aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "muztar"
نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر
جنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حباب
آ گئی تھی دل مضطر میں شکیبائی سیبج رہی تھی مرے غم خانے میں شہنائی سی
مصر میں قحط جب پڑا آ کراور ہوئی قوم بھوک سے مضطر
کیا اسیر شعاعوں کو برق مضطر کوبنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نے
تصورشوخیاں مضطر نگاہ دیدۂ سرشار میں
کار فرما ہے کوئی تازہ جنون تعمیردل مضطر ابھی اماجگۂ یاس نہیں
پھر تڑپنے لگا دل مضطرپھر برسنے لگا ہے دیدۂ تر
اس آنگن کی دھول میں مل کر مٹتا مٹتا مٹ جاتا میںعمر بھر ان قدموں کو اپنے سینے پر مضطر پاتا میں
بھر دیا کوٹ کے سوز غم شوہر دل میںرکھ دیا چیر کے اک شعلۂ مضطر دل میں
دل مضطر کی راحت ہے کہ یہ تصویر ہے تیریتری تصویر سے رحمت برستی ہے گرو نانک
رام کے ہجر میں اک روز بھرت نے یہ کہاقلب مضطر کو شب و روز نہیں چین ذرا
نالے کرتی ہوئی لاشیں یہ اسیر زنداںیہ سماں کرنے لگا مضطر و رنجور مجھے
تم اس طرح غموں سے بے حال ہو رہی ہوہم اس طرف ہیں مضطر دامن کشان صحرا
الف سے آدمیالف سے آم ہے
ہے تری تعمیر میں مضمر وہی شان وفاتیری ہر خشت کہن ہے جوہر کان وفا
مری تصویر ہے مایوس و مضطرمیری تصویر رنج و غم کا پیکر
تجھ کو مضطر کیا کہ شاد کیا
صاعقہ ہے برق کا تیرے دل مضطر کی آگپھونک دیتی ہے تجھے سوز غم شوہر کی آگ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books