aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naacho"
میں تجھے پھول کہوں اور کہوں بھنوروں سےآؤ اس پھول کا رس چوس کے ناچو جھومومیں تجھے شمع کہوں اور کہوں پروانوآؤ اس شمع کے ہونٹوں کو خوشی سے چومو
میری پلکوں کو مت دیکھوان کا اٹھنا ان کا جھپکنا جسم کا نا محسوس عمل ہےمیری آنکھوں کو مت دیکھوان کی اوٹ میں شام غریباں ان کی آڑ میں دشت ازل ہےمیرے چہرے کو مت دیکھواس میں کوئی وعدۂ فردا اس میں کوئی آج نہ کل ہےاب اس دریا تک مت آؤ جس کی لہریں ٹوٹ چکی ہیںاس سینے سے لو نہ لگاؤ جس کی نبضیں چھوٹ چکی ہیںاب میرے قاتل کو چاہومیرا قاتل مرہم مرہم دریا دریا ساحل ساحلقاضئ شہر کا ماتھا چوموجس کے قلم میں زہر ہلاہل جس کے سخن میں لحن ہلاہلاب اس رقص کی دھن پہ ناچوجس کی گیت پہ لٹ گیا قاضی جس کی لے پر بک گیا قاتل
منی بولی پیاری آشاکتنی بھولی میری گڑیااچھا ہے تیرا بھی گڈاہو جائے دونوں کا رشتہآشا بولی گنجائش ہےلیکن میری فرمائش ہےہاتھی لوں گی گھوڑے لوں گیمیں کپڑے سو جوڑے لوں گیٹی وی کولر اور اک موٹرسونے اور چاندی کے زیوردینے ہوں گے موٹے پیسےملتے ہیں سیٹھوں کو جیسےمہمانوں کی خاطر اچھیمانو جب یہ بات ہے پکیمنی کا تو جی گھبرایاآنسو ٹپکے سر چکرایاپھر وہ بولی جاؤ جاؤڈوبے گی کاغذ کی ناؤلالچ کا پھل جس نے کھایارویا آخر وہ پچھتایاآشا بولی تم ہو پاگلناحق ہی ہوتی ہو بے کلباتیں ہیں یہ بہکی بہکیمیرے دل میں لالچ چھی چھیمیں نے تم کو یوں ہی چھیڑاکیوں ڈوبے الفت کا بیڑاتیری گڑیا میری گڑیامیرا گڈا تیرا گڈاپیسے کی کیسی بربادیشادی ہوگی سیدھی سادیلاؤ جلدی شربت لاؤجاؤ اچھلو ناچو گاؤ
ناچو گاؤ جشن مناؤکھیلو کودو موج اڑاؤ
ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ کرتا آیابندر والا بندر لایاہاتھ میں اک موٹا سا ڈنڈاڈنڈے میں اک لال سا جھنڈاکندھے پر میلا سا جھولاپیچھے بندر بھولا بھولابندر کے ساتھ اک بندریاپہنے ہوئے اک لال گھگریاکوچوں بازاروں سے گزرتاچوک میں آیا ڈگ ڈگ کرتادیکھ کے کچھ لوگوں کا جمگھٹاس نے کھیل جمایا جھٹ پٹجب لوگوں نے گھیرا باندھاچھلنے لگا کاندھے سے کاندھالے کر ڈنڈا رکھ کر جھولابندر والا ہنس کر بولاناچو بیٹا ناچو بیٹابندر نے بھی جسم سمیٹااپنے دونوں ہاتھ اٹھا کرگردن اور کولھے مٹکا کرجھجکا اور نہ کچھ شرمایاتھرک تھرک کر ناچ دکھایادیکھیے اب سسرال میں جانااور بیوی کو ساتھ میں لانابیوی پہلے تو شرمائیپھر وہ چھم چھم کر آئیلڑکوں نے بندر کو ستایابندر کو بھی غصہ آیاجھپٹا ان پر ڈنڈا لے کران کو ڈرایا بھپکی دے کرکر کے تماشے ایسے ایسےسب لوگوں سے مانگے پیسےوقت ابھی تھا ٹھنڈا ٹھنڈاچلتا بنا لے جھولا ڈنڈا
رم اور جن کی خالی بوتلواخباروں میں چھپے ہوئے بے مصرف لفظواسٹرپٹیز کلب کے پھٹے پرانے ٹکٹوکوٹ کے کالر کے افسردہ تنہا پھولوٹیب رکارڈ میں سہمے سہگل کے نغمودوستیوں اور دشمنیوں کے زندہ لمحوکانپتے ہونٹوں پر کمھلاتے، مونیکا کے آخری بوسوگھیرا ڈال کے میرے گرد کھڑے ہو جاؤناچو گاؤ شور مچاؤاور مرے سینے پر تھک کر سو جاؤ
زندگی کی ندی میں نہاتے ہوئےخوف کھاتے ہو تمجب فنا کے سمندر میں غوطے لگاؤ گےتب کیا کرو گےسو مصنوعی ٹھنڈک کے مارے ہوئےمردہ خانہ نما بند دڑبے سے نکلوجیواور ساون کی بارش میں ناچوجیو اور دیکھوشمالی پہاڑوں پہ برفیں پگھلتے ہیسبزے کا جوبن چڑھا ہےپپیہے نے آواز دے کرپکارا ہے پی کوسو تم بھی پکارو کسی کوسنوجب تمہارے لہو میں جمی برف پگھلے گیجھرنا بہے گاتو پھر زندگی کی ندی اور فنا کا سمندرگلے مل کے ناچیں گےتازہ اکائی کی صورتاٹھو اور اس لمحۂ جاں فزا کو پکڑ لومبادا کوئی لمحۂ جاں گسل تم کو پا لے
مٹی کی یہ سندر کایا مٹی کی ہی ساری مایاکنکر پتھر سونا چاندی سولہ آنے مٹی کےمٹی کے سب چہرے مہرے مٹی کے سب ننگے پاؤںمٹی کی یہ زلفیں گھنیری سب کے شانے مٹی کےمٹی کی ننھی سی کیاری مٹی کی مہکی پھلواریمٹی کے یہ پھول یہ کلیاں سب کے دہانے مٹی کےمٹی کے سب کھیت ہمارے مٹی کی پگڈنڈی بھیمٹی کے ہریالے پودے دانے دانے مٹی کےمٹی کے سب پنگھٹ اپنے مٹی کی سب سکھیاںمٹی کے چمکیلے گگرے کون یہ جانے مٹی کےمٹی کی ماں بہنیں اپنی مٹی کے ہیں بچے بالےجھولا جھولیں سب مٹی کا سب کے ترانے مٹی کےمٹی کی سی موہنی صورت مٹی کی یہ اپنی گڑیامٹی کے سب دلہن دولھا تانے بانے مٹی کےمٹی کے سب دادی دادا مٹی کے سب نانی نانامٹی کے سب آنکھوں والے اندھے کانے سب مٹی کےمٹی کے سب محل دو محلے مٹی کی چھوٹی سی کٹیامٹی کے سب یہ دیے یہ شمعیں سب پروانے مٹی کےمٹی کی سب گلیاں اپنی مٹی کے سب گاؤں ہمارےمٹی کے سب شہر بسے ہیں سب ویرانے مٹی کےمٹی کے سب ساقی و دل بر مٹی کے سب شیشہ و ساغرمٹی کے سب جام و سبو ہیں سب پیمانے مٹی کےمٹی کے سب دیوتا دیوی مٹی کے سب گرجا مسجدکیا سیتا کیا کالی ماتا سب افسانے مٹی کےمٹی کی میٹھی سی بنسی مٹی کی چنچل رادھامٹی سے کرشن کنہیا سب کے گانے مٹی کےمٹی کا بازار لگا ہے کورے کورے سے برتنکس کی صراحی کس کا پیالہ سب پیمانے مٹی کےمٹی کے چولھے پر ناچے سوندھی روٹی مٹی کیجو کچھ چکی چاک میں پیسے دانے دانے مٹی کےمٹی کی خوشبو میں بسا ہے مٹی کا یہ ذرہ ذرہمٹی کو مٹی ہی پکارے حیلے بہانے مٹی کےجھن جھن جھن جھن جھن جھن بجتی کوڑی مٹی کیکھن کھن کھن کھن گیت سناتے آنے آنے مٹی کےتاک دھنا دھن تاک دھنا دھن بولا طبلہ مٹی کاناچو ناچو ناچو ناچو سب رقصانے مٹی کےدھما دھما دھو دھما دھما دھو دھمکا مٹی کا تانڈواس کے پیچھے یاہو یاہو سب مستانے مٹی کےدھڑ دھڑ دھڑ دھڑ دھڑک رہی ہے ہر ہر چھاتی مٹی کیسرسر سرسر سرک رہے ہیں سارے شانے مٹی کےمٹی مٹی مٹی باجے باجے کوچ کا نقاراگھر چل گھر چل گھر چل گھر چل او من مانے مٹی کےمٹی مٹی مٹی مٹی مٹی لوری گاتی ہےسو جا سو جا سو جا سو جا او دیوانے مٹی کےمٹی کی چادر میں چھپیں گے قبر بنے گی مٹی کی
شام ہوئی تو بوڑھا طوطابرگد کی ٹہنی پر بیٹھاسوچ رہا تھا اب کیا ہوگاکھانے کو کیا رکھا ہوگاروٹی حلوہ یاد آتا تھاچھت کا سایہ یاد آتا تھاتب وہ جنگل میں چلایاہائے اندھیرا ہونے آیاآؤ بچو کھاؤ چوریسب کی آدھی میری پوریچڑیاں اس کی باتیں سن کرہنستی تھیں شاخوں میں چھپ کرآپس میں کہتی تھیں اے بیکیسا حلوہ دودھ جلیبیآزادی کے الگ مزے ہیںجنگل کے اپنے میوے ہیںشاخوں سے تازہ پھل کھاؤچشمے کے پانی میں نہاؤناچو گاؤ اڑتے جاؤرات میں ٹہنی پر سو جاؤکھلی ہوائیں کھلی فضائیںمیلوں پر پھیلاتے جائیںیہ سردی گرمی برساتیںاپنے دن ہیں اپنی راتیںجلتی دھوپ اور ٹھنڈا سایہچاند ستاروں کا سرمایہجب تک جنگل میں رہنا ہےہم اس کے ہیں یہ اپنا ہے
دائیں بائیں اوپر دیکھاایک اک پر پھیلا کر دیکھاتب اڑ کر دیوار پہ آیابی بی جان نے شور مچایامنہ کھولے دامن پھیلائےبچے دوڑے دوڑے آئےدادا آئے پنجرا لے کرخالہ جان ملیدہ لے کربے بی روتی دھوتی آئیچمکارا آواز لگائیآ جاؤ اب پیارے طوطےمیں تو تھک گئی روتے روتے2لیکن بوڑھا گنجا طوطااتنا بھولا کیسے ہوتاآزادی سے جان چھڑاتاپنجرے میں واپس آ جاتااڑ کر وہ جنگل میں پہنچاسب سے اونچی شاخ پہ بیٹھاشام ہوئی تو بوڑھا طوطابرگد کی ٹہنی پر بیٹھاسوچ رہا تھا اب کیا ہوگاکھانے کو کیا رکھا ہوگاروٹی حلوہ یاد آتا تھاچھت کا سایہ یاد آتا تھاتب وہ جنگل میں چلایاہائے اندھیرا ہونے آیاخالہ آؤ بی بی آؤبھوک لگی ہے چوری لاؤآؤ بچو کھاؤ چوریسب کی آدھی میری پوریچڑیاں اس کی باتیں سن کرہنستی تھیں شاخوں میں چھپ کرآپس میں کہتی تھیں اے بیکیسا حلوہ دودھ جلیبیآزادی کے الگ مزے ہیںجنگل کے اپنے میوے ہیںشاخوں سے تازہ پھل کھاؤچشمے کے پانی میں نہاؤناچو گاؤ اڑتے جاؤرات میں ٹہنی پر سو جاؤکھلی ہوائیں کھلی فضائیںمیلوں پر پھیلاتے جائیںیہ سردی گرمی برساتیںاپنے دن ہیں اپنی راتیںجلتی دھوپ اور سایہ سایہچاند ستاروں کا سرمایہجب تک جنگل میں رہتا ہےہم اس کے ہیں یہ اپنا ہے
کب تک تم اپنی آگ میں جلتے رہو گےکب تک سونا چراغ جلتا رہےکبھی تمہارے آنگن میں بھی کوئی اترےلہو کے چراغ جلائے ہوئےتمہارے سایوں سے بھی پیار کرےتم پورے چاند کے ساتھ گاؤگھپ اندھیرے میں بھی ناچویہ تمنا بھی پوری ہواور میں یہ منظرراکھ کے ڈھیر سےاور کبھیپاتال سے دیکھوں
جو زندگی کے نئے سفر میںتجھے کسی وقت یاد آئیںتو ایک اک حرف جی اٹھے گاپہن کے انفاس کی قبائیںاداس تنہائیوں کے لمحوںمیں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیںمجھے ترے درد کے علاوہ بھیاور دکھ تھے یہ مانتا ہوںہزار غم تھے جو زندگی کیتلاش میں تھے یہ جانتا ہوںمجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میںدرد کی ریت چھانتا ہوںمگر ہر اک بار تجھ کو چھو کریہ ریت رنگ حنا بنی ہےیہ زخم گلزار بن گئے ہیںیہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہےیہ درد موج صبا ہوا ہےیہ آگ دل کی صدا بنی ہےاور اب یہ ساری متاع ہستییہ پھول یہ زخم سب ترے ہیںیہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمےجو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیںجو تیری قربت تری جدائیمیں کٹ گئے روز و شب ترے ہیںوہ تیرا شاعر ترا مغنیوہ جس کی باتیں عجیب سی تھیںوہ جس کے انداز خسروانہ تھےاور ادائیں غریب سی تھیںوہ جس کے جینے کی خواہشیں بھیخود اس کے اپنے نصیب سی تھیںنہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہبہت دنوں کا اجڑ چکا ہےوہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکنکڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہےوہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہاسی کے سینے میں گڑ چکا ہے
تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیاہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی ہر شہر میں جنگل پھیل گیا
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
وہ میری ماں میں کبھی جس کی پیٹھ پر نہ چڑھاوہ میری ماں کبھی کچھ جس کے کان میں نہ رکھاوہ ماں کبھی جو مجھے کردھنی پنہا نہ سکیجو تال ہاتھ سے دے کر مجھے نچا نہ سکیجو میرے ہاتھ سے اک دن دوا بھی پی نہ سکیکہ مجھ کو زندگی دینے میں جان ہی دے دیوہ ماں نہ دیکھ سکا زندگی میں جس کی چاہاسی کی بھٹکتی ہوئی روح کو دکھاتا راہ
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو رنگ بھرےکچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرےدل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرےکچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منہ چنگ بھرے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books