aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mujmal"
نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے
حاکم شہر بھی مجمع عام بھیتیر الزام بھی سنگ دشنام بھی
بستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میریایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری
تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے
میری درماندہ جوانی کی تمناؤں کےمضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو
گھر بار اٹاری چوپاری کیا خاصا نین سکھ اور ململچلون پردے فرش نئے کیا لال پلنگ اور رنگ محل
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر
گرتے ہیں اک فرش مخمل بناتے ہیں جس پرمری آرزوؤں کی پریاں عجب آن سے یوں رواں ہیں
کہ جیسے بستر کم خواب ہو دیبا و مخمل ہومجھے اقرار ہے یہ خیمۂ افلاک کا سایہ
پیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجالدر پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیا
نے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہے
بس ترا نام ہی مکمل ہےاس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی!
آ گئی تھی دل مضطر میں شکیبائی سیبج رہی تھی مرے غم خانے میں شہنائی سی
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بالقدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعتجس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی
جنہیں مضمحل دلوں نے ابدی پناہ جاناتھکے ہارے قافلوں نے جنہیں خضر راہ جانا
یہ چوٹ کھا کے سنبھلنا محال ہوتا ہے
کہتے تھے لوگ دیکھ کے ماں باپ کا ملالان بے کسوں کی جان کا بچنا ہے اب محال
تم کوئی خواب نہیں ہوجو مکمل ہوگی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books