aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pas-e-ishtihaar"
شکوؤں کو اٹھا رکھنا، آنکھوں کو بچھا رکھنااک شمع دریچے کی چوکھٹ پہ جلا رکھنامایوس نہ پھر جائے، ہاں پاس وفا رکھنادروازہ کھلا رکھنادروازہ کھلا رکھنا
تمہاری شہ رگ سے بھیمیں زیادہ پاس رہتا ہوں
مجھے رانی کی شرطوں پر بڑا ہی پیار آیا ہےکھلاڑی تو نہیں رانی مگر رانی تو ہے آخرہما فتح و نصرت کااور اکثر کامرانی کااسی کے سر پہ جاتا ہےکہ جس کے پاس رانی ہے
یہ بات عجیب سناتے ہو وہ دنیا سے بے آس ہوئےاک نام سنا اور غش کھایا اک ذکر پہ آپ اداس ہوئےوہ علم میں افلاطون سنے وہ شعر میں تلسی داس ہوئےوہ تیس برس کے ہوتے ہیں وہ بی اے ایم اے پاس ہوئےیہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتانجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھاآخر اس پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہوموت ملی یا لیلیٰ پائی؟ دیوانے کا مآل کہوعقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایااس کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیاخیر اب اس کی بات کو چھوڑو دیوانا پھر دیواناجاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسا لے جانا
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفاتو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
پس دیوار زنداں
یکایک خلاؤں کی پہنائیوں میںپس پردۂ شب سےاک چیخ ابھری
ممکن ہے کہ ساحل ہو پس پردۂ طوفاںبھارت کے مسلماں
اک تیغ کی جنبش سی نظر آتی ہے مجھ کواک ہاتھ پس پردۂ در دیکھ رہا ہوں
پس تقریب ملاقات یہاں شام ڈھلےدیر تک پھیلی رہے گی تری شرکت کی مہک
میں نے پوچھا پیار کرنے والوں کا شیوہ ہے کیاچیخ کر اس نے کہا پاس وفا پاس وفا
یہ ترے مرمریں بازو پہ گھنیری زلفیںآج ساکت ہیں پس پردۂ تصویر مگرچند مبہم سے نقوش اور یہ دھندلے خاکےتو نے بھیجے ہیں کہ ہو جائے گی تسکین نظر
نہ تو بے رخی سے یوں پیش آ نہ تو بے سبب مرا دل دکھابڑی جان لیوا ہیں دوریاں مرے پاس آ مرے پاس آ
شبیں آ کر گزر جاتی ہیں شمعیں تک نہیں جلتیںسحر آ کر چلی جاتی ہے آرائش نہیں ہوتیپس پردہ کسی آواز کے گھنگھرو نہیں بجتےپس چلمن کسی رخسار کی تابش نہیں ہوتیپس دیوار لہراتے نہیں اب ریشمی آنچلپس روزن نشاط و کیف کی بارش نہیں ہوتی
اجنبی شخص دل ربا جیساپاس آ کر کے کچھ نہیں کہتا
ساعت خود گری خود شناسیرفاقت محبت کے وہ جاگتے قافلےجو مہ و سال کی گرد میں اٹ گئے تھےاب بھی اک گمشدہ راستے پر رواں ہیںہم نوائی کے وہ رات دنوقت کی گہری اندھیگپھاؤں سے اٹھ کرمیرے اطراف یوں جمع ہونے لگے ہیںجیسے مجھے مجھ سے مری بے حسی کا گلہ کر رہے ہوںپوچھتے ہوںکہ کیا موسموں کے اٹل دائرےسوز دل کی بھی زنجیر پا ہیںعمر رفتہ کے کس بیتے لمحے سے پوچھوںوہ بیدار راتیںپر اسرار شامیںگہر بار صبحیںوہ مانوس جذبوں سے سرشار باتیںجو پس پردۂ درد دلاب بھی سوئی نہیں ہیںوقت کے راستے پر اگرکھلی آنکھ کا خواب تھیںواہمہ تھیںتو دل سے افق تکیہ جلتی ہوئی سرخ تحریر کیوں ہے
پس نور شعلۂ آگہیوہ کرامتیں کہ قفس قفسوہی آگ تیری چتا کی تھیوہی شور تیری صدا کا تھاوہی گلخن زرد رو تھاوہی روزن سر گرد تھاوہ تمازت ایسی بلا کی تھیکہ تمام شاہوں کی نخوتیںانہی گدڑیوں کے کرم میں تھیںجنہیں ہاتھیوں نے کچل دیامرے ققنسا مرے ققنساذرا اپنے خول کو توڑ کرکہ گلے کے تاروں کو جوڑ کرسر کوہ خوف طلوع ہوکہ تمام شہروں میں در بدریہ جو زمہریر ستم کا ہےیہ جو راکھ طور الم کی ہےیہ جو مرگ اہل قلم کی ہےیہ جو شکل راہ عدم کی ہےیہ قصور کس کا ہے ققنسایہ قصور کس کا ہے ققنسا
جسم کے داغ چھپانا تو کوئی بات نہیںروح کے زخم سلگتے ہیں پس پردۂ دلسر چھپا لیتے ہو تم ریت میں جس کے آگےاسی طوفان میں گھر جاتے ہیں لاکھوں ساحلایک راہی جسے احساس نہ حسرت نہ طلباک سفر جس میں نہ منزل نہ سراغ منزل
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books