aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pand-e-aduu"
چین کے حملۂ ناپاک کو درہم کر دوصف افواج عدو توڑ دو برہم کر دو
واعظ و رند اگر شیر و شکر ہو جائیںذائقے پند و نصیحت کے شرابوں میں ملیں
وہاں تو فوج مصر ہے یہاں نہیں کوئی عصامخالفت میں ہوش رکھ نہ اس طرح سے جوش کھابغور دست و بازوئے عدو کو دیکھ لے ذراہمیں تری گھٹی ہوئی صدا سے اختلاف ہے
اے مشیں زاداب میری پیرانہ سالی کے موسم میںان داستانوں کی چادر دریدہ ہوئیوہ جنہیں میں نے اپنی جوانی کےرنگیں تخیل کی کھڈی پہ بن کرکسی نیلمیں آنکھ میںنظر کے واسطے رکھ دیایک بہ یک میرے چاروں طرفوقت کی گرد ایسی اڑیطاق نسیان پرزرد ہوتی ہوئیہر حکایت دھری کی دھری رہ گئیالغرضبھول جانے کا اک عارضہجو مری جینیاتی وراثت میں لکھا گیامثل دست عدواب مجھے زیر کرنے کو ہے
اس قوم کی فلاح ہے جام و سبو کے بیچتم انتخاب جا کے لڑو ہاؤ ہو کے بیچدشنام اور بلووں کے اور دو بہ دو کے بیچجیسے کہ کوئی بیٹھا ہو بزم عدو کے بیچ''مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ''''جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں''
یہ وقت آئے تو بے ارادہکبھی کبھی میں بھی دیکھتا ہوںاتار کر ذات کا لبادہکہیں سیاہی ملامتوں کیکہیں پہ گل بوٹے الفتوں کےکہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کیکہیں پہ خون جگر کے دھبےیہ چاک ہے پنجۂ عدو کایہ مہر ہے یار مہرباں کییہ لعل لب ہائے مہوشاں کےیہ مرحمت شیخ بد زباں کی
بے جھجک، بے خطربے دھڑک وار کرمیری گردن اڑااور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھرچھین لے حسن و خوبی، انا، دل کشیمیرے لفظوں میں لپٹا ہوا مال و زرمیری پوروں سے بہتی ہوئی روشنیمیرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنرتجھ سے شکوہ نہیںاے عدو میرے میں تیری ہمدرد ہوںتیری بے چہرگی مجھ کو بھاتی نہیںتجھ سے کیسے کہوں!!!تجھ سے کیسے کہوں! قتل کرنا مجھے تیرے بس میں نہیں(اور ہو بھی اگر، تیری کم مائیگی ما مداوا نہیں)ہاں مگر تیری دل جوئی کے واسطےمیری گردن پہ یوں تیرا خنجر رہے(تیری دانست میں)کھیل جاری رہے
تبسم کی ہوس ہو برق کے آثار پیدا کرجو گر یہ آرزو ہو چشم دریا بار پیدا کرمرض ہی کیا مداوا جس کا آساں ہو طبیبوں پرنہ پہچانے مسیحا جس کو وہ آزار پیدا کرتجھے اے دل عدو کو ہو اگر چبھتی ہوئی کہناتو ہر ہر حرف میں تیزئنوک خار پیدا کراگر اس مجلس گیتی میں اوروں کو رلاتا ہےدل درد آشنا و دیدۂ خوں بار پیدا کرتجھے یہ ہمت مردانہ کہتی ہے کہ ایسا دلجو قبل از موت ہی مرنے پہ ہو تیار پیدا کرتنازع للبقا جاری ہے تو میدان ہستی میںنہ ہو جس کی سپر ایسی کوئی تلوار پیدا کربقائے اقویا کے مسئلہ پر بحث سے پہلےتن سہراب و زور حیدر کرار پیدا کرجو اس عالم میں چلنا ہے تجھے حکم اعدو پرتو استعداد دفع حملۂ اغیار پیدا کراگر منظور ہے تجھ کو ملے عالم کی چوپانیتو اپنے پاؤں میں پھر گردش پرکار پیدا کراگر ہے چوکنا منظور قرآں کی تلاوت سےبرائے زخم غفلت مرہم زنگار پیدا کراگر تیری تمنا ہے کہ شایان خلافت ہوتو شوق بندگیٔ واحد قہار پیدا کر
نقش بر آب ہے وابستگئ حسن و شبابنکہت گل کی طرح عشق ہے پابند ہوااس سے بہتر تھا کہ مجھ سے تجھے نفرت ہوتیپھول مرجھاتے ہیں کانٹا نہیں مرجھا سکتاتیر نفرت کا رہا کرتا ہے دل میں پیوستشمع یہ تیرگیٔ غم میں بھی تابندہ رہےدست نفرت کی بنائی ہوئی دیوار اداسنگ و آہن کی طرح پختہ و پائندہ رہے
تم جو قاتل نہ مسیحا ٹھہرےنہ علاج شب ہجراں نہ غم چارہ گراںنہ کوئی دشنۂ پنہاںنہ کہیں خنجر سم آلودہنہ قریب رگ جاںتم تو اس عہد کے انساں ہو جسےوادی مرگ میں جینے کا ہنر آتا تھامدتوں پہلے بھی جب رخت سفر باندھا تھاہاتھ جب دست دعا تھے اپنےپانو زنجیر کے حلقوں سے کٹے جاتے تھےلفظ تقصیر تھےآواز پہ تعزیریں تھیںتم نے معصوم جسارت کی تھیاک تمنا کی عبادت کی تھیپا برہنہ تھے تمہارےیہی بوسیدہ قبا تھی تن پراور یہی سرخ لہو کے دھبےجنہیں تحریر گل و لالہ کہا تھا تم نےہر نظارہ پہ نظارگی جاں تم کوہر گلی کوچۂ محبوب نظر آئی تھیرات کو زلف سے تعبیر کیا تھا تم نےتم بھلا کیوں رسن و دار تک آ پہنچے ہوتم نہ منصور نہ عیسیٰ ٹھہرے
غبار صبح و شام میںتجھے تو کیامیں اپنا عکس دیکھ لوں میں اپنا اسم سوچ لوںنہیں مری مجال بھیکہ لڑکھڑا کے رہ گیا مرا ہر اک سوال بھیمرا ہر اک خیال بھیمیں بھی بے قرار و خستہ تنبس اک شرار عشق میرا پیرہنمرا نصیب ایک حرف آرزووہ ایک حرف آرزوتمام عمر سو طرح لکھوںمرا وجود اک نگاہ بے سکوںنگاہ جس کے پاؤں میں ہیں بیڑیاں پڑی ہوئی
بے کواڑ دروازےراہ دیکھتے ہوں گےطاق بے چراغوں کےاک کرن اجالے کیبھیک مانگتے ہوں گےکیوں جھجک گئے راہیکیوں ٹھٹک گئے راہیڈھونڈنے کسے جاؤانتظار کس کا ہوراستے میں کچھ ساتھیرہ بدل بھی جاتے ہیںپھر کبھی نہ ملنے کوکچھ بچھڑ بھی جاتے ہیںقافلہ کبھی ٹھہراقافلہ کہاں ٹھہراراہ کیوں کرے کھوٹیکس کا آسرا دیکھےچند کانچ کے ٹکڑےاک بلور کی گولیننھے منے ہاتھوں کاجن پہ لمس باقی ہےزاد راہ کافی ہےخشک ہو چکے گجرےکس گلے میں ڈالو گیبھولی بھٹکی خوشبوؤکس کی راہ روکو گیکس نے اشک پونچھے ہیںکس نے ہاتھ تھاما ہےاپنا راستہ ناپوبے کواڑ دروازےراہ دیکھتے ہوں گےکل نئی سحر ہوگیلاج سے بھری کلیاںکل بھی مسکرائیں گیکل کوئی نئی گوریادھ کھلی نئی کلیاںہار میں پروئے گی
کتاب حیات کا یہ پنااچھا ہوتا جو برقرار رہتاوقت کی تیز رفتار پرکاش میرا بھی اختیار رہتا
ہاں کس کے لیے سب اس کے لیےوہ جس کے لب پر ٹیسو ہیںوہ جس کے نیناں آہو ہیںجو خار بھی ہے اور خوشبو بھیجو درد بھی ہے اور دارو بھیوہ الہڑ سی وہ چنچل سیوہ شاعر سی وہ پاگل سیلوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیںہم نام نہ اس کا بتلائیںاے دیکھنے والو تم نے بھیاس نار کی پیت کی آنچوں میںاس دل کا تینا دیکھا ہے؟کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
خاکستر دل کو ہے پھر شعلہ بجاں ہوناحیرت کا جہاں ہونا حسرت کا نشاں ہونااے شخص جو تو آکر یوں دل میں سمایا ہےتو درد کہ درماں ہے تو دھوپ کہ سایا ہے؟نیناں ترے جادو ہیں گیسو ترے خوشبو ہیںباتیں کسی جنگل میں بھٹکا ہوا آہو ہیںمقصود وفا سن لے کیا صاف ہے سادہ ہےجینے کی تمنا ہے مرنے کا ارادہ ہے
منی تیرے دانت کہاں ہیںدانت تھے میں نے دودھ پلا کر سات برس میں پالےآ کر ان کو لے گئے چوہے لمبی مونچھوں والےگڑ کا ان کو ماٹ ملا تھا میٹھا اور مزے دارلاکھ خوشامد کر کے مجھ سے لے لئے دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبلی تھی اک مامی موسی چپکے چپکے آئیپنجوں پر تھی دیگ کی کھرچن ہونٹوں پر بالائیبولی گڑ کے ماٹ پہ میں نے چوہے دیکھے چارحصہ آدھوں آدھ رہے گا دے دو دانت ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیںبعد میں بوڑھا موتی آیا رونی شکل بنائےبولا بی بی اس بلی کا کچھ تو کریں اپائےدودھ نہ چھوڑے گوشت نہ چھوڑے ہیں بڈھا لاچاراس کو کروں شکار جو مجھ کو دے دو دانت ادھاراچھی منی تم نے اپنے اتنے دانت گنوائےکچھ چوہوں نے کچھ بلی نے کچھ موتی نے پائےباقی جو دو چار رہے ہیں وہ ہم کو دلواؤاک دعوت میں آج ملیں گے تکے اور پلاؤمرغی کے پائے کا سالن بیگن کا آچاردو گی یا کسی اور سے مانگوںہاں دیے ادھاربابا ہاں ہاں دیے ادھارمنی تیرے دانت کہاں ہیں
چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکاگھاس شبنم میں شرابور ہے شب ہے آدھیبام سونا ہے، کہاں ڈھونڈیں کسی کا چہرا(لوگ سمجھیں گے کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی)شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپلکون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیںدور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادلچاند تنہا ہے (اگر اس کی بلائیں لے لیں؟)دوستو جی کا عجب حال ہے، لینا بڑھناچاندنی رات ہے کاتک کا مہینہ ہوگامیر مغفور کے اشعار نہ پیہم پڑھناجینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگاچاند ٹھٹھکا ہے سر شاخ صنوبر کب سےکون سا چاند ہے کس رت کی ہیں راتیں لوگودھند اڑنے لگی بننے لگی کیا کیا چہرےاچھی لگتی ہیں دوانوں کی سی باتیں لوگوبھیگتی رات میں دبکا ہوا جھینگر بولاکسمساتی کسی جھاڑی میں سے خوشبو لپکیکوئی کاکل کوئی دامن، کوئی آنچل ہوگاایک دنیا تھی مگر ہم سے سمیٹی نہ گئی
آسماں پر رواں سرمئی بادلوہاں تمہیں کیا اڑو اور اونچے اڑوباغ عالم کے تازہ شگفتہ گلوبے نیازانہ مہکا کرو خوش رہولیکن اتنا بھی سوچا، کبھی ظالمو!ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر میں
تب مجھ کو محسوس ہواکہ اب میں ایسی عمر میں پاؤں بڑھانے والا ہوںجس میں یہ خوف اٹل ہےکتنے دیگر احساسات کا رد عمل ہےہر پل ذہن میں آج یا کل ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books