لمحے بادل ہیںگزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گےان کے لمس کو پیتی جاقطرہ قطرہ بھیگتی جابھیگتی جا تو جب تک ان میں نم ہےاور ترے اندر کی مٹی پیاسی ہےمجھ سے پوچھکہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہوابال سکھانے کے موسم ان پڑھ ہوتے ہیں!
یہ نرم نرم سے ہاتھوں کا گرم گرم سا لمسگداز جسم پہ بلور کی تہوں کا سماںیہ انگلیاں یہ زمرد تراشتی شاخیںکرن کرن ترے دانتوں پہ موتیوں کا گماں
میں روٹھا ہوں میرا کاندھا چھوؤپھر مسکراؤ اور کھانے پر بلا لومجھے ڈر لگ رہا ہے آجمجھ کو اپنے بستر پر سلا لومیں اس میلے میں چل کر تھک گیا ہوںاپنے کاندھے پر بٹھا لوقدم پھر لڑکھڑاتے ہیںمجھے انگلی دو گرتا ہوں سنبھالومجھے سر درد ہے سر چھو کےاپنے لمس کی عمدہ دوائی دو
وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےدھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہوشفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہوکس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفروہی نرم لہجہکبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گاتو ایسا لگےجیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہووہی نرم لہجہکسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرےتو ایسا لگےجیسے قوس قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہےہنسی کو وہ رم جھمکہ جیسے فضا میں بنفشی چمکدار بوندوں کے گھنگھرو چھنکنے لگے ہوںکہ پھراس کی آواز کا لمس پا کےہواؤں کے ہاتھوں میں ان دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوںوہی نرم لہجہ مجھے چھیڑنے پر جب آئےتو ایسا لگے گاجیسے ساون کی چنچل ہواسبز پتوں کے جھانجھن پہنسرخ پھولوں کی پائل بجاتی ہوئیمیرے رخسار کوگاہے گاہے شرارے سے چھونے لگےمیں جو دیکھوں پلٹ کے تو وہبھاگ جائے مگردور پیڑوں میں چھپ کر ہنسےاور پھر ننھے بچوں کی مانند خوش ہو کے تالی بجانے لگےوہی نرم لہجہکہ جس نے مرے زخم جاں پہ ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہےبہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہےجو سدا آنے والے نئے سکھ کے موسم کا قاصد بنا ہےاسی نرم لہجے نے پھر مجھ کو آواز دی ہے
خلاؤں میں تیرتے جزیروں پہ چمپئی دھوپدیکھ کیسے برس رہی ہے!مہین کہرا سمٹ رہا ہےہتھیلیوں میں ابھی تلکتیرے نرم چہرے کا لمس ایسے چھلک رہا ہےکہ جیسے صبح کو اوک میں بھر لیا ہو میں نےبس ایک مدھم سی روشنیمیرے ہاتھوں پیروں میں بہہ رہی ہے
تمہارے ہونٹوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی تلاوتیںجھک کے میری آنکھوں کو چھو رہی ہیںمیں اپنے ہونٹوں سے چن رہا ہوں تمہاری سانسوں کی آیتوں کوکہ جسم کے اس حسین کعبے پہ روح سجدے بچھا رہی ہےوہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا جس میں تم جنم لے رہی تھیںوہ ایک لمحہ بڑا مقدس تھا جس میں میں جنم لے رہا تھایہ ایک لمحہ بڑا مقدس ہے جس کو ہم جنم دے رہے ہیںخدا نے ایسے ہی ایک لمحے میں سوچا ہوگاحیات تخلیق کر کے لمحے کے لمس کو جاوداں بھی کر دے!
اس نے میرے ہاتھ میں باندھااجلا کنگن بیلے کاپہلے پیار سے تھامی کلائیبعد اس کے ہولے ہولے پہنایاگہنا پھولوں کاپھر جھک کر ہاتھ کو چوم لیاپھول تو آخر پھول ہی تھےمرجھا ہی گئےلیکن میری راتیں ان کی خوشبو سے اب تک روشن ہیںبانہوں پر وہ لمس ابھی تک تازہ ہےشاخ صنوبر پر اک چاند دمکتا ہےپھول کا گہناپریم کا کنگنپیار کا بندھناب تک میری یاد کے ہاتھ سے لپٹا ہوا ہے
مگر دیکھ مجھ کو کہ میں نے یہاں ٹھیک نو سال تکپھول کاڑھے ہیں خوابوں کے بستر پہ لیکنابھی تک کوئی ان پہ سویا نہیںپھول تازہ شگفتہ اور آزردہ ہیںمیں نے نو سال صورت گری کی ہے تیرے ہر اک لمس کیرات بھر میں نے آنکھیں بھگوئی ہیں کوزوں میں اور صبح دمحلق کو تر کیا آنسوؤں سے بہت
امی کی یہ جائے نماز مجھے دے دومجھے پتہ ہےاس میں کتنی روشن صبحیں جذب ہوئی ہیںکتنی سناٹی دوپہریںاس کی سیون میں زندہ ہیںمغرب کے جھٹ پٹ انوار کی شاہد ہے یہآخر شب کا گریہاس کے تانے بانے کا حصہ ہےمجھے پتہ ہےامی کے پاکیزہ سجدوں کی سرگوشیاس کے کانوں میں زندہ ہےاس کے سچے سچے سجدےدیکھو کیسے چمک رہے ہیںان کے لمس کی خوشبوکیسی پھوٹ رہی ہےامی کی یہ جائے نماز بڑی دولت ہےامی کی یہ جائے نماز مجھے دے دو
تتلی معصومانہ حیرت سے سرشارسیہ شاخوں کے حلقے سے نکلیصدیوں کے جکڑے ہوئے ریشمی پر پھیلائے اور اڑنے لگیکھلی فضا کا ذائقہ چکھانرم ہوا کا گیت سناان دیکھے کہساروں کی قامت ناپیروشنیوں کا لمس پیاخوشبو کے ہر رنگ کو چھو کر دیکھالیکن رنگ ہوا اور خوشبو کا وجدان ادھورا تھاکہ رقص کا موسم ٹھہر گیارت بدلیاور سورج کی کرنوں کا تاج پگھلنے لگاچاند کے ہاتھ دعا کے حرف ہی بھول گئےہوا کے لب برفیلے سموں میں نیلے پڑ کر اپنی صدائیں کھو بیٹھےپتوں کی بانہوں کے سر بے رنگ ہوئےاور تنہا رہ گئے پھولوں کے ہاتھبرف کی لہر کے ہاتھوں تتلی کو لوٹ آنے کا پیغام گیابھنورے شبنم کی زنجیریں لے کر دوڑےاور بے چین پروں میں ان چکھی پروازوں کی آشفتہ پیاس جلا دیاپنے کالے ناخونوں سےتتلی کے پر نوچ کے بولےاحمق لڑکیگھر واپس آ جاؤناٹک ختم ہواخواتین کا عالمی سال
ایک پتھر کی ادھوری مورتچند تانبے کے پرانے سکےکالی چاندی کے عجب سے زیوراور کئی کانسے کے ٹوٹے برتنایک صحرا ملےزیر زمیںلوگ کہتے ہیں کہ صدیوں پہلےآج صحرا ہے جہاںوہیں اک شہر ہوا کرتا تھااور مجھ کو یہ خیال آتا ہےکسی تقریبکسی محفل میںسامنا تجھ سے مرا آج بھی ہو جاتا ہےایک لمحے کوبس اک پل کے لئےجسم کی آنچاچٹتی سی نظرسرخ بندیا کی دمکسرسراہٹ تری ملبوس کیبالوں کی مہکبے خیالی میں کبھیلمس کا ننھا سا پھولاور پھر دور تک وہی صحراوہی صحرا کہ جہاںکبھی اک شہر ہوا کرتا تھا
سنو میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہےوہاں سردی بہت ہوگیاکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گےتو گھر میں کوئی بھی لڑکیسلگتی مسکراہٹ سےتمہاری اس تھکاوٹ کوتمہارے کوٹ پر ٹھہری ہوئی بارش کی بوندوں کوسمیٹے گی نہ جھاڑے گینہ تم سے کوٹ لے کر وہ کسی کرسی کے ہتھے پراسے لٹکا کے اپنے نرم ہاتھوں سےچھوئے گی اس طرح جیسے تمہارا لمس پاتی ہوتم آتش دان کے آگے سمٹ کر بیٹھ جاؤ گےتو ایسا بھی نہیں ہوگاتمہارے پاس وہ آ کربہت ہی گرم کافی کا ذرا سا گھونٹ خود لے کروہ کافی تم کو دے کر تم سے یہ پوچھےکہو کیا تھک گئے ہو تمتم اپنی خالی آنکھوں سےیوں اپنے سرد کمرے کو جو دیکھو گے تو سوچو گےٹھٹھر کر رہ گیا سب کچھتمہاری انگلیوں کی سرد پوروں پرکسی رخسار کی نرمیکسی کے ہونٹ کی گرمیتمہیں بے ساختہ محسوس تو ہوگیمگر پھر سرد موسم کی ہوا کا ایک ہی جھونکاتمہیں بے حال کر دے گاتھکے ہارے ٹھٹھرتے سرد بستر پراکیلے لیٹ جاؤ گے
کانپتی ہیں ہونٹوں پرکتنی ان کہی باتیںگونجتے ہیں کانوں میںکتنے ان سنے نغمےجھانکتے ہیں پلکوں سےانگلیوں کے پوروں تکخواب کتنے ان دیکھےلمس ان چھوئے کتنے
وقت کی پیٹھ پرکچے لمحوں کے دھاگوں میں لپٹا ہواشہر کی سیڑھیوں پر سرکتا ہوانت نئےخودکشی کے طریقوں کا موجد بناحبشی راتوں کے جنگل میں بکھری ہوئیلمس کی ہڈیاںچن رہا ہوں نہ جانے میں کس کے لیےجب مرے نام کے لفظ تنہا تھے لوگوتمہیں سرخ ہونٹوں کی خیراتکیسے ملی یہ بتاؤریفریجیٹر میں رکھی ہوئی طشتری میںمری دونوں آنکھیں برہنہ پڑی تھیںوہاں تک کسی خواب کے ہاتھ پہنچے نہیںکبوتر کی آنکھوں میںٹوٹے ہوئے آسمانوں کا تنزل نہ دیکھوبدن کے شکستہ کھنڈر سے نکل بھاگنے کے لیے پھرتمہاری مدد کی ضرورت ہے مجھ کو
راکھ کا سارنگ پہنےبرف کی لاش ہےلادے کا سا بدن پہنےگونگی چاہت ہےرسوائی کا کفن پہنےہر ایک قطرہ مقدس ہے میلے آنسو کاایک ہجوم اپاہج ہے آب کوثر پریہ کیسا شور ہے جو بے آواز پھیلا ہےرو پہلی چھاؤں میں بد نامیوں کا ڈیرا ہےیہ کیسی جنت ہے جو چونک چونک جاتی ہےایک انتظار مجسم کا نام خاموشیاور احساس بے کراں پہ یہ سرحد کیسیدر و دیوار کہاں کی آوارگی کےنور کی وادی تلک لمس کا اک سفر طویلہر ایک موڑ پہ بس دو ہی نام ملتے ہیںموت کہہ لو جو محبت نہیں کہنے پاؤاسی کا نام محبت ہے جس کا نام ہے موت
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books