aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mahkuum"
نوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
اور ہنس کر خوش ہوا کرتے سارے اجنبیکون سمجھائے کہ ہم محکوم ہیں مظلوم ہیں
آج وہ کشمير ہے محکوم و مجبور و فقيرکل جسے اہل نظر کہتے تھے ايران صغير
گھٹا آتی نہیں خوشیوں کی بارش لا نہیں سکتیمری روح حزیں محکوم ہے اپنے تأثر کی
گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہوتھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو
تجھ سے اک عمر کا پیماں تھا مگر میرا نصیبانقلابات کا محکوم ہوا جاتا ہے
آج محکوم نگاہوں کو جلال آیا ہےراکھ کی گود میں پلتے ہیں شرارے دیکھو
یہ کہیں حاکم کہیں محکوم ہےیہ کہیں ظالم کہیں مظلوم ہے
اور ان پر حکومت کرنے والےبدترین محکوم بھی تم ہی نکلے
جوڑتی ہے ہمیں اک سمے سے جو مدت سےاک ناملائم زمانے میں محکوم ہے
قلب محکوم ہے اس دور میں سنسان دیارہو گیا ہے دل مجبور دکھوں سے بیزار
قیدیوں شاعروں اور محکوم آبادیوں کے لئےاور بیمار بچوں کی ماں کے لئے
حاکم و محکوم میں باقی نہ ہوگا کوئی فرقایک اہل تخت و اہل بوریا ہو جائیں گے
میں کچھ اس سے بھی سوا ہوں تجھے معلوم نہیںمیں تری دوست ہوں لیکن تری محکوم نہیں
پائی محکوم نے نجات کہیںبادشاہت زمیں پہ دے ماری
اپنے اک ہاتھ میں ارض محکوم اور دوسرے ہاتھ میںجوہری بم لیے
اس چھوٹی سی دنیا کا میں حاکم ہوںبیوی بچے سب میرے محکوم ہیں پر
حکومت تھی غیروں کی محکوم ہم تھےزمیں تنگ تھی آسمانی ستم تھے
ابھی جو حکم دیتے تھے انہیں محکوم ہونا تھاابھی جو ظلم ڈھاتے تھے انہیں مظلوم ہونا تھا
حرف معصوم تھے محکوم تھے محصور بھی تھےلفظ مصلوب ہوئے ہونٹوں پہ آ کے تیرے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books