aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mituu.n"
کیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگکیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگبات کی گھڑیاں بیت نہ جایں دور ہے اس کا دیسدور دیس ہے پیتم کا اور میں بدلے ہوں بھیس
لوٹ بھی آئیں اگر ابوہ شناسا لمحےاور میں تجھ سے ملوں بھیتو دبے لفظوں میںپوچھیں گے سبھیکن ستاروں کی گزر گاہ پہ تم پہلے پہل نکلے تھےکون سی جھیل تھی وہجس میں تم پہلے پہل ڈوبے تھےکون سے پیڑ تھے وہجن کے سایوں میںمحبت کے شگوفے پھوٹےاتنے بدلے ہوئے حالات کے دوراہے پران سوالوں کے جوابات میں کیسے دوں گا
ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہکچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہکہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہتری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خواردوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوارترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میںبھری تھی روح لطافت ترے تکلم میںنوائے حق کی کشش تھی ترے ترنم میںیقیں کی شمع جلائی شب توہم میںدلوں کو حق سے ہم آہنگ کر دیا تو نےگلوں کو گوندھ کے یک رنگ کر دیا تو نےتری نوا نے دیا نور آدمیت کومٹا کے رکھ دیا حرص و ہوا کی ظلمت کودلوں سے دور کیا سیم و زر کی رغبت کوکہ پا لیا تھا ترے دل نے حق کی دولت کوہجوم ظلمت باطل میں حق پناہی کیفقیر ہو کے بھی دنیا میں بادشاہی کیتری نگاہ میں قرآن و دید کا عالمترا خیال تھا راز حیات کا محرمہر ایک گل پہ ٹپکتی تھی پیار کی شبنمکہ بس گیا تھا نظر میں بہشت کا موسمنفس نفس میں کلی رنگ و بو کی ڈھلتی تھینسیم تھی کہ فرشتوں کی سانس چلتی تھیتری شراب سے بابا فرید تھے سرشارترے خلوص سے بے خود تھے صوفیان کبارکہاں کہاں نہیں پہنچی ترے قدم کی بہارترے عمل نے سنوارے جہان کے کردارتری نگاہ نے صہبائے آگہی دے دیبشر کے ہاتھ میں قندیل زندگی دے دیترے پیام سے ایسی کی تھی مسیحائیترے سخن میں حبیب خدا کی رعنائیترے کلام میں گوتم کا نور دانائیترے ترانے میں مرلی کا لحن یکتائیہر ایک نور نظر آیا تیرے پیکر میںتمام نکہتیں سمٹی ہیں اک گل تر میںجہاں جہاں بھی گیا تو نے آگہی بانٹیاندھیری رات میں چاہت کی روشنی بانٹیعطا کیا دل بیدار زندگی بانٹیفساد و جنگ کی دنیا میں شانتی بانٹیبہار آئی کھلی پیار کی کلی ہر سوترے نفس سے نسیم سحر چلی ہر سورضائے حق کو نجات بشر کہا تو نےتعینات خودی کو ضرر کہا تو نےوفا نگر کو حقیقت نگر کہا تو نےظہور عشق کو سچی سحر کہا تو نےجہان عشق میں کچھ بیش و کم کا فرق نہ تھاتری نگاہ میں دیر و حرم کا فرق نہ تھابتایا تو نے کہ عرفاں سے آشنا ہوناکبھی نہ عاشق دنیائے بے وفا ہونابدی سے شام و سحر جنگ آزما ہوناخدا سے دور نہ اے بندۂ خدا ہونانشے میں دولت و زر کے نہ چور ہو جاناقریب آئے جو دنیا تو دور ہو جاناجو روح بن کے سما جائے ہر رگ و پے میںتو پھر نہ شہد میں لذت نہ ساغر مے میںوہی ہے ساز کے پردے میں لحن میں لے میںاسی کی ذات کی پرچھائیاں ہر اک شے میںنہ موج ہے نہ ستاروں کی آب ہے کوئیتجلیوں کے ادھر آفتاب ہے کوئیابد کا نور فراہم کیا سحر کے لئےدیا پیام بہاروں کا دشت و در کے لئےدیے جلا دئے تاریک رہ گزر کے لئےجیا بشر کے لئے جان دی بشر کے لیےدعا یہ ہے کہ رہے عشق حشر تک تیرازمیں پہ عام ہو یہ درد مشترک تیراخدا کرے کہ زمانہ سنے تری آوازہر اک جبیں کو میسر ہو تیرا عکس نیازجہاں میں عام ہو تیرے ہی پیار کا اندازخلوص دل سے ہو پوجا خلوص دل سے نمازترے پیام کی برکت سے نیک ہو جائیںیہ امتیاز مٹیں لوگ ایک ہو جائیں
چارہ سازی کے ہر انداز کا گہرا نشترغم گساری کی روایات میں الجھے ہوئے زخمدردمندی کی خراشیں جو مٹائے نہ مٹیں
برق رفتاری پہ اپنی رشک کرتا تھا جہاںسوئے آزادی ہمارا قافلہ تھا تیز گامسیکھنا ہے لیکن اب مے خانۂ تعمیر میںجنبش نبض تمنا و خرام دور جاممنزل مقصود تک یہ قوم جا سکتی نہیںجس کے قبضے میں نہیں اسپ سیاست کی لگامہم کو بچنا چاہئے ہر اس برے اقدام سےجس سے ہو مطعون دنیا میں وطن کا نیک ناماتحاد و آشتی ہر دم رہیں پیش نظرجا گزیں دل میں رہے ذوق عمل بالالتزامدور آزادی کا گوہر عیش ہے عیش حلالدل یہ کہتا ہے کہ یوں پابند ہونا ہے حرامدل کی تلقینات پر پہلے عمل فرمائیےشوق سے پھر جشن آزادی مناتے جائیےعیش کے ساماں بھی ہوں اور فرض کا احساس بھیجشن بھی ہو غم زدوں کی ناز برداری بھی ہوداخل آداب مے نوشی ہو ساقی کا ادبمستیاں ہوں مستیوں کے ساتھ ہشیاری بھی ہوکچھ پئیں اور کچھ بچائیں تشنہ کاموں کے لیےسادگی کا ناز بھی انداز پرکاری بھی ہوحال کی خاطر خرد کوشی ہے مستحسن مگربہر مستقبل جنون ذوق بیداری بھی ہونرم رفتاری ہو وقت سیر گل زار طربراہ پرخار عمل میں گرم رفتاری بھی ہواس خوشی کے وقت کتنے دل ہیں غم سے پائماللطف آ جائے اگر ان سب کی غم خواری بھی ہورونے والوں کی ہنسی کو پہلے واپس لائیےشوق سے پھر جشن آزادی مناتے جائیے
ہاتھ پر ہاتھ دھرے سب ہوں اگر گریہ کناںپھر ان اشکوں کا کرے کون مداوا آخرکس طرح دکھ یہ ٹلیں زخم بھریں داغ مٹیںان تمناؤں کو دے کون سہارا آخر
یہ دل چاہتا ہےکہ میں جا ملوں ان سےان سا ہی ہو جاؤںپر میں انہیں کس طرح یہ بتاؤںکہ اے اضطراب مسلسل کے گرداب میں قید روحومجھے تم سے ہمدردی ہےپیار ہےمیں خود چاہتا ہوںمن و تو کی ساری فصیلیں پھلانگوںمگر کیا کروںکچھ مقدس سے رشتےدعا گو سی آنکھیںمجھے یاد آتی ہیںچپ چاپ گھر لوٹ آتا ہوں میںان حسیں پیارے لوگوں کی خاطر توجینا پڑے گایہ زہراب پینا پڑے گا
میں چاہتی ہوںکہ اگلی رت میں ملوں جو تم سےجنم جنم کی تھکاوٹوں کے خطوط چہرے سے مٹ چکے ہوںقدم قدم اک سفر کی پچھلی علامتیں سب گزر چکی ہوںملال صحرا نوردی پاؤں کے آبلوں میں سمٹ چکا ہومسافرت کی تمام رنجشمرے مساموں سے دھل چکی ہوکسی بھی پتھر کا کوئی دھبہکسی بھی چوکھٹ کا کوئی قرضہمری جبیں پر رہے نہ لرزاںمیں چاہتی ہوں کہ اگلی رت میں ملیں جو ہم تمدمک رہا ہو یوں میرا دامنکہ تم جو چاہونماز پڑھ لو
سر سے ڈھلکا ہوا آنچل شکن آلود لباسچھڑی آنکھوں میں مچلتی ہوئی نیندوں کی جھلکسو گئی تھی ذرا خود سب کو سلاتے شایدنیند کچی تھی کہ دی وعدے نے دل پر دستکچونک کر اٹھی تو دیکھا کہ ستارے بن کراوج افلاک پہ ہے مانگ کی افشاں کی دمکشیشۂ مہ سے چھلک کر مئے تند و بے درداس کے ماتھے سے چرا لیتی ہے سونے کی ڈلکچوڑیاں ہاتھوں میں تھامے چلی ہولے ہولےکر دے غمازی مبادا کہیں چھاگل کی چھنکسرخی ٹیکے کی جبیں پر ذرا پھیلی پھیلیجس طرح جام سے کچھ تھوڑی سی مے جائے چھلک''زلفیں یوں چہرے پہ بکھری ہوئی مانگیں تھیں دلجس طرح ایک کھلونے پہ مٹیں دو بالک''جس طرح غم خانے پہ پہنچی تو کچھ آیا جو خیالچوڑیاں چھوڑ دیں چھاگل بھی ہنسی چھانا چھنک
کتابیں میرا جنگل ہیںجنہیں میں کاٹ کر اب بارہویں زینے پر بیٹھا ہوںمعافی کے ہیولوں میں چمکتی صورتوں سے دور تنہاحرف کے صدمات سہتا ہوںکہ میں خود آگہی کے بھاری سانسوں کا سمندر ہوںجسے نمکین پانی کی سزا آبادیوں سےبادبان کی طرف کافی دور رکھتی ہےکتابیں میرا جنگل ہیںجہاں پر نفرتوں کی تیز دھڑکنبرتری کی چیختی آواز کی دستک نہیںجو صبح کو میری رگوں میں باؤلے پن کےچمکتے شوخ سورج کو جگائےمیں پھٹی آنکھوں سے جلتے راز کو سڑکوں پہ عریاں ملوںکتابیں میرا ایندھن ہیںمیں کتابوں میں سلگتی آگ ہوںجلتا ہوا کاغذدھوئیں میں پھیلتی تصویر ہوںمیں ان کتابوں کا ارادہ ہوںجسے تحریر کی خواہش دماغوں میں ہراساں ہےہراساں ہیںکتابیں میری آنکھیں ہیںمگر میں تو وہ کھلتا بند ہوتا چیختا در ہوںجو کبھی سے کہکشاں کا منتظر ہے
میں جب ملوں تو یوں ملوںوہ جب ملیں تو یوں ملیںکہ جیسے صبح شام سےکوئی خود اپنے نام سےکہ جیسے دھوپ چھاؤں سےغریب شہر گاؤں سےکہ جیسے لب دعاؤں سے
اس اک لوک گاتھا نےبچپن کے وہ دنمجھے پھر دلائے ہیں یادکہ جب میں کئی بارپاپا کہ گودی میں بیٹھیبڑی آنکھ والےبھیانک بڑے اژدہا کی کتھا سن رہی تھیجسے شاہزادے نے ہی مار ڈالا تھا آخریہ کچھ اس طرح لگ رہا تھاکہ جیسے یہ کل ہی ہوا ہوبھینکر نظر آنے والا بڑا اژدہا جبادھر شاہزادے کو کھانے کو لپکاتو میں نے جھٹ اپنا چہرہچھپا ڈالا پاپا کے کاندھوں کے بیچیہی جان کر میرے پاپا بچا لیں گے مجھ کواگر اژدہے نے یہی فیصلہ کر لیا ہو کہ میرا بدنشاہزادے سے زیادہ لذیذ ہی تو ہوگاجو اب اس قدر اپنے پاپا سے دورملوں اژدہا سےلڑوں گی میں اوس سے ضروراپنے پاپا کی گہری محبت کے بل پرکہ وہ اژدہا اب بھی رہتا ہےتہذیب کے مارے لوگوں کے بیچکہ آخر مرے پاپا کی لوک گاتھاؤں نے ہیدکھایا ہے مجھ کوکہ اچھائیوں ہی کی ہوتی جیت اس جہاں میںچنانچہ مجھے جس قدر اپنے پاپا پہ پکا یقیں ہےان کی سب لوک گھاتھاؤں پر بھی ہے اتنا یقیں
شام دلہن کی طرحاپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی بیٹھی ہےگوشۂ چشم سے کاجل کی سیاہی ابھی آنسو بن کربہتے غازے میں نہیں جذب ہوئیابھی کھوئی نہیں بالوں کی دل افروز پریشانی میںمسکراتی ہوئی سیندور کی مانگگھلتے رنگوں میں ابھی کاہش جاں باقی ہےگھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانےکب مٹیں کیسے مٹیںشب کی تاریکیاں ہر سمت بکھر جائیں تو آرام ملےیہ چمکتے ہوئے ذرے نہ رہیںذوق تماشا نہ رہےکوئی تمنا نہ رہےاک کرن چھوڑ کے جاتی ہی نہیںچشم گیں کرتی ہوئی کھیل رہی ہے اب تکزرد رو گھاس کے سینے پہ تھرکتی ہوئی بڑھ جاتی ہےسنگریزوں کی نگاہوں میں چمکتی ہوئی لوٹ آتی ہےکوئی سمجھائے اسے جاؤ چلی جاؤ یہاں اب کیا ہےدھوپ کے کانپتے سایوں کو ذرا بڑھنے دوشب کی تاریکیاں چھا جانے دومیں نے سو بار کہا ایک نہ مانی اس نےمسکراتی ہوئی شاخوں پہ لرزتی ہی رہییوں بھی تڑپانے میں اک لطف تو ہے سوز تو ہےرنگ گھلتے ہیں گھلیں گے آخرگھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانےکب مٹیں کیسے مٹیںاپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئیشام دلہن کی طرح بیٹھی رہی بیٹھی رہی
سبھی بناوٹ دماغ کی ہےکشش توازن وجود لہریںذہن کی محفل میں آرزوؤں کا اک سماں ہےیہی جہاں ہےشعور کی سطح پر امڈتا ہوا گماں ہےجو ہم نے سوچا جو ہم نے دیکھا ہے اپنے سر پر وہ آسماں ہےجو چار جانب سے انکھ میں عکس ڈالتا ہے وہی جہاں ہےکشش توازن وجود لہریںیہ کائناتوں کی اینٹیں ہیںذہن سے باہر یہ سب نہیں ہیںذہن سے باہر ہے بے حد و بے کنار معدومیت کا منظرکشش توازن وجود لہریں ذہن کے صفحات سے مٹیں توگنوا ہی دیں اپنی معنویت
شام دلہن کی طرحاپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی بیٹھی ہےگوشۂ چشم سے کاجل کی سیاہی ابھی آنسو بن کربہتے غازے میں نہیں جذب ہوئیابھی کوئی نہیں بالوں کی دل افروز پریشانی میںمسکراتی ہوئی سیندور کی مانگگھلتے رنگوں میں ابھی کاہش جاں باقی ہےگھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانےکب مٹیں کیسے مٹیںشب کی تاریکیاں ہر سمت بکھر جائیں تو آرام ملےیہ چمکتے ہوئے ذرے زمیںذوق تماشا نہ رہےکوئی تمنا نہ رہےاک کرن چھوڑ کے جاتی ہی نہیںچشمکیں کرتی ہوئی کھیل رہی ہے اب تکزرد رو گھاس کے سینے پہ تھرکتی ہوئی بڑھ جاتی ہےسنگ ریزوں کی نگاہوں میں چمکتی ہوئی لوٹ آتی ہےکوئی سمجھائے اسے جاؤ چلو جاؤ یہاں اب کیا ہےدھوپ کے کانپتے سایوں کو ذرا بڑھنے دوشب کی تاریکیاں چھا جانے دومیں نے سو بار کہا ایک نہ مانی اس نےمسکراتی ہوئی شاخوں پہ لرزتی ہی رہییوں بھی تڑپانے میں اک لطف تو ہے سوز تو ہےرنگ گھلتے ہی کھلیں گے آخرگھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانےکب ہٹیں کیسے مٹیںاپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئیشام دلہن کی طرح بیٹھی رہی بیٹھی رہی
وہ بھی اک اچھا مصور تھاپچھلے بلوے میں ہی اس کےدونوں بازو کٹ گئےاور اس بلوے میں اس کیدونوں آنکھیں بجھ گئیںنور فطرت کی سبھی شکلیں مٹیں
مٹیں امنگیںبجھیں ترنگیںمن سے اٹھی ہوکدب کر رہ گئی کوک
اگر کبھی اسے میری یاد آئےمیری طرح اپنیہر انادفن کر آئےمیری خاطر جہاں سے لڑ جائےڈھونڈے مجھےدیوانہ وار نظروں سےمحفل میں توکبھی تنہائی میںقریہ قریہ پھرےصحرا صحرا جائےپھرے جنگلوں میںدنیا کےمارا مارارکھے دل پہ ہاتھشام و سحربھرے سرد آہکبھی جو ڈھونڈنے مجھ کو سمندروں کے سفر پہ نکلےچاند کا عکس جب پانی میں دیکھےبے اختیار چونکےکبھی خود سے لپٹتی ہوا سے پتہ میرا وہ پوچھےنہ ملوں جب اس جہاں میں اسےمصلے پہ جا کے درد اپنا سنائےاور ہچکیاں باندھ کر گڑگڑائےپھر اسے اپنی ہر بے رخی یاد آئےتڑپ تڑپ کے وہ نام میرا دہرائےشایدکبھی ایسا ہو جائے
آسمانوں کی طرف یوں ہی تکوںبے سبب ہنس دوں بگڑ بھی جاؤںسب کی نظروں میں ضروری جو ہےبے نیازی سے اسے دیکھ کر آگے بڑھ جاؤںغیر لوگوں سے ملوں اور دکھاؤں میں تپاکآشنا لوگ ملیں تو ذرا کترا جاؤں
ایک ہیں ہم ایکتا کے گیت گائیں ساتھیودیش کی دھرتی کو مل جل کر سجائیں ساتھیونفرتوں کی آگ اب پھولوں کے من میں کیوں رہےبے وطن یوں پیار کی خوشبو چمن میں کیوں رہےرات اماوس کی سدا اپنے وطن میں کیوں رہےبن کے سورج آسماں پر جگمگائیں ساتھیواپنی آنکھوں میں جلائیں ہم محبت کے چراغسب کے ذہنوں سے مٹیں گزرے ہوئے لمحوں کے داغدل کی دھرتی پر لگائیں پھر نئے خوابوں کے باغپھر بہاروں کے قدم اس گھر میں آئیں ساتھیوقوم کے مذہب کے جھگڑوں سے ہمیں کیا کام ہےہند کے ہیں ہم سبھی ہندوستانی نام ہےدھیان سے سنئے سمے کا ایک ہی پیغام ہےکرودھ چھوڑیں پھول بن کے مسکرائیں ساتھیوکب سے غیروں کی لگائی آگ میں جلتے ہیں ہمکیسے مورکھ ہیں پرائی آگ میں جلتے ہیں ہمہم وطن ہیں بھائی بھائی آگ میں جلتے ہیں ہمکیوں جلیں اس آگ میں اس کو بجھائیں ساتھیو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books