aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mauj-e-havaa"
موج ہوا کو اب خبروں کے دام سے بھی چھٹ جانے دوگہرے دھوئیں اور گرد کے بادل میںکاغذ اور ریت کے ذرےآدھے سچ کے ساتھ چمٹ کراب گھر گھر تک آ پہنچے ہیںاپنی سانسیں روک رہے ہیںبین سناناشور مچاناخاک اڑانا کب تککب تک یہ سب کو دھمکاناتم بھی صبر کروجبراً خود کو کیا مظلوم بنانا ممکن ہوگاطاقت ور ہواپنے گھر تکسچائی انصاف محبت کے قائل ہولیکن گھر سے باہر آنکھیں ساتھ نہیں ہیںکبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہےیہ لکھا ہوا ہےجب ہاتھی کی سونڈ میں گھس کرچیونٹی آفت بن جاتی ہےایک غلیل سےڈیوڈگولئیتھ کو مار دیا کرتے ہیںحد سے جب اونچے ہو جائیںقصر گرا کرتے ہیں
نقاہت خواب میں بھی جسم انساں کے نہ پاس آئےنہ دامن تک کبھی موج ہوائے رنج و یاس آئے
دیکھ آج تمناؤں کی بے سمت ہوائیںدل شرمندہ نظر کوپھر لے کے چلی ہیں وہی بے رخت ہوائیںاسی جادو کے نگر کوجس خاک پہ اترے تھے مرادوں کے صحیفےسنکی تھی جہاں سبز ہوا، کوئے وفا کیمہکے تھے جہاں پھول صفت رنگ کسی کےاس خاک کا ہر روپ مرے واسطے زندانکچھ روٹھے ہوئے خواب ہیں کچھ ٹوٹے ہوئے مانکچھ برسے ہوئے ابر ہیں کچھ ترسے ہوئے لباے ہجر زدہ شبآ تو ہی گلے لگ کے بتا کون یہاں ہےجز خود سری موج ہوا کون یہاں ہےہمدرد مرا تیرے سوا کون یہاں ہےآ چوم لوں آنکھیں تری رخسار ترے لباے ہجر زدہ شب
عمر کا سورج سوا نیزے پہ آیاگرم شریانوں میں بہتے خون کا دریا بھنور ہونے لگاحلقۂ موج ہوا کافی نہیںوحشت ابر بدن کے واسطےآغوش کوئی اور ہوورنہ یوں مردہ سڑک کے خواب آور سے کنارےبے خیالی میں کسی تھوکے ہوئے بچے کی الجھی سانس میں لپٹی ہوئی یہ زندگی!
موتی کو نکلنا ہی پڑا بطن صدف سےہر گل چمنستان جہاں کا سفری ہےہر موج ہوا خانہ بدوشی کا ہے نوحہہر ذرے کی تقدیر یہاں دربدری ہے
اے سبک سادہ نشاں، پانی کی لہراے گل امکاں خبر موج ہوامیں زیاں احساس قطرہ قطرہ راتتو سفر، ساکت سمندر، دائرہطائر لاہوت کا نغمہ عدماک صلیب شاخ پہ آنکھیں سزا
ایک اہرام نہ چن لوں صفت دود حریرکوئی آئے تو بس اک گنبد در بستہ ملےراز سر بستہ ملےلاکھ سر پھوڑے صدا کوئی نہ مجھ تک پہنچےقاصد موج ہوا کوئی نہ مجھ تک پہنچےاب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوںسارے اندیشے مگر ایک طرفایک طرف تیری امیدجانے کس وقت ادھر تیری سواری آ جائےاجنبی لاکھ کوئی میری فصیلیں ڈھا جائےمجھ کو دیوار میں دروازہ لگانا ہوگا
تو سنے تو ابر بھی نغمہ ہےتو سنے تو موج ہوا بھی راگ کی تان ہےتو سنے تو پات بھی پھول بھی کسی گپت گیت کے بول ہیںگل و یاسمن ہوں کہ مہر و ماہہر اک اپنی صوت و صدا میں کامل و تام ہےمرا لفظ ناقص و خام ہےرہا ناتمام جو کہہ سکاجو نہ کہہ سکا وہی بات اصل کلام ہے
آج ہر سر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹاڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اس کی آوازجوشش درد سے مجنوں کے گریباں کی طرحچاک در چاک ہوا آج ہر اک پردۂ سازآج ہر موج ہوا سے ہے سوالی خلقتلا کوئی نغمہ کوئی صوت تری عمر درازنوحۂ غم ہی سہی شور شہادت ہی سہیصور محشر ہی سہی بانگ قیامت ہی سہی
میں نے ایک چمن میں جا کر خوشبو کو یہ بات بتائیچاند کا بچنا اب مشکل ہےچار طرف سے گھبرا کے اس کو مار رہی ہے پھیلی ہوئی نیلی تنہائیخوشبو نے لی اک انگڑائیاور یہ بولیہاں بس تھوڑی دیر ہوئیشبنم کچھ اس سے ملتا جلتااک پیغام سا تو لائی تھیلیکن شاعر میں کیوں جاؤںجس کو تنہائی ڈستی ہو وہ خود آئےمیں کیوں جاؤںآخر موج ہوا آتی ہےاور برہنہ پا آتی ہے
میں اڑ سکتا ہوںلیکن میری بے تابی کو جانے کون سی موج ہواآغوش میں لے گیمیں تھک کے بیٹھ سکتا ہوںمگر ساری زمیں میرے لیے اوندھی پڑی ہےمری سوچوں کے مرکز سے نکلتے راستوں پرمیرے نقش پا کے بے ترتیب خاکوں میںاب آنکھیں اگ گئیں ہیںہوا کے ہاتھ میں اک لوح میرا خواب نامہ ہےہواؤں کے تعاقب میں اگر میں مر گیاتو کون میری لحد پر اس لوح کو کتبہ بنائے گا
مست گھٹا منڈلائی ہوئی ہےباغ پہ مستی چھائی ہوئی ہےجھوم رہی ہیں آم کی شاخیںنیند سی جیسے آئی ہوئی ہےبولتا ہے رہ رہ کے پپیہابرق سی اک لہرائی ہوئی ہےلہکے ہوئے ہیں پھول شفق کےآتش تر چھلکائی ہوئی ہےشعر مرے بن بن کے ہویداقوس کی ہر انگڑائی ہوئی ہےرینگتے ہیں خاموش ترانےموج ہوا بل کھائی ہوئی ہےرونق عالم سر ہے جھکائےجیسے دلہن شرمائی ہوئی ہےگھاس پہ گم سم بیٹھا ہے کیفیؔیاد کسی کی آئی ہوئی ہے
لمحوں کی زبانیں گنگ ہوئیںعقدے کی کڑیاں کھلتی گئیںجب تیز تھی آندھی دور کہیںاڑتی تھی قبائے جسم وہیںبے چین ہوئی پھر روح بہتکچھ بے آواز سی چیخیں تھیںتحلیل ہوا میں ہوتی تھیںکچھ ابر کے ٹکڑے آوارہجیسے خوشیوں کا پشتارہتھک کر بکھرا دے کوئی انہیںپروائی کا جھونکا ہلکا ساپھر دور اڑا لے جائے انہیں
آم کی ڈالوں پہ چکنے سبز پتےسبز پتوں پر لٹکتی کیریاںسبز ننھی کیریاںرنگ رس اور سواد کے خوابوں کی تعبیروں کے انکھوے کھل گئےسبز پیلا سبز بھورا سبز کالا سبز زریں سبز نیلاسبز سبز سبز سبزسبز غالب رنگ کتنی جوڑیوں کے ساتھ پھیلا ہواسبز غالب رنگ باقی رنگ گویا اس کے شیڈراس منڈل میں کنہیا سبز باقی اس کی گوپیاںتیز بے حد تیز بے دم ہانپتی موج ہوا کی لےتیز بے حد تیز لیکن نغمہ ریزجھومتا گاتا تھرکتا ناچتا ماحولایک لے میں رقص کرتے ہیں فضا دیہات جنگل کھیترقص میں ہے موج رنگموج میں آوازاور پھر آواز میں خوشبو کا رقصسب کے سب ہیں ایک لے کے دائرے میں ہم نوا ہم رقص باہم ایک
تپتی ہوں ریت پہ دریا کی ترائی دے دےکب کہا میں نے مجھے ساری خدائی دے دےمسکن خاک بھنور خوف کے اور موج ہواایک قطرہ ہوں سمندر میں رسائی دے دےبال کھولے ہوئے ڈائن سی ڈراتی ہے حیاتدل کو ادراک رہ عقدہ کشائی دے دےاور قانون بنا کوئی زمانے کے لئےپست اوہام سے ذہنوں کو رہائی دے دےمیری آنکھوں میں دھواں ہے کہ اندھیرا ہے جہاںدل کی وہ شمع جو دنیا نے بجھائی دے دےکبھی ایسا بھی ہو میں خود کو نہ دیکھوں تنہامیری سوچوں سے کبھی مجھ کو رہائی دے دےاتنی تنویر کہ میں عکس ہی دیکھوں اپناایک شب مجھ کو بھی تاروں کی کمائی دے دےآج پھر گھیرا ہے صحراؤں نے بستی کو مریپھر مجھے ذوق جنوں آبلہ پائی دے دے
قمقمہ ہے کہ لب بام لیے بیٹھی ہےتیرگی اپنی ہتھیلی پہ اجالے کی ڈلیجس کو خود موج ہوا اوٹ کئے بیٹھی ہےنقش حیرت بنی تکتی ہے جسے اندھی گلیجیسے کچھ دور اندھیرے کی کسی ان جانیشاخ پہ خندہ بہ لب غنچہ خاموشی ہورات کی گوش بر آواز فضا میں جیسےنرم نرم آنچ کی جاگی ہوئی سرگوشی ہوکاش یہ قمقمہ جگنو کی طرح اڑنے لگےمجھ تک آ پہنچے تصور کی گھنی چھاؤں میںمیں چلوں راہ تخیل پہ تو پلکیں جھپکےٹمٹماتی ہوئی پرواز مرے پاؤں میںجادۂ فکر کی امواج بڑھتا بڑھتا جاؤںخود کو گھیرے سے ہوئے سپنوں کی حسیناؤں میںاڑتے تلووں کے مدھر عکس سے جھلکاتا ہواضو کے آئینے خیالات کے دریاؤں میںمیری منزل ہو کوئی من کا سنہرا ٹاپوگھوموں جی بھر کے طلسمی سے کسی گاؤں میں
اور شرابی میز سے اٹھ کررقص کے حلقوں سے ٹکراتاکشتی کی صورت چکراتاہاتھ میں اپنا جام اٹھائےمیری جانب جھومتا آیاخنداں خنداں، نازاں نازاںرقصاں رقصاں، پیچاں پیچاںموج ہوا کو چومتا آیا
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماںتجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاںایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیےامتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تومطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے توسوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے توبرف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سرخندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پرتیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زنچوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطنچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہےابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطےتازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نےاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیےہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابرجنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلییوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھیکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مراآتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئیآئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئیچھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کولیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صداوہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہواکانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پرخوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پراے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن تراکچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھاہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
اف وہ جمنا کے قریں دیہات کا دل کش سماںاونچی نیچی سی وہ دیواریں وہ کچھ ٹوٹے مکاںرشک ہو فردوس کو نقشہ ہے وہ دیہات کاسبز کاہی کی بہار اور وہ سماں برسات کاآسماں کرتا ہے شب بھر گوہر انجم نثارپھول کرتی ہے نچھاور ہر سحر باد بہاروہ روش کھیتوں کی جس پر تختۂ جنت نثارکیاریاں وہ دل ربا ہو جلوۂ فطرت نثارشہر کی ٹھنڈی ہوا سے نخل تھا ہر اک نہاںتھی خس و خاشاک پانی پر کہ آئینہ پہ بالسبز دھانوں کا وہ تا حد نظر اک سلسلہوہ گھنے پودے نظر کو تھی نہ تل رکھنے کی جاتھی بنفشہ سطح پر پانی کی یوں آئی ہوئیزلف ہو جس طرح آئینہ پہ لہرائی ہوئیاف وہ سناٹا وہ خاموشی فضا کی متصلکھڑکھڑایا جب کوئی پتا دھڑک اٹھتا تھا دللہلہا اٹھیں شجر وہ شام کی ٹھنڈی ہواچھوٹ وہ مہتاب کی بڑھ جائے پانی کھیت کااڑ رہے ہیں اس طرح موج ہوا کے ساتھ میںجان گویا پڑ گئی ہے خاک کے ذرات میںڈوبتا سورج وہ چڑھتی دھوپ وہ دل کش سماںسرخیٔ مشرق سے وہ اٹھتا ہوا شب کا دھواںبیل ہر سو عشق پیچاں کی وہ لہرائی ہوئیآسماں کی طرح چکر میں زمیں آئی ہوئی
نئی سحر میں دھندلکے بدلنے والے ہیںچمن کی خاک پہ مصروف رقص پیہم ہےتمام جوش بہاراں تمام سیل نموابل رہے ہیں سرور خودی کے فوارےچھلک رہے ہیں نشاط خود آگہی کے سبوچمک رہا ہے فضا میں خلوص کا پرچمبسی ہوئی ہے فضا میں حیات کی خوشبوفلک پہ آخر شب کی لکیر دوڑ چلیزمیں نے کھول دئے اپنے ریشمیں گیسوخود اپنے کیف میں سرشار بادۂ احمرخود اپنی آگ میں بیتاب لالۂ دل جوسکوت شوق میں ڈوبے ہوئے زمان و مکاںطلسم حسن سے معمور عالم من و تووہ شاخ تاک جھکی روح نیستاں جاگیوہ مسکرائے ترانے وہ جگمگائے کدویہ آب و تاب نہ تھی نیم وا شگوفوں میںمجھے یقیں ہے کہ موج ہوا میں ہے جادووہ راگ چھیڑ گئی ہے نسیم نرم خرامکہ شعلہ زن ہے رگ خار و خس میں ذوق نمونہ اب وہ گردش افلاک ہے نہ درد حیاتنہ اب وہ رشتۂ زنار ہے نہ ظرف وضوتمام طوق و سلاسل پگھلنے والے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books