aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mare"
جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیںکاسہ لیے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہمدار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئےتیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہمنیم تاریک راہوں میں مارے گئے
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہماراتوحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارادنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہماراتیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارامغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہماراباطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارااے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارااے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارااے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہماراسالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارااقبالؔ کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جواس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکیاسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جواس سے پہلے مری شہہ رگ کا لہو چاٹ چکی
ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کےمجھے وہ قرض چکانے کا موقع تو دیتےتمہارا خون مرے جسم میں مچلتا رہاذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگاسکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگاگزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والےبنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگاکبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گےبرہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگاسنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخرجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگانکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھاسنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگاکیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میںتو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگادیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گیجو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگاسفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کاہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگاچمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگاجو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایایہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگاکہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیںتو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگاخدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگایہ رسم بزم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھیرہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگامیں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے در ماندہ کارواں کوشرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگانہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کاتو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگانہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کیکہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سےتجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرےذرا سی چیز ہے اس پر غرور! کیا کہنا!یہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور! کیا کہنا!خدا کی شان ہے نا چیز چیز بن بیٹھیں!جو بے شعور ہوں یوں با تمیز بن بیٹھیں!تری بساط ہے کیا میری شان کے آگےزمیں ہے پست مری آن بان کے آگےجو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاںبھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!کہا یہ سن کے گلہری نے منہ سنبھال ذرایہ کچی باتیں ہیں دل سے انہیں نکال ذرا!جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا!نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹاہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہےکوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہےبڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نےمجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نےقدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میںنری بڑائی ہے! خوبی ہے اور کیا تجھ میںجو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کویہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کونہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میںکوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
سرشار نگاہ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سنبل ہوںیہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوںہر آن یہاں صہبائے کہن اک ساغر نو میں ڈھلتی ہےکلیوں سے حسن ٹپکتا ہے پھولوں سے جوانی ابلتی ہےجو طاق حرم میں روشن ہے وہ شمع یہاں بھی جلتی ہےاس دشت کے گوشے گوشے سے اک جوئے حیات ابلتی ہےاسلام کے اس بت خانے میں اصنام بھی ہیں اور آذر بھیتہذیب کے اس مے خانے میں شمشیر بھی ہے اور ساغر بھییاں حسن کی برق چمکتی ہے یاں نور کی بارش ہوتی ہےہر آہ یہاں اک نغمہ ہے ہر اشک یہاں اک موتی ہےہر شام ہے شام مصر یہاں ہر شب ہے شب شیراز یہاںہے سارے جہاں کا سوز یہاں اور سارے جہاں کا ساز یہاںیہ دشت جنوں دیوانوں کا یہ بزم وفا پروانوں کییہ شہر طرب رومانوں کا یہ خلد بریں ارمانوں کیفطرت نے سکھائی ہے ہم کو افتاد یہاں پرواز یہاںگائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاںاس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیںناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیںاس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں اس بزم میں ساغر توڑے ہیںاس بزم میں آنکھ بچھائی ہے اس بزم میں دل تک جوڑے ہیںاس بزم میں نیزے پھینکے ہیں اس بزم میں خنجر چومے ہیںاس بزم میں گر کر تڑپے ہیں اس بزم میں پی کر جھومے ہیںآ آ کے ہزاروں بار یہاں خود آگ بھی ہم نے لگائی ہےپھر سارے جہاں نے دیکھا ہے یہ آگ ہمیں نے بجھائی ہےیاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں یاں ہم نے شب خوں مارے ہیںیاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں یاں ہم نے تاج اتارے ہیںہر آہ ہے خود تاثیر یہاں ہر خواب ہے خود تعبیر یہاںتدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاںذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاںخود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاںاس گل کدۂ پارینہ میں پھر آگ بھڑکنے والی ہےپھر ابر گرجنے والے ہیں پھر برق کڑکنے والی ہےجو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گاہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گاہر سرو و سمن پر برسے گا ہر دشت و دمن پر برسے گاخود اپنے چمن پر برسے گا غیروں کے چمن پر برسے گاہر شہر طرب پر گرجے گا ہر قصر طرب پر کڑکے گایہ ابر ہمیشہ برسا ہے یہ ابر ہمیشہ برسے گا
کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریںاکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریںدیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانیسینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریںبھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیںتقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریںآنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کاتخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریںکیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روح ملت کوابلیں گے زمیں سے مار سیہ برسیں گی فلک سے شمشیریںکیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھےاک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریںکیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھےاک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریںسنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئےاٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں
اور کچھ دیر میں لٹ جائے گا ہر بام پہ چاندعکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گےعرش کے دیدۂ نمناک سے باری باریسب ستارے سر خاشاک برس جائیں گےآس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میںاپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئیبے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقتاس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئیترک دنیا کا سماں ختم ملاقات کا وقتاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤ گےاس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں رہنے دوکوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دواور ملے گا بھی اس طور کہ پچھتاؤگےاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤگے
گو آفت و غم کے مارے ہیںہم خاک نہیں ہیں تارے ہیںاس جگ کے راج دلارے ہیںمزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم
اک عمر کے بعد تم ملے ہواے میرے وطن کے خوش نواؤہر ہجر کا دن تھا حشر کا دندوزخ تھے فراق کے الاؤروؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئےہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤتم آئے تو ساتھ ہی تمہارےبچھڑے ہوئے یار یاد آئےاک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھااور مجھ کو ہزار یاد آئےوہ سارے رفیق پا بجولاںسب کشتۂ دار یاد آئےہم سب کا ہے ایک ہی قبیلہاک دشت کے سارے ہم سفر ہیںکچھ وہ ہیں جو دوسروں کی خاطرآشفتہ نصیب و در بدر ہیںکچھ وہ ہیں جو خلعت و قبا سےایوان شہی میں معتبر ہیںسقراط و مسیح کے فسانےتم بھی تو بہت سنا رہے تھےمنصور و حسین سے عقیدتتم بھی تو بہت جتا رہے تھےکہتے تھے صداقتیں امر ہیںاوروں کو یہی بتا رہے تھےاور اب جو ہیں جا بجا صلیبیںتم بانسریاں بجا رہے ہواور اب جو ہے کربلا کا نقشہتم مدح یزید گا رہے ہوجب سچ تہ تیغ ہو رہا ہےتم سچ سے نظر چرا رہے ہوجی چاہتا ہے کہ تم سے پوچھوںکیا راز اس اجتناب میں ہےتم اتنے کٹھور تو نہیں تھےیہ بے حسی کسی حساب میں ہےتم چپ ہو تو کس طرح سے چپ ہوجب خلق خدا عذاب میں ہےسوچو تو تمہیں ملا بھی کیا ہےاک لقمۂ تر قلم کی قیمتغیرت کو فروخت کرنے والواک کاسۂ زر قلم کی قیمتپندار کے تاجرو بتاؤدربان کا در قلم کی قیمتناداں تو نہیں ہو تم کہ سمجھوںغفلت سے یہ زہر گھولتے ہوتھامے ہوئے مصلحت کی میزانہر شعر کا وزن تولتے ہوایسے میں سکوت، چشم پوشیایسا ہے کہ جھوٹ بولتے ہواک عمر سے عدل و صدق کی لاشغاصب کی صلیب پر جڑی ہےاس وقت بھی تم غزل سرا ہوجب ظلم کی ہر گھڑی کڑی ہےجنگل پہ لپک رہے ہیں شعلےطاؤس کو رقص کی پڑی ہےہے سب کو عزیز کوئے جاناںاس راہ میں سب جئے مرے ہیںہاں میری بیاض شعر میں بھیبربادئ دل کے مرثیے ہیںمیں نے بھی کیا ہے ٹوٹ کر عشقاور ایک نہیں کئی کیے ہیںلیکن غم عاشقی نہیں ہےایسا جو سبک سری سکھائےیہ غم تو وہ خوش مآل غم ہےجو کوہ سے جوئے شیر لائےتیشے کا ہنر قلم کو بخشےجو قیس کو کوہ کن بنائےاے حیلہ گران شہر شیریںآیا ہوں پہاڑ کاٹ کر میںہے بے وطنی گواہ میریہر چند پھرا ہوں در بدر میںبیچا نہ غرور نے نوازیایسا بھی نہ تھا سبک ہنر میںتم بھی کبھی ہم نوا تھے میرےپھر آج تمہیں یہ کیا ہوا ہےمٹی کے وقار کو نہ بیچویہ عہد ستم جہاد کا ہےدریوزہ گری کے مقبروں سےزنداں کی فصیل خوشنما ہےکب ایک ہی رت رہی ہمیشہیہ ظلم کی فصل بھی کٹے گیجب حرف کہے گا قم بہ اذنیمرتی ہوئی خاک جی اٹھے گیلیلائے وطن کے پیرہن میںبارود کی بو نہیں رہے گیپھر باندھیں گے ابرووں کے دوہےپھر مدح رخ و دہن کہیں گےٹھہرائیں گے ان لبوں کو مطلعجاناں کے لیے سخن کہیں گےافسانۂ یار و قصۂ دلپھر انجمن انجمن کہیں گے
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
مگر میں آج بہت دور جانے والا ہوںبس اور چند نفس کو تمہارے پاس ہوں میںتمہیں جو پا کے خوشی ہے تم اس خوشی پہ نہ جاؤتمہیں یہ علم نہیں کس قدر اداس ہوں میںکیا تم کو خبر اس دنیا کی کیا تم کو پتہ اس دنیا کامعصوم دلوں کو دکھ دینا شیوہ ہے اس دنیا کاغم اپنا نہیں غم اس کا ہے کل جانے تمہارا کیا ہوگاپروان چڑھو گی تم کیسے جینے کا سہارا کیا ہوگاآؤ کہ ترستی بانہوں میں اک بار تو تم کو بھر لوں میںکل تم جو بڑی ہو جاؤ گی جب تم کو شعور آ جائے گاکتنے ہی سوالوں کا دھارا احساس سے ٹکرا جائے گاسوچو گی کہ دنیا طبقوں میں تقسیم ہے کیوں یہ پھیر ہے کیاانسان کا انساں بیری ہے یہ ظلم ہے کیا اندھیر ہے کیایہ نسل ہے کیا یہ ذات ہے کیا یہ نفرت کی تعلیم ہے کیوںدولت تو بہت ہے ملکوں میں دولت کی مگر تقسیم ہے کیوںتاریخ بتائے گی تم کو انساں سے کہاں پر بھول ہوئیسرمائے کے ہاتھوں لوگوں کی کس طرح محبت دھول ہوئیصدیوں سے برابر محنت کش حالات سے لڑتے آئے ہیںچھائی ہے جو اب تک دھرتی پر اس رات سے لڑتے آئے ہیںدنیا سے ابھی تک مٹ نہ سکا پر راج اجارہ داری کاغربت ہے وہی افلاس وہی رونا ہے وہی بیکاری کامحنت کی ابھی تک قدر نہیں محنت کا ابھی تک مول نہیںڈھونڈے نہیں ملتیں وہ آنکھیں جو آنکھیں ہو کشکول نہیںسوچا تھا کہ کل اس دھرتی پر اک رنگ نیا چھا جائے گاانسان ہزار برسوں کی محنت کا ثمر پا جائے گاجینے کا برابر حق سب کو جب ملتا وہ پل آ نہ سکاجس کل کی خاطر جیتے جی مرتے رہے وہ کل آ نہ سکالیکن یہ لڑائی ختم نہیں یہ جنگ نہ ہوگی بند کبھیسو زخم بھی کھا کر میداں سے ہٹتے نہیں جرأت مند کبھی
مرے سرکش ترانے سن کے دنیا یہ سمجھتی ہےکہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہےمجھے ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہےمری فطرت کو خوں ریزی کے افسانے سے رغبت ہےمری دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہے رقص و نغمہ کیمرا محبوب نغمہ شور آہنگ بغاوت ہےمگر اے کاش دیکھیں وہ مری پرسوز راتوں کومیں جب تاروں پہ نظریں گاڑ کر آنسو بہاتا ہوںتصور بن کے بھولی وارداتیں یاد آتی ہیںتو سوز و درد کی شدت سے پہروں تلملاتا ہوںکوئی خوابوں میں خوابیدہ امنگوں کو جگاتی ہےتو اپنی زندگی کو موت کے پہلو میں پاتا ہوںمیں شاعر ہوں مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہےمرا دل دشمن نغمہ سرائی ہو نہیں سکتامجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نےمرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتاجواں ہوں میں جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہےمری باتوں میں رنگ پارسائی ہو نہیں سکتامری سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہےکہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کوغریبوں مفلسوں کو بے کسوں کو بے سہاروں کوسسکتی نازنینوں کو تڑپتے نوجوانوں کوحکومت کے تشدد کو امارت کے تکبر کوکسی کے چیتھڑوں کو اور شہنشاہی خزانوں کوتو دل تاب نشاط بزم عشرت لا نہیں سکتامیں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
مارے ہیں موج ڈابر دریا ڈونڈ رہے ہیںمور و پپہیے کوئل کیا کیا رمنڈ رہے ہیںجھڑ کر رہی ہیں جھڑیاں نالے امنڈ رہے ہیںبرسے ہے منہ جھڑا جھڑ بادل گھمنڈ رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books