aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pak.De"
مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںاور ایسے مطمئن ہیں جیسے ان کونہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہےمگر یہ وقت کی جاسوس نظریںجو پیچھا کرتی ہیں سب کا ضمیروں کے اندھیرے تکاندھیرا نور پر رہتا ہے غالب بس سویرے تکسویرا ہونے والا ہے(۲)مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناکچھ اندھے سورما جو تیر اندھیرے میں چلاتے ہیںصدا دشمن کا سینہ تاکتے خود زخم کھاتے ہیںلگا کر جو وطن کو داؤ پر کرسی بچاتے ہیںبھنا کر کھوٹے سکے دھرم کے جو پن کماتے ہیںجتا دو ان کو ایسے ٹھگ کبھی پکڑے بھی جاتے ہیں(۳)مرے بیٹے انہیں تھوڑی سی خودداری بھی دے دیناجو حاکم قرض لے کے اس کو اپنی جیت کہتے ہیںجہاں رکھتے ہیں سونا رہن خود بھی رہن رہتے ہیںاور اس کو بھی وہ اپنی جیت کہتے ہیںشریک جرم ہیں یہ سن کے جو خاموش رہتے ہیںقصور اپنا یہ کیا کم ہے کہ ہم سب ان کو سہتے ہیں(۴)مرے بیٹے مرے بعد ان کو میرا دل بھی دے دیناکہ جو شر رکھتے ہیں سینے میں اپنے دل نہیں رکھتےہے ان کی آستیں میں وہ بھی جو قاتل نہیں رکھتےجو چلتے ہیں انہیں رستوں پہ جو منزل نہیں رکھتےیہ مجنوں اپنی نظروں میں کوئی محمل نہیں رکھتےیہ اپنے پاس کچھ بھی فخر کے قابل نہیں رکھتےترس کھا کر جنہیں جنتا نے کرسی پر بٹھایا ہےوہ خود سے تو نہ اٹھیں گے انہیں تم ہی اٹھا دیناگھٹائی ہے جنہوں نے اتنی قیمت اپنے سکے کییہ ذمہ ہے تمہارا ان کی قیمت تم گھٹا دیناجو وہ پھیلائیں دامن یہ وصیت یاد کر لیناانہیں ہر چیز دے دینا پر ان کو ووٹ مت دینا
ایک دن حضرت فاروقؓ نے منبر پہ کہاکیا تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظورایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھیکہ ترے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتورچادریں مال غنیمت میں جو اب کے آئیںصحن مسجد میں وہ تقسیم ہوئیں سب کے حضوران میں ہر ایک کے حصہ میں فقط اک آئیتھا تمہارا بھی وہی حق کہ یہی ہے دستوراب جو یہ جسم پہ تیرے نظر آتا ہے لباسیہ اسی لوٹ کی چادر سے بنا ہوگا ضرورمختصر تھی وہ ردا اور ترا قد ہے درازایک چادر میں ترا جسم نہ ہوگا مستوراپنے حصہ سے زیادہ جو لیا تو نے تو ابتو خلافت کے نہ قابل ہے نہ ہم ہیں مامورگرچہ وہ حد مناسب سے بڑھا جاتا تھاسب کے سب مہر بہ لب تھے چہ اناث و چہ ذکورروک دے کوئی کسی کو یہ نہ رکھتا تھا مجالنشۂ عدل و مساوات سے سب تھے مخموراپنے فرزند سے فاروق معظم نے کہاتم کو ہے حالت اصلی کی حقیقت پہ عبورتمہیں دے سکتے ہو اس کا مری جانب سے جوابکہ نہ پکڑے مجھے محشر میں مرا رب غفوربولے یہ ابن عمرؓ سب سے مخاطب ہو کراس میں کچھ والد ماجد کا نہیں جرم و قصورایک چادر میں جو پورا نہ ہوا ان کا لباسکر سکی اس کو گوارا نہ مری طبع غیوراپنے حصہ کی بھی میں نے انہیں چادر دے دیواقعہ کی یہ حقیقت ہے کہ جو تھی مستورنکتہ چیں نے یہ کہا اٹھ کے کہ ہاں اے فاروقحکم دے ہم کو کہ اب ہم اسے مانیں گے ضرور
عجب بے خوف موسم تھےہم اکثر باغ سے اک ساتھ ہیامرود کی چوری میں پکڑے جا چکے تھے پرسمجھ میں یہ نہیں آتاکہ مالی کی ہر اک گالی ہر اک پتھراکیلی ماروی ہی کے لیے مخصوص تھا کیوں کر
لوگ جن کی جاں گدازی سے ہیں دل پکڑے ہوئےکھوکھلے نغمے ہیں وہ اوزان میں جکڑے ہوئے
فرض کرو کہ سارے جانور بات بھی کرتے ہم سےان کے جو جی میں آ جاتا کہہ دیتے ایک دم سےدروازے پر کتا کہتا بھوکے ہیں دو دن کےکوئی دوا بھی دے دو دیکھو مکھی زخم پہ بھنکےباورچی خانے میں چیونٹی شکر مانگتی رہتیبس دو دانے بس دو دانے ہر پھیرے پر کہتیچڑیا اڑتے پھرتے کھڑکی پر آواز لگاتیبچوں کے کمرے میں چھپ کر دال کے دانے کھاتیگئے بیل سبزی کے ٹھیلے والوں سے لڑ جاتےڈنڈے کھا کر گالیاں بکتے دل کی آگ بجھاتےبلی دودھ کا پیالہ پکڑے گوشت مانگتی رہتیدن بھر لیٹی دادی جیسی اپنی بات ہی کہتیبکرے کی قربانی پر کچھ بکرے ماتم کرتےمرغے بھی اس مجلس میں منہ لٹکا کر غم کرتےساس بہو کے جھگڑے کی چھپکلیاں شاہد ہوتیںشوہر کی آمد پر سارا قصہ وہ ہی روتیںغرض کے ساری دنیا میں اک شور سا برپا رہتاچپ ہو جاؤ چپ ہو جاؤ سارا عالم کہتا
میں اپنی نظم سے بھری ڈائری ہاتھ میں پکڑےتمہارے سامنے جب بھی پڑھنا چاہتا ہوںمیرے ہاتھ اور میری زبان دونو لڑکھڑاتے ہیںیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مجھے نظموں سے عشق تو ہےپر وہ ایک طرفہ ہے
کیسی نکھری سی نظر آتی ہے فضا عید کے روزشادماں پھرتے ہیں سب شاہ و گدا عید کے روزکتنی بے فکری سے گاتے ہیں گدا راہوں میںپیٹ خالی ہو تو گائیں بھی نہ کیا عید کے روزکیا بھلی لگتی ہے ہر پیر و جواں کے منہ سےہر طرف عید مبارک کی صدا عید کے روزامی خوش ہوں گی اور عیدی بھی وہی پائے گاوقت سے پہلے جو بیدار ہوا عید کے روزچاند انتیس کو کیا نکلا کہ آدھی شب سےٹیلرنگ شاپ میں اک تانتا بندھا عید کے روزکپڑے بھی دھل نہ سکے وقت نماز آ پہونچالانڈری والوں پہ آفت ہے بپا عید کے روزدادی اماں نے مصلے کو پرے ڈال دیاگھر میں مہمانوں کا وہ شور مچا عید کے روزآنکھ اوجھل ہوئی اور ٹوٹ سویوں پہ پڑادیر سے اسلم اسی تاک میں تھا عید کے روزعید گہہ شان سے ٹم ٹم پہ چلے ہیں ببنباپ کے کاندھوں پہ ننھا بھی چڑھا عید کے روزپکڑے لاٹھی کو مٹکتے چلے رمضانی میاںپیچھے سے بچوں کا اک گول چلا عید کے روزاپنے بیگانے جو بڑھ بڑھ کے گلے ملتے ہوںکیوں نہ پھر آئے عبادت میں مزہ عید کے روزروزے رمضان کے رکھنا تو سبھی بھول گئےکیسے بھولیں گے سویوں کو بھلا عید کے روزسال کے سال رہے یاد خدا سے غافلاے ذکیؔ ان کو بھی یاد آیا خدا عید کے روز
گھر سے بستہ اور ٹفن کے ساتھ نکلنا مکتب کوآدھے ہی رستے سے گھوم کے واپس آناشام ڈھلے تککھیلنا کودناجھگڑے کرناپھر مل جاناباغ سے جا کر آم چراناپکڑے جاناگھر پر آ کر ڈانٹیں سنناکبھی کبھی تھپڑ بھی کھاناگنے کے مرجھائے اور کالے پھولوں سےنقلی داڑھی مونچھ بناناچھپ کر جوٹھی بیڑی پیناکھیتوں میں جھاڑے کو جاناادھر ادھر کی باتیں کرنااک گورے لڑکے کے پیچھے تکتے رہناکم عمری میں بالغ ہوناالٹے سیدھے دھیان میں شب بھرجاگتے رہناکتنا اچھا لگتا تھاوہ راتیں کتنی پیاری تھیںوہ دن کتنے البیلے تھے
پڑھنا لکھنا سکھائےاچھی راہ بتائےبد سے ہمیں بچائےاچھا بچہ بنائےبھیا پیارا پیاراگھنٹی خوب بجائےبستہ بھی لٹکائےمکتب لے کر جائےجلدی سے پہنچائےرکشا پیارا پیاراپھولوں پر اترائےخوشبو بھی بکھرائےگھر آنگن مہکائےہریالی بھی لائےگملا پیارا پیارابھیا لے کر جائےسرکس بھی دکھلائےلڈو بھی کھلوائےجو چاہو مل جائےمیلہ پیارا پیاراجب جب یہ لہرائےسب کی شان بڑھائےجس کے ہاتھ یہ آئےآگے بڑھتا جائےجھنڈا پیارا پیاراتاریکی میں آئےبستر تک پہنچائےلوری بھی سنوائےسپنے بھی دکھلائےسونا پیارا پیاراسب کو مار بھگائےجو دیکھے ڈر جائےالٹی شامت لائےدشمن کوئی آئےڈنڈا پیارا پیارابارش میں کام آئےباہر لے کر جائےخود تو بھیگا جائےلیکن ہمیں بچائےچھاتا پیارا پیاراجگ مگ روپ دکھائےچندا ریجھا جائےرستہ بھی بتلائےلیکن ہاتھ نہ آئےتارا پیارا پیاراتل کر منا کھائےخاگینہ بنوائےسالن میں پک جائےمنی کو للچائےانڈا پیارا پیاراجب یہ موسم آئےصحت خوب بنائےڈھیروں کپڑے لائےپھر بھی دور نہ جائےجاڑا پیارا پیاراکھانا جب بھی آئےآگے بڑھ کر لائےہم کو سب کھلوائےخود بھوکا رہ جائےچمچہ پیارا پیارابازاروں میں نکلےہاتھ میں سب کے لٹکےجو کچھ بھی یہ دیکھےاپنے پیٹ میں رکھےتھیلا پیارا پیارامیٹھا میٹھا کھاؤمنا بولے لاؤجلدی سے پکواؤسارا چٹ کر جاؤحلوہ پیارا پیاراچاہے کوئی بلائےسب کی گود میں جائےدیکھے تو للچائےٹافی بسکٹ چائےننھا پیارا پیاراپانی ٹھنڈا کر دےسر پہ کٹورا رکھےدوڑے آئیں پیارےجو چاہے وہ پی لےمٹکا پیارا پیاراصورت رنگ برنگیحالت بھی ہے اچھیبستر کا ہے ساتھیعادت میں ہے نرمیتکیہ پیارا پیاراگرمی دور بھگائےٹھنڈا موسم لائےتھوڑی بجلی کھائےبہتر کام بنائےپنکھا پیارا پیاراچم چم چمکا جائےبجلی سا لہرائےجلدی جلدی آئےساتھ میں چلتا جائےجوتا پیارا پیاراسب سے پہلے جاگےپیڑ پہ چڑھ کے بیٹھےدیواروں پر بھاگےککڑوں ککڑوں چیخےمرغا پیارا پیاراگھر میں دوڑ لگائےباہر بھاگ کے جائےبلی پر غرائےننھے کو بہلائےکتا پیارا پیاراپیٹھ پہ ہمیں بٹھائےسرپٹ دوڑ کے جائےمنزل پر پہنچائےتب جا کر سستائےگھوڑا پیارا پیاراجلدی سے اٹھ جائےچیخے اور چلائےدانہ پتے کھائےپھر بھوکا رہ جائےبکرا پیارا پیاراپنجرے میں پر تولےٹھمک ٹھمک کر ڈولےجب بھی منہ کو کھولےمیٹھی بولی بولےطوطا پیارے پیاراروئی کو لپٹائےدھاگا بنتا جائےہاتھوں میں بل کھائےبل کھا کر لہرائےتکلا پیارا پیاراچوروں سے لڑ جائےڈاکو سے ٹکرائےجو بھی چابی لائےاس کے بس میں آئےتالا پیارا پیاراسڑکیں بھی دکھلائےگلیوں میں لے جائےکون کدھر کو جائےبھید یہ سب بتلائےنقشہ پیارا پیاراکلیوں پر منڈ لائےپھولوں سے بتلائےناچے جھومے گائےمستی میں لہرائےبھونرا پیارا پیاراشب کو منہ دکھلائےسورج سے شرمائےبادل میں چھپ جائےرات ہوتے ہی آئےچندا پیارا پیاراجھیل کے پاس ہی بیٹھےچھوٹی مچھلی پکڑےہنس ہو کوئی جیسےموتی کھانے آئےبگلا پیارا پیاراآنکھوں سے لگ جائےراحت ہی پہنچائےکالے کالے شیشےابر کے ٹکڑوں جیسےچشمہ پیارا پیارامیرا ہمدم ساتھیایسا نہ ہوگا کوئیصورت بھی ہے پیاریسیرت بھی ہے اچھیبستہ پیارا پیاراوقت پہ سو کر اٹھےوقت پہ اپنے کھیلےوقت پہ پڑھنے جائےاول نمبر آئےبچہ پیارا پیارا
کچھ تارے مل کر تمہاری تصویر بناتے ہیں آسمان میںتم ان تاروں سے ایک بار مل آؤروز وہ تمہارے ہونٹھ کے نیچے کا تل بنانا بھول جاتے ہیںپھر مجھے اپنے انگلیوں کی پوروں سے وہ تل بنانا پڑتا ہےوہ تل بناتے بناتے اکثر میں موقع دیکھ کر تمہاری زلف تمہارے دائیں کان کے پیچھے کر دیتا ہوںپھر کسی چمکتے تارے سے بناتا ہوں تمہارے ایک کان کا جھمکادوسرا جھمکا میں الماری سے لینے جاتا ہوں تب تک تارے تمہاری تصویر مٹا دیتے ہیں اور میںبس تمہارا جھمکا پکڑے پکڑے رات کو صبح سے ملوا دیتا ہوں
قسم ان کھردرے ہاتھوں کیمیں جن میں قلم پکڑے ہوئے ہوںنہایت بے ایمانی سےتمہیں ہر بار میں تم سے چرا کر نظم بنتی ہوںکہانی کاڑھتی ہوںاور سب سے جھوٹ کہتی ہوںکہ سارے حرف میرے ہیں
طبیعت جو اندر سے جھنجھلا رہی ہےتو باہر سے آواز یہ آ رہی ہےکہ اے فاضل درس گاہ حماقتحجابات دانش اٹھا کر بھی دیکھوشرافت کے پیچھے جگر ہو گیا خوںشرافت سے پیچھا چھڑا کر بھی دیکھوازل سے محبت خودی کا ہے زنداںاب اس سے ذرا باہر آ کر بھی دیکھومروت نے پہنائی ہیں بیڑیاں جوذرا ان کا لوہا گھلا کر بھی دیکھوتصور کی وادی میں بھٹکو گے کب تککبھی شہر امکاں میں جا کر بھی دیکھوغرض مظہریؔ اس دیار جنوں میںملا، کچھ نہ کھونے سے پا کر بھی دیکھوسنا مشورہ تیرا اے صوت غیبیضلالت کی سرحد میں آ کر بھی دیکھارذالت کی گردن میں بانہیں بھی ڈالیںشرافت سے پیچھا چھڑا کر بھی دیکھاحمیت کا گھونٹا گلا رفتہ رفتہمحبت کو پھانسی چڑھا کر بھی دیکھاکف مور سے اس کا لقمہ بھی چھیناحق اہل خدمت چرا کر بھی دیکھاشعور و خرد کو غرور و حسد کوسلا کر بھی دیکھا جگا کر بھیپھرے کو بہ کو عقل کی رہبری میںغرض یہ کہ کھو کر بھی، پا کر بھی دیکھانہ کھونے سے حاصل، نہ پانے سے حاصلجسے سود کہتے ہیں وہ بھی زیاں ہےیہی بس کہ تقدیر عقل و جنوں ہےیہی خشت تعمیر کون و مکاں ہےمحبت جہنم ہے، نفرت جہنمجدھر جائیں اک آگ شعلہ فشاں ہےدیار وفا یا دیار ہوس ہونہ راحت یہاں ہے نہ راحت وہاں ہےشرافت بھی غمگیں رذالت بھی غمگیںبس اب منہ نہ کھلوا خدا درمیاں ہےسمک سے سما تک تپش ہی تپش ہےفضا سے خلا تک فغاں ہی فغاں ہےخودی پاؤں پکڑے ہے جائیں کہاں ہمتصور کی جنت بنائیں کہاں ہم
کیسے ماتم کروںکیسے نوحے لکھوںکیسے روحوں کی چیخوں سے نظمیں بنوںجاگتی بین کرتی ہواؤں سےجا کر لپٹ جاؤں کیاکرچی کرچی یہ خوابوں کے اعضا جو بکھرے پڑے ہیںانہیں دیکھ کر پھر پلٹ جاؤں کیااپنے اقدار سے قول و اقرار سے پیچھے ہٹ جاؤں کیا
کوئی یاد ایسی نہیںجو مجھے راہ چلتے ہوئے روک لے میرا دامن پکڑےمرے پاؤں میں ایک زنجیر سی ڈال دےکوئی بھی ایسا بیتا ہوا پل نہیںمست جھونکے کے مانند جو گنگناتا ہوا دور سے آئےویران آنکھوں سے لپٹےکسی بھولی بسری ہوئی بات کا گیت گائےمرے سامنے ایک پھیلا ہوا جال ہے راستوں کاقطاریں ہیں بجلی کے کھمبوں کی اونچے مکانوں کی پٹریوں کیمگر کوئی بھی راستہ کوئی بھی روشنیکوئی کھڑکی کسی پیڑ کا سایہ ایسا نہیں ہےجسے دیکھ کرمہربان آنکھ کی مسکراہٹ مجھے یاد آئےبھٹکتی ہوئی روح کو اپنی بانہوں میں لے لے
ہائے وہ بچپن کے دنصاف اور ستھرے سچے دنیاد بہت آتے ہیں اباپنے تھے جب اپنے دنفکر و تردد کس کو کہتےدور غموں سے جب تھے دنآنکھ مچولی اور کبڈیگلی ڈنڈے والے دنراتیں راحت سے بھرپوراور شرارت والے دنپیچھے پیچھے تتلی کےپھلواری میں بیتے دنآم امرود کے پیڑوں پرڈال پہ بیٹھے کھاتے دنکاغذ پنسل اور کتابایسی دولت والے دنجسم غبار آلودہ لے کرتالابوں میں تیراتے دنکوئی نہیں تھا دشمن جبسب کو دوست بناتے دنتوڑ لیں اوروں کے امرودسب کے ساتھ وہ کھاتے دنکاٹ لیں کھیتوں سے گنےچوری پکڑے جاتے دنشام پڑھائی میں گزرےہائے وہ مکتب والے دنآہ مناظرؔ کس سے کہیںمیرے وہ لوٹا دے دن
ناری اور شودر کو سمان سمجھنے والے مہا پرشاتہاس کے پنوں میں کھو گئے ہیںہونٹ آج بھی تھرتھراتے ہیںلفظ میلے نہ ہو جائیںزمین تھی تو پتھریلیلیکن اپنا کنواں کھوداتو پانی میٹھا نکلاپھنکارتے آبھوشنصندوقوں میں بند کر کےچابی بزرگوں کے حوالے کر دی گئیاڑتے ہوئے لفظوں کو مٹھیوں میں پکڑتے ہیچاند شرمانے لگاروشنی کا سودا کرنے والوں نےگہرے گڑھے کھود کرکرنوں کو دفنانا چاہالیکن وہ زندہ شریانوں میںلہو بن کر دوڑ گئیںمساموں سے پھوٹتے اجالوں کی یورش میںبہہ نکلے جانے کتنے میرؔ و سوداؔکتنے کالیداسؔالٹی پوتھی پکڑے پکڑےجانے کب ڈھائی اکھشر سیدھےڈھائی الٹے پڑھےاور دریا میں ڈبکی لگانے سے پہلےسرسوتی کو کہتے سنادشینت کی انگشتری لہروں کے حوالے کر دومچھلیاں چغل خور ہوتی ہیںبھرتؔ کو اپنے اندر تھامے رہوتا ابد
تری بابت کسی سے پوچھنے میں خوف آتا ہےوہ جانے کیا ہےترے بارے میں کوئی بات بھی کرتا ہوں تو ڈرتا ہوںجانے گفتگو کیا رنگ پکڑےتری بابت کسی سے کوئی رائے بھی طلب کرتے لرزتا ہوںوہ جانے تجھ کو کیسا نام دے
میرے گاؤں میں آئی ریلبچو نہیں یہ کوئی کھیلبات ہے میرے بچپن کیشاید انیس سو پچپن کیمیرے دل کی الجھن کیگاؤں میں کیسے آئی ریلبچو نہیں یہ کوئی کھیلمیرے دادا کہتے تھےکلکتہ جو رہتے تھےگاؤں والے ہنستے تھےوہاں سڑک پر چلی ریلبچو نہیں یہ کوئی کھیلکلکتہ جانا تھا مشکلریل تو ملتی چل کر پیدلتیس میل پر تھا جو سگنلمشکل کو سب جاتے جھیلبچو نہیں یہ کوئی کھیلبڑے لوگ جب جانا سوچتےرات میں بیل گاڑی کو جوتتےراستے میں جب ڈاکو روکتےچھوڑ کے گاڑی بھاگتے بیلبچو نہیں یہ کوئی کھیلآزادی نے داد مٹایاگاؤں کو شہروں سے ملایاامیدوں کا پھول کھلایاسدا ہری رہے یہ بیلبچو نہیں یہ کوئی کھیلدلی میں ان شن ہوئےریل کے تب نقشے بنےبابو جی جب بن گئےمرکز میں وزیر ریلبچو نہیں یہ کوئی کھیلشہر سے سب کچھ ریل سے لاتےڈبوں کو نقصاں پہنچاتےچوری کرتے پکڑے جاتےجو پکڑائے جاتے جیلبچو نہیں یہ کوئی کھیلمشکل دن سب کٹ جاتے ہیںلیکن وہ دن یاد آتے ہیںاب تو سب کالج جاتے ہیںپکڑ کے بامبے میلبچو نہیں یہ کوئی کھیل
جنگل میں ون ڈے کرکٹ کا ہوا انوکھا میچبندر نے کی خوب فیلڈنگ پکڑے چھ چھ کیچزیرو پر لنگور گیا تو ہرن تین پر آؤٹایل بی ڈبلیو گینڈا بھاگا نہیں تھا کوئی ڈاؤٹگیدڑ نے آتے ہی جیسے لی اپنی پوزیشنکنگارو کی گیند تھی اسپن بدل گئی سچویشنوکٹ بچا نہ پایا گیدڑ بلا عجب گھمایابندر کے ہاتھوں میں سیدھے اپنا کیچ تھمایاسینگ ہلاتے بارہ سنگھا نے اب بیٹ سنبھالاکنگارو کی سیکنڈ بال تھی چوک گیا بیچارہگیند گھسی اسٹمپ بکھیرا گلی چھٹکی دورایک بڑا اسکور کا سپنا ہو گیا آخر چورلوٹ چلا جب بارہ سنگھا بھالو چاچا آئےگیند تیسری کنگارو کی وہ بھی جھیل نہ پائےلگاتار تینوں گیندوں پر وکٹ گرے تھے تینکنگارو کے اس اوور نے بدل دیا تھا سینجلدی جلدی وکٹ گنوائے بگڑ گئی تھی حالتجمے جمائے ہاتھی دادا بھیج رہے تھے لعنتبھالو گیا زیبرا آیا اب کے بلا تھامےنوے پر ہاتھی پہنچا تھا لگا اسے سمجھانےبلا چمکا گیند اڑی امپائر بولا سکسہاتھی نے پھر فوراً ٹوکا پہلے ہولو فکسچوکے اور چھکے کی بارش تھوڑا رک کر کرنامیچ اگر ہے ہمیں جیتنا وکٹ بچائے رکھنااوور نیا لیے چیتا اب بالنگ کرنے آیادو گیندوں پر لگاتار ہاتھی نے سکس جمایابنا سینچری ہاتھی نے ارمان نئے کچھ باندھےچیتے کی اک تیز گیند نے توڑے سبھی ارادےہاتھی کے آؤٹ ہوتے ہی جو آیا وہ بے بسناٹ آؤٹ کا تمغہ لے کر ہوا زیبرا واپسکپتانی تھی شیر کے ذمے جیت لیا تھا میچبندر نے کی خوب فیلڈنگ پکڑے چھ چھ کیچ
مری ہتھیلی کے سانپ کب تک ڈسیں گے مجھ کومری ہتھیلی کے سانپ جو ابمری رگوں میں اتر چکے ہیںبدن کو زنجیر کر چکے ہیںمیں خواب دیکھوں تو کوئی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ دےقدم اٹھاؤں تو کوئی میرے قدم پکڑےپلٹ کے دیکھوں تو کوئی پیچھے نہ کوئی آگےبس ایک سایہمری حقیقت کا اک کنایہمری حقیقت کہ میں اندھیرے کی رہنمائی میں چل رہا ہوںازل سے اک سامری کے سانپوں میں پل رہا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books