aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mushtaba"
شعر کیا جذب دروں کا ایک نقش ناتماممشتبہ سا اک اشارہ ایک مبہم سا کلام
بلکہ یہ بھی مشتبہ
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کےاتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
بہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمد
مشتعل ہو کے ابھی اٹھیں گے وحشی سائےیہ چلا جائے گا رہ جائیں گے باقی سائے
اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گیاور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں
میں بھی ناکام وفا تھا تو بھی محروم مرادہم یہ سمجھے تھے کہ درد مشترک راس آ گیا
جہاں خلق شہر ہو مشتعلاسے گولیوں سے نگوں کرو
میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموشاپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے
سب بھیگتے ہیں گھر گھر لے ماہ تا بماہییہ رنگ کون رنگے تیرے سوا الٰہی
تیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتری
کسی علم پہ رقم ہو کے مشتہر ہوتاپکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو
تمخوب صورت ہو
میں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لےمجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرے
یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میںاب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی
اس سے ملنا تو اس طرح کہناتجھ سے پہلے مری نگاہوں میں
وہ نہیں تھی تو دل اک شہر وفا تھا جس میںاس کے ہونٹوں کے تصور سے تپش آتی تھی
آؤ بچو سنو کہانیایک تھا راجا ایک تھی رانی
مشتعل، بے باک مزدوروں کا سیلاب عظیم!ارض مشرق، ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books