aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "notice"
گھر کے دروازے پہ یہ لکھ دیا نوٹس میں نےگھر کی گھنٹی نہ بجاؤ کہ مرا روزہ ہے
لیکن اس کے باوجودوہ توہین کا وہ نوٹس نہیں جاری کر سکیں گے
تمہیں تمہارے گھر سےبنا نوٹس کے نکال دیا گیا
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!
جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچےکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات
اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دو نیمنوک دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی پہ لکیر
جب اوندھی کشتی کے نیچے ہم نےبدن کے چولھے جلا کے تاپے تھے، دن کیا تھا
جگر سے نوچے ہیں اور ہر اککا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے
۴جھکی جھکی پلکوں کے نیچے نمناکی کا نام نہ تھا
دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانیسینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں
کوئی خواب نوک سناں پہ تھاکوئی آرزو تہ سنگ تھی
اے عشق ازل گیر و ابد تابکچھ خواب کہ مدفون ہیں اجداد کے خود ساختہ اسمار کے نیچے
ہر لڑکی کےتکیے کے نیچے
اونچا مکان جس کا ہے پچ کھنا سوایااوپر کا کھن ٹپک کر جب پانی نیچے آیا
ہر ایک کو کہیں نہ کہیں پناہ مل گئیچینٹیوں کو جائے نماز کے نیچے
نہ سرخی لب خنجر نہ رنگ نوک سناںنہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ
چاٹ کر دیوار کو نوک زباں سے ناتواںصبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلند،
حال کے سکے کو ماضی کا جو سکہ دیکھ لےسو روپے کے نوٹ کے منہ پر دو انی تھوک دے
کبھی درخت کے نیچےکبھی وہ ہاتھ پکڑتے
پھینک کر اپنی نوک زباںخون نور سحر پی گئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books